یاسر نواز کا ندا یاسر کے مارننگ شو کرنے پر وائرل تبصرہ: ’یاسر نے ہی مجھے مشورہ دیا تھا کہ شو ہوسٹ بن جاؤ‘

Facebook\Nida Yasir

،تصویر کا ذریعہFacebook\Nida Yasir

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

ایک عام خاتون ہو یا پھر کوئی مشہور شخصیت، ہمارا معاشرہ ایک عورت کو صرف چند کرداروں کی شکل میں ہی قبول کرتا ہے جو گھریلو زندگی کے اردگرد گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک کلپ میں پاکستان کے مشہور مارننگ شو کی میزبان ندا یاسر کے شوہر یاسر نواز سے ایک پروگرام میں سوال کیا گیا کہ ’کیا آپ چاہتے تھے کہ ندا مارننگ شو کی میزبان بنیں یا آپ کے ذہن میں اپنی بیوی کو لے کر کچھ اور تھا؟‘

جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں چاہتا تھا کہ ندا مارننگ شو کرے اور اس پر ہمارے درمیان کافی اختلافات اور مسئلے بھی ہوئے۔ شروع میں تو میں دو تین سال تک ندا کے مارننگ شو کرنے کی وجہ سے کافی پریشان بھی رہا ہوں۔۔۔۔ ندا نے گھر کو آگے رکھا اور کام کو پیچھے رکھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میری یہ سوچ کل بھی صحیح تھی اور آج بھی ٹھیک ہے کہ عورت کے لیے شوہر، بچے ساس سسر سب کو خوش رکھنا بے حد ضروری ہے۔‘

پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس کلپ پر خاصا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

اس کلپ پر تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارف علینہ نے فیس بک پر لکھا کہ ’بقول یاسر کے اگر عورت کام کرتی ہےتو اسے ایسا ہونا چاہیے کہ وہ گھر آکر بھی گھر کے تمام کام کرے۔ جبکہ شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کی مدد کرے اور اس کےخواب پورے کرنے میں اس کی مدد کرے۔‘

اس پر لبنیٰ کامران نے لکھا کہ ’بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کے وجود کو صرف گھریلو کاموں کے لیے سمجھا جاتا ہے۔ اور اس سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ گھر کے بھی کام کرے اور باہر کے بھی۔ جبکہ سب گھر والوں کو خوش رکھنا بھی صرف اسی کی ذمہ داری ہے۔‘

کچھ اور خواتین نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ’پہلے سالوں میں آپ کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ ندا پیسہ کما کر دے۔۔۔ پھر جیسے جیسے پیسہ آتا گیا تو آپ ٹھیک ہو گئے۔ ایسے مرد کم تری کا شکار ہوتے ہیں۔‘

Social Media

،تصویر کا ذریعہSocial Media

’یاسر نے ہی مجھے مشورہ دیا تھا کہ تم اداکاری کے بجائے شو ہوسٹ بن جاؤ‘

بی بی سی بات کرتے ہوئے ندا یاسر کا کہنا تھا کہ ’جب میری یاسر سے شادی ہوئی تھی تو اس سے پہلے کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی کہ میں نوکری کروں گی یا نہیں کروں گی۔ اس وقت میں اداکاری کر رہی تھی لیکن شادی کے کچھ عرصے بعد ہی میں ماں بن گئی تو یاسر نے بھی کہا کہ کیسے دیکھو گی سب کچھ۔‘

’دوسرا چھوٹے بچے کے ساتھ ویسے ہی میرے لیے کام کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا اس لیے میں نے کام سے بریک لے لی۔ پھر جب بچے تھوڑے بڑے ہوئے اور سکول جانے لگ گئے تو مجھے ڈپریشن ہونے لگا کہ میں اپنے لیے کچھ نہیں کر پا رہی۔‘

ندا بتاتی ہیں کہ اس کے بعد انھوں نے یاسر سے بات کی کہ وہ واپس کام کرنا چاہتی ہیں ’اس وقت یاسر نے ہی مجھے مشورہ دیا کہ تم اداکاری کے بجائے شو ہوسٹ بن جاؤ۔ جس کے بعد میں نے آہستہ آستہ کام کرنا شروع کیا پھر جب میرے اندر شو کی میزبانی کرنے کا کانفیڈنس پیدا ہوا تو میں نے اے آر وائی جوائن کرلیا۔‘

