ٹرمپ کی ضد، نئے اصول اور یورپ کا خوف: امریکی صدر طاقت کے زور پر ورلڈ آرڈر کیسے بدل رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لیز ڈوسیٹ
- عہدہ, بین الاقوامی نامہ نگار
ٹرمپ نے ابتدا ہی میں دنیا کو خبردار کر دیا تھا۔
گذشتہ سال واشنگٹن میں دوسری مدتِ صدارت کے لیے حلف برداری کی تقریر ختم کرنے کے بعد تالیوں کی گونج میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’کوئی چیز بھی ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بنے گی۔‘
مگر کیا دنیا اس انتباہ کو سنجیدہ لینے میں ناکام رہی؟
اس تقریر میں 19ویں صدی کے نظریے ’مینیفسٹ ڈیسٹنی‘ کا ذکر بھی تھا۔ یہ نظریہ کہتا ہے کہ خدا نے امریکہ کو اپنی سرحدوں کو وسعت دینے اور اپنے خیالات کا پرچار کرنے کا حق دیا ہے۔
اُس وقت بظاہر ٹرمپ کی نظریں پانامہ نہر پر تھیں کیونکہ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ ’ہم اسے واپس لے رہے ہیں۔‘
اب ٹرمپ کی جانب سے مکمل قطعیت کے ساتھ یہی اعلان گرین لینڈ کے بارے میں کیا جا رہا ہے۔
وہ یہی گردان تان رہے ہیں کہ ’ہمیں یہ حاصل کرنا ہی ہے۔‘
یہ دنیا کا ایک تلخ حقیقت سے اچانک سامنا ہے اور ایسے حالات میں، جو خطرات سے بھرے ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
امریکی تاریخ متنازع حملوں، قبضوں اور حکومتیں گرانے کی خفیہ کارروائیوں سے بھری پڑی ہے لیکن گذشتہ ایک صدی میں کسی بھی امریکی صدر نے کسی دیرینہ اتحادی ملک کی زمین پر قبضہ کرنے اور اس کے عوام کی مرضی کے بغیر وہاں حکومت کرنے کی دھمکی نہیں دی۔
کسی اور امریکی رہنما نے گذشتہ ایک صدی کے دوران سیاسی اصول اس بے دردی سے نہیں توڑے اور نہ ہی طویل عرصے سے قائم ایسے اتحاد خطرے میں ڈالے، جنھوں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد سے ورلڈ آرڈر کو سہارا دے رکھا ہے۔
مگر اب اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پرانے اصول توڑے جا رہے ہیں اور وہ بھی بے خوفی کے ساتھ۔
اب ٹرمپ کو امریکہ کا ایسا صدر کہا جا رہا ہے جو ’سب سے زیادہ تبدیلی لائے۔‘ ملک کے اندر اور باہر اُن کے حامی ان کی ہمت بڑھا رہے ہیں، دنیا بھر کی حکومتیں تشویش کا شکار ہیں جبکہ ماسکو اور بیچنگ خاموشی سے یہ صورتحال دیکھ رہے ہیں۔
ٹرمپ کا نام لیے بغیر ڈیووس معاشی فورم کے سٹیج سے فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں نے خبردار کیا کہ ’یہ ایک ایسی دنیا کی طرف قدم ہے جہاں کوئی اصول نہیں، جہاں بین الاقوامی قانون پاؤں تلے روندا جاتا ہے، جہاں صرف ایسے قانون کی اہمیت نظر آتی ہے جو سامراجی خواہشات کے مطابق ہو۔۔۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
ایک ممکنہ تکلیف دہ تجارتی جنگ کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ کچھ حلقے اس تشویش کا بھی شکار ہیں کہ امریکی کمانڈر اِن چیف (صدر ٹرمپ) نے طاقت کے ذریعے گرین لینڈ پر قبضے کی کوشش کی تو 76 سال پرانا نیٹو عسکری اتحاد خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ کا دفاع کرنے والے اُن کے ’سب سے پہلے امریکہ‘ والے ایجنڈے کی مزید زور و شور سے حمایت کر رہے ہیں۔
