کوکین سمگلنگ اور کارٹیلز سے شراکت کے الزامات: وینزویلا کے رہنما مادورو کے خلاف کیس جو امریکہ میں برسوں سے تیار کیا جا رہا تھا

مادورو

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, ڈونوان سلیک، گریس الیزا گڈونینڈ اور کائلا ایپسٹین
    • عہدہ, بی بی سی

امریکی فورسز کی جانب سے کاراکس میں وینزویلا کے معزول صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو پکڑنے کے محض 48 گھنٹے بعد دونوں کو ایک امریکی عدالت میں پیش کیا گیا۔ دونوں نے ’نارکو دہشت گردی‘ کی سازش کے الزامات پر خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق مادورو کے خلاف فوجداری مقدمہ نیویارک میں دائر کیے جانے والے دیگر مقدمات کی طرح ہی چلے گا۔ یہ مقدمہ امریکی قانون اور عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھے گا۔

فردِ جرم میں استغاثہ نے الزام عائد کیا ہے کہ مادورو، ان کی اہلیہ، بیٹے اور ان کے ساتھیوں نے کوکین سمگلنگ کی سازش میں حصہ لیا۔ ان پر ایسے کارٹیلز کے ساتھ شراکت داری کا الزام ہے جنھیں دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق ملزمان نے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کیا اور وینزویلا کے سرکاری اداروں کی مدد سے کوکین امریکہ درآمد کی۔ اس سے قبل مادورو ان الزامات کو وینزویلا کے تیل کے وسیع ذخائر تک رسائی کا ’سامراجی منصوبہ‘ قرار دے چکے ہیں۔

امریکی حکومت کا الزام ہے کہ اس جوڑے نے ریاستی سرپرستی حاصل کرنے والے مسلح گروہوں کو اپنے کنٹرول میں رکھا تھا اور وہ ’منشیات کی رقم کے مقروض افراد یا سمگلنگ کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف اغوا، تشدد اور قتل کے احکامات دیتے تھے۔‘

مادورو کے بیٹے پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکی شہروں نیویارک اور میامی میں کوکین سمگل کرنے میں ملوث رہے ہیں۔

فردِ جرم میں استغاثہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کی جائیداد اور رقوم ضبط کی جائیں۔

امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج نے اس مقدمے کی اگلی سماعت 17 مارچ کو مقرر کی ہے۔

مادورو

،تصویر کا ذریعہReuters

عدالت میں وینزویلا کے رہنما کی ڈرامائی پیشی کا احوال

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جب وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو پہلی بار نیو یارک شہر کی عدالت میں پیش ہوئے تو اُن کے پیروں پر لگی بیڑیوں کی آوازیں سُنی جا سکتی تھی۔ اس دوران انھوں نے عدالت میں موجود صحافیوں اور عام لوگوں کو بتایا کہ انھیں ’اغوا‘ کیا گیا ہے۔

انھیں عدالت میں لائے جانے کے بعد جج ایلون ہیلرسٹین نے اُن سے اُن کی شناخت کی تصدیق کرنے کا کہا تاکہ عدالتی کارروائی شروع ہو سکے۔

انھوں نے ہسپانوی زبان میں عدالت کو بتایا کہ ’سر میں نکلوس مادورو ہوں۔ میں جمہوریہ وینزویلا کا صدر ہوں اور 3 جنوری کو اغوا کر کے یہاں لایا گیا ہے۔‘

عدالت میں موجود مترجم نے ان کے بیان کا ترجمہ کر کے عدالت کو آگاہ کیا۔ مادورو نے مزید کہا کہ ’مجھے وینزویلا میں کاراکس میں واقع اپنے گھر سے اٹھایا گیا تھا۔‘

82 سالہ جج نے فوراً مادورو کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ ’ان سب معاملات کی طرف جانے کے لیے مناسب وقت دیا جائے گی۔‘

پیر کی شام 40 منٹ تک جاری رہنے والی اس ڈرامائی سماعت کے دوران مادورو اور اُن کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے منشیات اور ہتھیاروں سے متعلق تمام تر الزامات مسترد کیے۔

