انڈیا، چین سرحدی کشیدگی: چین اروناچل پردیش کو ’جنوبی تبت‘ کیوں قرار دیتا ہے؟

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چین نے کہا ہے کہ نو دسمبر کو اس کے سرحدی فوجی دستے انڈیا کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر معمول کے گشت پر تھے جب انھیں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے انڈین فوجیوں کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں ایک جھڑپ ہوئی۔

چین نے انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو ڈسپلن اور قابو میں رکھے تاکہ سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھا جا سکے۔ یاد رہے کہ نو دسمبر کو اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں چینی اور انڈین فوجیوں کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی تھی اور انڈیا کے مطابق اس جھڑپ میں دونوں افواج کے فوج زخمی ہوئے تاہم کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔

چین اس جھڑپ کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کر رہا تھا تاہم گذشتہ روز یعنی 13 دسمبر کو چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ترجمان سینیئر کرنل لونگ شاؤہوا نے بتایا ہے کہ توانگ ژانگ کے علاقے میں چین کے فوجی معمول کے گشت پر تھے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ’9 دسمبر کو پی ایل اے ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے سرحدی دستے چین، انڈیا سرحد کے مشرقی سیکٹر میں توانگ ژانگ کے علاقے میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کی چینی جانب معمول کے گشت پر تھے۔ انھیں انڈین فوجیوں کی طرف سے رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا جنھوں نے غیر قانونی طور پر ایل اے سی کو عبور کیا۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ ’چینی فوجیوں نے پیشہ ورانہ، معیاری اور پُرعزم جواب دیا، جس کی مدد سے صورتحال کو قابو میں لایا گیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس جھڑپ کے بعد اب چینی اور انڈین فوجیں ڈس انگیج ہو چکی ہیں۔‘

چینی فوج نے مطالبہ کیا کہ انڈیا اپنے فرنٹ لائن فوجیوں کو سختی سے نظم و ضبط پر عمل کرائے اور انھیں قابو میں رکھے اور چین کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ سرحدی علاقوں میں امن و سکون برقرار رہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سے قبل انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں دیے گئے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ چینی فوجیوں نے توانگ سیکٹر کے یانگتسے نامی علاقے میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے تجاوزات قائم کرنے کی کوشش کی لیکن انڈین فوجیوں نے اسے ناکام بنا دیا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس جھڑپ میں کوئی انڈین فوجی ہلاک نہیں ہوا۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہماری فوج نے عزم کے ساتھ چین کی اس ’مذموم کوشش‘ کو ناکام بنایا۔

انھوں نے کہا تھا کہ اس جھڑپ میں ہتھیاروں کا استعمال نہیں ہوا بلکہ فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ 

ان کے مطابق انڈین فوج نے بہادری سے چینی فوجیوں کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے سے روکا اور انھیں اپنی پوسٹوں پر واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ ان کے مطابق اس جھڑپ میں دونوں طرف کے کچھ فوجی زخمی ہوئے لیکن کوئی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔

چین ہمیشہ اروناچل پردیش سے متعلق انڈیا کے دعوے پر سوال اٹھاتا رہا ہے۔ وہ کسی بھی انڈین رہنما کے اروناچل پردیش کے دورے پر بھی اعتراض کرتا رہا ہے۔ اس کے برعکس انڈیا نے بارہا کہا ہے کہ اروناچل انڈیا کا ’اٹوٹ انگ‘ ہے اور اسے اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ 

اس سے قبل 2019 میں بھی چین نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے اروناچل پردیش کے دورے پر احتجاج کیا تھا جبکہ 2020 میں چین نے وزیر داخلہ امیت شاہ کے اروناچل دورے پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔

چین اور انڈیا کے دعوے

انڈیا

انڈیا چین کے اس نوعیت کے اعتراضات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ چین اروناچل پردیش میں 90 ہزار مربع کلومیٹر زمین پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے جب کہ انڈیا کا دعویٰ ہے کہ چین نے مغرب میں اکسائی چن کے 38 ہزار مربع کلومیٹر پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔

انڈین رہنماؤں کے دورے پر چین کے اعتراض کے بارے میں، انڈیا کے معروف سٹریٹجک ماہر برہما چیلانی نے چند ماہ قبل ٹویٹ کیا تھا کہ ’جب چینی صدر شی جن پنگ تبت گئے تو انڈیا نے کچھ نہیں کہا۔ شی جن پنگ نے یہاں تک کہ ہندوستانی سرحد سے صرف 15 کلومیٹر دور پیپلز لبریشن آرمی بیس پر ایک رات قیام کیا۔ اسے چین کی جنگی تیاری کے طور پر دیکھا گیا۔انڈین رہنماؤں کے دورے پر چین کا اعتراض حیران کن نہیں۔‘

چین کی تاریخ پر ایک کتاب لکھنے والے مائیکل شومن نے اروناچل پردیش میں انڈین لیڈروں کے دورہ پر چین کے اعتراض کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’چین انڈیا کے ساتھ تعلقات کو بہت برے طریقے سے سنبھال رہا ہے۔ یہ چین کی خارجہ پالیسی کی بڑی ناکامی ہو سکتی ہے۔‘

