انڈین فوجیوں کے لیے ’پٹائی‘ کا لفظ استعمال کرنے پر انڈین وزیر خارجہ برہم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ انڈین فوجیوں کے لیے ’پٹائی‘ جیسے لفظ کا استعمال ہرگز مناسب نہیں ہے۔
پیر کے روز انڈین پارلیمان سے اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا ’ہمارے جوان 13 ہزار فٹ کی بلندی پر کھڑے ہو کر ہماری سرحد کی حفاظت کر رہے ہیں۔ وہ ’پٹائی‘ جیسے لفظ کے مستحق نہیں ہیں۔ ہمارے جوانوں کے لیے ’پٹائی‘ لفظ ہرگز استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘
وہ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کی ایک حالیہ پریس کانفرنس پر اپنا ردعمل دے رہے تھے۔
اس سے قبل راہل گاندھی نے کہا کہ ’جنھوں (چین) نے دو ہزار سکوائر کلومیٹر ہندوستان کا قبضہ کر لیا۔ جنھوں نے ہندوستان کے 20 جوانوں کو شہید کیا۔ جو ہمارے جوانوں کو اروناچل پردیش میں پیٹ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کی پریس اس کے بارے میں مجھ سے ایک سوال نہیں پوچھے گی۔‘
راہل گاندھی کے اس بیان کے بعد انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس پس منظر میں گفتگو کرتے ہوئے انڈیا کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم چین کے معاملے پر اتنے ہی لاتعلق ہیں جتنا یہ کہہ رہے ہیں تو یہ بتائیے کہ سرحد پر انڈین جوانوں کو کس نے بھیجا۔ اگر ہم چین کے معاملے پر اتنے ہی لاتعلق ہیں تو آج ہم کشیدگی ختم کرنے اور ڈس انگیج کرنے کی ضرورت پر کیوں زور دے رہے ہیں، ہم عوامی سطح پر یہ کیوں بتا رہے ہیں آج چین سے ہمارے تعلقات نارمل نہیں ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں سیاسی اختلافات اور سیاسی تنقید سے کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر میرے خیال میں ہمیں بلواسطہ یا بلاواسطہ اپنے جوانوں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان اروناچل پردیش میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر جھڑپ ہوئی تھی جس میں دونوں ممالک کے کچھ فوجی زخمی ہوئے تھے تاہم کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی فوج کے ترجمان نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ جھڑپ 9 دسمبر 2022 کو ہوئی تھی۔
انڈیا کی فوج نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 9 دسمبر کو چین کی لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے دستے اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں داخل ہوئے جس کے بعد انڈیا نے جوابی کارروائی کی۔
تاہم اس جھڑپ کے بعد چین نے کہا تھا کہ نو دسمبر کو اس کے سرحدی فوجی دستے انڈیا کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر معمول کے گشت پر تھے جب انھیں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے انڈین فوجیوں کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں ایک جھڑپ ہوئی۔ چین نے انڈیا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے فوجیوں کو ڈسپلن اور قابو میں رکھے تاکہ سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انڈیا کی فوج کے مطابق اس جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے فوجی فوری طور پر موقع سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔
بھارت کے ایک بڑے انگریزی اخبار دی ہندو نے بھارتی دفاعی حکام کے حوالے سے لکھا کہ اروناچل کے علاقے توانگ میں ہونے والی جھڑپ میں بھارتی فوجیوں سے زیادہ چینی فوجی زخمی ہوئے تھے۔
لداخ کی وادی گلوان میں 15 جون 2020 کو دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان پرتشدد تصادم کے بعد یہ اس طرح کا پہلا معاملہ تھا۔ اس واقعے میں 20 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
توانگ میں چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کی خبروں پر کانگریس نے بی جے پی کی حکومت سے کہا تھا کہ وہ چین کے حوالے سے اپنا متزلزل رویہ چھوڑ دے۔
کانگریس نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ کی خبر ہے، وقت آ گیا ہے کہ حکومت چین کو سخت لہجے میں سمجھائے کہ اس کی حرکت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
مسلمانوں کی جماعت اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے حکومت سے سوال کیا تھا کہ جب پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس چل رہا ہے تو حکومت نے اتنے دنوں تک تصادم کی معلومات کیوں چھپائیں۔
انھوں نے لکھا تھا کہ ’اروناچل پردیش سے جو خبریں آ رہی ہیں وہ تشویشناک ہیں۔ انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان بڑی جھڑپ ہوئی اور حکومت نے کئی دنوں تک ملک کو اندھیرے میں رکھا، جب سرمائی اجلاس چل رہا ہے، پارلیمنٹ کیوں؟ اس کے بارے میں نہیں بتایا؟‘








