ایران، گرین لینڈ یا کیوبا: وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ کا اگلا نشانہ کون سا ملک بن سکتا ہے؟

صدر ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی صدر نے عندیہ دیا ہے کہ وینزویلا کے بعد دیگر ممالک کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے
    • مصنف, ٹام بینیٹ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

صدر ٹرمپ کی صدارت کا دوسرا دُور امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق اُن کے عزائم کو ظاہر کر رہا ہے، کیونکہ اب وہ اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

وینزویلا کے صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ کو اُن کے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے قلعہ نما محل سے ڈرامائی انداز میں تحویل میں لینا، صدر ٹرمپ کے جارحانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ اب یہ عندیہ بھی دے رہے ہیں کہ معاملہ یہاں نہیں رُکے گا، بلکہ اُنھوں نے کولمبیا کے صدر کو بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُنھیں بھی اب اپنی فکر کرنی چاہیے، جبکہ کیوبا اور میکسیکو کے حوالے سے بھی وہ اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

مادورو کے خلاف آپریشن کے بعد اُنھوں نے 1823 کے ’منرو نظریے‘ کا حوالہ دیا ہے، جو مغربی نصف کرہ میں امریکی بالادستی کو یقینی بناتا ہے۔ ٹرمپ نے اس نظریے کو ’ڈونرو نظریے‘ کا نام دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کن کن ممالک کو تنبیہ کی ہے، آئیے جائزہ لیتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گرین لینڈ

امریکہ کا پہلے ہی پٹوفک سپیس بیس گرین لینڈ میں ایک فوجی اڈہ ہے۔ لیکن ٹرمپ پورے جزیرے کا کنٹرول چاہتے ہیں۔

اُنھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمیں قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔۔کیونکہ یہ پورا علاقہ روسی اور چینی جہازوں سے بھرا ہوا ہے۔‘

قطب شمالی کے وسیع و عریض علاقے میں پھیلا ہوا گرین لینڈ، ڈنمارک کی بادشاہت کے کنٹرول میں ہے اور یہ امریکہ کے شمال میں تقریباً دو ہزار میل کی دُوری پر ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ علاقہ نایاب معدنیات سے مالا مال ہے جو سمارٹ فونز، الیکٹرک گاڑیوں اور ملٹری ہارڈویئر کی تیاری کے لیے اہم ہیں۔ اس وقت چین کی نایاب معدنیات کی پیداوار، امریکہ سے کہیں زیادہ ہے۔

گرین لینڈ، شمالی بحر اوقیانوس میں ایک اہم سٹریٹجک مقام پر ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہاں برف تیزی سے پگھل رہی ہے اور توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں یہاں جہاز رانی کے نئے راستے کھل جائیں گے۔

گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جینس فریڈرک نیلسن نے ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے ان کے گرین لینڈ پر کنٹرول کے تصور کو اُن کی ’خوش فہمی‘ قرار دیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’الحاق یا کسی بھی قسم کے دباؤ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہمارے دروازے بات چیت کے لیے کھلے ہیں۔ لیکن یہ مناسب چینلز اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ساتھ ہونا چاہیے۔‘

ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹ فریڈرکسن نے سرکاری نشریاتی ادارے ڈی آر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں امریکی صدر کو سنجیدہ لینا چاہیے، جب وہ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی بات کرتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت امریکہ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔

کولمبیا

وینزویلا میں آپریشن کے چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو کو خبردار کیا کہ وہ بھی ’اپنی کرسی پر نظر رکھیں۔‘

وینزویلا کا مغربی پڑوسی کولمبیا بھی تیل کے خاطر خواہ ذخائر سے مالا مال ہے جبکہ یہاں سونے، چاندی، زمرد، پلاٹینیم اور کوئلے کی کانیں بھی ہیں۔

یہ خطے میں منشیات بالخصوص کوکین کی تجارت کا بھی اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ نے ستمبر میں کیربین اور مشرقی بحرالکاہل میں کشتیوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ امریکی حکام نے بغیر ثبوت کے یہ کہا تھا کہ یہ منشیات لے کر جا رہے ہیں۔ ٹرمپ ملک کے بائیں بازو کے صدر گسٹاو پیٹرو کے بھی سخت خلاف ہیں۔

