رانا فواد اور لاہور قلندرز کی ملکیت پر بھائیوں کے درمیان تنازع: ’وہ ہمارے بڑے بھائی ہیں‘

تصویر
،تصویر کا کیپشنفواد رانا سنہ 2020 کے بعد پی ایس ایل کے کسی سیزن میں نظر نہیں آئے
    • مصنف, اسد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پہلے چار سیزنز کے دوران باؤنڈری لائن کے باہر لاہور قلندرز کے ڈگ آؤٹ میں موجود ایک شخص کے میچ کی صورتحال کی طرح بدلتے تاثرات نے بہت جلد لوگوں کی توجہ حاصل کر لی۔

میچ کے سنسنی خیز لمحات کے دوران کیمرہ بار بار اُس شخص کی جانب جاتا اور اگر اُن کی ٹیم میچ جیت رہی ہوتی تو وہ خوشی سے اُچھلتے کودتے اور سجدے میں گر جاتے۔ لیکن پی ایس ایل کے ابتدائی سیزنز میں لاہور قلندرز کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے یہ چہرہ زیادہ تر مایوس ہی دکھائی دیتا۔

یہ تھے لاہور قلندرز کے مالک رانا فواد، جن کے دلچسپ انداز نے بہت جلد اُنھیں پاکستان سپر لیگ کی پسندیدہ شخصیت بنا دیا۔ پاکستان سپر لیگ کے ابتدائی سیزنز میں لاہور قلندرز کبھی آخری نمبر پر آتی، تو کبھی جیتا ہوا میچ ہار کر اُنھیں مایوس کر دیتی۔

یوں سوشل میڈیا پر بھی رانا فواد سے جڑی میمز کی بھرمار ہوتی اور شائقین کرکٹ اُن سے ہمدردی کا اظہار کرتے۔ لیکن پھر پی ایس ایل کی پہچان بن جانے والے رانا فواد اچانک غائب ہو گئے۔

کچھ صارفین نے سمجھا کہ شاید لاہور قلندرز کی پے در پے شکستوں سے مایوس ہو کر وہ اب گراؤنڈ کا رُخ نہیں کر رہے۔ اسی دوران سنہ 2020 میں کرونا وبا کے دوران یہ اطلاعات آئیں کہ وہ شدید بیمار ہیں۔ پھر پی ایس ایل میں لاہور قلندرز جیت کی ڈگر پر گامزن ہوئی تو بھی رانا فواد گراؤنڈ میں نظر نہیں آئے۔

لیکن بدھ کے دن ایک فیصلے نے کرکٹ فینز کو چونکا دیا جس میں ایک عدالتی حکم پر قائم کی جانے والی ایک ثالثی عدالت نے لاہور قلندرز کے سی ای او عاطف رانا اور ثمین رانا کو حکم دیا کہ وہ 45 روز کے اندر فواد رانا کو لاہور قلندرز کے ملکیتی حقوق واپس کریں یا اُنھیں دو ارب 30 کروڑ روپے ادا کریں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہSocial Media

فواد رانا نے اپنی کمپنی ’کیلکو‘ کے شیئرز کی لاہور قلندرز کی موجودہ ملکیت رکھنے والی کمپنی کوثر رانا ریسورس (کے آر آر) کو منتقلی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سنہ 2023 میں عدالت سے رُجوع کیا تھا۔

یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک پہنچا تھا، جہاں فریقین نے اسے ثالثی عدالت کے سپرد کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ثالثی عدالت کے جج جسٹس (ر) مقبول باقر نے 19 جنوری کو اپنے فیصلے میں رانا فواد کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے عاطف رانا اور ثمین رانا کو حکم دیا ہے کہ وہ فواد رانا کو 45 روز کے اندر دو ارب 30 کروڑ ادا کریں یا فرنچائز کی ملکیت اُن کے سپرد کریں۔

رانا فواد نے عدالت سے رُجوع کیوں کیا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ثالثی عدالت کے فیصلے کے مطابق رانا فواد نے سنہ 2023 میں عدالت سے رُجوع کیا تھا، جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اُن کے چھوٹے بھائیوں عاطف رانا اور ثمین رانا نے اُن کی مرضی کے بغیر غیر قانونی طور پر لاہور قلندرز کے شیئرز منتقل کیے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق سنہ 2015 میں قطر آئل گروپ، جو قطر میں رجسٹرڈ کمپنی ہے، نے 26 ملین ڈالرز کے عوض لاہور قلندر کے مالکانہ حقوق حاصل کیے تھے۔

رانا فواد اس کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر تھے۔ سنہ 2016 میں فواد رانا نے اپنے بھائیوں عاطف رانا اور ثمین رانا کو بھی فرنچائز کے روزمرہ کے اُمور دیکھنے کے لیے شامل کیا۔

بھائیوں نے فیصلہ کیا کہ فرنچائز کو قطر کے بجائے پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنی کے ذریعے چلایا جائے۔

لاہور میں اپنی والدہ کے نام سے منسوب کمپنی کوثر رانا ریسورس (کے آر آر) کو 48 فیصد شیئر دیے گئے جبکہ کیلکو کے 51 فیصد شیئرز کے علاوہ فواد رانا نے اپنے ایک فیصد شیئرز بھی کے آر آر میں رکھے۔ یوں قطر آئل کے پاس ہی لاہور قلندرز کے اکثریتی شیئرز تھے، لیکن یہ فرنچائز اب پاکستان سے چلائی جا رہی تھی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق اس کہانی میں موڑ اُس وقت آیا جب سنہ 2018 میں ’کیلکو‘ کے چار فیصد شیئرز کے آر آر کو منتقل کیے گئے، یوں فواد رانا کی جگہ عاطف رانا لاہور قلندرز کے اکثریتی شیئرز کے مالک بن گئے۔

یہ ہی وہ لمحہ تھا، جب تین بھائیوں کے مابین دراڑ پڑنا شروع ہوئی۔

رانا فواد نے موقف اختیار کیا کہ سنہ 2018 میں ان چار فیصد شیئرز کی منتقلی غیر قانونی طور پر کی گئی جو فراڈ کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن عاطف اور ثمین رانا کے مطابق یہ سب ’قانون کے مطابق‘ تھا۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشنسنہ 2016 میں فواد رانا نے اپنے بھائیوں عاطف رانا اور ثمین رانا کو بھی فرنچائز کے روزمرہ کے اُمور دیکھنے کے لیے شامل کیا

ثالثی عدالت کے فیصلے کے مطابق عاطف رانا اور ثمین رانا نے موقف اختیار کیا کہ لاہور قلندرز کی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے لیگ کی ساکھ کمزور پڑ رہی تھی۔ لہذا اسے دوبارہ ایک نئی تحریک دینے کے لیے لاہور قلندرز نے ابو ظہبی میں ٹی 10 لیگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

اُن کے بقول اس دور میں متحدہ عرب امارات اور قطر کے تعلقات میں تناؤ کی وجہ سے قطر کی کسی کمپنی کے ذریعے ٹی 10 لیگ میں حصہ لینا ممکن نہیں تھا اور اسی لیے متفقہ طور یہ فیصلہ کیا گیا کہ لاہور قلندرز کو پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنی کے ذریعے ٹی 10 لیگ میں شامل کرایا جائے۔ اس کے لیے اکثریتی حصص کے آر آر کے نام ہونا ضروری تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق عاطف رانا اور ثمین رانا نے دعویٰ کیا کہ فواد رانا نے بھی اس ٹی 10 لیگ میں شامل ہونے کے خیال کو پسند کیا اور اُن کی رضا مندی کے ساتھ ہی کے آر آر کو اکثریتی شیئرز دیے گئے۔

لیکن فواد رانا کے بقول اُنھوں نے حصص منتقلی کی کسی میٹنگ میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی کسی دستاویزات میں اُن کے دستخط موجود ہیں۔

جب چیک باؤنس ہوا اور لاہور قلندرز برائے فروخت تھی

کہانی میں دوسرا موڑ اُس وقت آیا جب کرونا وبا کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ کو بھی ملتوی کرنا پڑا اور اس کا اثر مالی خسارے کی صورت میں لاہور قلندرز پر بھی پڑا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق سنہ 2020 میں پی ایس ایل کی سکیورٹی فیس کی مد میں کیلکو کا ایک چیک باؤنس ہوا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سات روز کے اندر 25 لاکھ 10 ہزار ڈالرز جمع کروانے کی مہلت دی اور بصورت دیگر قانونی کارروائی کی تنبیہ دی گئی۔

پی سی بی کی اس وارننگ کی نقل کیلکو کے چیئرمین شیخ سلطان کو بھی بھیجی گئی۔ اس معاملے پر کیلکو کی ایک ہنگامی میٹنگ میں رانا برادرز نے کہا کہ لاہور فرنچائز کو 30 لاکھ ڈالرز میں فروخت کے لیے ایک گاہگ موجود ہے۔

عاطف رانا اور ثمین رانا کا موقف تھا کہ ممکنہ خریدار کی شرط ہے کہ کمپنی کے تمام حصص کے آر آر کے پاس ہونے چاہییں۔

’کیلکو‘ کے چیئرمین شیخ سلطان نے بھی اتفاق کیا کہ فرنچائز کی فروخت کے ذریعے اصل سرمایہ کاری کے تحفظ کے بعد اس لیگ کو فروخت کر دیا جائے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق سنہ 2021 میں ’مسٹر نیازی‘ نے شخص کو لاہور قلندرز کے 30 فیصد شیئرز فروخت کیے گئے، لیکن اس کے بعد فرنچائز کی فروخت کا معاملہ بھی التوا میں پڑ گیا۔

دستاویزات میں یہ واضح نہیں ہوا کہ ’مسٹر نیازی‘ کون تھے؟ لاہور قلندرز کے موجودہ مالکان اور فواد رانا کے وکلا سے جب ان سے متعلق پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس سے متعلق کچھ نہیں کہیں گے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہSocial Media

معاملہ ثالثی عدالت تک کیسے پہنچا؟

رانا فواد کے وکیل طلحہ جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2020 میں رانا فواد لاہور قلندرز کی فروخت پر رضامند تھے، لیکن اس میں تاخیر کی گئی اور جب سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کا ریکارڈ نکلوایا گیا تو اس میں نہ تو کیلکو اور نہ ہی فواد رانا بطور شیئر ہولڈرز موجود تھے۔ اس پر 2023 میں عدالت سے رُجوع کیا گیا۔

اُن کے بقول سنہ 2018 اور 2020 میں شیئرز کی منتقلی کے معاملے پر لاہور ہائی کورٹ سے رُجوع کیا گیا۔ جہاں عاطف رانا اور ثمین رانا نے اس معاملے کو ثالثی کورٹ میں بھیجنے پر زور دیا، لیکن ہائی کورٹ نے اُن کی درخواست کر دی۔ لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت پر یہ معاملہ ثالثی عدالت میں بھیجا گیا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کمپنیوں کے مابین تنازعات کے حل کے لیے ثالثی عدالت کا نظام موجود ہے جو 1940 کے آربٹریشن ایکٹ کے تحت کام کرتا ہے۔

طلحہ جاوید کہتے ہیں کہ اُنھوں نے اپنے موکل کے توسط سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ثالثی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں لاہور قلندرز کی موجودہ انتظامیہ کے ساتھ معاملات روک دیے جائیں۔

’یہ خاندانی معاملہ ہے‘

بی بی سی نے اس فیصلے پر موقف جاننے کے لیے لاہور قلندرز کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر اور ٹیم ڈائریکٹر ثمین رانا نے کہا کہ یہ قانونی معاملہ ہے اور کمپنی کے آٹھ برسوں کے آڈٹ ریکارڈ میں سب کچھ واضح ہے۔

ثمین رانا کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں زیادہ دم نہیں ہے اور ہم اس فیصلے کو چیلنج کرنے جا رہے ہیں۔‘

ثمین رانا کا کہنا تھا کہ ’یہ خاندان کے مابین ایک معاملہ ہے، فواد ہمارے بڑے بھائی ہیں۔۔اس سے زیادہ میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔‘

سوشل میڈیا پر ردِعمل

لاہور قلندرز کی ملکیت کے تنازع اور ثالثی عدالت کے فیصلے پر سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

احتشام صدیقی نامی صارف نے لکھا کہ فواد رانا سے ’ہر کرکٹ فین شروع سے ہی پیار کرتا ہے اور ہر کوئی اس معاملے میں ان کا ساتھ دے گا۔‘

مصطفی نامی صارف نے لکھا کہ سب سے گہرا ’زخم وہ ہوتا ہے، جو اپنے لگاتے ہیں۔ فواد رانا لاہور قلندرز کے دل کی دھڑکن تھے۔‘

حسن نامی صارف نے لکھا کہ ’لاہور قلندرز کے وفادار پرستار ہونے کے ناطے ہم ہمیشہ فواد رانا کو واپس دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ دوبارہ چارج سنبھالیں۔‘

وجیہہ نامی صارف نے لکھا کہ ’لوگ فواد رانا کو اس لیے پسند کرتے تھے کیونکہ وہ ایک ارب پتی ہونے کے باوجود جیت کی صورت میں بچوں کی طرح جشن مناتے تھے۔ جب ٹیم ہارتی تھی تو ایک عام کرکٹ فین کی طرح اُداسی اُن کے چہرے پر نظر آتی تھی۔‘