چین انڈیا کے ساتھ سرحدی تنازع کو کیوں جاری رکھنا چاہتا ہے؟

india

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, نامہ نگار انڈیا

یہ لڑائی لگ بھگ 60 برس قبل خزاں کی ایک روشن صبح انڈیا اور چین کی فوجوں کے درمیان شروع ہوئی تھی۔

جھڑپ کا آغاز 23 اکتوبر 1962 کو انڈیا کے چین اور بھوٹان کی سرحد پر واقع شمال مشرقی علاقے، جسے شمال مشرقی فرنٹیئر ایجنسی (این ای ایف اے) بھی کہا جاتا ہے، میں اس وقت ہوا جب چینی فوجی علاقے میں داخل ہوئے اور توپ خانوں سے بھی شدید فائرنگ کی جاتی رہی۔

آج یہ علاقہ انڈیا کی ریاست اروناچل پردیش کہلاتا ہے جہاں 10 لاکھ سے زیادہ افراد مقیم ہیں اور چین کا دعویٰ ہے کہ یہ اس دراصل اس کی ملکیت ہے۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان ایک سال سے زیادہ عرصے کے بعد تازہ ترین جھڑپ ہوئی ہے۔

انڈین فوج کے ایک اہلکار نے سویڈش صحافی اور مصنف برٹل لنٹر سے بات کرتے ہوئے اس وقت بتایا تھا کہ ’دھماکوں سے آسمان روشن ہو گیا تھا اور زور دار آوازوں سے یہ پہاڑی علاقہ گونج اٹھا۔‘

چینی فوجیوں نے ایک انڈین چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 17 انڈین فوجی ہلاک ہوئے جبکہ 13 کو یرغمال بنا لیا گیا۔

چینی فوج کو گھبراہٹ کا شکار اور بہت کم اسلحے سے لیس انڈین فوج سے بہت کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور اگلے روز انھوں نے قریبی وادی میں توانگ نامی گاؤں پر قبضہ کر لیا۔

پھر چینی فوج نے جنوب کی طرف حرکت کرنا شروع کی۔ نومبر کے وسط تک وہ بومڈیلا قصبے تک پہنچ چکے تھے جو آسام سے صرف 250 کلومیٹر دور ہے۔

بلآخر 21 نومبر کو چین نے سیزفائر کا اعلان کیا اور چینی فوج کا انخلا شروع ہوا اور یہ دونوں ممالک کی ڈی فیکٹو سرحد جسے ’لائن آف ایکچوئل کنٹرول‘ کہا جاتا ہے کے دوسری جانب جا بیٹھی۔

army

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

لنٹر نے بتایا کہ ’جنگ ختم ہو چکی تھی۔ چند ہی ہفتوں میں پی ایل اے فوجی واپس اپنی پوزیشنز پر آ گئے تھے۔‘

انڈیا کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اس لڑائی میں 1383 انڈین فوجی ہلاک اور 1700 لاپتہ یا ’مسنگ ان ایکشن‘ ہوئے۔

چین کے ریکارڈ کے مطابق انڈین ہلاکتوں کی تعداد 4900 کے قریب تھی جبکہ 3968 کو قید کیا گیا تھا۔

انڈیا کے دفاعی تجزیہ کار اور حال ہی می شائع ہونے والی کتاب ’انڈرسٹینڈنگ دی انڈیا چائنا بارڈر‘ کے مصنف منوج جوشی کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہے چین نے اپنی فوج کے انخلا کا فیصلہ کیوں کیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کیا یہ اس لیے تھا کہ ان کی سپلائی لائنز طویل تھیں؟ یا انھیں امریکہ کی مداخلت کا ڈر تھا؟ یا یہ کہ وہ کبھی بھی اپنی مشرقی سرحد سے متعلق دعوے کے حوالے سے سنجیدہ نہیں تھے۔‘

انڈیا اور چین کے درمیان متنازع سرحد دراصل تین علاقوں میں تقسیم کی جا سکتی ہے۔ لداخ کے گرد مغربی سیکٹر، وسطی سیکٹر جس میں انڈیا کے ہیماچل پردیش اور اتھارکنڈ کی تبت سے جڑی سرحد شامل ہے اور مشرقی سیکٹر جس میں اروناچل پردیش کی سرحد شامل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ’تصوراتی لکیر‘ کی طرح ہے۔ انڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ 3488 کلومیٹر لمبی سرحد ہے، چین کے مطابق یہ دو ہزار کلومیٹر طویل ہے۔

انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اکسائی چن اس کا علاقہ ہے۔ یہ سوئٹزرلینڈ کے رقبے جتنا علاقہ ہے جو چین کے قبضے میں ہے اور یہ سرحد کے مشرقی حصے پر واقع ہے۔ چین کا دعویٰ ہے اروناچل پردیش پر اس کا حق ہے۔

china

،تصویر کا ذریعہAFP

انڈیا کے مطابق مشرقی سرحد 1125 کلومیٹر طویل ہے اور اسے چین کی جانب سے تسلیم نہیں کیا جاتا اور اسے اروناچل پردیش کی سرحد پر میک میہن لائن کہا جاتا ہے۔