بی بی سی نیوز آور میں جب امریکی رپبلیکن جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس رینڈی فائن سے پوچھا گیا کہ کیا گرین لینڈ پر قبضہ کرنا اقوام متحدہ کے قانون کی خلاف ورزی ہو گا؟ اُن کا جواب تھا کہ ’میرا خال ہے کہ اقوام متحدہ دنیا میں امن قائم کرنے کے ادارے کے طور پر بری طرح ناکام رہا، بے تکلفی سے کہوں گا، جو بھی وہ سوچتے ہیں، شاید اس سے الٹ کرنا ہی درست ہو۔‘
رینڈی فائن نے گذشہ ہفتے کانگریس میں ایک بل پیش کیا جس کا عنوان تھا ’گرین لینڈ کو ضم کر کے ریاست بنانے کا ایکٹ۔‘
جب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ اپنی کرنی کر گزریں گے، تو امریکہ کے فکر مند اتحادی کیسا ردعمل دیں؟
امریکی صدر اور کمانڈر اِنچیف (امریکہ میں صدر ہی کمانڈر انچیف ہوتا ہے) کے غیر متوقع رویے سے کیسے نمٹا جائے؟ گذشتہ برس اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے جو سفارتی الجھنیں پیدا ہوئیں، انھیں سلجھانے کے لیے کئی طرح کے جملے گردش میں رہے۔
بات چیت سے سب مسائل حل کرنے پر اصرار کرنے والے کہتے ہیں کہ ’ہمیں ٹرمپ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے لیکن ان کی بات پر من و عن یقین بھی نہیں کرنا چاہیے۔‘
اس طریقے نے کام تو کیا لیکن صرف ایک حد تک، روس کی یوکرین میں تباہ کن جنگ پر یورپ کے ساتھ مشترکہ ردعمل دینے میں۔
ٹرمپ اکثر ہر ہفتے اپنا موقف بدل لیتے ہیں۔ کبھی ان کا موقف روس کے حق میں ہو جاتا ہے اور کبھی یوکرین کے اور پھر اچانک دوبارہ سے وہ روس کے مدار میں چلے جاتے ہیں۔
انتہاؤں کو چھوتے اس موقف میں کچھ افراد کو ٹرمپ کے وہ داؤ پیچ نظر آتے ہیں جو وہ نیو یارک میں پراپرٹی کی سودے بازی کے لیے آزماتے تھے۔ ایسے لوگوں کا کہنا ہے ’ٹرمپ رئیل سٹیٹ کے بڑے تاجر ہیں۔‘
ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں بار بار دینے میں بھی اسی سوچ کی گونج سنائی دیتی ہے حالانکہ یہ واضح ہے کہ تجاویز سے بھری ان کی میز پر عسکری کارروائی کا آپشن بھی موجود ہے۔
ٹرمپ کی حکمت عملی سے متعلق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بار بار سوال کیا گیا تو جواب دیتے ہوئے انھوں نے وضاحت کی کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ ایک روایتی سیاستدان کی طرح بات نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں اور پھر کر گزرتے ہیں۔‘
یہ اپنے صدر کے لیے وزیر خارجہ کی سب سے بڑی تعریف تھی، ان سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں، جن کا ریکارڈ وہ مایوس کُن قرار دیتے ہیں۔
مارکو روبیو ان اہم آوازوں میں سے ایک ہیں جو گرین لینڈ کے بارے میں ٹرمپ کی دھمکیوں کی سنگینی کم دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ زور دیتے ہیں کہ ٹرمپ اس وسیع سٹریٹیجک برفانی خطے کو خریدنا چاہتے ہیں، اس پر حملہ نہیں کرنا چاہتے۔
وہ کہتے ہیں کہ ٹرمپ اپنی پہلی مدت صدارت سے ہی دنیا کے سب سے بڑے جزیرے کو خریدنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ چین اور روس سے لاحق خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ٹرمپ کا طرز عمل لڑائی کر کے دباؤ ڈالنے والے ایک جھگڑالو شخص جیسا ہوتا ہے، وہ اجتماعی عمل کو حقیر سمجھتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ طاقت آپ کو من مرضی کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
اکانومسٹ کی مدیر اعلیٰ زینی منٹن بیڈوز کہتی ہیں کہ ’وہ لین دین کرنے والے اور طاقت پر یقین رکھنے والے آدمی ہیں۔ وحشیانہ طاقت، مافیا طرز کی طاقت۔ انھیں اتحادیوں کے مفادات کی کوئی پروا نہیں۔ وہ امریکہ کو ایک نظریے یا اقدار کے مجموعے کے طور پر نہیں دیکھتے۔ انھیں اس کی ذرا بھی پروا نہیں۔‘
اور وہ اس بات کو چھپاتے بھی نہیں۔
اس ماہ کے آغاز پر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو ایک تفصیلی انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیٹو سے روس یا چین بالکل نہیں ڈرتے۔ ذرا سا بھی نہیں لیکن ہم سے بہت زیادہ خوف کھاتے ہیں۔‘
اگر مسئلہ صرف امریکہ کی حفاظت کا ہوتا تو گرین لینڈ میں پہلے ہی امریکی فوج موجود ہے اور 1951 کے معاہدے کے تحت امریکہ مزید فوجی بھی بھیج سکتا ہے اور مزید اڈے بھی قائم کر سکتا ہے۔
(ایسے سوالوں پر) ٹرمپ کا سیدھا جواب ہوتا ہے ’میں اس کا مالک بننا چاہتا ہوں۔‘
وہ یہ بات بھی اکثر واضح کر چکے ہیں کہ ’مجھے جیتنا پسند ہے۔‘ شواہد یہی بتا رہے ہیں کہ اصل معاملہ یہی ہے۔
گزشتہ ایک برس کے دوران ان کی پالیسی میں قلابازیاں حیران کن ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ہم نے دیکھا کہ گذشتہ برس مئی میں سعودی دارالحکومت ریاض میں دوسری مدتِ صدارت کے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے دوران ٹرمپ کی مرکزی تقریر کو کیسی پُرجوش پذیرائی ملی۔
ٹرمپ نے امریکی ’مداخلت کاروں‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ ’انھوں نے جتنے ممالک تعمیر کیے، اس سے زیادہ تباہ کر ڈالے ۔۔۔ ایسے پیچیدہ معاشروں میں جنھیں وہ خود بھی نہیں سمجھتے تھے۔‘
گذشتہ سال جون میں جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، تو اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ تہران کے خلاف عسکری دھمکیاں دے کر ان کی سفارت کاری کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
لیکن اُسی ہفتے کے اختتام پر جب ٹرمپ نے دیکھا کہ اسرائیل ایران کے چوٹی کے جوہری سائنس دانوں اور عسکری حکام کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو وہ پکار اٹھے کہ ’میرا خیال ہے یہ بہترین رہا۔‘
دنیا ٹرمپ کے بارے میں کس قدر شائستگی سے کام لے رہی تھی، رہنما چمکتے دمکتے تحائف لے کر ٹرمپ کے پاس آتے اور ان کی حمایت کے لیے تعریفوں کے پُل باندھتے۔۔۔ اس کے لیے چند ماہ قبل فنانشل ٹائمز کے ایڈورڈ لوس نے ایک اصطلاح گھڑی تھی ’دھو کر قابل فہم بنانا (Sane-washing)۔‘
ایڈورڈ لوس نے اپنے کالم میں لکھا کہ ’ٹرمپ کا دفاع کرنے والے، جو تعداد میں ٹرمپ کو ماننے والوں سے کہیں زیادہ ہیں، دن رات ان کی پالیسیوں کو کسی قابل فہم شکل میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
گزشتہ سال اکتوبر میں بھی ایسی ہی ایک تشہیر کی گئی جب دنیا بھر کے رہنماؤں کو مصر میں بحیرہ احمر کے ساحلی مقام شرم الشیخ بلایا گیا تاکہ وہ اس اعلامیے کا جشن منائیں کہ ’تین ہزار سال بعد آخر کار مشرق وسطیٰ میں امن آ گیا۔‘
