بغداد میں اہل تشیع کی مسجد پر خودکش حملے میں 18 ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
عراق کے دارالحکومت بغداد میں حکام کے مطابق اہل تشیع کی ایک مسجد پر ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بغداد کے مغربی علاقے حارثیہ میں نماز جنازہ کے دوران ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
اس واقعے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
عراق میں حالیہ دنوں اس نوعیت کے واقعات میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان حملوں کا الزام آئی ایس یعنی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر عائد کیا جاتا ہے۔
دولت اسلامیہ نے عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس وقت اس کے جنگجو شام کے دفاعی اہمیت کے حامل شہر کوبانی کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں انھیں کرد جنگجوؤں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔
کوبانی میں امریکہ کی قیادت میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کو فضائی حملوں میں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
گذشتہ ہفتے کے اختتام پر کوبانی کا دفاع کرنے والے کرد جنگجوؤں نے شدت پسنوں کو شہر کے دو حصوں کے علاوہ تمام علاقوں سے نکال دینے کا دعویٰ کیا تھا۔
شہر کے مشرق میں آپریشن کی انچارج کمانڈر بحرین کندال نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امریکی فضائی حملوں کی وجہ سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجو پسپا ہونے پر محبور ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے امید ظاہر کی کہ دولتِ اسلامیہ سے تمام شہر کو جلد خالی کرا لیا جائے گا۔
دوسری برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراقی میں سکیورٹی فورسز نے بیجی شہر کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔ بیجی شہر کے قریب عراق کی سب سے بڑی آئل ریفائنری ہے۔







