نیپال سے آئی پی ایل تک کا سفر

سندیپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نرنجن راجبنشی
    • عہدہ, بی بی سی نیپالی

نیپال سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ لیگ سپنر سندیپ لامیچانی کا انڈین پریمیئر لیگ یعنی آئی پی ایل میں سفر نیپالی کرکٹ میں ایک ’پریوں کی کہانی‘ بن گیا ہے۔

دو سال قبل تک تو کوئی ان کے بارے میں جانتا تک نہیں تھا۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے میں وہ جتنا آگے گئے وہ انتہائی زبردست ہے۔ اس دوران وہ قومی ٹیم کا حصہ بنے، انڈر19 ٹیم کی قیادت کی اور ہانگ کانگ بلٹز جیسے بین الاقوامی پروفیشنل ٹورنامنٹس میں کھیلے۔

وہیں پر ان کی ملاقات سابق آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک سے ہوئی۔ سندیپ کی بولنگ میں مہارت سے متاثر ہونے واللے کلارک اب ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ان کی کارکردگی میں نکھار لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

آئی پی ایل کے بارے میں مزید پڑھیے

اور اب سندیپ کو آئی پی ایل ٹیم دہلی ڈیئر ڈیول نے سیزن 2018 کے لیے اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔

دریں اثنا سندیپ اپنی لیگ سپن بولنگ سے کافی اچھی کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ گذشتہ سال انڈر19 ورلڈ کپ میں وہ آئرلینڈ کے خلاف ایک ہیٹ ٹرک بھی کر چکے ہیں۔ یہ کارنامہ ان کی عمر کے صرف پانچ کھلاڑی ہی کر چکے ہیں۔

سندیپ لامیچانی کو ’لٹل چیمپ‘ اور شین وارن آف نیپال‘ کے القاب دیے گئے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی خاصیت ’لیگ بریک گوگلی‘ ہے۔ ان کی سپن بولنگ نے نہ صرف مائیکل کلارک بلکہ ایک اور سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ کو بھی متاثر کیا ہے۔

سندیپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ سندیپ آئی پی ایل کھیلنے والے پہلے نیپالی کھلاڑی ہیں بلکہ وہ آئی سی سی ایسوسی ایٹ ممبر ممالک میں سے بھی پہلے ہیں جو اس لیگ میں حصہ لیں گے۔

سندیپ کی آئی پی ایل میں سلیکشن کی خبر پر نیپال میں بہت بات ہو رہی ہے۔ نیپال میں بھی کرکٹ ایک پسندیدہ کھیل ہے خاص طور پر نوجوانوں میں۔ یہ نوجوان بھی اس خبر سے انتہائی خوش ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی سندیپ کے لیے مبارک باد اور نیک تمناؤں کے بے تحاشہ پیغامات بھیجے جا رہے ہیں جبکہ دہلی ڈیئر ڈیول کا شکریہ بھی ادا کیا جا رہا ہے۔

یہاں تک کہ نیپال کہ وزیراعظم شیر بہادر ڈیوبا نے بھی ٹویٹ کر ڈالا: ’سندیپ مبارک ہو! نہ صرف میں بلکہ تمام نیپالیوں کو تم پر فخر ہے۔ خدا کرے کہ تمہارا آگے کا سفر بھی دلچسپ ہو۔‘

سندیپ لامیچانی کی اس کامیابی کی خبر ایسے وقت آئی ہے جب نیپال کی نیشنل کرکٹ ایسوسی ایشن آئی سی سی کی جانب سے معطل ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ پچھلے دو سالوں سے بند ہے۔ ایسے حالات میں سندیپ کی خبر ملک میں سینکڑوں ہزاروں کرکٹ کے شائقین کے لیے تازہ ہوا کی طرح آئی ہے۔

کرکٹ حکام کو لگتا ہے کہ اس سے نیپال کرکٹ میں تبدیلی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

نیشنل کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ راجو باسنیت کا کہنا ہے کہ ’سندیپ صرف ایک مثال ہے۔ اس سے معلوم ہوگا کہ نیپال میں اور بھی باصلاحیت اور ماہر کرکٹرز موجود ہیں۔ اس سے نوجوانوں کو جذبہ بھی ملے گا۔‘

سندیپ کون ہے؟

سندیپ مغربی نیپال میں سیانگجا کے پہاڑی علاقے میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنا بچپن انڈیا میں گزارا جہاں ان کے والد انڈین ریلوے میں کام کرتے تھے۔ یہیں سے انھوں نے بنیادی کرکٹ سیکھی۔

بعد میں وہ واپس نیپال آگئے۔ وہ اپنی بڑی بہن کے پاس مغربی نیپال کے نوالپراسی ضلعے میں رہتے تھے۔

وہ کرکٹ کھیلنے کے لیے اپنی رہائشگاہ سے 18 کلومیٹر دور کرکٹ اکیڈمی جایا کرتے تھے۔

اکیڈمی میں ان کے کوچ راجو کھاڈکا یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ لیگ سپن بولر اکیڈمی میں پہلے دن سے ہی الگ تھا، وہ ہر وقت سخت محنت کرنے اور سیکھنے کو تیار رہتا تھا۔‘

سندیپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کوچ راجو کھاڈکا نے اپنے طور پر کوششیں کی تھیں کہ سندیپ انڈر19 کے سکواڈ میں شامل ہو جائیں لیکن وہ ناکام رہے تھے۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب سری لنکن کرکٹر اور نیپال ٹیم کے کوچ پوبودو دسانیاکے نئے ٹیلنٹ کو تلاش کر رہے تھے۔ دسانیاکے متاثر ہوئے اور سندیپ کو نیشنل ٹیم کے کیمپ میں بلا لیا۔

اس کے بعد سندیپ نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

اب آگے کیا ہوگا؟

اب جب کہ دہلی ڈیئر ڈیول نے سندیپ کا انتخاب کر لیا ہے نیپال میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ کیا سندیپ پلیئنگ سکواڈ میں بھی جگہ بنا پائے گا۔ دہلی کی ٹیم میں ایک اور لیگ سپنر بھی موجود ہے اور وہ ہیں امت مشرا جنھیں چار کروڑ میں خریدا گیا ہے۔

لیکن سندیپ پر امید ہیں۔ بی بی سی نیپالی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں اس بارے میں پریشان نہیں ہوں۔ ٹیم وہی کرے گی جو اس وقت ضرورت ہوگی، میرے لیے ٹیم کی مدد کرنا ضروری ہے۔‘

وہ پرامید ہیں کہ انھیں دنیا کے جانے مانے کھلاڑیوں سے سیکھنے کو ملے گا۔

اس وقت سندیپ نمیبیا میں ہونے والے ڈویژن ٹو ورلڈ کرکٹ لیگ ٹورنامنٹ سے قبل پریکٹس کرنے کے لیے دبئی میں موجود ہیں۔

دبئی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں خوش قسمت ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میرے کاندھوں پر بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ میری کارکردگی سے دیگر نیپالی کھلاڑیوں کو بھی مدد ملے گی۔ اس سے یہ بھی پتہ چلے گا کہ نیپال میں ٹیلنٹ موجود ہے۔‘