مادورو نے کہا کہ 'میں بے قصور ہوں۔ میں ایک اچھا انسان ہوں۔' فلوریس نے بھی کہا کہ ’میں بالکل بے قصور ہوں۔‘

63 سالہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیو یارک کی جیل منتقل کیا گیا تھا۔ انھیں سنیچر کو روز امریکی فورسز نے ان کے کمپاؤنڈ پر ایک چھاپے کے دوران پکڑا تھا۔ امریکہ نے وینزویلا میں فوجی اڈوں پر بھی حملے کیے تھے۔

نیلے اور نارنجی رنگ کا جیل کا لباس اور خاکی پتلون پہنے ہوئے دونوں میاں بیوی نے سماعت کے دوران ہسپانوی ترجمہ سننے کے لیے ہیڈ فونز لگا رکھے تھے۔ جبکہ اُن کے درمیان ایک وکیل بیٹھا ہوا تھا۔

مادورو پیلے رنگ کے قانونی نوٹ پیڈ پر نہایت باریک بینی سے نوٹس لیتے رہے۔ سماعت کے بعد انھوں نے جج سے اجازت لی کہ وہ یہ نوٹ پیڈ اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔

جب مادورو کمرۂ عدالت میں داخل ہوئے تو انھوں نے مڑ کر حاضرین میں موجود کئی افراد کی طرف سر ہلایا۔ یہ وہی وفاقی عدالت ہے جہاں چند ماہ قبل معروف امریکی ریپر اور میوزک پروڈیوسر شان جان کومبز عرف ’ڈڈی‘ پر مقدمہ چلا تھا اور انھیں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

پیر کی کارروائی کے دوران مادورو کا رویہ پُرسکون اور چہرہ جذبات سے عاری رہا۔ سماعت کے اختتام پر حاضرین میں بیٹھے ایک شخص نے اچانک چیخ کر کہا کہ مادورو اپنے جرائم کی ’قیمت چکائیں گے۔‘

اس پر مادورو نے ہسپانوی زبان میں اس شخص کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ ’میں ایک صدر ہوں اور جنگی قیدی ہوں۔‘

اس کے بعد سکیورٹی اہلکار اس شخص کو کمرۂ عدالت سے باہر لے گئے۔

عدالت میں موجود دیگر افراد کے لیے بھی یہ کارروائی خاصی جذباتی تھی۔ وینزویلا کی صحافی میبورت پتیت مادورو کی حکومت سے متعلق رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ مادورو کی گرفتاری کے دوران کاراکس میں ہونے والے امریکی میزائل حملوں میں ان کے خاندان کے گھر کو نقصان پہنچا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنے ملک کے سابق رہنما کو امریکی مارشلز کے ہمراہ جیل کے لباس میں عدالت میں پیش ہوتے دیکھنا ایک غیر حقیقی منظر تھا۔

مادورو کی اہلیہ فلوریس نسبتاً زیادہ خاموش نظر آئیں۔ ان کی آنکھوں اور پیشانی کے قریب پٹیاں بندھی ہوئی تھیں جن کے بارے میں ان کے وکلا نے کہا کہ یہ ان کی گرفتاری کے دوران آنے والے زخم ہیں۔

وہ دھیمی آواز میں گفتگو کر رہی تھیں اور ان کے سنہرے بال پیچھے کی طرف جوڑے کی صورت میں بندھے ہوئے تھے۔ ان کے وکلا نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ انھیں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ممکنہ طور پر پسلیوں پر چوٹ یا فریکچر کی جانچ کے لیے ایکسرے کی درخواست کی گئی۔

مادورو اور ان کی اہلیہ نے سماعت کے دوران ضمانت کی درخواست نہیں دی۔ تاہم وہ بعد میں ایسا کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ فی الحال انھیں وفاقی تحویل میں رکھا جائے گا۔

Elderly protesters wearing caps and colourful clothes in Venezuela carry pictures of the Venezuelan President and a large action doll after he was removed from the country by US forces.

