اروناچل پردیش میں 15 مقامات کے نام تبدیل کرنے پر انڈیا کی جانب سے چین کی مذمت

तवांग

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی وزارت خارجہ نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش میں بعض مقامات کے نام تبدیل کرنے کے اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اروناچل پردیش ہمیشہ ہندوستان کا اٹوٹ انگ رہا ہے اور رہے گا۔

چین کی جانب سے اروناچل پردیش میں ان ناموں میں تبدیلی سے متعلق رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے انڈین وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چین نے ماضی میں بھی ایسا کیا ہے لیکن اس سے حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اطلاعات کے مطابق چین نے اروناچل پردیش میں 15 مقامات کے لیے چینی، تبتی اور رومن میں نئے ناموں کی فہرست جاری کی ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے زیر اثر سمجھے جانے والے انگریزی روزنامے گلوبل ٹائمز نے جمعرات کو اس سے متعلق خبر شائع کی تھی۔

اس خبر کے مطابق چین کی شہری امور کی وزارت نے بدھ کو اعلان کیا کہ اس نے زنگنان (اروناچل پردیش کا چینی نام) کے 15 مقامات کے نام چینی، تبتی اور رومن میں جاری کیے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

رپورٹ کے مطابق چینی حکومت نے 15 مقامات کے نام تبدیل کیے ہیں اور ان کی حد بندی بھی کی ہے۔ ان میں سے آٹھ رہائشی مقامات، چار پہاڑ، دو دریا اور ایک پہاڑی درہ شامل ہے۔

گلوبل ٹائمز نے بیجنگ میں قائم سینو تبت ریسرچ سینٹر کے ایک ماہر لیین ژیانگمن کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ اعلان ان جگہوں کے ناموں کے بارے میں ایک قومی سروے کے بعد کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا ’ہم نے اسے دیکھا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے، جب چین نے اروناچل پردیش کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی ہو۔ چین اپریل 2017 میں بھی ایسے نام رکھنا چاہتا تھا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اروناچل پردیش‘ ہمیشہ سے انڈیا کا اٹوٹ انگ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا، اروناچل پردیش میں ایجاد کردہ ناموں سے حقیقت نہیں بدلتی۔

اروناچل پردیش پر چین کا دعویٰ

چین ماضی میں بھی اروناچل پردیش کو اپنا حصہ کہتا رہا ہے اور انڈیا اس کی سختی سے تردید کرتا آیا ہے۔ چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کہتا ہے۔

انڈیا کے سینیئر رہنما اور عہدیدار اروناچل پردیش کے دوروں پر اپنے اعتراضات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

چین نے اس سال اکتوبر میں نائب صدر وینکیا نائیڈو کے دورے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا کو ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے، جس سے سرحدی تنازع میں توسیع ہو۔

چین کے اس اعتراض پر انڈیا نے کہا تھا کہ انڈین رہنماؤں کے اروناچل پردیش کے دورے پر اعتراض کی کوئی منطق نہیں ہے۔

اس سے قبل چین نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے سنہ 2019 میں اروناچل پردیش کے دورے پر بھی احتجاج کیا تھا۔ چین نے وزیر داخلہ امت شاہ کے 2020 میں اروناچل کے دورے پر بھی اعتراض کیا تھا۔

اروناچل پردیش

،تصویر کا ذریعہ@narendramodi

’جنوبی تبت‘

واضح رہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان تقریباً 3500 کلومیٹر طویل سرحد پر تنازع چل رہا ہے، جسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول یا ایل اے سی کہا جاتا ہے۔

تبت اور انڈیا کے درمیان سنہ 1912 تک کوئی واضح سرحد کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔ ان علاقوں پر نہ مغلوں اور نہ انگریزوں کا کنٹرول تھا۔ انڈیا اور تبت کے لوگوں کو بھی کسی واضح حد بندی کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔

انگریز حکمرانوں نے بھی اس کی پرواہ نہ کی مگر جب وہاں کے مقام توانگ سے بدھ مت کا مندر ملا تو باؤنڈری لائن کا تعین شروع ہوا۔

سنہ 1914 میں تبت، چین اور برطانیہ کے زیر تسلط انڈیا کے نمائندوں کی شملہ میں ملاقات ہوئی اور سرحد کی نشاندہی کی گئی۔

چین نے تبت کو کبھی بھی آزاد ملک نہیں سمجھا۔ سنہ 1914 کے شملہ معاہدے میں بھی انھوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ سنہ 1950 میں چین نے تبت کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

چین چاہتا تھا کہ توانگ اس کا حصہ بنے جو تبتی بدھوں کے لیے بہت اہم ہے۔