انڈیا کی چین سے ’ہاری ہوئی جنگ‘ میں ’واحد کامیابی‘: جب 120 انڈین فوجیوں نے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا

Bollywood actor Farhan Akhtar in 120 Bahadur

،تصویر کا ذریعہ120 Bahadur team

،تصویر کا کیپشنفلم میں بالی وڈ اداکار فرحان اختر نے میجر شیطان سنگھ کا مرکزی کردار ادا کیا ہے
    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی

انڈیا میں حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم نے سنہ 1962 میں انڈیا اور چین کے درمیان ہونے والی جنگ کی تلخ یادیں ایک بار پھر تازہ کر دی ہیں۔

بالی وڈ فلم ’120 بہادر‘ اُن انڈین فوجیوں کے گرد گھومتی ہے، جو لداخ کے منجمد ہمالیہ کی پہاڑوں میں ریزانگ لا پاس کے دفاع کے لیے بہادری سے لڑے۔

فلم میں میجر شیطان سنگھ کا مرکزی کردار انڈین اداکار اور ہدایت کار فرحان اختر نے نبھایا ہے۔ یہ فلم باکس آفس پر تو خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکی، لیکن اسے انڈیا کی اس ہاری ہوئی جنگ میں کامیابی کی ایک واحد کہانی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

فلم کے مصنف سُمت اروڑہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے محسوس کیا کہ یہ بہت اہم ہے کہ یہ کہانی لوگوں کو دکھائی جائے، ہم اس کے ذریعے اس حقیقی واقعے کے ہیروز کو عزت دینا چاہتے تھے۔‘

اُن کا کہنا تھا یہ تاریخ پر مبنی ایک سچی کہانی ہے، لیکن ہم نے اس کی عکس بندی کے دوران اس میں کچھ تبدیلیاں بھی کی ہیں۔

یہ جنگ اکتوبر 1962 میں اُس وقت شروع ہوئی، جب انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی عروج پر تھی اور تنازعات کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات بھی ناکام رہے تھے۔

بیجنگ انڈیا کی طرف سے دلائی لاما کو پناہ دینے پر بھی ناخوش تھا جو 1959 کی بغاوت کے بعد تبت سے فرار ہو گئے تھے۔

November 1962: Crowds lining the streets watch as Indian troops drive by in trucks in the Ladakh region of northern India during border clashes between India and China. (Photo by Radloff/Three Lions/Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن1962 میں ہزاروں انڈین فوجیوں کو چین کے ساتھ سرحدوں پر منتقل کیا گیا

20 اکتوبر کو چین کی جانب سے انڈیا پر حملے کا آغاز ہوا اور یہ جنگ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہی۔ چین نے الزام لگایا کہ یہ حملہ انڈیا کی جانب سے اس کی سرزمین پر ’تجاوزات اور فضائی حدود کی خلاف ورزی‘ کے جواب میں کیا گیا۔

چین نے ایک ماہ بعد یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا اور اپنی فوجوں کو واپا بلا کر جنگی قیدیوں کو بھی رہا کر دیا۔

انڈیا نے اس جنگ میں تقریباً سات ہزار فوجی اور 38 ہزار مربع کلو میٹر کا علاقہ کھو دیا تھا۔ دونوں ممالک کی سرحد کو بعدازاں 3440 کلو میٹر طویل ایک غیر متعین لائن (لائن آف ایکچوئل کنٹرول) کے ذریعے تقسیم کیا گیا۔ ان سرحدی علاقوں میں دیرا، جھیلیں اور برف سے ڈھکے پہاڑ ہیں۔

چین کی جانب سے اس جنگ کے بارے میں سرکاری طور پر بہت کم معلومات ہیں، لیکن چین یہ دعوی کرتا رہا ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے تنازعات والے علاقے سے انڈیا کی تمام چوکیوں کو ختم کر دیا گیا تھا۔

چین کی جانب سے ریزانگ لا پاس کی لڑائی پر بھی کبھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

سطح سمندر سے 16 ہزار فٹ کی بلندی پر لڑی گئی یہ لڑائی چین نے جیتی تھی۔ تاہم انڈیا میں اسے ’مہا یودھ‘ اور ایک عظیم ترین ’آخری مورچے‘ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ جنگ 18 نومبر کی رات 3:30 بجے سے صبح 8:15 بجے تک لڑی گئی۔

انڈین نیوی کے سابق افسر کلپریت یادیو 2021 میں شائع ہونے والی کتاب ’بیٹل آف ریزانگ لا‘ میں لکھتے ہیں کہ یہ درہ چشول ہوائی پٹی کے قریب تھا اور اس خطے کو انڈیا سے ملانے والا اہم علاقہ سمجھا جاتا تھا۔

