ٹرمپ، شہباز سرگوشی، ترک وزیر خارجہ کے ساتھ ’خوشگوار لمحات‘ اور ’نئے غزہ‘ کی تصاویر: ڈیوس اجلاس کے وائرل لمحات اور ملاقاتیں

،تصویر کا ذریعہ@MIshaqDar50
گذشتہ روز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس اختتام پذیر ہو گیا جس میں دنیا بھر سے سینکڑوں سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں تقریباً 60 سے زائد سربراہانِ مملکت بھی شامل تھے۔
یہ عالمی رہنما ایک ایسے موقع پر ملاقات کر رہے تھے جب دنیا کو پیچیدہ سیاسی، جغرافیائی و معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں بڑھتی ہوئی تقسیم اور تیز رفتار تبدیلیاں عالمی معیشت کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ شرکا میں جی سیون کے متعدد رہنما، جی ٹوئنٹی معیشتوں اور برکس ممالک کے کئی سربراہانِ مملکت بھی شامل ہوئے۔
اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی صفِ اول کی کمپنیوں کے تقریباً 850 چیف ایگزیکٹیو افسران اور چیئرمین بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اس اجلاس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ طور پر غزہ کے لیے بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر کا اعلان کیا جو بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے قائم کیا گیا ایک ادارہ ہے۔
جمعرات کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈیوس میں بورڈ آف پیس کی باضابطہ تقریب میں شرکت اور شمولیت کی دستاویزات پر دستخط کیے۔
پاکستانی وفد میں وزیراعظم کے ساتھ وزیر خارجہ و ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شامل تھے۔
اگرچہ ڈیوس اجلاس تو ختم ہو گیا ہے مگر پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس اجلاس کے کئی لمحات وائرل ہیں اور کچھ پر بحث و تنقید بھی ہو رہی ہے۔
بحث و تنقید کن عوامل پر ہو رہی ہے، اس سے پہلے کچھ اہم لمحات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹرمپ اور شہباز شریف کی سرگوشی

،تصویر کا ذریعہSocialMedia
جب وزیراعظم شہباز شریف بورڈ آف پیس کی دستاویز پر دستخط کرنے پہنچے تو ٹرمپ کی دائیں طرف بیٹھ کر وہ چند لمحوں تک اُن کے ساتھ سرگوشیاں کرتے دکھائی دے۔
اس موقع پر ہونے والی بات چیت کے متعلق تو ہمارے پاس معلومات نہیں ہیں تاہم وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ پاکستانی وزیر اعظم کا ہاتھ دبا کر کچھ کہتے ہیں اور مزید بات چیت کے دوران شہباز شریف ہال میں کسی جانب اشارہ کرتے ہیں اور ٹرمپ آگے جھک کر ہال کی جانب دیکھتے ہیں اور پھر انگلی سے اشارہ کر کے مسکراتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں ’اوہ اچھا، آپ وہاں بیٹھے ہیں۔‘
ترک اور سعودی وزرائے خارجہ کے ساتھ ’خوشگوار لمحات‘

،تصویر کا ذریعہX/mishaqdar50
پاکستانی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کی بات کریں تو ڈیوس میں ترک وزیرِ خارجہ هاكان فيدان کی پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ڈپٹی وزیر اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ گپ شپ کا کلپ بھی بہت وائرل ہے۔
اس کلپ اور تصویر کو شئیر کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے لکھا ’ڈیوس میں اپنی متعدد سرکاری مصروفیات مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترک وزیرِ خارجہ هاكان فيدان اور میں۔۔۔۔ ڈیوس سے روانہ ہونے سے قبل خوشگوار لمحات شیئر کرتے ہوئے۔‘
اس ٹویٹ کو شئیر کرتے ہوئے پاکستان میں ترک سفارتخانے نے لکھا: ’ساتھ ساتھ۔۔ کندھے سے کندھا ملا کر۔‘
ناصرف پاکستان بلکہ ترکی میں بھی کئی صارفین نے اسے ’تاریخی لمحہ‘ قرار دیا۔
اس کے ساتھ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی وزیراعظمِ پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات کا کلپ بھی وائرل ہے۔

،تصویر کا ذریعہX.com
فیلڈ مارشل اور بلاول بھٹو کی ملاقات
ڈیوس سے وائرل لمحات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کی تصاویر بھی ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف بھی موجود ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے ان تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی۔
’سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے عالمی فورم کے اجلاس کے دوران ہونے والی اس ملاقات میں ملکی و بین الاقوامی صورتحال سمیت پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔‘

،تصویر کا ذریعہX/MediaCellPPP
پاکستان میں اپوزیشن کی ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی مذمت
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ کے لیے بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے جبکہ فلسطینیوں کے لیے انسانی مدد میں اضافہ اور غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔
تاہم ملک میں اس حوالے سے آرا تقسیم ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے صدرٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کی ہے۔
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جمعرات کی شام قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ’بورڈ آف پیس کو کسی صورت بھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ اور نیتن یاہو کی صورت میں کسی قسم کا کوئی امن بورڈ قبول نہیں۔‘
انھوں نے سوال کیا کہ کیا ’بورڈ آف پیس اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے ہوتے ہوئے کیا متوازی حیثیت نہیں رکھتا؟‘
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ’غزہ پیس بورڈ میں جانا فقط ٹرمپ کی آشیر باد حاصل کرنا ہے، اس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت انتہائی اہم معاملہ ہے۔‘
پاکستان تحریک انصاف نے بھی حکومتِ پاکستان کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس نوعیت کے بین الاقوامی اہمیت کے حامل فیصلے ہمیشہ مکمل شفافیت اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے جامع مشاورت کے ساتھ کیے جانے چاہیں۔‘
پاکستان تحریک انصاف نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’بورڈ آف پیس‘ میں کسی بھی باضابطہ شرکت کو اس وقت تک واپس لے جب تک ایک مکمل مشاورتی عمل نہ کیا جائے۔
امریکہ کا ’نیو غزہ‘ منصوبہ زیرِ بحث

