موصل میں شدت پسندوں پر امریکی طیاروں کی بمباری

،تصویر کا ذریعہ
عراق کے شہر موصل کے قریب واقع اہم ڈیم پر امریکی طیاروں نے دولت اسلامیہ کےشدت پسندوں پر فضائی حملے کیے۔
اس بمباری کا مقصد شدت پسندوں کے قبضے سے بجلی اور پانی فراہم کرنے والے اس اہم ڈیم کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنا ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی طیارے ان حملوں میں شامل تھے جو عراقی اور کرد افواج کو زمینی کارروائی کے لیے مدد فراہم کر رہے تھے۔
موصل میں ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں کم از کم 11 شدت پسند ہلاک ہوئے۔
رواں برس موسم گرما میں سنی شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ یا داعش نے موصل پر قبضہ کیا۔
اس گروپ پر اقلیتی یزیدی فرقے کے کم از کم 80 افراد کو ہلاک کرنے کا الزام بھی ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے اور انھیں ایک دن پہلے جمعے کو کوچو نامی گاؤں سے اغوا کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق ان افراد کو اس وقت قتل کیا گیا جب انوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔
امریکی ڈرون حملے میں شدت پسندوں کی دو گاڑیوں کو تباہ کر دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی ٹی وی چینل این بی سی کے مطابق ’اس ڈیم کے قریب موجود شدت پسندوں کے پاس اس ڈیم کو تباہ کرنے کی صلاحیت موجود نہیں تھی اور اس کارروائی کا مقصد ان کو ڈیم کی ممکنہ تباہی سے روکنا تھا۔
توقع ہے کہ کرد سکیورٹی فورسز زمینی کارروائی کرتے ہوئے اس علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیے گے۔ لیے۔
یہ ڈیم دریائے دجلہ ہر موصل کے قریب واقع ہے اور اس سے شمالی عراق کے بڑے حصوں کو پانی اور بجلی فراہم کی جاتی ہے۔
جرمن فوجی طیاروں نے کرد شہر اربیل سے امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔







