عراق: انتقامی کارروائی میں سینکڑوں سنی ہلاک

عراق و شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شیعہ جنگجو پیش پیش رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنعراق و شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شیعہ جنگجو پیش پیش رہے ہیں

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ شیعہ ملیشیا نے عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران سینکڑوں سنی شہریوں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق یہ قتل بظاہر دولت اسلامیہ کے حملوں کے خلاف انتقامی کارروائی نظر آتی ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ان شیعہ ملیشیا کو عراقی حکومت نے مسلح کیا ہے اور انھیں ان کی حمایت حاصل ہے اور وہ سزا کے خوف کے بغیر آزادی سے کارروائیاں کرتے رہے۔

گذشتہ ماہ برسرِاقتدار آنے والے وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے ماضی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی ’زیادتیوں‘ کو تسلیم کیا ہے اور انھوں نے تمام عراقیوں کی جانب سے حکومت کرنے کا عہد کیا ہے۔

وزیرِ اعظم نے ایمنسٹی کی رپورٹ پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف عراق کو اپنے ’وجود کی جنگ‘ کا سامنا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف زیادہ تر شیعہ جنگجو تنظیمیں لڑ رہی ہیں اور وہ فوجیوں کی بھرتی کے بجائے ہزاروں رضاکاروں کی بھرتی کر رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمبصرین کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف زیادہ تر شیعہ جنگجو تنظیمیں لڑ رہی ہیں اور وہ فوجیوں کی بھرتی کے بجائے ہزاروں رضاکاروں کی بھرتی کر رہی ہیں

وزیر اعظم حیدرالعبادی نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ عراقی عوام اور بطور خاص سنیوں کی جانب سے ’جائز شکایتوں‘ کا ازالہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

شیعہ جنگجوؤں کے خلاف یہ الزامات دولت اسلامیہ کی جانب سے یزیدی قوم کی خواتین اور بچوں کو یرغمال بنانے کے اعتراف کے دودن بعد عائد کیے گئے۔

دولت اسلامیہ کی پروپیگنڈا میگزن ’دابق‘ کے مطابق دولت اسلامیہ نے شمالی عراق میں سنجر قصبے کے نواح میں یزیدی قبیلے سے تعلق رکھنے والی خواتین اور بچوں کو پکڑ لیا اور انھیں پھر اس آپریشن میں حصہ لینے والے جنگجوؤں میں ’شریعت کے مطابق تقسیم کر لیا گیا۔‘

میگزن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض خواتین کو ’فروخت بھی کیا گيا۔‘

ایمنسٹی کی رپورٹ اگست اور ستمبر میں عراقیوں سے لیے جانے والے انٹرویوز اور بات چیت پر مبنی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ بغداد، سمارا اور کرکوک میں مسلک کی بنیاد پر ملیشیا کے جنگجوؤں نے حملے کیے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے سینکڑوں نامعلوم لاشیں ملی ہیں، ان میں سے بعض کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کے سر پر گولی لگی ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں سزائے موت دینے کے طرز پر قتل کیا گیا ہے۔

دابق کے مطابق یزیدی قوم کی خواتین اور بچوں کو اغوا کرکے آپس میں تقسیم کیا گیا

،تصویر کا ذریعہreuters

،تصویر کا کیپشندابق کے مطابق یزیدی قوم کی خواتین اور بچوں کو اغوا کرکے آپس میں تقسیم کیا گیا

ایمنسٹی کا کہنا ہےکہ دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع سنی اکثریتی شہر سمارا سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق جون سے اب تک وہاں سے 170 سنیوں کو اغوا کیا گیا ہے۔

چھ جون کو ایک ہی دن میں 30 سے زیادہ افراد کو ان کے گھروں اور آس پاس سے اغوا کر لیا گیا اور پھر انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور ان کی لاشوں کو ادھر ادھر پھینک دیا گیا۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ’دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی جانب سے شہر میں مختصر سے حملے کے انتقام میں یہ کارروائی کی گئي ہے۔‘

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ جون میں دولت اسلامیہ کے حملوں کے نتیجے میں عراقی فوج کے کمزور ہونے سے الصائب اہل حق، بدر بریگیڈز، مہدی آرمی اور کتائب حزب اللہ وغیرہ جیسی شیعہ جنگجو تنظیمیں مضبوط ہوئی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے دولت اسلامیہ کے خلاف زیادہ تر اسی قسم کی جنگجو تنظیمیں لڑ رہی ہیں اور وہ ہزاروں رضاکاروں کی بھرتی کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