اس لڑائی میں 120 انڈین فوجیوں میں سے صرف پانچ زندہ بچ سکے تھے۔ میجر سنگھ بھی مرنے والوں میں شامل تھے۔ انھیں بعد از مرگ انڈیا کے سب سے بڑے فوجی اعزاز پرم ویر چکر سے نوازا گیا جبکہ 12 دیگر فوجیوں کو بہادری کے تمغے ملے۔

یادیو کے مطابق ابتداً جب زندہ بچ جانے والے نے اپنے افسران کو اس لڑائی کی تفصیلات بتائیں تو کسی نے اس پر یقین نہیں کیا۔

اُن کے بقول وہ ایسا وقت تھا، جب حوصلے پست تھے اور ہم یہ جنگ ہار چکے تھے۔ ایک بریگیڈیئر سمیت ہمارے ہزاروں فوجیوں کو چین نے جنگی قیدی بنا لیا تھا۔ اس لیے کسی کو یقین نہیں تھا کہ کوئی اتنی بہادری سے لڑا ہو گا۔

اکثر ماہرین کا یہ خیال ہے کہ ’ریزانگ لا‘ میں تعینات فوجی یا تو جنگ سے بھاگ گئے تھے یا چین نے اُنھیں جنگی قیدی بنا لیا تھا۔

تین ماہ گزرنے کے بعد جنگ میں شکست کا زخم کچھ بھرنے لگا تو ایک چرواہے نے تباہ شدہ بنکروں، خالی گولوں، استعمال شدہ بندوق کے کارتوسوں اور برف میں جمی لاشوں کو دیکھا، جس کے بعد ان 120 فوجیوں کی بہادری کی تفصیلات سامنے آئیں۔

میجر سنگھ 13 کماؤن بٹالین کی سی چارلی کمپنی کے سپاہیوں کی کمان کر رہے تھے جو ریزانگ لا میں تعینات تھی۔

یادیو کے بقول میجر سنگھ کو اُن کے اعلیٰ افسران نے مشورہ دیا تھا کہ اگر اُن کے پاس گولہ بارود ختم ہو جائے تو وہ حکمت عملی سے پیچھے ہٹنے پر غور کریں، لیکن جب میجر سنگھ نے اپنے آدمیوں سے اس پر بات کی، تو اُنھوں نے کہا کہ ’ہم آخری آدمی، آخری گولی تک لڑیں گے۔‘

جب چینی افواج نے پاس پر حملہ کیا تو سی کمپنی کم نفری کی وجہ سے جلد ہی شدید دباؤ میں آ گئی۔

Vice Chief of Army Staff Lt.General Deepak Kapoor (R) speaks with widows of fallen 'C' Company Indian soldiers after a ceremony at India Gate in New Delhi, 07 September 2007. The soldiers were honouring those of 'C' Company of the 13th Battalion Kumaon Regiment of the Indian Army who were killed at the Rezangla Post in the Chushul sector of Ladakh during the 1962 war with China. 'C' company were renamed 'Rezangla Company' in honour of the 114men out of a total of 124 who lost their lives. India Gate which stands in the centre of the Indian capital,was built in the memory of more than 90000 Indian soldiers who lost their lives during the Afghan Wars and World War I. The Vice Chief of Army Staff Lt.General Deppak Kapoor flagged off a yatra which will journey through the Indian state of Haryana from where many of the men hailed. AFP PHOTO/RAVEENDRAN (Photo credit should read RAVEENDRAN/AFP via Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2007 میں دہلی میں ایک تقریب میں ریزنگ لا میں ہلاک ہونے والے انڈین فوجیوں کی بیویوں کو مدعو کیا گیا

یہ یکطرفہ لڑائی تھی، جس میں 120 فوجیوں کا سامنا ہزاروں کی تعداد میں حملہ آور فوجیوں سے تھا۔ اگرچہ چین نے 1962 کی جنگ کی دستاویزات کو ظاہر نہیں کیا ہے، لیکن انڈین اندازوں کے مطابق کم از کم تین ہزار فوجیوں نے پاس پر حملہ کیا۔

یادیو کہتے ہیں کہ ’ان کے پاس جدید ہتھیار تھے اور اُنھوں نے موسم کی شدت سے مقابلے کے لیے گرم لباس پہن رکھے تھے۔ ان کے مقابلے میں انڈین فوجیوں کے پاس نیم خود کار رائفلیں تھیں اور ہر فوجی کے پاس 600 گولیوں کا محدود ذخیرہ تھا۔‘

میجر شیطان سنگھ پر اپنی 2014 کی کتاب میں، صحافی رچنا بشٹ نے لکھا ہے کہ سی کمپنی، میدانی علاقوں میں لڑنے کی ماہر تھی۔ اُنھوں نے کبھی برف نہیں دیکھی تھی اور ان کے پاس اس موسم سے ہم آہنگ ہونے کے لیے بہت کم وقت تھا۔‘

ایک زندہ بچ جانے والے صوبیدار رام چندر نے بتایا تھا کہ ’موسم خوفناک تھا۔۔ہمارے پاس موسم سرما کے مناسب کپڑے اور جوتے بھی نہیں تھے۔‘

