’میرا دل یہ پکارے آ جا۔۔۔‘ عائشہ کا وائرل ہونا کچھ لوگوں کو کیوں نہیں بھا رہا؟

عائشہ، ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہyoutube

وائرل ہونے کی خواہش ہم میں سے زیادہ تر لوگوں میں سے کئی افراد کے دل میں ہوتی ہے لیکن وائرل ہونے کی ایک بڑی ذہنی قیمت بھی ہوتی ہے۔ 

کیونکہ جب اتنے سارے لوگ کونٹینٹ پروڈیوس کر رہے ہوں، اپنے اپنے شعبوں میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہوں، تو کوئی کیوں نہیں چاہے گا کہ وہ وائرل نہ ہو، اور یہ ہضم کرنا بھی مشکل ہو گا کہ کوئی دوسرا وائرل ہو جائے اور ہم نہیں۔ 

پھر شروع ہوتا ہے تنقید کا سلسلہ اور جس طرح وائرل آپ چاہ کر نہیں ہو سکتے اسی طرح یہ تنقید بھی چاہنے سے نہیں رکتی۔

پاکستان میں جہاں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ رہی ہے وہاں کسی نہ کسی میم یا ٹرینڈ کا وائرل ہونا عام بات ہوتی جا رہی ہے مگر خوش قسمتی کا یہ ہُما اب بھی کب کس کے سر پر بیٹھ جائے، کسی کو اس پر اختیار نہیں۔ 

وائرل ہونے والے تازہ ترین کونٹینٹ میں عائشہ نامی ایک لڑکی کی ڈانس ویڈیو ہے جو اُنھوں نے اپنی دوست کی شادی کی تقریب میں کی تھی۔ 

لتا منگیشکر کے گانے ’میرا دل یہ پکارے آ جا‘ کے ریمکس پر کیا گیا یہ ڈانس اب تک سوشل میڈیا پر لاکھوں مرتبہ دیکھا اور شیئر کیا جا چکا ہے۔ 

اس کی مقبولیت دیکھتے ہوئے اے آر وائے کے مارننگ شو میں میزبان ندا یاسر نے بھی اُنھیں پروگرام میں بلایا اور ان سے بات چیت کی۔ 

اب کہا جا سکتا ہے کہ عائشہ کی اس وائرل ویڈیو کی بدولت 1954 میں ریلیز ہونے والا یہ گانا ایک مرتبہ پھر لوگوں کی سماعتوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے جس کا اندازہ یوٹیوب پر کمنٹس دیکھ کر بھی ہو سکتا ہے۔ 

عائشہ

،تصویر کا ذریعہYouTube

بہرحال، عائشہ کی اس وائرل ویڈیو پر اُنھیں شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف کئی ٹویٹس کی گئیں۔ اُنھیں پروگرام میں بلانے پر میزبان ندا یاسر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

انھی دنوں امیرالدین میڈیکل کالج لاہور کے ایک طالبعلم ولید ملک کی میڈیکل کی ڈگری میں 29 گولڈ میڈل حاصل کرنے کی خبر جب انٹرنیٹ پر پھیلنی شروع ہوئی تو کئی لوگوں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ آخر ولید کیوں عائشہ جتنی وائرل توجہ حاصل نہیں کر سکے؟ 

اس سے قبل جب 2021 میں سوشل میڈیا انفلوئنسر دنانیر مبین اپنی ایک مختصر سی ویڈیو کی بنا پر وائرل ہوئیں تو انھی دنوں اے سی سی اے کے امتحان میں ٹاپ کرنے والی پاکستانی طالبہ زارا نعیم کے ساتھ ان کا موازنہ کیا جاتا رہا۔ 

اس سمیت دیگر کئی وائرل ٹرینڈز میں مشترک بات یہ ہے کہ وائرل ہونے والے شخص کی تعلیمی قابلیت کا موازنہ کسی انتہائی قابل شخص سے کیا جانے لگتا ہے کہ وہ کیوں وائرل نہیں ہوا اور یہ ہو گئے۔ 