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈیوس میں امریکہ نے ’نیو غزہ‘ کے لیے اپنے منصوبوں کا اعلان بھی کیا ہے جن کے تحت تباہ حال فلسطینی علاقے کو ازسرِ نو تعمیر کیا جائے گا۔
ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی جانب سے پیش کردہ سلائیڈز میں بحیرۂ روم کے ساحل کے ساتھ پھیلے درجنوں فلک بوس ٹاورز اور رفح کے علاقے میں رہائشی ہاؤسنگ سکیمیں دکھائی گئیں، جبکہ ایک نقشے میں 21 لاکھ آبادی کے لیے نئے رہائشی، زرعی اور صنعتی علاقوں کی مرحلہ وار تعمیر و ترقی کا خاکہ پیش کیا گیا۔
یہ منصوبے ڈیوس میں بورڈ آف پیس پر دستخطوں کی تقریب میں پیش کیے گئے۔ اس ادارے کو اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سالہ جنگ ختم کرانے اور تعمیرِ نو کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ٹرمپ نے کہا: ’ہم غزہ میں بہت کامیاب ہوں گے۔ یہ دیکھنے میں ایک زبردست چیز ہو گی۔‘
ٹرمپ نے کہا: ’میں دل سے رئیل سٹیٹ والا بندہ ہوں اور سب کچھ مقام پر منحصر ہوتا ہے۔ اور میں نے کہا: سمندر کے کنارے اس جگہ کو دیکھیں، اس خوبصورت زمین کے ٹکڑے کو دیکھیں۔۔۔ یہ کتنے لوگوں کے لیے کیا کچھ بن سکتا ہے۔‘
ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر جنھوں نے اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے معاہدے میں کردار ادا کیا، نے کہا کہ غزہ پر 90 ہزار ٹن اسلحہ گرایا گیا ہے اور وہاں سے چھ کروڑ ٹن ملبہ ہٹانا باقی ہے۔
انھوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’حماس نے عسکریت پسندی ترک کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور ہم اسی پر عملدرآمد کرائیں گے۔ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا پلان بی کیا ہے۔ ہمارے پاس کوئی پلان بی نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ’ماسٹر پلان‘ کے نقشے میں ’ساحلی سیاحت‘ کے لیے مخصوص ایک زون دکھایا گیا ہے جہاں 180 بلند عمارتیں تعمیر کی جائیں گی، جبکہ اس کے علاوہ رہائشی علاقوں، صنعتی کمپلیکس، ڈیٹا سینٹرز، جدید مینوفیکچرنگ اور پارکس، زراعت و کھیلوں کی سہولتوں کے لیے بھی الگ الگ زونز شامل ہیں۔
منصوبے کے تحت مصری سرحد کے قریب ایک نئی بندرگاہ اور ہوائی اڈا تعمیر کیا جائے گا، جبکہ جہاں مصری اور اسرائیلی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں وہاں ایک ’سہہ فریقی کراسنگ‘ بھی قائم کی جائے گی۔
ازسرِ نو تعمیر کا عمل چار مراحل میں مکمل کیا جائے گا، جس کا آغاز رفح سے ہو گا اور بعد ازاں بتدریج شمال کی جانب غزہ سٹی تک پھیلایا جائے گا۔
نقشے میں مصری اور اسرائیلی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ایک خالی پٹی بھی دکھائی گئی ہے، جو بظاہر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے میں بیان کردہ ’سکیورٹی پیرامیٹر‘ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں اسرائیلی افواج اس وقت تک موجود رہیں گی ’جب تک غزہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو جاتا۔‘
ان سلائیڈز کے سامنے آنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر پاکستان سمیت دنیا بھر سے بیشتر افراد تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔
پاکستانی سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے ایکس پر لکھا ’افسوس صد افسوس۔ لاکھوں فلسطینیوں کی لاشوں پر تعمیر ہونے والا نیا غزہ جس کی تصاویر ٹرمپ کے داماد نے سوئٹزرلینڈ میں دکھائیں۔ اِس پراجیکٹ سے ٹرمپ اور ان کا خاندان اربوں ڈالر بنائیں گے۔ یہ ہے بورڈ آف پیس کا اصل مقصد۔ ہمیں کیا پڑی تھی اِس گناہ میں حصہ ڈالنے کی؟‘
لیٹیشیا روڈریگز نامی ایک صارف نے ایکس پر لکھا ’مجھے یہ دیکھ کر شدید تشویش ہوئی ہے کہ ’نیو غزہ‘ کو سیاحت اور ’ترقی‘ کے ایک ایسے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو اُن لوگوں کی تباہ شدہ بستیوں پر تعمیر ہوگا، جو اب بھی ایک سنگین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ کوئی مستقبل کا وژن نہیں، بلکہ ایسا تصور ہے جو بڑے پیمانے پر بے دخلی اور اجتماعی شناخت کے مٹائے جانے کو معمول بنا دیتا ہے۔‘
’حیرت یہ ہے کہ وہی حکومتیں جو دوسرے معاملات میں بین الاقوامی قانون کی سختی سے پاسداری کرتی ہیں، یہاں اس عمل میں سرگرم طور پر شریک دکھائی دے رہی ہیں۔ کیا ہم واقعی ہوش کھو بیٹھے ہیں؟‘
کشنر نے یہ بھی اعلان کیا کہ غزہ کو غیر عسکریت پسند بنانے کا عمل ’اب شروع ہو رہا ہے‘، انھوں نے کہا کہ ’بغیر سکیورٹی کے کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ علاقے کی نئی ٹیکٹوکریٹ فلسطینی حکومت، نیشنل کمیٹی برائے انتظام غزہ، حماس کے ساتھ مل کر غیر عسکریت پسندی پر کام کرے گی تاکہ دستاویز میں طے کیے گئے اصولوں کو اگلے مرحلے تک پہنچایا جا سکے۔
خیال رہے حماس نے پہلے اس بات سے انکار کیا تھا کہ وہ اپنے ہتھیار اس وقت تک ترک نہیں کریں گے جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی۔
لیکن ٹرمپ نے اس گروپ کو خبردار کیا: ’انھیں اپنے ہتھیار ترک کرنا ہوں گے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ ان کا اختتام ہو گا۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی زور دیا کہ حماس غزہ میں آخری ہلاک ہونے والے اسرائیلی یرغمالی کی باقیات بھی حوالے کرے، جس کے بارے میں اسرائیل نے کہا کہ یہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے شروع ہونے سے پہلے ہونا چاہیے تھا۔
پہلے مرحلے کے تحت، حماس اور اسرائیل نے جنگ بندی، غزہ میں موجود تمام زندہ اور ہلاک اسرائیلی یرغمالیوں کے تبادلے کا معاہدہ کیا اور ان فلسطینیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا جو اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جزوی اسرائیلی انخلا اور انسانی امداد کی فراہمی میں اضافہ بھی طے پایا۔
تاہم جنگ بندی اب بھی نازک مرحلے میں ہے اور گذشتہ تین مہینوں میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 477 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فلسطینی مسلح گروپوں کے حملوں میں اس کے تین فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
انسانی حالات بھی اب بھی نہایت خطرناک ہیں، اور اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 10 لاکھ لوگ مناسب رہائش سے محروم ہیں جبکہ 16 لاکھ افراد شدید خوراک کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔












