آئی پی ایل 2022: پی ایس ایل کے غیر ملکی کرکٹرز جنھیں آئی پی ایل میں کروڑوں ملے تو کچھ کو خریدار تک نہ ملا

آرین، سہانا اور جھانوی

،تصویر کا ذریعہ@Iplt20.com

،تصویر کا کیپشننیلامی میں خریدار کے طور پر شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان اور بیٹی سہانا کے ساتھ جوہی چاولہ کی بیٹy جھانوی بھی شامل ہوئے

فروری کے مہینے میں جنوبی ایشیا کے بڑے ممالک میں کرکٹ کا جنون زوروں پر ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں ٹی ٹوئنٹی لیگز کے مقابلے جاری ہیں جبکہ انڈیا میں مارچ کے آخری ہفتے سے شروع ہونے والی آئی پی ایل کے لیے گذشتہ ہفتے کھلاڑیوں کی نیلامی کی تقریب ہوئی۔

اس نیلامی میں جہاں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کھیلنے والے بعض غیر ملکی کرکٹرز کی انڈیا میں بھی مانگ دیکھنے میں نظر آئی وہیں پی ایس ایل کھیلنے والے کئی غیرملکی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں نظر انداز بھی کیا گیا ہے۔

کرکٹ کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ انڈین پریمیئر ليگ یا آئی پی ایل کے 15ویں سیزن کے لیے سنیچر اور اتوار کو نیلامی ہوئی تھی جس میں دس ٹیموں نے دو سو سے زیادہ کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کیں۔

انڈین پریمیئر لیگ میں رواں سال دو ٹیموں کا اضافہ ہوا ہے اور یہ لکھنؤ سپر جائنٹس اور گجرات ٹائٹنز نامی ٹیمیں ہیں۔

حالیہ نیلامی کو اب تک کی سب سے بڑی نیلامی کہا جا رہا ہے۔ آئی پی ایل کے لیے دنیا بھر سے ایک ہزار 214 کھلاڑیوں کی جانب سے درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ ابتدائی تجزیے کے بعد اُن میں سے 590 کھلاڑیوں کو نیلامی کے مراحل میں شامل کیا گیا جن میں 220 بیرون ممالک کے کھلاڑی تھے جبکہ 370 انڈین کھلاڑی تھے۔

رواں سیزن کی نیلامی میں افغانستان کے 17، آسٹریلیا کے 47، بنگلہ دیش کے پانچ، انگلینڈ کے 24، آئرلینڈ کے پانچ، نیوزی لینڈ کے 24، جنوبی افریقہ کے 33، سری لنکا کے 23، ویسٹ انڈیز کے 34، زمبابوے، نیپال، امریکہ اور سکاٹ لینڈ کے ایک ایک کھلاڑی جبکہ نمیبیا کے تین کھلاڑی شامل رہے۔

پی ایس ایل کے کھلاڑیوں کی آئی پی ایل میں مانگ

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق پی ایس ایل میں غیر ملکی کرکٹرز کو پلاٹینم (ایک لاکھ تیس ہزار سے ایک لاکھ ستر ہزار امریکی ڈالر)، ڈائمنڈ (70 ہزار سے ایک لاکھ امریکی ڈالر)، گولڈ (45 ہزار سے 60 ہزار امریکی ڈالر) اور سلور (20 ہزار سے 30 ہزار امریکی ڈالر) کیٹگری میں رکھا جاتا ہے۔

جبکہ آئی پی ایل کی آکشن میں دنیا بھر کے کھلاڑیوں کی بولی لگتی ہے اور اس میں ٹیموں کا بجٹ پی ایس ایل سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

آئیے جانتے ہیں کہ پی ایس ایل میں کھیلنے والے کن غیر ملکی کرکٹرز کو آئی پی ایل میں کروڑوں ملے تو کچھ کو کوئی خریدار تک نہ ملا۔

پشاور زلمی

پی ایس ایل کی ٹیم پشاور زلمی میں پلاٹینم کیٹگری میں کھیلنے والے غیر ملکی کرکٹرز لیئم لیونگ سٹون کو آئی پی ایل کی ٹیم پنجاب کنگز میں آنے کے لیے 11.5 کروڑ انڈین روپے دیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح شرفین ردرفورڈ (ڈائمنڈ کیٹگری) کی خدمات ایک کروڑ انڈین روپے کے عوض رائل چیلنجر بنگلور نے حاصل کی ہیں۔

لیکن آئی پی ایل کی کسی بھی ٹیم نے پشاور زلمی کے بین کٹنگ (ڈائمنڈ کیٹگری)، کوہلر کیڈمور (سلور کیٹگری) اور ثاقب محمود (گولڈ کیٹگری) کی خدمات حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

