’شام میں فضائی حملوں سے دولت اسلامیہ کو نقصان ہو رہا ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی مسلح افواج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ شام میں فضائی حملوں کے نتیجے میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو نقصانات اٹھانے پڑے ہیں لیکن ان کی پسپائی کے لیے صرف فضائی حملے کافی نہیں۔
امریکی سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا کہ اس کے لیے زمینی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی حل کی بھی ضرورت ہوگی۔
جنرل ڈیمپسی نے کہا کہ زمینی فوج تیار کرنے کے لیے شامی حکومت کے معتدل حزب مخالف سے تقریباً 15 ہزار فوجی درکار ہوں گے۔
جمعے کو برطانیہ نے عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف ہوائی حملوں میں امریکہ کی رہنمائی میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
جبکہ فرانسیسی افواج پہلے سے ہی عراق میں جاری امریکی حملوں میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ بلجیم اور ڈنمارک بھی اپنے طیارے روانہ کر رہے ہیں۔
پینٹاگون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جنرل ڈیمپسی نے کہا کہ شام میں اس ہفتے ہونے والے حملوں نے دولت اسلامیہ کی کمان، کنٹرول اور جنگی صلاحیت کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ شام اور اس کے پڑوسی ملک عراق میں کھوئے ہوئے علاقوں کی بازیافت کے لیے فضائی قوت سے ماورا چیز درکار ہوگی تاہم زمینی فوج کو یکجا کرنے کے لیے امریکی فوجیوں کی ضرورت نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
انھوں نے کہا: ’درحقیقت جو مسائل ہمیں وہاں درپیش ہیں ان کے لیے ایک ہی موثر طریقہ ہے اور وہ یہ کہ عراقیوں، کردوں اور شام کی معتدل حزب اختلاف میں سے ایک ایسی فوج ترتیب دی جائے جو دولت اسلامیہ کی مخالف ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ امریکہ کی قیادت میں تقریباً 40 ممالک بشمول مشرق وسطی کے بہت سے ممالک دولت اسلامیہ کے خلاف متحد ہیں۔
یورپی ممالک نے ابھی تک صرف انھی اہداف پر فضائی حملے کے لیے رضامندی ظاہرکی ہے جس کے خلاف عراقی حکومت نے امداد طلب کی ہے۔
لیکن امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے طیاروں نے مشرقی شام کے علاقوں میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں بشمول تیل کی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔
ایک امریکی اہلکار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ کی قیادت میں شام پر حملہ تقریباً اب ’ایک معمول‘ بن چکا ہے۔
امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے صحافیوں کو بتایا: ’عراق میں جاری ہماری کوششوں کے ساتھ یہ حملے دولت اسلامیہ کو نقل و حمل کی آزادی نہیں دیں گے اور ان کے منصوبوں اور ان کے آپریشنز کو چیلنج کرتے رہیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہYASIN AKGUL DEPO PHOTOS
جبکہ جمعے کو امریکی وزیر خارجہ سرگیئی لاوروو نے شام پر حملوں کے جواز پر سوال اٹھایا کیونکہ یہ حملے روس کے حلیف شام کے صدر بشار الاسد کی اجازت کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر سائڈ لائنز پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’یہ بہت اہم ہے کہ شام کے حکام سے اس مسئلے پر تعاون قائم کیا جائے اور اب بھی یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔‘
دوسری جانب عالمی ادارے ریڈ کراس نے متنبہ کیا ہے کہ عراق و شام میں ہونے والے فضائی حملے پہلے سے ہی خراب انسانی حالات کو مزید ابتر کر رہے ہیں۔
اپنے جینوا ہیڈکوارٹر سے جاری ایک بیان میں تنظیم نے اس لڑائی میں شامل تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ شہری آبادی کو بخش دیں اور امدادی ایجنسیوں کو امدادی کارروائیاں کرنے دیں۔
شام میں جنگجو نے شمالی شہر کوبانے کا محاصرہ کر رکھا ہے جبکہ تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار افراد جن میں زیادہ تر کرد باشندے ہیں وہ نقل مکانی کرکے ترکی چلے گئے ہیں۔







