’طاقت کے بل پر‘ چلنے والی دنیا اور امریکہ، چین اور روس کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ

Designed image of Xi Jinping, Donald Trump, and Vladimir Putin in front of their respective national flags of China, the United States, and Russia. Trump, centre, points towards the camera, while Xi and Putin look sightly away from him.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, انتھنی زرچر، لورا بکر اور واٹیلی شوچنکو
    • عہدہ, بی بی سی

امریکی فورسز کی جانب سے کاراکس میں وینزویلا کے معزول صدر مادورو کو پکڑنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ’آج کے بعد مغربی کرہ میں امریکی برتری پر کوئی بھی سوال نہیں اٹھائے گا۔‘

اور ایسے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن کی طاقت کا دعویٰ کر رہے ہیں، روس اور چین بھی اپنا حلقہ اثر پھیلانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تینوں ممالک ایک نیا عالمی نظام (گلوبل آرڈر) لانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا یورپ اور دیگر عالمی طاقتوں پر گہرا اثر پڑے گا۔

اس مضمون میں ہم یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیسے امریکہ، چین اور روس نہ صرف اپنے ہمسایوں بلکہ اپنی سرحدوں سے کہیں دور واقع ممالک پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے فوجی، معاشی اور سیاسی ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔

Designed image of Donald Trump, against a background that uses elements of the US flag.

،تصویر کا ذریعہGetty Images/BBC

امریکہ دنیا کو ’اپنی طاقت کے بل پر چلانا چاہتا ہے‘

ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی حکمت عملیوں کو ایک نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے جس کا محور مغربی کرہ ہے۔

ٹرمپ کی یہ حکمتِ عملی ڈیموکریٹ اور ریپبلکن دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے حالیہ امریکی صدور سے یکسر مختلف ہے، جنھوں نے امریکی طاقت اور اختیار کے بارے میں زیادہ عالمی نظریہ اپنایا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کے مطابق یہ ایسی خارجہ پالیسی ہے جو ’سب سے پہلے امریکہ‘ کے نظریے کے گرد گھومتی ہے اور یہ ایسے مسائل پر زیادہ توجہ دیتی ہے جن سے امریکی عوام براہِ راست متاثر ہوتے ہیں، جیسے کہ امیگریشن، جرائم اور منشیات کی سمگلنگ۔

حال ہی میں ٹرمپ کے سینیئر مشیر سٹیفن ملر نے کہا ہے کہ یہ ایک ایسی دنیا ہے جو کہ طاقت کے بل پر چلتی ہے۔ ان کے اِس بیان کا موازنہ ہنری کسنجر اور رچرڈ نکسن کی 1960 اور 1970 کی دہائی کی عملی، غیر نظریاتی خارجہ پالیسی سے کی جا سکتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تاہم اس کا موازنہ 20ویں صدی کے آغاز میں امریکی صدور روزویلٹ اور ولیم مکنلی کی جانب سے امریکی سامراج کے قیام کی کوششوں سے کیا جائے تو بہتر ہو گا۔

روزویلٹ نے 1823 کے مونرو ڈاکٹرائن جس میں کہا گیا تھا کہ مغربی کرہ کو یورپی اثر و رسوخ سے دور رکھا جائے کو مزید ایک قدم آگے لے جاتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن کو شمالی اور جنوبی امریکہ کے تمام علاقوں کو محفوظ بنانے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس دور میں امریکہ نے وینزویلا اور ڈومینکن ریپبلک جیسے ممالک کو مالی معاونت فراہم کی جبکہ ہیٹی اور نکاراگوا میں فوجی بھی تعینات کیے۔

اپنی دوسری دورِ صدارت کے آغاز سے ہی صدر ٹرمپ نے امریکہ کے قرب و جوار میں واقع علاقوں اور مسائل میں اپنی گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔

ایک فوجی آپریشن کے ذریعے وینزویلا کے صدر نکولا مادورو کو کاراکس سے پکڑنا اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ لیکن یہ اچانک نہیں ہوا۔ اس سے پہلے انھوں نے منشیات کی سملگلنگ میں ملوث مشتبہ کشتیوں پر حملے کا حکم دیا، لاطینی امریکی ممالک پر عائد کر کے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور متعدد ممالک میں انتخابات کے دوران چنندہ امیدواروں کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔ اس کے علاوہ وہ متعدد بار گرین لینڈ، پاناما کنال اور پورے کینیڈا کی امریکہ کے ساتھ الحاق کی بھی بات کر چکے ہیں۔