پی ایس ایل

،تصویر کا ذریعہPSL

لاہور قلندرز

نمیبیا کے لیے کھیلنے والے لاہور قلندرز کے ڈیوڈ ویسے کی بھی آئی پی ایل میں کوئی بولی نہ لگ سکی ہے۔ خیال رہے کہ وہ پی ایس ایل میں ڈائمنڈ کیٹگری کے آل راؤنڈر ہیں۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ افغانستان کے راشد خان، جو لاہور کے لیے پلاٹینم کیٹگری میں کھیلتے ہیں، نے گجرات ٹائٹنز میں 15 کروڑ انڈین روپے کے عوض اپنی جگہ بنا لی ہے۔ انھیں آکشن سے قبل ہی ٹیم میں شامل کر لیا گیا تھا۔

انگلینڈ کے بین ڈنک، ہیری بروکس، سمت پٹیل اور فل سالٹ بھی آئی پی ایل کی آکشن میں شامل نہیں تھے۔

کراچی کنگز

سن رائزز حیدرآباد نے کراچی کنگز کے روماریو شیفرڈ (گولڈ کیٹگری) کو 7.75 کروڑ انڈین روپے میں حاصل کیا ہے تو اسی ٹیم کے لیے کھیلنے والے لیوس گریگوری (پاکستان میں ڈائمنڈ کیٹگری) آکشن کا حصہ ہی نہیں تھے۔

افغان آل راؤنڈر محمد نبی (پاکستان میں ڈائمنڈ کیٹگری) کو ایک کروڑ انڈین روپے کے عوض کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے حاصل کیا ہے۔ مگر جو کلارک، جو کراچی کنگز کے برانڈ ایمبیسڈر بھی ہیں، آئی پی ایل کی آکشن میں شامل نہیں تھے۔

چنئی سپر کنگز نے کرس جارڈن (پلاٹینم) کی خدمات 3.6 کروڑ انڈین روپے میں حاصل کی ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ

اسلام آباد یونائیٹڈ کے مینٹور اور اوپنر الیکس ہیلز اب کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے کھیلیں گے اور ان کی خدمات 1.5 کروڑ میں حاصل کی گئی ہیں۔

اسلام آباد میں پلاٹینم کیٹگری کے جارحانہ بلے باز کالن منرو کی بیس پرائس 1.5 کروڑ انڈین روپے تھی مگر انھیں کوئی خریدار نہ مل سکا۔ یہی حال افغانستان کے رحمان اللہ گرباز اور انگلینڈ کے ریس ٹاپلی (پاکستان میں ڈائمنڈ کیٹگری) کا بھی رہا۔

پی ایس ایل

،تصویر کا ذریعہPSL

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اوورسیز بلے باز جیسن روئے کو گجرات ٹائٹنز نے دو کروڑ انڈین روپے میں خریدا۔ وہ پلاٹینم کیٹگری کے کھلاڑی ہیں جنھوں نے کوئٹہ کو میچز بھی جتائے۔

تاہم پلاٹینم کیٹگری کے جیمز ونس اور جیمز فلکنر اس آکشن میں شامل نہیں تھے۔ راجستھان رائلز نے شمرون ہیٹمئیر (پلاٹینم کیٹگری) کو 8.5 کروڑ انڈین روپے کے عوض حاصل کیا ہے۔

ملتان سلطانز

اب بات آتی ہے ملتان سلطانز کی جو اب تک پی ایس ایل میں سب سے اچھی کارکردگی دکھانے والی ٹیم رہی ہے۔ اس کے روومن پوول (سلور کیٹگری) 2.8 کروڑ انڈین روپے میں دلی کیپیٹلز کے ہو گئے ہیں مگر اہم وکٹیں لینے والے پلاٹینم کیٹگری کے لیگ سپنر عمران طاہر کے لیے آکشن میں کسی نے بھی بولی نہیں لگائی۔

رائلی روسوو تو آکشن کا حصہ نہیں تھے تاہم جارحانہ بلے باز اور عمدہ فیلڈر ٹِم ڈیوڈ 8.25 کروڑ میں ممبئی انڈینز کے لیے کھیلیں گے۔ وہ پی ایس ایل میں پلاٹینم کیٹگری کے کرکٹر ہیں۔

سلور کیٹگری کے ڈومنک ڈریکس کو 1.5 کروڑ انڈین روپے میں آئی پی ایل کی ٹیم گجرات ٹائٹنز کا حصہ بن گئے ہیں۔

زمبابوے کے بلیسنگ مزربانی (پاکستان میں سلور کیٹگری) کے لیے کسی نے بولی نہیں لگائی جبکہ ڈیوڈ ویلی رائل چیلنجر بنگلور کے لیے کھیل رہے ہیں اور ان کے لیے دو کروڑ انڈین روپے کی کامیاب بولی لگائی گئی۔ ان کا نام پی ایس ایل میں سپلیمنٹری پلیئرز کیٹگری میں سامنے آیا تھا۔