یہ سنہ 1914 میں ہندوستان کے سیکریٹری خارجہ ہینری میکمیہن کے نام پر ہے۔ ایشیا کے دو سب سے بڑے ممالک اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسائیوں نے ان طویل ترین سرحدی تنازعات کے دوران جھڑپوں سے بچنے کے لیے معاہدے کیے ہیں۔

دونوں اطراف زیادہ تر تو امن ہی رہتا ہے لیکن دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر سرحد پار کرنے یا جھڑپوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

تاہم چین تاحال اروناچل پردیش پر اپنے دعوے سے پیچھے نہیں ہٹا اور آج بھی اسے ’جنوبی تبت‘ قرار دیتا ہے۔

گذشتہ برس چین کی سول امور کی وزارت نے متنازع علاقے میں متعدد جگہوں کے نام تبدیل کیے۔ چین کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ چین کے ان دعوؤں کے پیچھے ’تاریخی اور انتظامی بنیاد موجود ہے۔‘

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ کا خیال ہے کہ اروناچل پردیش سرحدی تنازع سے متعلق حتمی معاہدے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جس کے تحت انڈیا چین کی اکسائی چن میں خود مختاری کو تسلیم کرے اور چین اروناچل پردیش کو انڈیا کے علاقے کے طور پر تسلیم کر لے۔

تاہم برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کے ڈاکٹر سیرنگ ٹوپگیال جیسے ماہرین کے مطابق اب ایسا نہیں ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شاید چین کو تبت پر کنٹرول سے ملنے والے اعتماد اور اروناچل پردیش اور اکسائی چن سے متعلق ممکنہ معاہدے کے درمیان کوئی تعلق ہو۔ لیکن اب میرے خیال میں چین سرحدی تنازع کو مختلف انداز میں دیکھتا ہے۔

’یہ صرف اسے مقامی طور پر علاقہ ملنے یا اسے گنوانے کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اپنی قومی اور خارجہ پالیسی سے متعلق مفادات کو بھی ذہن میں رکھتے ہوئے دیکھتا ہے۔‘

میپ

ماضی میں اروناچل پردیش پر دہلی سے حکمرانی کی جاتی تھی، تاہم سنہ 1987 میں اسے ریاست کا درجہ دیا گیا جس پر چین نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد سے انڈیا نے یہاں دفاعی انفراسٹرکچر بھی بڑھایا ہے اور سرحد کے قریب نئے گاؤں بھی تعمیر کیے ہیں۔

بیجنگ کی جانب سے انڈین رہنماؤں کے اروناچل پردیش کے دوروں پر برہمی کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

چین نے اس وقت اس حوالے سے باضابطہ طور ہر احتجاج کیا تھا جب سابق وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے سنہ 2008 میں ریاست کا دورہ کرتے ہوئے متعدد سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔ بیجنگ کی جانب سے اس سلسلے میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے دیے گئے قرضوں کی بھی مخالفت کی گئی ہے اور ایسے انڈین فوجی اہلکاروں اور افسران کو ویزا دینے سے انکار کیا ہے جو اس علاقے میں تعینات رہے ہیں۔

سنہ 2014 میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یہاں دو ہزار کلومیٹر کے نئے روڈ منصوبوں کا اعلان کیا اور اروناچل پردیش کے دور دراز علاقوں میں ترقیاتی کام کرنے کا اعادہ کیا۔

اس دوران جریدے ’بلومبرگ‘ سے بات کرتے ہوئے اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر کیرن ریجو نے کہا تھا کہ ’ہم کچھ ایسا نہیں کر رہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوں۔ یہ چین کو چیلنج یا اس کے ساتھ مقابلہ کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ ہمارے اپنے علاقے کی سالمیت کا تقاضہ ہے۔‘

ڈاکٹر سیرنگ کے مطابق ’چین کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو حکمت عملی کے اعتبار سے شاید سمجھ آئے کہ چین انڈیا کے ساتھ سرحدی تنازع کو کیوں جاری رکھنا چاہتا ہے اور اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ کیوں برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کی وجہ انڈیا کے رویے اور اس کی حکمتِ عملی کو قابو میں رکھنا ہے جیسے اس کے امریکہ کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ایسا کیوں ہے کہ اپنے تمام ہمسائیوں کے ساتھ ہونے والے سرحدی تنازعات میں سے صرف انڈیا اور چین کے درمیان تنازع ہی ابھی تک جاری ہے۔‘

یانگٹسے، جہاں تازہ ترین جھڑپ ہوئی ہے، میں آبادی بہت کم ہے اور یہ چین کی جانب ایک گاؤں سے پانچ کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہ ان درجنوں علاقوں میں سے ہے جن پر دونوں اطراف سے ملکیت کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔

مسٹر جوشی کہتے ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ مشرقی سرحد پر گرما گرمی بڑھ رہی ہے۔ اور یہ کوئی حیران کن بات نہیں۔‘