’مدر آف آل ڈیلز‘: انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان نئے تجارتی معاہدے کی تیاریاں

India and EU leader

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیورپی یونین کے رہنما انڈیا کی یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں مہمانِ خصوصی ہوں گے
    • مصنف, نکھل انمادار
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس ڈی کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ وان در لیین 26 جنوری کو انڈیا کے رپبلک ڈے (یومِ جمہوریہ) کی تقریبات میں مہمان خصوصی ہوں گے۔

سرکاری اعشائیوں اور تقریبات کی چکا چوند کے علاوہ یہ دو یورپی رہنما اپنے دورے کے دوران ایجنڈے پر موجود ایک اور اہم موضوع پر کام کر رہے ہوں گے: ایشیا کی تیسری بڑی معیشت کے ساتھ فری تجارت سے متعلق مذاکرات۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ ایک نئے جیوپولیٹیکل چیلنج سے گزر رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

رپبلک ڈے پر یورپی شخصیات کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کرنا انڈیا کی طرف سے ایک اہم سفارتی پیغام ہے اور وہ یہ کہ امریکہ کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف کے چیلنج کے بعد انڈیا دیگر دنیا کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

لندن میں واقع تھنک ٹینک چیٹھم ہاؤس سے منسلک چیٹیگج باجپائی کہتے ہیں کہ ’اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ انڈیا ایک متنوع خارجہ پالیسی رکھتا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کا محتاج نہیں ہے۔‘

’مدر آف آل ڈیلز‘

کچھ اطلاعات کے مطابق یورپی یونین اور انڈیا کے درمیان اس معاہدے کا اعلان 27 جنوری کو ہو سکتا ہے، جب یورپی اور انڈین رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوگی۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ اور انڈیا کے وزیرِ تجارت پیوش گویل دونوں ہی اس معاہدے کو ’مدر آف آل ڈیلز‘ قرار دے چکے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً دو دہائیوں سے جاری مذاکرات پر فریقین اب زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور یہ حتمی شکل اختیار کرنے کے قریب ہیں۔

India and EU leaders

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق یورپی یونین اور انڈیا کے درمیان اس معاہدے کا اعلان 27 جنوری کو ہو سکتا ہے

یہ گذشتہ چار برسوں میں کیا جانے والے انڈیا کا نواں فری ٹریڈ معاہدہ ہوگا۔ اس سے قبل انڈیا ایسے ہی معاہدے برطانیہ، عمان، نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک کے ساتھ کر چکا ہے۔

یورپی یونین بھی اس سے قبل جاپان، جنوبی کوریا اور ویتنام کے ساتھ ایسے معاہدے کر چکی ہے۔

اکنامسٹ انٹیلیجنس یونٹ سے منسلک سینیئر اینلسٹ سمیدھا داس گپتا کہتی ہیں کہ ’غیرواضح جیوپولیٹیکل تجارتی ماحول میں فریقین اس وقت قابلِ انحصار تجارتی پارٹنر کی تلاش میں ہیں۔ دونوں ہی اطراف اس بات کو ضروری سمجھا جا رہا ہے، انڈیا امریکی ٹیرف کی تلافی چاہتا ہے، جبکہ یورپی یونین چین پر انحصار کم کرنا چاہتی ہے جسے وہ قابلِ انحصار نہیں سمجھتی۔‘

اس معاہدے سے انڈیا اور یورپی یونین کو کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟

یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ سفارتی پیغام رسانی کے علاوہ اس معاہدے سے انڈیا اور یورپی یونین کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟

انڈیا کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات یورپی یونین کے لیے ضروری ہیں کیونکہ اس کی معاشی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔ انڈیا دنیا کی چوتھی اور سب سے تیزی سے آگے بڑھتی معیشت ہے اور اس کی جی ڈی پی 40 کھرب ڈالر کو چھونے کے قریب ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ یورپی یونین دو ارب لوگوں کے لیے فری مارکیٹ تشکیل دینے کے لیے انڈیا کے ساتھ کام کرے گی۔

انڈیا کے لیے یورپی یونین کا بلاک پہلے ہی سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور ایک متوقع معاہدہ اسے اور مضبوط کرے گا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

دہلی میں واقع گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو سے منسلک اجے شریواستو کے مطابق ’انڈیا نے یورپی یونین کو 76 ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کی ہیں جبکہ یورپی یونین سے اس کی درآمدات کا کُل تخمینہ 61 ارب ڈالر تھا، جس میں ایک واضح ٹریڈ سرپلس نظر آتا ہے۔ لیکن سنہ 2023 میں جی ایس پی فوائد کے ختم ہوجانے کے بعد انڈین مصنوعات کی مانگ میں کمی آئی تھی۔‘