ان کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے میں غزہ میں جنگ بند ہوئی اور اسرائیلی یرغمالی رہا ہوئے، جس کی شدت سے ضرورت تھی۔
یہ ٹرمپ کی جارحانہ سفارت کاری ہی تھی جس نے نیتن یاہو اور حماس کو آمادہ کیا۔ ایسی بڑی پیشرفت ٹرمپ ہی ممکن بنا سکتے تھے۔
لیکن افسوس، اس سے امن کا سورج طلوع نہ ہوا۔ وہاں موجود کسی فرد نے وہ بات زبان پر نہ لائی جو سبھی جانتے تھے۔
گزشتہ سال ٹرمپ کے طرز عمل کو ’مینیفسٹ ڈیسٹنی‘ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس سال 19ویں صدی کا ’مونرو ڈاکٹرائن‘ وینزویلا پر حملے کے بعد ’ڈونرو ڈاکٹرائن‘ میں بدل گیا۔
صدر ٹرمپ اب اسے اپنا چکے ہیں، اپنی ٹیم کے پُر جوش حامیوں کے سہارے، اس یقین کے ساتھ کہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے امریکہ اس خطے میں اور کہیں بھی اپنی مرضی سے کارروائی کر سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کبھی ٹرمپ کو تنہائی پسند کہا جاتا ہے اور کبھی مداخلت پسند لیکن ایک نعرہ انھیں اقتدار میں واپس لایا، امریکہ کو پھر سے عظیم بنائیں۔
اور ناروے کے وزیر اعظم جوناس گار سٹور کو انھوں نے جو خط لکھا اس سے گذشتہ سال نوبیل امن انعام نہ جیتنے کی خفگی نمایاں ہوتی ہے۔
ٹرمپ نے سٹور کو بتایا کہ ’اب مجھے صرف امن کے بارے میں سوچنے کی ذمہ داری محسوس نہیں ہوتی، اگرچہ امن ہمیشہ ہی اہم رہے گا لیکن اب میں یہ بھی سوچ سکتا ہوں کہ امریکہ کے لیے کیا اچھا اور موزوں ہے۔‘
اس بارے میں سوال کرنے پر ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے سفارتی انداز میں مجھ سے کہا کہ ’یہ ناروے جیسا مزاج رکھنے کے لیے اچھا دن ہے۔‘
گرین لینڈ اور ڈنمارک کے دفاع اور قطب شمالی کے اجتماعی تحفظ کے لیے ناروے خاموش لیکن برف کی طرح سخت ہے۔
یورپی موقف اب بھی اس سیاسی برف پر پھسل رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر میخواں نے یورپی منڈیوں تک رسائی محدود کر کے اور جوابی محصولات نافذ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی یورپ میں امریکی صدر کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی ہیں، انھوں نے ٹرمپ کے موقف کو ’غلط فہمی کا نتیجہ‘ قرار دیا۔
برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے گرین لینڈ کی علاقائی سالمیت کا مضبوطی سے اور کھلے عام دفاع کیا لیکن وہ امریکہ پر جوابی محصولات عائد کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں تاکہ صدر ٹرمپ سے گزشتہ سال قائم ہونے والا ذاتی تعلق محفوظ رہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ٹرمپ نے وہ نجی پیغامات بھی سماجی رابطوں کے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کر دیے جو رہنماؤں نے ٹرمپ کو اپنا ہمنوا بنانے کے لیے سفارتی طریقوں سے بھیجے تھے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اب وہ کوئی لگی لپٹی نہیں رکھیں گے۔
’آئیے آپ کے امریکہ واپس جانے سے پہلے پیرس میں رات کا کھانا کھاتے ہیں۔۔۔‘ یہ تجویز فرانسیسی صدر کی تھی۔ ساتھ ہی انھوں نے خارجہ پالیسیوں میں ٹرمپ کی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ گرین لینڈ کے معاملے پر آپ کر کیا رہے ہیں۔‘