،تصویر کا ذریعہFederico PARRA / AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنعالمی قوانین کے ماہر یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے وینزویلا میں کی گئی کارروائی کی پہلے کوئی مثال ملتی ہے اور کیا یہ قانون کے مطابق تھی یا نہیں

مادورو کے خلاف امریکہ کے پاس کون سے شواہد ہیں؟

وکیل اور سابق وفاقی پراسیکیوٹر سارہ کرسوف کے مطابق مادورو کے خلاف مقدمے کی قانونی بنیاد کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ فردِ جرم میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ استغاثہ کے پاس ان کے خلاف کون سے شواہد موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی منشیات سمگلنگ سے متعلق مقدمات میں عموماً ’زیادہ تر نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ مگر تفصیلات کم فراہم کی جاتی ہیں۔‘

کرسوف ایک دہائی سے زائد عرصے تک اسی عدالت میں کام کر چکی ہیں جہاں مادورو پر مقدمہ چل رہا ہے۔

ان کے مطابق قانونی طور پر فردِ جرم میں شواہد کی تفصیل دینا ضروری نہیں ہوتا اور اس نوعیت کے بڑے منشیات کیسز میں زیادہ تر شواہد حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔

کرسوف کا کہنا تھا کہ مقدمے کے بعض حصے میڈیا اور عوام کے لیے خفیہ رکھے جا سکتے ہیں۔ جبکہ وکلا سکیورٹی کلیئرنس کے بعد محفوظ مقامات پر حساس مواد تک رسائی حاصل کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مادورو کے خلاف مقدمے میں استغاثہ کو ’واضح برتری‘ حاصل ہے کیونکہ یہ کیس ایک دہائی سے تیار کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرنے والے متعدد قانونی ماہرین، جن میں کلیولینڈ سٹیٹ یونیورسٹی کالج آف لا کی میلینا سٹیریو بھی شامل ہیں، کا ماننا ہے کہ مادورو کو نیویارک لانے کے لیے کی گئی امریکی کارروائی ’اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ ہے۔

تاہم سٹیریو کا کہنا تھا کہ اب جب مادورو امریکہ میں موجود ہیں تو امریکی قانون کے تحت ان کا مقدمہ چلانا تقریباً یقینی طور پر قانونی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہماری عدالتیں طویل عرصے سے یہ تسلیم کرتی آئی ہیں کہ اگر کسی ملزم کو اغوا کر کے یا زبردستی امریکہ لایا جائے تو یہ اس کے مقدمے کو ختم کرنے کی بنیاد نہیں بنتا۔‘

بی بی سی نے مادورو کے مؤقف کے لیے ان کے وکیل سے رابطہ کیا ہے۔ تاہم انھوں نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

Donald Trump stands at the podium addressing the audience in a blue tie and gesturing with one hand. Behind him stand the Secretary of State Marco Rubio, Secretary of Defense Pete Hegseth and Chairman of the US Joint Chiefs of Staff General Dan Caine dressed in military uniform.

،تصویر کا ذریعہJim Watson / AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنعالمی قوانین کسی بھی ملک کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی ممانعت کرتے ہیں جب تک کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل حق دفاع کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی منظوری نہ دے

کیا وینزویلا میں امریکی آپریشن غیر قانونی تھا؟

مادورو کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بعد یہ سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا وینزویلا کے صدر کے خلاف آپریشن کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کی کارروائی کسی قانون کے دائرے میں تھی یا نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو پھر مادورو اور اُن کی اہلیہ کو کئی برس قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

لیکن عالمی قوانین کے ماہر یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے وینزویلا میں کی گئی کارروائی کی پہلے کوئی مثال ملتی ہے اور کیا یہ قانون کے مطابق تھی یا نہیں۔

عالمی قوانین کسی بھی ملک کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی ممانعت کرتے ہیں جب تک کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل حق دفاع کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی منظوری نہ دے۔

Fire at Fuerte Tiuna, Venezuela's largest military complex, is seen from a distance after a series of explosions in Caracas. Smoke is seen to rise into a darkened sky behind a number of high-rise buildings with a mountain in the background.

