’بہن کی طلاق کا بدلہ‘: بیرون ملک سے سابق بہنوئی کو مارنے کی مبینہ منصوبہ سازی کرنے والا ملزم ’پولیس مقابلے میں ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
پنجاب کے علاقے رحیم یار خان میں جمعرات کے روز ایک مبینہ پولیس مقابلے میں سپین سے واپس پاکستان آنے والے ملزم کی ہلاکت نے ایک بار پھر پولیس مقابلوں پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
گذشتہ روز ہونے والے اس مبینہ پولیس مقابلے میں سائیکلیں بنانے والی کمپنی ’سہراب سائیکل‘ کے مالک کے بیٹے معاذ کے قتل کا مبینہ منصوبہ ساز نعمان قیصر ہلاک ہوا۔
پولیس کے مطابق ملزم ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کو روکنے کی کوشش کی گئی لیکن ملزم نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔ پولیس اہلکاروں کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ملزم زخمی ہوا اور پھر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔
تاہم یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں کہ کوئی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا ہو بلکہ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
ابھی دو ہفتے قبل ہی پنجاب کے شہر سرگودھا کی ایک با اثر شخصیت فیصل بھٹی بھی مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔ فیصل بھٹی پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنے مخالفین سے زمینیں ہتھانے کے لیے 13 افراد کو قتل کروایا تھا۔
پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حکام کا کہنا تھا کہ قتل کے ان واقعات میں فیصل بھٹی کہیں پر بھی موقع پر موجود نہیں تھے تاہم انٹرپول سے فیصل بھٹی کے ریڈ وارنٹ جاری کراوئے گئے تھے۔
سی سی ڈی نے انھیں اسلام آباد ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ تھائی لینڈ سے پاکستان واپس آ رہے تھے۔
پاکستان واپس آتے ہوئے فیصل بھٹی کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے پاکستان آ رہے ہیں اور ان کے بقول ان کی مخالفین سے صلح ہو گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’نعمان قیصر کی ہلاکت ماورائے عدالت قتل ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ قتل کے مقدمے میں ملزم نعمان قیصر کے ریڈ وارنٹ جاری کروائے گئے تھے جس کے بعد ملزم کے پاس ملک واپس آنے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا۔
یاد رہے کہ مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والا نعمان قیصر چند روز قبل ہی سپین سے واپس پاکستان آیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نعمان قیصر کے خلاف تین مقدمات درج تھے جن میں وہ ضمانت پر تھے۔
نعمان قیصر کے مقدمے کی پیروی کرنے والی لیگل ٹیم میں شامل نوید اختر کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل چند روز قبل سپین سے پاکستان آئے تھے اور انھوں نے متعقلہ عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کی تھی جس کے بعد وہ ان مقدمات میں شامل تفتیش ہوئے تھے۔
نوید اختر کا کہنا تھا کہ نعمان قیصر کی ہلاکت کا واقعہ ماورائے عدالت قتل ہے اور وہ ان کی فیملی سے مشاورت کے بعد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔
نوید اختر کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل کے خلاف جو تین مقدمات ہیں ان میں ملوث ہونے سے متعلق تفتیشی ٹیم کے پاس کوئی ٹھوس شواہد نہیں تھے اور ان کے موکل کا نام ذاتی رنجش کی بنیاد پر ان مقدمات میں درج کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ایک مقدمے میں نعمان قیصر پر اغوا کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں جبکہ وہ تو پاکستان میں موجود ہی نہیں تھے۔
ملزم نعمان قیصر کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کو ماورائے عدالت قتل قرار دینے پر سی سی ڈی ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم پنجاب اور سندھ کے درمیان سرحدی علاقے میں فرار ہوتے ہوئے کراس فائرنگ کے نتیجے میں مارا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ملزم نعمان اور ان کے ساتھیوں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی اور کراس فائرنگ میں نعمان قیصر ہلاک ہوا۔
ترجمان نے کہا کہ نعمان قیصر کی ہلاکت سے متعلق اگر کوئی درخواست عدالت میں دائر کی جائے گی تو اس کا تفصیلی جواب جمع کروایا جائے۔
بی بی سی نے اس حوالے سے ملزم نعمان قیصر کے اہلخانہ سے بات کرنے کی بھی کوشش کی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو پایا۔
لیکن یہ سارا معاملہ شروع کیسے ہوا اور پولیس اس مقدمے میں شامل ملزمان تک کیسے پہنچی؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں کچھ سال پیچھے جانا پڑے گا۔
’بہن کی طلاق کا بدلہ لینے کے لیے قتل‘
لاہور کے تھانہ نصیر آباد میں سنہ 2023 میں سہراب سائیکل کے مالک حاجی امجد فاروق کے بیٹے معاذ کے قتل کے مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل سب انسپکٹر محمد اشرف کا کہنا ہے کہ معاذ کی شادی 2021 میں نعمان قیصر کی بہن سے ہوئی تھی تاہم یہ شادی زیادہ دیر تک نہ چل سکی اور 2023 میں ختم ہو گئی۔
انھوں نے کہا کہ شادی کے اس انجام کا نعمان قیصر کو شدید رنج تھا اور انھوں نے مطالبہ بھی کیا کہ ان کی بہن اور بچوں کو جائیداد میں حصہ دیا جائے۔
سب انسپکٹر محمد اشرف نے کہا کہ بہن کی طلاق کے بعد منڈی بہاؤالدین کے رہائشی ملزم نعمان قیصر نے اس معاملے کو اپنی غیرت کا مسئلہ بنا لیا اور وہ کسی نہ کسی طریقے سے معاذ سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔
سی سی ڈی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم نعمان قیصر نے معاذ سے اپنی بہن کو طلاق دینے کا بدلہ لینے کے لیے شوٹرز کو ہائر کیا جنھوں نے پہلے مقتول کی ریکی کی اور پھر گولیاں مار کر معاذ کو قتل کر دیا۔
سی سی ڈی اہلکار کا کہنا تھا کہ جس وقت معاذ کو اجرتی قاتلوں نے ٹارگٹ کیا اس وقت ملزم نعمان قیصر اپنی فیملی کے ساتھ سپین میں موجود تھا اور پولیس اہلکار کے بقول ملزم بیرون ملک بیٹھ کر قتل کے اس منصوبے کی نگرانی کر رہا تھا۔
سی سی ڈی اہلکار کے مطابق معاذ کو قتل کرنے کے بعد شوٹرز نے بھی بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کی لیکن پنجاب پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔
تھانہ نصیر آباد پولیس کے اہلکار کے بقول جب ان دونوں شوٹرز کو گرفتار کیا گیا تو دوران تفتیش ان ملزمان نے اعتراف کیا کہ ان کی معاذ کے ساتھ کوئی ذاتی رنجش نہیں تھی بلکہ انھوں نے یہ کام پیسوں کی غرض سے کیا تھا۔
پولیس اہلکار کے بقول معاذ کو قتل کرنے کے عوض سے انھوں نے نعمان قیصر سے دس لاکھ روپے لیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’انٹرپول کے ذریعے نعمان قیصر کے ریڈ وارنٹ جاری کروائے گئے‘
سب انسپکٹر محمد اشرف کے مطابق ٹرائل کورٹ میں پراسیکوشن نے اس مقدمے میں ناقابل تردید شواہد پیش کیے جس پر عدالت نے دونوں شوٹرز کو عمر قید کی سزا سنائی۔
انھوں نے کہا کہ مجرمان نے اس سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل بھی دائر کر رکھی ہے جو ابھی سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔
سی سی ڈی اہلکار کے مطابق معاذ کے قتل کے مقدمے میں ان مجرمان نے جو انکشافات کیے تھے ان کی روشنی میں مرکزی ملزم نعمان قیصر کی گرفتاری کے لیے پہلے ایف آئی اے کو لکھا گیا جنھوں نے انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ جاری کروائے۔
سی سی ڈی اہلکار کے مطابق ملزم کے ریڈ وارنٹ جاری ہونے کے بعد سپین کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے ملزم اور اس کی رشتہ دار خواتین کو اس بات کا پابند کروایا کہ وہ ہر ہفتے متعقلہ پولیس سٹیشن میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔
انھوں نے کہا کہ ملزم نعمان قیصر کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے پاکستان لانے کی کارروائی پر عملدرآمد شروع ہو چکا تھا کہ اسی دوران نعمان قیصر پاکستان واپس آ گئے اور متعلقہ عدالتوں سے ضمانت قبل از گرفتاری کروا کر شامل تفتیش ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ نعمان قیصر کے خلاف تین مقدمات درج تھے جن میں سے دو تھانوں میں جبکہ ایک مقدمہ سی سی ڈی میں درج تھا۔
سی سی ڈی کے ایک اعلی اہلکار کے مطابق ملزم نے پاکستان آ کر پنجاب پولیس کو درخواست دی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے لہذا انھیں پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
سی سی ڈی کے اعلی اہلکار کے مطابق پنجاب پولیس میں حاضر سروس گریڈ 19 کے افسر کی اجازت سے ملزم نعمان قیصر کو پولیس کا پروٹوکول دیا گیا اور پولیس کی گاڑی کے ساتھ ساتھ دو گن مین ملزم کی حفاظت کے لیے ہر وقت اس کے ساتھ ہوتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ملزم کے پروٹوکول اور سکیورٹی دیے جانے پر مقتول معاذ کے ورثا نے شدید احتجاج کیا جس کے بعد نعمان قیصر سے پولیس کی گاڑی تو واپس لے لی گئی تاہم دو گن مین بدستور ان کے ساتھ موجود رہے۔
’پراسیکوشن کی کمزوری کی وجہ سے ملزمان کو مبینہ پولیس مقابلوں میں مارا جا رہا ہے‘
پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی جانب سے گذشتہ ماہ جاری کی گئی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے مبینہ مقابلوں کی ایک دانستہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو بہت سے معاملات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں پر منتج ہوتی ہے جو صوبے میں قانون کی حکمرانی اور آئینی تحفظات کو بنیادی طور پر کمزور کرتی ہے۔
ایچ آر سی پی نے اپنی رپورٹ میں اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہلاکتوں کا یہ شدید عدم توازن یعنی اوسطاً روزانہ دو سے زیادہ جان لیوا مقابلے اور مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے انداز میں یکسانیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انفرادی بے ضابطگی کے واقعات نہیں بلکہ ایک ادارتی طرزِ عمل ہے۔
اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ نے کہا تھا کہ ایچ آر سی پی کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں اور ان کا ادارہ ایسا کوئی کام نہیں کرتا جو کہ ملکی آئین سے متصادم ہو۔
جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل احمد سیف کا کہنا ہے کہ جب کوئی ملزم چاہے وہ اشتہاری ہو اگر وہ خود کو عدالت کے سامنے پیش کر دیتا ہے تو پھر اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پراسیکوشن کا کام ہے کہ وہ ملزم کو مجرم گردانتے کے لیے ٹھوس شواہد پیش کریں۔
انھوں نے کہا کہ پراسیکوشن کی کمزوری کی وجہ سے ملزمان کو مبینہ پولیس مقابلوں میں مارا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے عدالتوں سے بھی ماورائے عدالت قتل کے واقعات کا نوٹس نہیں لیا جا رہا جس کی وجہ سے پولیس بے دھڑک ہو کر ماورائے آئین کام کر رہی ہے۔