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سوشل میڈیا تجزیہ کار شہریار پوپلزئی کہتے ہیں کہ کسی چیز کے وائرل ہونے کی سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ عوام کی کتنی توجہ حاصل کر پاتی ہے مگر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وائرل ہونا ’مقبولیت‘ کا معیار نہیں۔ 

بی بی سی کے بلال کریم مغل سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر اگر کسی وائرل چیز کو کئی لاکھ مرتبہ دیکھا گیا ہے، تو یہ رائے کیسے دی جا سکتی ہے کہ ان تمام لاکھوں لوگوں نے پسندیدگی کی وجہ سے ہی یہ کونٹینٹ دیکھا ہے، ہو سکتا ہے کہ کئی لوگوں کو یہ پسند نہ آیا ہو اور اُنھوں نے صرف تجسس میں یہ دیکھا ہو۔ 

جب ہم نے ان سے پوچھا کہ بے ساختگی میں بنایا گیا کونٹینٹ ہی زیادہ تر وائرل ہوتا ہے بہ نسبت ایسے کونٹینٹ کے جو بہت سوچ سمجھ کر بنایا گیا ہو یا مثبت پہلو رکھتا، تو ان کا کہنا تھا کہ یہی وائرل ہونے والے کونٹینٹ کے پیچھے سوشل میڈیا صارفین کی نفسیات ہے۔ 

اُنھوں نے کہا کہ کئی لوگ چاہتے ہیں کہ وہ وائرل کونٹینٹ بنائیں، مگر کسی کونٹینٹ کو خود وائرل نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ وہ عوام میں مقبولیت حاصل نہ کرے۔ اُنھوں نے پھر یہ بات دہرائی کہ مقبول ہونا لازماً اس بات کا معیار نہیں کہ وہ مثبت ہی ہو۔ 

اُنھوں نے کہا کہ جو لوگ اب اس ویڈیو پر منفی تبصرے کر رہے ہیں درحقیقت وہ بھی کہیں نہ کہیں بظاہر یہ خواہش رکھتے ہیں کہ اس وائرل ویڈیو کی شہرت کا استعمال کرتے ہوئے اُن کا اپنا تبصرہ اور ویڈیو بھی وائرل ہو جائے۔ 

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم ’بولو بھی‘ کے شریک بانی اور ڈائریکٹر اسامہ خلجی نے کہا کہ کسی بھی وائرل کونٹینٹ کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں صنف، تعلیم اور سماجی طبقے کی بنا پر تنقید کا زاویہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔ 

اسامہ خلجی نے کہا کہ پاکستان میں یہ رویہ بھی عام ہے کہ اگر کوئی عام شخص، بالخصوص خاتون کوئی کامیابی حاصل کر لے تو اس کی تعلیمی قابلیت وغیرہ کا پوچھا جانے لگتا ہے مگر کسی اونچے طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص اسی طرح کے کسی ٹیلنٹ کا مظاہرہ کر دے تو اس کی خوشی منائی جاتی ہے۔ 

بی بی سی سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی خوبصورت بات یہ ہے کہ کسی بھی ٹیلنٹ کا حامل کوئی فرد کسی آڈیشن میں پیش ہوئے بغیر دنیا بھر میں مشہور ہو سکتا ہے۔

اُنھوں نے اس کی مثال دی کہ عائشہ جو پہلے ایک نسبتاً غیر معروف کونٹینٹ کریئٹر تھیں، اب ان کا ڈانس مادھوری دکشت تک نے کاپی کیا ہے جو معروف ترین ڈانسرز میں سے ایک ہیں۔ 

جب ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ 29 گولڈ میڈل لینے والے ولید ملک اتنے وائرل نہیں ہو سکے یا زارا نعیم کو وہ توجہ نہیں مل سکی، تو اُنھوں نے کہا کہ وائرل کرنے والے لوگ بھی تو خود ہم ہی ہیں۔ 

اُنھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے جس طرح لوگوں کو اپنا ٹیلنٹ دکھانے کے مواقع دیے ہیں ان سے ہر کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے، تاہم اگر آپ چاہیں گے کہ آپ کا کونٹینٹ وائرل ہو تو اس پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے، یہ صرف درست وقت پر درست کونٹینٹ کی بات ہے۔