ایران جنگ کس کے لیے منافع بخش اور کس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے؟

- مصنف, مارینا دراس اور سٹیفن ہاکس
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
جنگ میں شاید ہی کوئی فاتح ہوتا ہے اور سب سے بڑی قیمت عام لوگ چکاتے ہیں۔
توانائی کی عالمی منڈیوں اور سپلائی چین میں مشکلات کے باعث دنیا بھر کے بعض ممالک کڑے معاشی نتائج کی توقع کر رہے ہیں لیکن اس افراتفری میں کچھ ملکوں کے لیے سٹریٹیجک مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
خطے اور دنیا بھر کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے ڈرامائی نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس جنگ نے خلیجی ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کیا اور مشرق وسطیٰ میں لاکھوں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا۔
میدان جنگ سے دور صارفین اور کاروباروں کے لیے اخراجات بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ تیل کی قیمتوں میں تیزی اور خلیج میں سمندری ٹریفک کو درپیش مشکلات ہیں، خاص کر آبنائے ہرمز کے گرد۔
تو اس جنگ میں کن ممالک کا سب سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے اور کن ممالک کے لیے اس میں منافع بخش مواقع ہیں۔
روس

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
روس کے لیے ایران ایک اہم اتحادی اور فوجی شراکت دار ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت ماسکو کے لیے ایک سفارتی ناکامی ہے۔ اس سے قبل شام میں بشار الاسد کی حکومت گرائی گئی تھی اور وینزویلا میں امریکی فورسز نے نکولاس مادورو کو پکڑ کر نیو یارک منتقل کیا تھا۔
تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران روس کو یوکرین میں اپنی جنگ کے حوالے سے برتری مل سکتی ہے کیونکہ اب امریکی فوجی اثاثوں کا ماسکو سے کچھ حد تک دھیان ہٹ گیا ہے۔
پیرس انسٹیٹیوٹ آف پولیٹیکل سٹڈیز کے سینٹر فار انٹرنیشنل سٹڈیز سے منسلک اسسٹنٹ پروفیسر نیکول گریفسکی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پیٹریاٹ میزائل اور انٹرسیپٹر کے ذخائر میں کمی روس کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اس طرح یوکرین کے پاس ہتھیاروں کی مارکیٹ میں آپشنز محدود ہو جاتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران کو اب کہیں زیادہ شاہد ڈرونز درکار ہیں تاہم اس سے یوکرین جنگ میں روسی صلاحیتوں پر زیادہ اثر پڑنے کا امکان نہیں۔
امریکہ میں سینٹر فار نان پرولیفریشن سٹڈیز کی یوریشیا ڈائریکٹر ہانا نوٹ کا کہنا ہے کہ ’یوکرین جنگ کی شروعات کے مخصوص مرحلے کے دوران روس دفاعی تعاون کے لیے ایران پر انحصار کر رہا تھا۔ اس وقت ایران نے شاہد ڈرونز فراہم کیے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان ڈرونز کی تیاری کے لیے ٹیکنالوجی اور لائسنس بھی فراہم کیے گئے ہیں۔‘
’اب ہم یوکرین جنگ کے اس مرحلے پر ہیں کہ روس کو ایران کی ضرورت نہیں۔ روس اپنے طور پر شاہد ڈرونز تیار کر سکتا ہے۔‘