امریکہ نے اکتوبر میں گسٹاو پیٹرو پر یہ کہتے ہوئے پابندیاں عائد کی تھیں کہ وہ منشیات کے کارٹیلز کو وسعت دے رہے ہیں۔

اتوار کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ کولمبیا کو ’ایک بیمار آدمی چلا رہا ہے۔۔جو کوکین بناتا ہے اور اسے امریکہ سمگل کرنا پسند کرتا ہے۔ وہ زیادہ دیر تک ایسا نہیں کر پائے گا۔‘

تو کیا امریکہ کولمبیا میں بھی کوئی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ خیال مجھے اچھا لگتا ہے۔‘

تاریخی طور پر کولمبیا منشیات کے خلاف واشنگٹن کی جنگ میں اس کا قریبی اتحادی رہا ہے اور وہ اس سلسلے میں امریکہ سے سالانہ لاکھوں ڈالرز کی فوجی امداد بھی حاصل کرتا ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو

کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو نے وینزویلا میں امریکی کارروائی پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے دوسرے ملک کی خودمختاری کی ’کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا۔

لیکن ٹرمپ کی جانب سے کولمبیا کو اگلا ہدف بنانے کے عندیے پر ردعمل دیتے ہوئے کولمبیا کے صدر نے اپنی تفصیلی فیس بک پوسٹ میں کہا تھا کہ ’کولمبیا کے لوگ کسی بھی ممکنہ اور غیر قانونی اقدام کے خلاف اپنے صدر کے دفاع کے لیے اکٹھے ہوں۔‘

اُنھوں نے منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کے صدر ٹرمپ کے الزامات کی بھی تردید کی تھی۔ ہفتے کے اختتام پر کولمبیا نے وینزویلا کی سرحد کے اطراف اپنے ہزاروں فوجی بھی تعینات کر دیے ہیں۔

کولمبیا کے صدر نے کوکین کے خلاف اپنی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُنھوں نے اپنے دور میں اس کی کاشت کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے۔

ایران

وینزویلا کے صدر کے خلاف کارروائی کے بعد ہزاروں میل دُور ایرانی ردِعمل بھی نمایاں تھا۔ جہاں ایرانی حکام نے جو وینزویلا کے اتحادی ہیں اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

وینزویلا پر محدود امریکی حملے اور مادورو کی گرفتاری کے نتائج، پیغام اور اثرات ایرانی عوام اور حکومت کے لیے کیا ہوں گے؟ جیسا کہ ایران میں حکومت کے خاتمے کے حامی سوشل میڈیا پر کہتے ہیں ’علی خامنہ ای کی حکومت کی الٹی گنتی تیز ہو گئی ہے‘ یا جیسا کہ ایک اور گروہ کہتا ہے، ’ایران وینزویلا نہیں بنے گا؟‘

بین الاقوامی امور کے ماہر حمیدرضا عزیزی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ غیر یقینی نتائج کے ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت کی کوشش نہیں کر رہی اور صرف ان اقدامات کی حمایت کر رہی ہے جن کی کامیابی کے زیادہ امکانات ہیں۔ اس وجہ سے وینزویلا پر حملے کا عراق پر قبضے اور صدام حسین کی گرفتاری سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

وینزویلا پر حملے میں استعمال ہونے والے پیمانے، دائرہ کار، ہتھیار اور گولہ بارود کا حجم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ صرف فوجی حملہ نہیں تھا بلکہ انٹیلی جنس اور سکیورٹی آپریشن تھا۔

امریکی افواج وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرنے اور ہٹانے کے مخصوص مقصد کے ساتھ کاراکس گئی تھیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے بعد وہ ایک بھی گولی چلائے بغیر اپنے ملک واپس لوٹ گئیں۔

نکولس مادورو کو امریکی اسپیشل فورسز کی طرف سے ایک کارروائی میں گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننکولس مادورو کو امریکی اسپیشل فورسز کی طرف سے ایک کارروائی میں گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا گیا تھا