جنوبی تبت

دلائی لامہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چین اروناچل پردیش کو ’جنوبی تبت‘ کہہ کر پکارتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 3,500 کلومیٹر (2,174 میل) لمبی سرحد ہے۔ 1912 تک تبت اور انڈیا کے درمیان کوئی واضح سرحدی حدود نہیں بنائی گئی تھیں۔

ان علاقوں پر نہ تو مغل بادشاہوں اور نہ ہی انگریزوں کا کنٹرول تھا۔ انڈیا اور تبت کے لوگوں کو بھی کسی واضح سرحدی لکیر کے بارے میں یقین نہیں تھا۔

انگریز حکمرانوں نے بھی اس کی پرواہ نہیں کی۔ جب توانگ میں بدھ مت کا مندر ملا تو باؤنڈری لائن کا تعین شروع ہوا۔ 1914 میں تبت، چین اور برطانوی ہندوستان کے نمائندوں کی شملہ میں ملاقات ہوئی اور باؤنڈری لائن کا فیصلہ ہوا۔

چین نے تبت کو کبھی بھی آزاد ملک نہیں سمجھا۔ سنہ 1914 کے شملہ معاہدے میں بھی وہ اس پر راضی نہیں تھے۔ 1950 میں چین نے تبت پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ چین چاہتا تھا کہ توانگ اس کا حصہ بنے، جو تبتی بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے بہت اہم ہے۔

چین اور تبت

چین، انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 1949 میں ماؤزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین تشکیل دیا۔ یکم اپریل 1950 کو انڈیا نے اسے تسلیم کر لیا اور سفارتی تعلقات قائم کر لیے۔

ہندوستان اس طرح چین کو ترجیح دینے والا پہلا غیر کمیونسٹ ملک بن گیا۔

1954 میں ہندوستان نے تبت پر بھی چین کی خودمختاری کو قبول کر لیا۔ اس کا مطلب ہے کہ انڈیا نے قبول کر لیا کہ تبت چین کا حصہ ہے۔ ہندی چینی، بھائی بھائی کا نعرہ بھی لگایا گیا۔

شملہ معاہدے کے تحت میک موہن لائن کو بین الاقوامی سرحد سمجھا جاتا تھا لیکن 1954 میں نہرو نے ایک معاہدے کے تحت تبت کو چین کا حصہ تسلیم کر لیا۔

جون 1954 سے جنوری 1957 کے درمیان چین کے پہلے وزیر اعظم چو این لائی نے چار بار انڈیا کا دورہ کیا جبکہ اکتوبر 1954 میں نہرو خود بھی چین گئے۔

1950 میں چین نے تبت پر حملہ شروع کر دیا اور اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ تبت پر چینی حملے نے پورے خطے کی جغرافیائی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔

چینی حملے سے پہلے تبت چین کے مقابلے میں انڈیا کے زیادہ قریب تھا.۔

1950 کی دہائی کے وسط میں چین نے انڈین علاقوں میں بھی تجاوزات شروع کر دی تھیں۔ 1957 میں چین نے اکسائی چن کے راستے مغرب میں 179 کلومیٹر لمبی سڑک بنائی۔

سرحد پر دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان پہلا مقابلہ 25 اگست 1959 کو ہوا تھا۔ چینی گشت نے لونگجو میں نیفا فرنٹیئر پر حملہ کیا۔ اس سال 21 اکتوبر کو لداخ کے کونگکا میں فائرنگ کی گئی۔

اس میں 17 انڈین فوجی مارے گئے اور چین نے اسے اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی قرار دیا۔

انڈیا نے تب کہا تھا کہ ’اس کے فوجیوں پر اچانک حملہ کیا گیا۔‘

ایل اے سی بھی ایل او سی بن گئی؟

چین، انڈیا

تبتی بدھ مت کے گرو دلائی لامہ کو چینی حملے کے بعد ہی فرار ہونا پڑا۔ 31 مارچ 1959 کو دلائی لامہ نے انڈیا میں قدم رکھا۔ 17 مارچ کو وہ تبت کے دارالحکومت لہاسا سے پیدل روانہ ہوئے اور ہمالیہ کے پہاڑوں کو عبور کرتے ہوئے 15 دن کے بعد انڈین سرحد میں داخل ہوئے۔

اپریل 2017 میں جب تبتی مذہبی رہنما دلائی لامہ نے اروناچل پردیش کا دورہ کیا تو چین نے سخت احتجاج کیا اور کہا کہ انڈیا کو اس کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی اور یہ کہ اس سے انڈیا کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

2 جون 2017 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے روس کے سینٹ پیٹرزبرگ میں بین الاقوامی اقتصادی فورم میں ایک پینل بحث میں کہا کہ ’اگرچہ چین اور انڈیا کے درمیان سرحدی تنازع ہے، لیکن ایک بھی گولی چین پر نہیں چلائی گئی۔۔۔‘

چین نے وزیر اعظم مودی کے اس بیان کا خیر مقدم کیا تھا اور اسے فوراً قبول کر لیا تھا۔

لیکن انڈیا اب یہ کہنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے۔ جون 2020 میں وادی گلوان میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی جس میں انڈیا کے 20 فوجی مارے گئے اور چین سے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس کے چار فوجی مارے گئے۔

اس دوران کئی علاقوں میں معمولی جھڑپیں ہوئیں، اور اب توانگ میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