وہ کہتی کہ شروع شروع میں کام نیا تھا تو وقت بھی زیادہ دینا پڑتا تھا ’اس پر یاسر کو مسئلہ ہوتا تھا کہ گھر اور بچوں کے معاملے میں غفلت نا ہو جائے مگر میں خود کے لیے یاسر کے سامنے ڈٹ گئی کہ تم نے خود مجھے یہ کرنے کی اجازت دی تھی۔‘

ندا بتاتی ہیں کہ ’میں نے یاسر کو سمجھایا کہ میری والدہ بھی کام کرتی تھیں اور انھوں نے اپنے سب بچوں کی اچھی تربیت کی اور ساتھ گھر بھی دیکھا۔ جس کی مثال آج میں خود آپ کے سامنے ہوں۔۔۔ اور اس طرح میں نے یاسر کو قائل کیا۔‘

Facebook\Good Morning Pakistan

،تصویر کا ذریعہFacebook\Good Morning Pakistan

اپنے لیے عورت کو خود ہی کھڑے ہونا پڑتا ہے

ندا بتاتی ہیں کہ ’میں نے بچپن سے ہی اپنے گھر میں دیکھا تھا کہ میری والدہ پی ٹی وی میں کام بھی کرتی تھیں اور انھوں نے گھر بھی بخوبی سنبھالا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں لڑکی کو جو آرام اپنے والدین کے گھر میں ہوتا ہے وہ کہیں اور نہیں مل سکتا ہے ’بعد میں تمام تر امیدیں عورت سے ہی لگائی جاتی ہیں کہ وہ سب کو خوش رکھے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔‘

ندا یاسر بتاتی ہیں کہ شادی سے پہلے بھی میری جب کبھی چھٹیاں ہوتی تھیں تو میرے گھر والے کہتے کے ’کہیں انٹرنشپ کر لو، کوئی کام کر لو اور مجھے بھی شوق تھا اس لیے میں کبھی فارغ نہیں بیٹھی۔‘

اس معاملے پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں تو تمام عورتوں کو یہی کہوں گی کہ اپنے لیے عورت کو خود کھڑے ہونا پڑتا ہے۔ اور میرا تو یہ خیال ہے کہ ویسے بھی خواتین کو چاہیے کہ کام کریں کیونکہ شوہروں پر پہلے ہی اتنی ذمہ داری ہوتی ہے خرچوں کی، جس کی وجہ سے آخر میں عورت ہی سمجھوتہ کرتی ہے اور گھٹ گھٹ کر جیتی ہے۔‘

’اگر وہ بھی کام کرے گی تو بوجھ بھی بٹ جاتا ہے اور اس کا اپنا جیب خرچ بھی نکل آتا ہے جس سے وہ اپنی خواہشات کو پورا کر سکتی ہے۔‘

Express Tv

،تصویر کا ذریعہExpress Tv

،تصویر کا کیپشنیاسر نواز نے رابعہ انعم کے پروگرام میں ان خیالات کا اظہار کیا

ندا یاسر وہ واحد خاتون نہیں جنھیں ان مسائل کا سامنا رہا ہو گا جن کا ذکر ان کے شوہر نے وائرل کلپ میں کیا ہے۔

’نوکری نہیں کرنی، اگر کرنی ہے تو گھریلو معاملات میں کوتاہی نہ ہونے پائے‘

پیشے کے اعتبار سے رابعہ ایک ڈاکٹر ہیں اور پچھلے سات سال سے ایک سرکاری ہسپتال میں بطور ماہر نفسیات کام کر رہی ہیں۔

اس حوالے سے بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے معاشرے میں شادی کے لیے جب لڑکی تلاش کرنے نکلتے ہیں تو ایک لمبی لسٹ ہوتی ہے۔ اگر کسی گھر میں دس افراد رہتے ہیں تو گھر میں آنے والی بہو سے سب کی الگ الگ ڈیمانڈز ہوتی ہیں۔‘