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق امریکہ نے وینزویلا میں کارروائی کے لیے جو جواز پیش کیے ہیں وہ مسلح تنازعے کے منظور شدہ بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتے

ٹرمپ انتظامیہ ’وار پاورز ریزولوشن‘ یعنی ’حالتِ جنگ میں اختیارات کی قرارداد‘ کی مدد بھی لے سکتی ہے، جو صدر کو 60 دن تک قلیل مدتی فوجی کارروائی شروع کرنے کی اجازت اور انخلا کے لیے مزید 30 دن دیتی ہے اور اس کے لیے کانگریس کی پیشگی منظوری درکار نہیں بشرطیکہ اسے 48 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے۔

اس فریم ورک کے تحت، صدر کو بغیر کانگریس کو پیشگی اطلاع دیے، وینزویلا پر حملے کے قانونی اختیار کا دعویٰ کرنے کی اجازت ہے تاہم، امریکی قانون ساز اب بھی دو جماعتی بنیادوں پر مزید فوجی کارروائی کو محدود یا ختم کرنے کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں ووٹنگ متوقع ہے۔

قانونی شکوک و شبہات

امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں آئینی قانون کے ماہر پروفیسر جیریمی پال نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ قانون نافذ کرنے والا آپریشن تھا اور پھر آپ کہہ سکتے ہیں کہ اب ہمیں ملک چلانا ہے۔ یہ ناقابلِ فہم بات ہے۔‘

لندن کے چیتھم ہاؤس کے پروفیسر مارک ویلر کہتے ہیں کہ قومی پالیسی کے ذریعے طاقت کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے، سوائے اس کے کہ وہ ’مسلح حملے کے جواب میں ہو یا ایک ایسی آبادی کو بچانے کے لیے جو فوری طور پر ختم ہونے کے خطرے کا شکار ہے۔‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ اسے اقوام متحدہ سے منظوری کی بھی ضرورت ہے۔

وہ لکھتے ہیں، ’واضح طور پر، یہ تمام شرائط امریکہ کی وینزویلا کے خلاف مسلح کارروائی میں پوری نہیں کی گئیں۔ منشیات کی تجارت کو دبانے میں امریکی دلچسپی یا یہ دعویٰ کہ مادورو حکومت دراصل ایک مجرمانہ ادارہ تھی، کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کرتا۔‘

A mugshot of the Panamanian military leader, Manuel Noriega wearing a brown shirt and looking directly at the camera after being arrested by US authorities in 1990.

،تصویر کا ذریعہBureau of Prisons/Getty Images

،تصویر کا کیپشنپانامہ میں نوریگا کی برطرفی کے بعد اقتدار سنبھالنے کے لیے عوامی اپوزیشن تیار تھی

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقے نے 1989-1990 کے پاناما کے واقعات کو مادورو کی برطرفی کے لیے ایک نمونے یا جواز کے طور پر لیا ہے۔

پاناما کے انتہائی غیر مقبول فوجی رہنما مانوئل نوریگا کو اس وقت کے صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کی حکومت کی فوجی مداخلت کے بعد اقتدار سے ہٹا کر منشیات کے الزامات میں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ منتقل کر دیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں کارروائیوں میں واضح مماثلتیں ہیں جن میں واشنگٹن کی جانب سے 35 سال پہلے نہر پانامہ اور اب وینزویلا کے تیل کے ذخائر تک رسائی کی کوششیں شامل ہیں لیکن واضح فرق بھی ہے۔

پروفیسر ویلر کہتے ہیں کہ اس وقت بھی واشنگٹن نے نوریگا کو ہٹانے سے پہلے امریکی مفادات کو درپیش فوری خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے دفاع کے جواز کا سہارا لیا تھا۔

In this photo illustration, a smartphone displays a Truth Social post by US President Donald Trump claiming that Venezuelan President Nicolás Maduro and his wife Cilia Flores were captured and flown out of Venezuela, with the Venezuelan national flag seen in the background.