دریں اثنا ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کیا ہے جس کی وجہ سے تیل اور گیس کے جہاز رُکے ہوئے ہیں اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اس سے روس کو مالیاتی ریلیف مل سکتا ہے کیونکہ یوکرین جنگ نے اس کی معیشت پر دباؤ ڈالا۔
روس کا وفاقی بجٹ 59 ڈالر فی بیرل کے حساب سے تیل کی برآمد پر منحصر ہے لیکن اب خام تیل کی قیمت کچھ دیر کے لیے قریب 120 ڈالر فی بیرل تک بڑھی ہے۔
خلیج میں تیل کے بڑے برآمد کنندہ ممالک اپنی پیداوار کم کر رہے ہیں تو ایسے میں روس چین اور انڈیا جیسی اہم منڈیوں کو تیل کی برآمدات بڑھا سکتا ہے۔
عالمی توانائی اور کموڈٹی مارکیٹ انٹیلیجنس کی کمپنی آرگس کے چیف اکنامسٹ ڈیوڈ فیف کا کہنا ہے کہ ’انڈیا پر پہلے روسی تیل کی خریداری کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا لیکن اب اسے امریکہ نے ایک طرح سے روسی تیل دوبارہ خریدنے کی اجازت دی، کم از کم اگلے ایک ماہ کے لیے۔‘
’کچھ مسائل کے حل کے لیے روسی تیل پر عائد کچھ پابندیوں میں نرمی کے لیے بھی بات چیت چل رہی ہے۔‘
چین
ایران کے خلاف جنگ کے چین پر ڈرامائی اثرات مرتب نہیں ہوئے لیکن اسے پھر بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سینٹر آن گلوبل انرجی پالیسی کے مطابق چینی خام تیل کی درآمدات میں ایران کا حصہ صرف تقریباً 12 فیصد ہے۔
مزید برآں، چین نے کئی ماہ کے لیے کافی مقدار میں تیل ذخیرہ کر رکھا ہے اور اس کے بعد وہ آسانی سے روس سے مدد حاصل کر سکتا ہے۔
لیکن فیف کے مطابق چین کا ’برآمدات پر مبنی صنعتی شعبہ‘ متاثر ہو گا۔
چین کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 20 فیصد برآمدات پر مشتمل ہے یعنی وہ تمام اشیا اور خدمات جو چین پیدا کرتا ہے اور یہ معیشت کے لیے ایک اہم محرک بن چکی ہیں۔
آبنائے ہرمز میں اور اس کے اردگرد سمندری ٹریفک میں خلل چین کے لیے اتنا بڑا مسئلہ نہیں لیکن بحرِ اوقیانوس تک پہنچنا مغرب کی طرف جانے والی چینی مصنوعات کے لیے نہایت اہم ہے۔
جزیرہ نما عرب کے دوسری طرف آبنائے باب المندب، جو ایشیا، یورپ اور افریقہ کو جوڑتی ہے، یہ بھی یمن کے ایران نواز حوثی عسکریت پسندوں کے حملوں کا شکار رہی ہے۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
فیف نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’یہ بہت ممکن ہے کہ بحیرۂ احمر کی ٹریفک دوبارہ بری طرح متاثر ہو کیونکہ ایشیا سے آنے والے طویل فاصلے کے کارگو جہاز جو بحرِ اوقیانوس میں داخل ہونا چاہتے ہیں، انھیں جنوبی افریقہ اور کیپ آف گُڈ ہوپ کے گرد موڑنا پڑے گا۔‘
چیتھم ہاؤس (لندن میں قائم تھنک ٹینک) میں مشرقِ وسطیٰ کے ماہر نیل کویلیم کہتے ہیں ’اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ سفر میں 10 سے 14 دن کا اضافہ کرتا ہے اور سامان پر منحصر ہے، ایک عام جہاز کے لیے اس کی لاگت تقریباً 20 لاکھ ڈالر اضافی ہوتی ہے۔‘
برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے فلپ شیٹلرجونز نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ چین کو سفارتی مواقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ اپنی شبیہ کو مستحکم اور قابلِ فہم عالمی رہنما کے طور پر پیش کرتے رہیں گے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برعکس ہے۔
اور یہ تنازع بیجنگ کے لیے ایک موقع بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ’اشارے تلاش کرے‘ کہ ٹرمپ دیگر حساس مسائل پر کس طرح ردِعمل دے سکتے ہیں، بشمول تائیوان، جو ایک خودمختار جزیرہ ہے اور جس پر چین دعویٰ کرتا ہے۔
ابھرتی معیشتیں
جنوب مشرقی ایشیائی ممالک، جو مشرقِ وسطیٰ کے تیل اور گیس پر شدید انحصار کرتے ہیں، جنگ سے سخت متاثر ہونے والے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے پہلے ہی سخت کفایت شعاری کے اقدامات کیے ہیں تاکہ معاشی اثرات کو جلد از جلد کم کیا جا سکے۔
ویتنام میں جنگ کے آغاز سے اب تک ڈیزل کی قیمت 60 فیصد بڑھ چکی اور حکومت نے عوام سے کہا ہے کہ جہاں ممکن ہو گھر سے کام کریں۔
فلپائن، جو اپنی تقریباً 95 فیصد خام تیل کی درآمد مشرقِ وسطیٰ سے کرتا ہے، میں سرکاری ملازمین اب ہفتے میں چار دن کام کر رہے ہیں، سوائے اُن کے جو ہنگامی خدمات میں ہیں۔
اسی طرح کی پابندیاں پاکستان میں بھی نافذ کی گئی ہیں، بینکوں کے علاوہ۔ جہاں ممکن ہو، گھر سے کام کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور یونیورسٹی کی کلاسیں آن لائن منتقل کر دی گئی ہیں۔
ایک ٹی وی خطاب میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک کے ایندھن کے ذخائر کو بچانا اور احتیاط سے تقسیم کرنا نہایت ضروری ہے۔
بنگلہ دیش میں حکومت گھبراہٹ میں خریداری کے مسئلے سے نمٹ رہی ہے۔ پیٹرول سٹیشنوں پر لمبی قطاریں لگنے کے بعد راشننگ نافذ کر دی گئی، کاروں کے لیے روزانہ 10 لیٹر اور موٹر سائیکلوں کے لیے صرف 2 لیٹر۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جنگ کے نتائج صرف توانائی کی کمی تک محدود نہیں رہیں گے۔
دنیا بھر کے کسان کھاد پر انحصار کرتے ہیں تاکہ زمین کو غذائی اجزا فراہم کیے جا سکیں، فصلوں کو بڑھنے میں مدد ملے اور انھیں موسمی اثرات کے خلاف مضبوط بنایا جا سکے۔ کسی بھی رکاوٹ سے عالمی غذائی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
کویلیم نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’دنیا کی 30 فیصد یوریا، جو کھاد بنانے کے لیے بنیادی خام مال ہے، آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ یوریا پیٹرو کیمیکلز سے آتی ہے، جو خام تیل کو ریفائن کرنے کے عمل سے حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر آپ عالمی منڈیوں سے 30 فیصد یوریا نکال دیں، تو اس کا عالمی غذائی سلامتی پر بڑا اثر پڑے گا۔‘
اپنی تنصیبات پر حملوں کے بعد، قطر انرجی جو دنیا کے سب سے بڑے گیس برآمد کنندگان میں سے ایک ہے اور کھاد کے لیے یوریا تیار کرتی ہے، کو فورس ماژور کا اعلان کرنا پڑا، جو ایک ہنگامی اقدام ہے جس کے تحت کمپنیاں وقتی طور پر پیداوار اور ترسیل روک سکتی ہیں۔
کویلیم کے مطابق ’آپ چھ، نو ماہ کے اندر غذائی سلامتی اور افراطِ زر کے حوالے سے اثرات دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ابھی ظاہر نہ ہو لیکن جیسے جیسے فصلیں متاثر ہوں گی یا کسانوں کو کھاد حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی، ہمیں طویل مدتی اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔‘













