تکریت سے دولت اسلامیہ کا انخلا ممکن ہے؟

،تصویر کا ذریعہRTR
- مصنف, مائیکل نائٹس
- عہدہ, واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی
یکم مارچ کو تقریباً 27,000 عراقی فوجی تکریت پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے۔
یہ شہر بغداد سے 150 کلو میٹر شمال میں واقع ہے اور اس پر جون 2014 سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے۔
یہ حملہ دولتِ اسلامیہکو کسی اہم شہر سے نکالنے کی پہلی کوشش ہے۔ اس کارروائی کو دولتِ اسلامیہ کی ’خلافت کے عراقی دارالحکومت‘ موصل سے جنگجوؤں کو نکالنے کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بھی سمجھا جا رہا ہے۔
تکریت آپریشن دو اہم غیر یقینی چیزوں پر روشنی ڈالے گا۔ کیا سنی کمیونٹی کے درمیان زیادہ تر شیعہ رضاکاروں پر مشتمل فورس کوئی مفید کردار ادا کر سکتی ہے؟ اور کیا عراقی فوج دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو قلعہ بند شہر سے باہر نکال سکے گی؟
یہ عراقی فوج، نیم فوجی وفاقی پولیس، عراقی سپیشل آپریشن فورسز، شیعہ پاپولر موبلائزیشن یونٹس (پی ایم یو)، رضاکاروں کی بریگیڈ اور ملیشیا پر مشتمل ہے۔
اس فوجی مرکب سے جو چیز غائب ہے وہ امریکی سربراہی میں بننے والا اتحاد ہے۔
ابھی تک عراقی حکومت نے کسی بھی فضائی حملے کی درخواست نہیں کی ہے جو کہ پی ایم یو کے آپریشنوں کا ایک خاصہ ہے۔ اس حملے میں بھی تقریباً 18,000 پی ایم یو جنگجو حصہ لے رہے ہیں۔
پی ایم یو کی سربراہی ابو مہدی المہندس کر رہے ہیں جن کو امریکہ نے 2009 میں امریکی فوجیوں اور دیگر اہداف پر حملوں کی وجہ سے عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ اور دیگر پی ایم یو کے کمانڈر ایران کے ریولوشنری گارڈز یا پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ہیں اور لبنانی حزب اللہ کے مشیروں کو بھی اپنی کارروائیوں میں بلاتے رہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
اگرچہ تکریت کی آبادی بہت کم ہو چکی ہے لیکن پھر بھی جب غالب طور پر شیعہ فورسز دیہی سنی علاقوں کو دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے صاف کریں گی تو ان کے رویے پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
اگر تکریت پر حملہ کامیاب رہا تو قوی امکان ہے کہ اس ماڈل کو شمال میں موصل شہر پر بھی دہرایا جائے گا۔
تکریت نسبتاً بغداد سے زیادہ نزدیک ہے اور اگست 2014 سے اس کے گرد و نواح میں عراقی فوج آپریشن کر رہی ہیں۔
اس کے برعکس موصل دارالحکومت بغداد سے 350 کلو میٹر دور شمال میں واقع ہے اور تقریباً بیجی سے 150 کلو میٹر دور ہے جہاں عراق کی سب سے زیادہ جدید فوجی چوکیاں ہیں۔ عراقی فورسز کو موصل تک لے جانے اور ان تک رسد پہنچانے کا عمل ایک اہم چیلنج ہو گا۔
اس کے علاوہ تکریت موصل کی نسبت کافی چھوٹا شہر ہے جو کہ موصل کے 400 مربع کلو میٹر کے مقابلے میں صرف 15 مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے۔
عمار حکمت صلاح الدین صوبے کے ڈپٹی گورنر ہیں جس کا تکریت صوبائی دارالحکومت ہے۔ انھوں نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ فوجیوں کو صرف آٹھ کلو میٹر لمبی سڑک پر تقریباً 100 بارودی سرنگیں اور بم ملے ہیں۔
دولتِ اسلامیہ موصل میں بھی اسی طرح کئی علاقوں کو آلودہ کر دے گی جنھیں صاف کرنا ایک انتہائی مشکل کام ہو گا۔
دوسری طرف اگر تکریت سے آبادی نکل مکانی کر گئی ہے تو موصل میں دولتِ اسلامیہ نے جان بوجھ کر 750,000 شہری رکھے ہوئے ہیں۔
اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ موصل کے 65 فیصد سے زیادہ سنی عرب شہری پی ایم یو کی فورسز کو خوش آمدید کہیں گے۔
دوسری طرف عراقی فوج بھی کوئی بہتر حالت میں نہیں۔ اس کی سرحد پر لڑنے والی فوج 48,000 ہے جو کہ 2009 میں اپنے عروج پر 210,000 کے قریب تھی۔
موصل کی لڑائی میں بغداد کے شمال سے عراق کی مضبوط فوج کے کم از کم تین بریگیڈ حصہ لیں گے، جس سے دارالحکومت میں فوج کی تعداد تقریباً آدھی رہ جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ عراقی حکومت کے مرکز کے تحفظ کی ذمہ داری شیعہ پی ایم یو اور وزارتِ داخلہ کے یونٹوں کے پاس رہ جائے گی جن کی رہنمائی ایران کے حمایت یافتہ جنگجو کر رہے ہیں جن کے ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے کئی دہائیوں سے تعلقات ہیں۔
(ڈاکٹر مائیکل نائٹس واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے فیلو ہیں۔ انھوں نے تقریباً عراق کے سبھی صوبوں میں کام کیا ہے)