،تصویر کا ذریعہCheng Xin/Getty Images

دونوں کے درمیان سب سے واضح فرق، جیسا کہ سابق امریکی سفارتکار جان فیلی (جنھوں نے امریکہ میں این پی آر سے بات کی) کا کہنا ہے، یہ ہے کہ پانامہ میں نوریگا کی برطرفی کے بعد اقتدار سنبھالنے کے لیے عوامی اپوزیشن تیار تھی جس کی بدولت ایک دیرپا جمہوری منتقلی ہوئی اور امریکی فوجی بھی جلد ہی وہاں سے چلے گئے۔

لیکن وینزویلا کے معاملے میں صدر ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ایسا نہیں ہے، کیونکہ کوئی اپوزیشن پیچھے موجود نہیں ہے جو اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہو۔

آگے کیا ہوگا؟

مادورو نے بارہا ان الزامات کو محض اقتدار سے ہٹانے کا بہانہ قرار دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے درخواست ضمانت منظور کرنے کے امکانات کم ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ اب امریکہ وینزویلا کو چلائے گا اور اس کے تیل کے شعبے تک ’مکمل رسائی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اس دباؤ کو کم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ امریکی صدر نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر مادورو کے باقی اتحادی احکامات پر عمل نہیں کریں گے تو پھر سے فوجی حملہ کیا جا سکتا ہے۔

جب ٹرمپ سے یہ پوچھا گیا کہ مادورو کے ’اغوا‘ کے دعوے پر ان کا کیا ردعمل ہے تو انھوں نے کہا کہ یہ ’برا لفظ نہیں ہے۔‘

مادورو پر درج الزامات میں ’نارکو ٹیررازم‘، کوکین سمگلنگ اور امریکہ کے خلاف مشین گنز اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کی سازش شامل ہے۔

لیورپول جان مورز یونیورسٹی میں جسٹس سٹڈیز کی پروفیسر جولیا بکسٹن کے مطابق یہ ’انتہائی کمزور بنیاد‘ ہے۔

انھوں نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ وینزویلا ’کوکین کا بڑا برآمد کنندہ نہیں ہے۔‘

’امریکہ جانے والی زیادہ تر کوکین بحرالکاہل کے ساحل سے میکسیکو اور کولمبیا کے راستے آتی ہے۔ وینزویلا سے کوئی فینٹانائل نہیں آ رہی۔ ٹرمپ انتظامیہ کو مادورو کو نارکو ٹیررسٹ کے طور پر پیش کرنے کا تصور گھڑنا پڑا تاکہ رجیم چینج کی پالیسیوں پر عمل کیا جا سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ تیل کی امریکی کمپنیاں وینزویلا میں آئیں لیکن یہ ان کمپنیوں کے لیے خاص طور پر پُرکشش موقع نہیں ہے۔

ان کے مطابق عالمی منڈیوں میں تیل کی بھرمار ہے اور وینزویلا کی تیل کی صنعت کو درست کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

پروفیسر ویلر کے مطابق امریکی عدالتیں نام نہاد کیرفریزبی اصول پر عمل کرتی ہیں، جس کے تحت اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ کسی مشتبہ شخص کو عدالت میں کس طریقے سے پیش کیا گیا۔ چاہے وہ غیر قانونی مسلح مداخلت کے ذریعے لایا گیا ہو یا اغوا کے بعد، عدالت مقدمہ چلا سکتی ہے بشرطیکہ ملزم کو شدید تشدد کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو۔

مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر امریکہ کو وینزویلا میں اپنے اقدامات کے نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑا تو اس کے دیگر ابھرتے ہوئے عالمی تنازعات کے لیے بہت سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب اقوام متحدہ کی بین الاقوامی سطح پر کسی قسم کے قواعد پر مبنی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی صلاحیت کو واضح طور پر چیلنج کیا جا رہا ہے۔