ایک رپورٹ میں روئٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ سی آئی اے کی ٹیموں نے صدر مادورو کے اندرونی دائرے میں کلیدی کردار ادا کیا، وہ ٹیمیں جو ان کے طرز زندگی، روزمرہ کے معمولات اور ٹھکانے سے پوری طرح آگاہ تھیں۔

نتیجے کے طور پر، ایران میں اسی طرح کی کارروائی کو انجام دینے کے لیے ممکنہ طور پر اسلامی جمہوریہ میں طاقت کے اعلیٰ ترین حلقوں میں اسی طرح کی انٹیلی جنس رسائی کی ضرورت ہوگی۔

صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر عامر سعید نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو خط لکھ کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کو صدر ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات کا نوٹس لینا چاہیے۔

میکسیکو

صدر نے اپنے پہلے دور کا آغاز امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے آغاز سے کیا تھا۔

سنہ 2025 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اُنھوں نے ’خلیج میکسیکو‘ کا نام بدل کر ’خلیج امریکہ‘ رکھنے کے ایک انتظامی حکمنامے پر دستخط کیے تھے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ میکسیکو کے حکام امریکہ میں منشیات یا غیر قانونی تارکینِ وطن کے بہاؤ کو روکنے کے لیے کافی کام نہیں کر رہے۔

اتوار کو صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میکسیکو کے ذریعے منشیات امریکہ میں پہنچ رہی ہیں اور ’ہمیں اس کا کچھ کرنا پڑے گا۔‘ صدر کا کہنا تھا کہ وہاں کے کارٹیل بہت مضبوط ہیں۔

میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے میکسیکو کی سرزمین پر کسی بھی امریکی فوجی کارروائی کو مسترد کر دیا ہے۔

ایک بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ صرف میکسیکو کے عوام کو اپنے مستقبل، قدرتی وسائل اور حکومت بنانے کا اختیار ہے اور کوئی دوسرا ملک اس میں مداخلت کا حق نہیں رکھتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ میکسیکو کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے صدر ٹرمپ کے بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہیں۔

کلاڈیا شین بام کا مزید کہنا تھا کہ لاطینی امریکہ کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کسی بھی نوعیت کی بیرونی مداخلت کے نتیجے میں جمہوریت اور استحکام بحال نہیں ہو سکا۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمیکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام

کیوبا

جزیرہ نما، کیوبا امریکی ریاست فلوریڈا سے صرف 90 میل کی دُوری پر ہے۔ یہ ساٹھ کی دہائی کے اوائل سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے اور اس کے نکولس مادورو کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔

ٹرمپ نے اتوار کو میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہاں امریکی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ کیوبا زوال پذیر ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں وہاں کسی کارروائی کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ نیچے جا رہا ہے۔ کیوبا کی اب کوئی آمدنی نہیں ہے۔ وہ اپنی تمام آمدنی وینزویلا سے حاصل کرتے تھے۔‘

کیوبا تیل کی درآمدات کا 30 فیصد وینزویلا سے منگواتا تھا۔ مادورو کی معزولی کے بعد اگر تیل کی سپلائی معطل ہو جاتی ہے تو کیوبا کے لیے مشکلات ہو سکتی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے والدین کا تعلق کیوبا سے ہے۔

اُنھوں نے بھی کیوبا میں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر میں دارالحکومت ہوانا میں ہوتا تو مجھے فکر ہوتی۔‘

مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب صدر بولتے ہیں تو اپ کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘

امریکی صدر نے تصدیق کی تھی کہ وینزویلا میں کارروائی کے دوران کیوبا کے 32 سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔

اتوار کی شب کیوبا کے سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ کیوبا کے فوجی اور پولیس اہلکار دوست ملک وینزویلا کی درخواست پر ایک مشن پر دارالحکومت میں موجود تھے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ یہ کیوبن اہلکار کس مشن پر وینزویلا میں موجود تھے۔

کیوبا کی حکومت نے صدر ٹرمپ کے بیان پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا۔ لیکن وینزویلا میں کارروائی کے بعد کیوبا کی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں اسے ’کھلی جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے لاطینی امریکہ کے ممالک کے اتحاد پر زور دیا گیا تھا۔