اُن کے بقول ’جو جرسیاں، سوتی پتلون اور ہلکا کوٹ ہمیں دیا کیا گیا تھا وہ ان منجمد ہواؤں میں مشکل سے ہمیں گرم رکھ سکتے تھے۔ سپاہیوں کے سر میں شدید درد رہتا تھا۔

لڑائی کی رات برف گر رہی تھی اور درجہ حرارت منفی 24 تھا۔ صوبیدار رام چندر نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’میں نے اپنے افسر سے کہا کہ وہ دن آ گیا ہے، جس کا ہمیں انتظار تھا۔‘

بشٹ لکھتے ہیں کہ سی کمپنی نے پہلے حملے کو ناکام بنا دیا، لیکن چینی گولہ باری نے ان کے بنکر اور خیمے تباہ کر دیے تھے اور متعدد فوجی اس میں مارے گئے تھے۔ چینی افواج کی جانب سے ان پر کیا گیا تیسرا حملہ سب سے خونریز تھا، جس میں یہ پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

A bullet-riddled flask retrieved from the site of the battle at a museum in Rewari town in Haryana to honour the memory of Rezang La warriors

،تصویر کا ذریعہKulpreet Yadav

،تصویر کا کیپشنلڑائی کے مقام سے گولیوں سے چھلنی فلاسک برآمد ہوا

صوبیدار رام چندر نے میجر سنگھ کی بہادری کی جو رُوداد سنائی وہ دل دہلا دینے والی تھی۔

رام چندر کے بقول ’اُن کے پیٹ میں کئی گولیاں لگی تھیں اور خون بہہ رہا تھا، شدید درد کے باوجود وہ مجھے لڑائی جاری رکھنے کی ہدایت کر رہے تھے۔‘

’پھر اُنھوں نے مجھے کہا کہ جاؤ اور بٹالین کے ساتھ رہو۔ میں نے اُن سے کہا، میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا، اُنھوں نے کہا تمھیں جانا ہو گا، یہ میرا حکم ہے۔‘

فروری 1963 میں لاشوں اور بنکروں کی دریافت کے بعد ایک اعلی فوجی افسر ریڈ کراس اور میڈیا کو اس مقام پر لے کر گئے، جہاں یہ ’میدان جنگ‘ اپنی اُسی حالت برف سے ڈھکا ہوا تھا۔

A helmet retrieved from the site of the battle at a museum in Rewari town in Haryana to honour the memory of Rezang La warriors

،تصویر کا ذریعہKulpreet Yadav

،تصویر کا کیپشنلڑائی کی جگہ سے ہیلمٹ بھی برآمد ہوا

اپنی کتاب میں اس دریافت کے بارے میں بشٹ کہتی ہیں کہ یہاں ہرف طرف فوجیوں کی لاشیں موجود تھیں۔ کچھ کو کئی گولیاں لگی ہوئی تھیں اور کچھ شیل لگنے سے جان کی بازی ہار چکے تھے۔ کچھ فاصلے پر مزید فوجی اپنے بنکرز میں مردہ حالت میں پائے گئے اور کچھ یہاں بھاری بھرکم پتھروں کے نیچے دبے ہوئے تھے۔

اُن کے بقول نرسنگ اسسٹنٹ کے ہاتھ میں سرنج اور پٹی کا رول ہے۔ مارٹر چلانے والے سپاہی کے پاس بم ہے اور میجر سنگھ ایک چٹان کے ساتھ موجود ہیں اور ان کے بائیں بازو پر خون آلود پٹی بندھی ہے۔ ان کے پیٹ میں مشین گن کی گولیاں لگنے سے کئی زخم ہیں۔

ایک جنگ جسے انڈیا کی سبکی سمجھا جاتا ہے۔ میجر سنگھ اور اُن کے ساتھیوں کی بہادری کو آج بھی انڈیا میں یاد کیا جاتا ہے۔ سی کمپنی کا نام بعد میں ریزانگ لا کمپنی رکھ دیا گیا اور ریواڑی میں ایک یادگار تعمیر کی گئی، وہ قصبہ جہاں سے یہ فوجی آئے تھے۔

جنگ بندی کے بعد یہ درہ نو مینز لینڈ بن گیا اور متنازعہ علاقے کا حصہ ہے۔

یادو کا کہنا ہے کہ اگر سی کمپنی اتنی بہادری سے نہ لڑی ہوتی تو آج انڈیا کا نقشہ بہت مختلف نظر آتا۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ فوجی نہ ہوتے تو مجھے لگتا ہے کہ انڈیا لداخ کا آدھا حصہ کھو چکا ہوتا۔ چین ہوائی پٹی اور چشول پر بھی قبضہ کر لیتا۔

اُن کے بقول یہ لڑائی سنہ 1962 کی جنگ میں انڈیا کی واحد کامیابی تھی۔