اجے کہتے ہیں کہ ’ایک فری ٹریڈ معاہدہ مارکیٹ کی اس کھو جانے والی رسائی کو بحال کر دے گا۔ گارمنٹس، ادویات، سٹیل، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر مشینری پر ٹیرف کم ہو جائے گا، جس سے انڈیا کی انڈسٹری کو اضافی امریکی ٹیرف کے چیلنج سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔‘

تاہم انڈیا سیاسی طور پر حساس سمجھے جانے والے شعبوں یعنی ذراعت اور ڈیری کو اس معاہدے سے دور رکھے گا جبکہ کاروں، شراب اور دیگر اشیا پر ٹیرف میں مرحلہ وار کمی آئے گی۔ ایسا ہم نے انڈیا اور برطانیہ کے درمیان معاہدے کے بعد بھی دیکھا تھا۔

چیٹھم ہاؤس سے منسلک تجزیہ کار باجپائی کہتے ہیں کہ ’انڈیا نے تجارتی مذاکرات کے لیے ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے، جس کے تحت وہ سیاسی طور پر حساس سمجھے جانے والے معاملات پر مرحلہ وار بات چیت کو فوقیت دیتا ہے۔ ایسے میں ایسے کسی بھی معاہدے کی نہ صرف جیوپولیٹکل اہمیت بڑھ جاتی ہے بلکہ معاشی اہمیت بھی۔‘

انڈیا کے ساتھ معاہدے پر یورپ میں مخالفت کیوں؟

اس متوقع معاہدے پر پیش رفت ہونے کے ساتھ ہمیں کچھ تقسیم بھی نظر آتی ہے۔

یورپ کے لیے انٹیلکچوئل پراپرٹی کی حفاظت ایک بڑا خدشہ ہے۔ وہ ڈیٹا کی زیادہ بہتر طریقے سے حفاظت چاہتے ہیں۔

دوسری جانب انڈیا کے لیے یورپ کی طرف سے رواں برس عائد کیے جانے ولا نیا کاربن ٹیکس ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

Trump and Modi

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتجزیہ کار کہتے ہیں کہ انڈیا اور یورپی یونین امریکہ پر انحصار کو کم کرنا چاہتے ہیں

اجے شریواستو کہتے ہیں کہ کاربن ٹیکس انڈین برآمدات کے لیے ’نئے بارڈر چارجز‘ کے معنی رکھتا ہے۔

’یہ چھوٹی اور درمیانی سائز کی انڈسٹری کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے، جو کہ لازمی شرائط کو پوری کرتی ہیں اور کاربن کے اخراج پر انھیں جرمانوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان یہ ڈیل ایک ’قابلِ اعتماد پارٹنر شپ‘ بنتی ہے یا نہیں اس کا دارومدار ان ہی عوامل پر ہوگا۔

تاہم تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ دونوں قوتوں کے لیے ایک فتح جیسا ہی ہوگا۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور سے منسلک ایلکس کیپری کہتے ہیں کہ ’اس سے امریکہ اور دیگر ناقابلِ اعتماد شراکت داروں پر انحصار کو کم کرنے میں مدد ملے گی، یعنی کہ اس سے ٹرمپ کے امریکہ اور چین پر انحصار کم ہو سکتا ہے، کمزرویاں کم ہو سکتی ہیں، ٹیرف اور ایکسپورٹ کنٹرول سے آزادی مل سکتی ہے۔‘

ایلکس کہتے ہیں کہ انڈیا میں کاربن کا بڑھتا ہوا اخراج اور اس کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے سبب یورپ میں اس معاہدے کو مخالفت کا بھی سامنا ہے۔

تاہم دیگر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نومبر 2025 کے بعد سے انڈیا کی طرف سے روسی تیل کی خریداری میں کمی یورپی پارلیمنٹ میں اس معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

اس معاہدے کو قابلِ عمل بنانے کے لیے یورپی پالیمنٹ کی منظوری لازمی ہوگی۔

سمیدھا کہتی ہیں کہ ’2026 کی ابتدا سے ہی امریکہ کے ساتھ سیاسی چپقلس کا مطلب یہ ہے کہ یورپی یونین کے رہنما اب ایسے کسی بھی معاہدے کا زیادہ خیرمقدم کریں گے۔‘