حال ہی میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ قومی سلامتی کی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی سلامتی اور خوشحالی کا تقاضہ ہے کہ اسے مغربی کرہ میں دوسرے ممالک سے کہں آگے ہونا ہو گا تاکہ جب اور جہاں ضروری پڑے امریکہ اعتماد کے ساتھ اپنی عملداری قائم کر سکے۔

اس پالیسی کا ایک مقصد دوسری عالمی طاقتوں بالخصوص چین کی جانب سے امریکہ کے پڑوسیوں کو اپنے زیرِ اثر لانے کی کی کوششوں کا سدِباب ہے اور یہ امریکی مفادات کے عالمی سیاسی خدشات سے ٹکراؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ٹرمپ نے دنیا کے دیگر ممالک کے مابین امن قائم کروانے اور خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاشی اور سکیورٹی تعلقات مضبوط کرنے میں بھی گہری دلچسپی دکھائی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ان سے قریب سمجھے جانے والے مشیران نے ان خیالات کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ مغربی تہذیب کا محافظ ہے اور ان قوتوں کے خلاف ہے جو اس کی ثقافت اور روایات کو ختم کرنے کی کوشش کریں گی۔

اس سے اشارے ملتے ہیں کہ بے شک امریکی خارجہ پالیسی ’سب سے پہلے امریکہ‘ کی پالیسی سے جڑی ہوئی تو ہے لیکن ساتھ ٹرمپ کے اپنے ذاتی نظریات امریکہ ایجنڈا کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

امریکہ کی 250 سالہ تاریخ کے دوران اس کی خارجہ پالیسی آئسولیشن (تنہائیت پسندی) سے دخل اندازی، آئیڈیلزم اور عملیت پسندی کے درمیان گھومتی رہی ہے۔ تاہم ان سب کا دارومدار امریکہ کی فوجی طاقت اور عوام اور لیڈروں کے نکتہ نظر پر رہا ہے۔

اگرچہ ٹرمپ کی دوسری صدارت کے دوران حالات کافی تیزی سے بدلتے نظر آرہے ہے، لیکن اب بھی اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ آگے چل کر امریکی خارجہ پالیسی میں بار بار ان ہی خطوط پر تبدیلی کا چکر ختم ہو جائے گا۔

چین نے اپنا اثر و رسوخ کیسے قائم کیا

Designed image of Xi Jinping raising his fist, against a background that uses elements of the Chinese flag.

،تصویر کا ذریعہGetty Images/BBC

چین کا اثر ورسوخ کسی ایک علاقے یا خطے تک محدود نہیں ہے۔

ساؤتھ پیسیفک سے لے کر جنوبی اور وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، لاطینی امریکہ، غرض کے دنیا کے ہر کونے میں چین کا اثر و رسوخ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ دنیا پر غلبہ پانے کے لیے چین نے اپنے سب سے بڑے ہنر کا بھرپور استعمال کیا ہے جو کہ ہے مینوفیکچرنگ۔

دنیا کی تقریباً ایک تہائی مصنوعات چین میں تیار کی جاتی ہیں جس میں ہمارے جیبوں میں پائے جانے والے روز مرہ کے آلات، کپڑے اور فرنیچر سب ہی کچھ شامل ہیں۔

بیجنگ مستقبل میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ اس کے پاس قیمتی دھاتوں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہو۔ یہ دھاتیں سمارٹ فونز، الیکٹرک گاڑیوں اور فوجی ساز و سامان سمیت ہر طرح کی ٹیکنالوجیکل مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔

دنیا کی تقریباً 90 نایاب دھاتوں کی پراسیسنگ چین میں ہوتی ہے اور حال ہی میں انھوں نے اپنی اس صلاحیت کو ڈونلڈ ٹرمپ کے خالف استعمال کیا۔ جب امریکہ نے چین پر محصولات عائد کیں تو جواب میں انھوں نے پراسیس شدہ معدنیات کی برآمد میں کمی کر دی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ امریکہ گرین لینڈ اور دیگر جگہوں سے نایاب معدنیات حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان دونوں سپر پاورز کے درمیان وسائل کے حصول کی جنگ چل رہی ہے۔

یہ چین کی ایک بہت بڑی کامیابی جو سنہ 2000 میں ایک ایسے عالمی منظر نامے میں دوسرے درجے کا کھلاڑی تھا جہاں امریکہ کا تسلط قائم تھا۔

2026 میں صدر شی جنپنگ ابھرتے ہوئے عالمی رہنما کے طور پر سامنے آ رہے ہیں جو بڑھتی ہوئی فوج کی پشت پناہی کی مدد سے تجارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعے طاقت اور اثر و رسوخ کا استعمال کر رہے ہیں۔

چین کا دنیا کے غریب ترین ممالک سے ایک بڑی صنعتی اور تکنیکی طاقت کا سفر بہت سی ابھرتی ہوئی معیشتوں کو امید دیتا ہے۔

یہ ایک موثر حکمت عملی ثابت ہوئی ہے۔ 2001 میں 80 فیصد سے زیادہ معیشتیں چین کے مقابلے میں امریکہ کے ساتھ زیادہ دو طرفہ تجارت کر رہی تھیں لیکن اب تقریباً 70 فیصد دنیا امریکہ کے مقابلے میں چین کے ساتھ زیادہ تجارت کرتی ہے۔

اس کے علاوہ بیجنگ نے ڈیولپمنٹ پر بھی کافی توجہ دی ہے اور اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے حصے کے طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ ایک وسیع پیمانے کا عالمی انفراسٹرکچر منصوبہ ہے چینی سرمایہ کاری کی مدد سے تعمیر ہونے والی بندرگاہیں، ریلوے، سڑکیں اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔ یہ منصوبے ایشیا، یورپ اور افریقہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔

اس کے نتیجے میں کئی ممالک چین کے مقروض ہوتے جا رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا میں آپریشن کے بعد ایک سوال جو اٹھا وہ یہ تھا کہ کہیں اس کے بعد چین بھی تائیوان پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچنے تو نہیں لگے گا۔ لیکن چین تائیوان کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے۔ ایک ایسے صوبے کے طور پر جو ایک دن مادر وطن کے ساتھ دوبارہ الحاق کر لے گا۔

اگر صدر شی تائیوان پر حملہ کرتے ہیں تو وہ محض اس لیے نہیں ہوگا کہ امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کر کے ایک نظیر قائم کی ہے۔

بیشتر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین تائیوان کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور کرنے کی غرض سے تائیوان کے عوام کے خلاف دھونس دھمکی کی اپنی حکمت عملی کو جاری رکھے گا۔

صدر شی کا وژن ہمیشہ سے چینی قوم کی ’عظیم تجدید‘ رہا ہے۔ گذشتہ سال کی فوجی پریڈ میں جب وہ ایک بالکونی میں کھڑے اپنے فوجیوں کو دیکھ رہے تھے تو انھوں نے کہا کہ چین کا عروج ’نہ رکنے والا‘ ہے۔

ان کا خواب ایک ایسی دنیا کا قیام ہے جو بیجنگ کی طرف دیکھے اور اس کی تعریف کرے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت موجودہ عالمی ہنگامہ خیزی کو ’تبدیلی‘ کے دور کے طور پر دیکھتے ہیں۔

وہ اسے ایک موقع کے طور پر دیکھیں گے۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے اور ان کا خیال ہے کہ چین ترقی میں مدد کرنے کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔

خطے میں روس کے دفاعی عزائم

Designed image of Vladimir Putin pointing his finger, against a background that uses elements of the Russian flag.

،تصویر کا ذریعہGetty Images/BBC

ولادیمیر پوتن کا یہ قول مشہور، یا شاید بدنام، ہے جب انھوں نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کو 20ویں صدی کی ’سب سے بڑی جیو پولیٹیکل تباہی‘ قرار دیا تھا۔

روسی شہریوں میں یہ نظریہ پایا جاتا ہے کہ وہ سابقہ سوویت ریاستوں کو ’بیرون ملک کی نسبت قریب‘ کہتے ہیں۔ ان ریاستوں نے 90 کی دہائی کے دوران سوویت یونین سے آزادی حاصل کی تھی۔

کئی لوگوں کی رائے ہے کہ یہ اصطلاح ظاہر کرتی ہے کہ یہ ریاستیں بیرون ملک کی دیگر ممالک جتنی آزاد نہیں ہیں۔

یہ کریملن کا نظریہ ہے اور روس کا خیال ہے کہ اس کا ان ممالک میں جائز مفاد ہے اور ان کا تحفظ بھی روس کے ہی ذمے ہے۔

مگر کریملن کا اس خطے پر اثر و رسوخ کا خیال کمزور ہے۔ کریملن اس بارے میں جان بوجھ کر وضاحت نہیں کرتا کہ اس کی سرحدیں درحقیقت کہاں تک موجود ہیں۔