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹ نے لکھا کہ ’آپ کو دیکھنے کے لیے بے چین ہوں۔‘
گزشتہ سال ایران اسرائیل 12 روزہ جنگ میں ٹرمپ کے سخت کردار پر مارک روٹ انھیں ’ڈیڈی‘ بھی کہہ چکے ہیں۔
روٹ اور دیگر نے حالیہ برسوں میں نیٹو ممبران کی جانب سے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافے کو ٹرمپ کی دو ٹوک دھمکیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
روسی خطرات کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافے کا رجحان نیٹو ممالک نے خود شروع کیا لیکن اس کے لیے دھمکیاں ٹرمپ اپنی پہلی مدت صدارت سے ہی دے رہے ہیں، سابق امریکی صدور بھی یہی مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
بحر اوقیانوس کے اُس پار، امریکی سائے میں ایک طویل مدت گزارنے والا ملک اب ایک مختلف راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اگرچہ اسے مشکلات بھی پیش آ رہی ہیں۔
’ہمیں دنیا کو ویسے قبول کرنا ہو گا جیسی کہ وہ ہے، نہ کہ جیسی ہم اسے بنانا چاہتے ہیں۔۔۔‘ یہ تبصرہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے گزشتہ ہفتے چین جاتے ہوئے کیا تھا۔
سنہ 2017 کے بعد کسی بھی کینیڈین رہنما کا بیجنگ کا یہ پہلا دورہ تھا۔ برسوں کی شدید کشیدگی کے بعد یہ دورہ تیزی سے بدلتی دنیا کی طرف واضح اشارہ تھا۔
ٹرمپ کی جانب سے شمال میں موجود پڑوسی کو اپنے ملک میں ضم کرنے کی حیران کن دھمکی اس ہفتے پھر سامنے آئی جب سوشل میڈیا پوسٹ میں انھوں نے کینیڈا اور گرین لینڈ سمیت پورے مغربی کُرّے کو امریکی پرچم کے ستاروں اور دھاریوں میں لپٹا ہوا دکھایا۔
کینیڈین جانتے ہیں کہ اگلی باری ان کی ہو سکتی ہے۔
کینیڈا کا وزیر اعظم بننے سے پہلے مارک کارنی ایک بینکار تھے۔ گزشتہ سال کینیڈا کے سب سے بڑے عہدے پر وہ اس یقین کے سہارے پہنچے کہ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے ان ہی کی تیاری سب سے بہتر ہے۔
انھوں نے شروع سے ہی ’ڈالر کے بدلے ڈالر‘ کی طرز پر جواب دیا، امریکہ پر جوابی محصول عائد کیے، یہاں تک کہ یہ اس چھوٹی کینیڈین معیشت کے لیے ناقابل برداشت ہونے لگا جو اپنی 70 فیصد سے زیادہ تجارت سرحد کے جنوب میں بھیجتی ہے۔
منگل کے روز ڈیووس میں خطاب کرتے ہوئے بھی کارنی نے اسی موضوع پر بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ’امریکی بالادستی نے خاص طور پر عوامی فوائد، کھلے سمندری راستوں، مستحکم مالیاتی نظام، اجتماعی سلامتی اور تنازعات کے حل کے لیے نظام بنانے میں مدد کی‘ لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے دو ٹوک کہا کہ ’ہم تبدیلی نہیں بلکہ ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گزر رہے ہیں۔‘
اس ماہ نیو یارک ٹائمز نے جب پوچھا تھا کہ کیا چیز انھیں روک سکتی ہے تو ٹرمپ کا جواب تھا کہ ’میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا ذہن۔ یہ واحد چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے۔‘
یہی وجہ ہے کہ اتحادیوں کا پورا ایک بیڑا اب خوشامد یا دباؤ کے ذریعے ٹرمپ کا ذہن بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس بار، یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے۔













