ٹیسٹ ٹیوبز اور ٹشو رولز میں چھپا کر دو ہزار ’ملکہ‘ چیونٹیوں کو سمگل کرنے کی کوشش

تصویر

،تصویر کا ذریعہKWS

    • مصنف, وائکلف میویا
    • عہدہ, نیروبی
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

کینیا کے مرکزی ہوائی اڈے سے ایک چینی شہری کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر ملکہ باغ کی 2000 سے زیادہ چیونٹیوں کو ملک سے باہر سمگل کرنے کی کوشش کا الزام ہے۔

ژانگ کیکون کو دارالحکومت نیروبی کے جومو کینیاٹا بین الاقوامی ہوائی اڈے (جے کے آئی اے) پر سکیورٹی چیک کے دوران اس وقت روکا گیا جب حکام نے ان کے سامان سے زندہ چیونٹیوں کی ایک بڑی کھیپ دریافت کی۔

ژانگ کیکون نے تاحال اپنے اُوپر لگنے والے الزامات کا جواب نہیں دیا لیکن تفتیش کاروں نے عدالت میں بتایا کہ وہ چیونٹیوں کی سمگلنگ کے نیٹ ورک سے منسلک تھے، جو گذشتہ برس ختم ہو گیا تھا۔

چیونٹیوں کو حیاتیاتی تنوع کے بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے تحفظ حاصل ہے اور ان کی تجارت کو باضابطہ طور پر منظم کیا جاتا ہے۔

گذشتہ سال کینیا وائلڈ لائف سروس (KWS) نے یورپ اور ایشیا میں ان چیونٹیوں کی بڑھتی مانگ کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ سائنس کی زبان میں ان چیونٹیوں کو ’میسر سیفالوٹس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان چیونٹوں کو جمع کرنے والے انھیں پالتو حشرات کے طور پر رکھتے ہیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک سرکاری وکیل نے بدھ کو عدالت کو بتایا کہ ژانگ نے کچھ چیونٹیوں کو ٹیسٹ ٹیوبز میں پیک کیا تھا جبکہ دیگر کو ان کے سامان میں چھپائے ہوئے ٹشو پیپر رولز میں رکھا گیا تھا۔

پراسیکیوٹر ایلن ملاما نے عدالت کو بتایا کہ ’ان کے ذاتی سامان کے اندر سے 1948 چیونٹیوں کو خصوصی ٹیسٹ ٹیوب میں پیک کیا گیا تھا۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’سامان کے اندر ٹشو پیپر کے تین رولز میں چھپائی گئی مزید 300 زندہ چیونٹیاں برآمد کی گئی ہیں۔‘

پراسیکیوٹر نے عدالت میں استدعا کی ہے کہ ملزم کے فون اور لیپ ٹاپ کی فرانزک جانچ پڑتال کی اجازت دی جائے۔

وائلڈ لائف سروس کے ایک سینیئر اہلکار ڈنکن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس معاملے میں مزید گرفتاریوں کی توقع ہے کیونکہ تفتیش کار کینیا کے دیگر قصبوں میں اپنی تحقیقات کو وسیع کر رہے ہیں جہاں چیونٹیوں کو جمع کرنے کا شبہ ہے۔

گذشتہ برس مئی میں کینیا کی ایک عدالت نے اپنی نوعیت کے پہلے کیس میں ہزاروں زندہ ملکہ چیونٹیوں کو ملک سے باہر سمگل کرنے کی کوشش کرنے پر چار افراد کو ایک سال قید اور 7700 ڈالر جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

چار مشتبہ افراد میں دو بیلجیئم، ایک ویتنام اور ایک کینین شہری نے اپنی گرفتاری کے بعد الزامات کا اعتراف کیا تھا۔ وائلڈ لائف سروس نے اسے ایک مربوط انٹیلیجنس آپریشن کے طور پر بیان کیا تھا۔

بیلجیئم کے باشندوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ شوق کے طور پران چیونٹیوں کو اکٹھا کر رہے ہیں اور ان کے خیال میں یہ غیر قانونی نہیں۔

اب تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ژانگ اس سمگلنگ رنگ کے ماسٹر مائنڈ تھے لیکن بظاہر وہ پچھلے سال ایک مختلف پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے کینیا سے فرار ہو گئے تھے۔

بدھ کو عدالت نے استغاثہ کو انھیں پانچ دن کے لیے حراست میں رکھنے کی اجازت دی تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہSubagunam Kannan/BBC

کینیا کی وائلڈ لائف سروس نے گذشتہ برس عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا تھا۔

گذشتہ سال پکڑی جانے والی چیونٹیاں افریقی ہارویسٹر چیونٹیاں تھیں، جن کے بارے میں کینیا کی وائلڈ لائف سروس کا کہنا تھا کہ وہ ماحولیاتی لحاظ سے اہم ہیں۔

سروس کے مطابق ماحولیاتی نظام سے ان چیونٹیوں کو ہٹانے سے مٹی کی صحت اور حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یورپ اور ایشیا کی پالتو جانوروں کی منڈیوں میں ان چیونٹوں کی بہت مانگ ہے۔

زیادہ تر چیونٹیاں مادہ ہوتی ہیں لیکن سب تولیدی صلاحیت کی حامل نہیں ہوتیں۔ تولیدی صلاحیت کی حامل چیونٹیوں کو ’ملکہ‘ کہا جاتا ہے۔

نر چیونٹیاں تعداد میں کم ہوتی ہیں لیکن ان کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ ملکہ کی مدد سے بچے پیدا کریں۔