صدر پوتن نے ایک بار کہا تھا کہ ’روسی سرحدیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔‘ ان کی وسعت پسند پالیسیوں کے بعض حامیوں کا خیال ہے کہ روس کا اثر و رسوخ تاریخی اعتبار سے اس خطے تک پھیلا ہونا چاہیے جہاں ایک وقت میں روسی سلطنت قائم تھی۔ یا شاید اس سے بھی دور دراز علاقوں تک۔

اسی لیے ماسکو یوکرین کے ضم شدہ علاقوں کو اپنے ’تاریخی خطے‘ سے تشبیہ دیتا ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ کریملن اِن سابقہ سوویت ریاستوں اور دیگر ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے جہاں اسے اپنا ’مفاد‘ نظر آتا ہے۔

تاریخی اعتبار سے روس نے ان سابقہ ریاستوں پر معاشی اور فوجی دباؤ ڈالا ہے جنھوں نے روس کے مدار سے نکلنے کی باتیں کی ہیں۔

یوکرین کو اس بارے میں سخت انداز میں بتایا گیا۔ سوویت یونین سے نکلنے کے بعد بھی ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک یوکرینی حکومت نے کریملن کی طرف جھکاؤ والی پالیسیاں اپنائیں اور اس کے مقاصد کو آگے بڑھایا۔ اس نے کریمیا میں روسی بحریہ کے اڈے کی اجازت دی۔

کریملن اس تعلق سے خوش تھا مگر پھر یوکرین نے مغرب کی طرف جھکاؤ رکھنے والے صدر ویکتور یوشچنکو کا انتخاب کر لیا۔ ان کے دور میں روس نے دو بار 2006 اور 2009 کے دوران گیس کی سپلائی بند کی۔

جب اقتصادی دباؤ اور سیاسی مداخلت سے بھی فرق پڑنا بند ہو گیا تو روس نے کریمیا میں مداخلت کی اور 2014 میں خطے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ پھر اس نے 2022 میں یوکرین میں پوری قوت سے فوجی مداخلت کی۔

اسی طرح 2008 میں روس نے جارجیا کے خلاف جنگ شروع کی جب وہاں اصلاح پسند میخائیل ساکاشویلی صدر تھے۔ اس سے روس کو جارجیا کے 20 فیصد خطے کا کنٹرول مل گیا۔

تب سے روسی دستے سرحدی پوسٹیں اور خاردار تاریں جارجیا میں گہرائی تک لے جا رہے ہیں جسے مقامی سطح پر ’تسلسل سے جاری قبضہ‘ کہا جاتا ہے۔

2008 کے دوران جارجیا میں اور پھر 2014 کے دوران یوکرین میں روسی مداخلت کے باوجود مغرب کی طرف سے ٹھوس جواب کی عدم فراہمی کے بعد پوتن کا یہ خیال مزید پختہ ہو گیا کہ ’بیرون ملک کی نسبت قریب‘ خطوں کا کنٹرول حاصل کرنا ممکن ہے۔

اگرچہ یوکرین اور جارجیا نے روس کے سیاسی دباؤ کا مقابلہ کیا جس پر فوجی مداخلت کی گئی، تاہم کچھ سابقہ سوویت ریاستیں ماسکو کے ساتھ ہی جڑی رہیں۔ بیلا روس، تاجکستان، کرغزستان، قزاقستان اور آرمینیا کی حکومتیں اب بھی روسی دستوں کی میزبانی کرتی ہیں۔

یوکرین اور جارجیا کے لیے مسائل اس وقت جنم لینے لگے جب انھوں نے حکومتیں منتخب کیں، جمہوری اصلاحات پر عملدرآمد کیا اور مغرب کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔

اس کے بعد جو بھی ہوا تو کچھ نیا نہیں تھا۔ تاریخ میں ایسی جنگوں کی کمی نہیں جو اپنے مفادات کے دفاع اور نسلی اقلیتیوں کے تحفظ کے نام پر لڑی جاتی ہیں۔

دوسری عالمی جنگ اور پھر سرد جنگ کے بعد عالمی برداری کو برابری کی سطح پر لانے کے لیے کئی کوششیں کی گئیں، یہ دیکھے بغیر کہ کس کے پاس کون سا ہتھیار ہے اور اس کی قوت کتنی ہے۔

مگر خطے میں اثر و رسوخ قائم کرنے کا نظریہ ہمیں دوبارہ ماضی کے تاریخ وقتوں میں واپس لے جا سکتا ہے۔