’کسی کو ڈاکٹر بہو چاہیے لیکن روٹی گول بناتی ہو۔ خوب سارا پیسا بھی کمائے لیکن ساتھ ساتھ گھر، گھر والوں اور بچوں کا بھی خیال رکھے۔ شوہر کو ہر لمحہ خوش رکھنا بھی اس کا فرض ہے۔ نوکری نہیں کرنی۔۔۔ اگر کرنی ہے تو گھریلو معاملات میں کوئی کوتاہی نہ ہونے پائے۔‘

رابعہ کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ سب تو وہ فرائض ہیں جو ایک عورت پر لازم کر دیے جاتے ہیں کہ وہ ان سب کا خیال رکھے لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس عورت کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ اس کی بھی کوئی خواہشات ہو سکتی ہیں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’میری بہت چھوٹی عمر میں شادی ہو گئی تھی جس کے بعد بچے اور شادی کے بعد پیش آنے والے دیگر مسائل میں کئی عرصے تک الجھی رہی۔ میری والدہ نے بڑی محنت سے پڑھا لکھا کر مجھے ڈاکٹر بنایا کیونکہ میرے والد پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔۔ لیکن میرے گھر والوں نے میری پڑھائی ختم ہونے سے پہلے ہی میری شادی کر دی۔‘

ندا یاسر

،تصویر کا ذریعہNida Yasir

’مجھ سے امید کی جاتی کہ میں سب کو خوش رکھوں‘

شادی کے بعد پیش آنے والے مسائل کے حوالے سے رابعہ کہتی ہیں ’میں چاہتی تھی کہ اس پیشے کو آگے لے کر چلوں لیکن شادی کے بعد چیزیں بہت مشکل ہو گئیں۔ مجھ سے امید کی جاتی تھی کہ میں سب کو خوش رکھوں لیکن کوشش کے باوجود بھی یہ کرنا بہت مشکل تھا۔ کھبی یہ طعنہ کہ روٹی گول نہیں بنی۔۔۔ ہم تمھاری ڈگری کا اچار ڈالیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’پہلے تو میں نے اپنے شوہر کو منایا کہ کم از کم مجھے پڑھائی اور ہاؤس جاب کو مکمل کرنے دیں۔ وہ مان گئے لیکن شروع کے وہ سال میں نے ایک عذاب کے طور پر گزارے۔ روز روز نئے مسئلے کھڑے ہوتے تھے جن کی وجہ سے میں مجبور ہو گئی اور مجھے آگے کام کرنے کہ اجازت نہیں ملی۔‘

یہ بھی پڑھیے

Facebook\Nida Yasir

،تصویر کا ذریعہFacebook\Nida Yasir

،تصویر کا کیپشنندا یاسر کی فیملی

ہمارا معاشرہ عورت سے امید کرتا ہے کہ وہ سارا دن کولہو کے بیل کی طرح کام کرے

ڈاکٹر رابعہ بتاتی ہیں کہ ’کچھ عرصے بعد میرے بھائی کی موت واقعہ ہو گئی جس نے مجھے مزید ہلا کر رکھ دیا اور میں ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔ اس وقت میرے شوہر کو احساس ہوا کہ شاید مجھے اس سب سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے اور اس میں مجھے ان کا تعاون درکار ہو گا۔ اس وقت انھوں نے مجھے کہا کہ تم جو کرنا چاہتی ہو کر لو۔‘

’اس وقت میں نے سوچا کہ مجھ جیسی اور کتنی خواتین ہوں گی جو ایسے مسائل سے دوچار ہوں گی جو ان کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ میں نے اُس وقت ایک سٹارٹ اپ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے ڈپلومہ اور دیگر اعلی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سرکاری ہسپتال میں نوکری کی اور ساتھ ہی ایک کلینک کھولا جہاں میں آج بھی نفسیاتی مسائل سے دوچار لوگوں کا علاج کرتی ہوں۔‘

رابعہ کہتی ہیں کہ ’اب جب بھی پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ کتنا مشکل وقت گزارا ہے میں نے صرف اس لیے کیونکہ میں سب گھر والوں کو خوش رکھنا چاہتی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ ہم عورت کو سپورٹ کرنے کے بجائے اس اتنا دبا دیتے ہیں وہ ڈر اور خوف میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اس سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ سارا دن کولہو کے بیل کی طرح کام کرے حالانکہ مرد اور عورت اگر مل کر ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو گھر کے ساتھ ساتھ معاشرے میں خوشگوار تبدیلی آ سکتی ہے۔‘