آئی پی ایل میں سب سے زیادہ قیمت حاصل کرنے والے کھلاڑی

دو دن قبل مکمل ہونے والی نیلامی میں ممبئی انڈینز نے انڈین وکٹ کیپر بلے باز ایشان کشن کو سب سے زیادہ قیمت میں خریدا ہے۔ ان کی بولی سوا 15 کروڑ روپے لگائی گئی ہے۔

ipl

،تصویر کا ذریعہIplt20.com

ایشان کشن کے بعد سب سے زیادہ قیمت بولر دیپک چاہر کی لگی جنھیں چنئی سپر کنگز نے 14 کروڑ روپے میں خریدا جبکہ آئی پی ایل کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل سریش ایئر کو کولکتہ نائٹر رائڈرز نے سوا 12 کروڑ میں خریدا ہے۔

چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ قمیت حاصل کرنے والے میں انگلینڈ کے کھلاڑی لیئم لیونگ سٹون رہے۔ انھیں پنجاب کنگز نے ساڑھے 11 کروڑ روپے میں خریدا جبکہ بولر شاردل ٹھاکر کو دہلی کیپیٹلز نے پونے 11 کروڑ روپے میں خریدا۔

بولر ہرشل پٹیل کو رائل چیلنجرز بنگلور نے اتنی ہی قیمت میں خریدا جبکہ سنرائزرس حیدرآباد نے ویسٹ انڈیز کے نکولس پورن کی اتنی ہی قیمت میں خدمات حاصل کیں۔

انڈیا کے پانچ سب سے زیادہ قیمت حاصل کرنے والے اس طرح ہیں:

  • ایشان کشن- ممبئی انڈینز
  • دیپک چاہر- چینئی سوپر کنگز
  • سریش ایئر- کولکتہ نائٹ رائڈرز
  • شاردل ٹھاکر- دہلی کیپیٹلز
  • ہرشل پٹیل - رائل چیلنجرز بنگلور

غیر ممالک کے سب سے زیادہ قیمت حاصل کرنے والے کھلاڑی

  • لیئم لیونگ سٹون (انگلینڈ) - پنجاب کنگز (ساڑھے 11 کروڑ)
  • ونندو ہسارنگا (سری لنکا) - رائل چیلنجرز بنگلور (پونے 11 کروڑ)
  • نکولس پورن (ویسٹ انڈیز) - سن رائزرز حیدرآباد (پونے 11 کروڑ)
  • لوکی فرگیوسن (نیوزی لینڈ) - گجرات ٹائٹنز (دس کروڑ)
  • کگیسو رباڈا (جنوبی افریقہ) - پنجاب کنگز (سوا نو کروڑ)

آئی پی ایل میں اب تک بہتر کارکردگی دکھانے والے بعض ایسے کھلاڑی رہے جنھیں کوئی خریدار نہ مل سکا۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا میں گرما گرم مباحثے جاری ہیں۔

ممبئی انڈینز

،تصویر کا ذریعہIplt20.com

،تصویر کا کیپشنممبئی انڈینز کی جانب سے خریداروں میں ظہیر خان بھی شامل تھے

ان کھلاڑیوں میں چنئی سپر کنگز سے اب تک تعلق رکھنے والے بیٹسمن سریش رینا بھی شامل ہیں جن کا شمار آئی پی ایل کے کامیاب ترین بلے بازوں میں کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سال کی نیلامی میں ان میں کسی بھی ٹیم نے دلچسپی نہ دکھائی جس کی وجہ سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ رینا کا کریئر اس کے ساتھ ہی ختم ہوا چاہتا ہے۔

آسٹریلیا کے محدود اوورز کی کرکٹ کے کپتان ایرون فنچ کو اس بار کسی نے نہیں لیا۔ حالانکہ انھوں نے گذشتہ سال رائل چیلنجرز بنگلور کی جانب سے 12 اننگز میں 268 رنز بنائے تھے اور محض چند ماہ قبل آسٹریلیا کو ٹی ٹوئنٹی کے ورلڈ کپ میں فتح دلائی تھی۔

حیران کُن طور پر آسٹریلیا کے مایہ ناز بلے باز سٹیون سمتھ کو بھی کوئی خریدار نہ مل سکا۔ حالانکہ اس سے قبل باری باری کئی ٹیموں نے ان کی خدمات حاصل کی تھیں۔

انگلینڈ کے آئن مورگن کو بھی کوئی خریدار نہ مل سکا۔ حالانکہ اس سے قبل انھیں اس فارمیٹ کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔

عمران طاہر اور شکیب الحسن جیسے بڑے نام بھی اس بار آئی پی ایل سے غائب ہیں۔ ویسے عمران طاہر اس نیلامی میں سب سے زیادہ عمر والے کھلاڑی تھے۔

بہت سے ٹوئٹر صارفین نے انگلینڈ کے کھلاڑی لیئم لیونگ سٹون کو دی جانے والی قیمت پر حیرت کا اظہار کیا ہے جبکہ بہت سارے نے آئی پی ایل کے کامیاب ترین کھلاڑیوں میں شامل سوریش رینا، کرس گیل اور اے بی ڈی ولیئرز کی عدم موجودگی پر افسوس ظاہر کیا ہے۔

کرک ٹریکر نے لکھا کہ ’مسٹر آئی پی ایل سوریش رینا، یونیورس باس کرس گیل اور مسٹر 360 اے بی ڈی ہم آپ کو مس کریں گے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

آئی ٹی زیڈ ستیش نامی صارف نے دھونی اور رینا فیملی کی تصویر ڈال کر لکھا: 2021 میں سوریش رینا نے کہا تھا کہ اگر سی ایس کے آئی پی ایل جیتی ہے تو ہم دھونی کو 2022 آئی پی ایل میں کھیلنے کے لیے راضی کریں گے۔ اب دھونی تو 2022 کا آئی پی ایل کھیل رہے ہین لیکن رینا نہیں۔ سی ایس کے کے لے یہ کتنا دلخراش منظر ہے۔

کرکٹ مبصر اور سٹینڈ اپ کامیڈین عاطف نواز نے لیونگ سٹون پر لکھا: 'آپ کو پتا ہے کہ میں لیونگ سٹون کو کیوں پسند کرتا ہوں۔ اس لیے کہ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ کس کے لیے کھیل رہے ہیں، کتنا پیسا مل رہا ہے بلکہ وہ اپنا سو فیصد دیتے ہیں۔ آئی پی ایل میں دس کروڑ سے زیادہ حاصل کرنے کے بعد بھی وہ وہی پی ایس ایل میں پشاور زلمی کے لیے اپنے آپ کو جھونک رکھا ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

دوسری جانب چند ایسے کھلاڑی ہیں جنھوں نے آج تک کوئی بین الاقوامی میچ نہیں کھیلا لیکن انھیں ان بڑے ناموں کے برعکس نہ صرف خریدا گیا ہے بلکہ انھیں خطیر رقم کے عوض خریدا گیا۔ ان میں بولر اویش خان اور بیٹسمین شاہ رخ خان شامل ہیں۔

چند ایسے کھلاڑی ہیں جنھیں پہلے کے مقابلے میں دو ہزار گنا زیادہ قیمت پر خریدا گیا ہے۔ ہرشل پٹیل کو پونے 11 کروڑ میں آر سی بی نے خریدا ہے اور ان کی قیمت میں پانچ ہزار گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جبکہ پرسدھ کرشنا کو راجستھان رائلز نے خریدا اور ان کی قیمت میں بھی تقریبا پانچ ہزار گنا اضافہ ہوا ہے۔

ٹم ڈیوڈ کی خدمات ممبئی انڈینز نے حاصل کی ہے اور ان کی قیمت میں چار ہزار فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ دیو دت پڈڈیکل کی قیمت میں 3700 گنا اور ہسارنگا کی قیمت میں دو ہزار گنا اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ نیلامی میں خریداری کے لیے سب سے زیادہ 72 کروڑ روپے پنجاب کنگز کے پاس تھے۔ جبکہ راجستھان رائلز کے پاس 62 کروڑ سے زیادہ کی رقم تھی۔ اس کے بعد سن رائزرز حیدرآباد کے پاس 58 کروڑ روپے جبکہ رائل چیلنجرز بنگلور کے پاس 57 کروڑ روپے تھے۔ کولکتہ، چنئی اور ممبئی کے پاس 48-48 کروڑ روپے تھے جبکہ دہلی کے پاس سب سے کم 5۔47 کروڑ روپے تھے۔

دو نئی ٹیموں لکھنؤ اور گجرات کے پاس کتنے پیسے تھے اس کا حساب سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سے قبل جنوری میں ہونے والی نیلامی میں ان دونوں ٹیموں نے کچھ کھلاڑیوں کو خریدا تھا جس میں کے ایل راہل کو لکھنؤ نے اب تک کی سب سے زیادہ اور سابق انڈین کپتان وراٹ کوہلی کی قیمت پر خریدا تھا۔ اس کے علاوہ گجرات نے ایک خطیر رقم کے عوض ہاردک پانڈیا کی خدمات حاصل کی تھیں۔