انڈیا، چین تعلقات: خونریز سرحدی جھڑپوں اور کشیدگی کے باوجود انڈیا کیوں چاہتا ہے کہ چین کے ساتھ تجارت جاری رہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, روپشا مکھرجی
- عہدہ, بی بی مانیٹرنگ، دہلی
ایسا لگتا ہے کہ انڈین حکومت چین کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے ابھی تک سخت اور کٹھن راہ سے گزر رہی ہے کیونکہ مشرقی لداخ میں سرحدی کشیدگی تاحال برقرار ہے۔ مگر اس سب کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت کے حجم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔
انڈیا مبینہ طور پر چین میں مقیم کمپنیوں کی طرف سے تجویز کردہ سرمایہ کاری پر پابندیوں کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن حالیہ اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ اس طویل سرحدی تنازع پر انڈیا میں چین مخالف جذبات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔
دوسری جانب انڈیا نے ملک میں چینی موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے مبینہ ٹیکس چوری کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اس کے علاوہ انڈیا مبینہ طور پر غیر منظم قرضوں کی پیشکش کرنے پر مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کر رہا ہے، جن میں چین اور ہانگ کانگ کی سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔
چینی سرمایہ کاری پر تذبذب
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، انڈین حکومت ممکنہ طور پر ایسے قوانین متعارف کرائے گی جس کے تحت پڑوسی ممالک کی کمپنیاں انڈین کمپنیو میں 10 فیصد تک حصص کی مالک بن سکتی ہیں۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ اقدام اس وقت لیا گیا جب چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تجاویز بیوروکریٹک رکاوٹوں (یا سرخ فیتے) کی نذر ہو گئی کیونکہ انڈیا نے سنہ 2020 میں وادی گلوان میں چین کے ساتھ خونی سرحدی جھڑپوں کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاری کی جانچ پڑتال سخت کر دی تھی۔
انڈین حکومت کی طرف سے چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری پر پابندیوں کو کم کرنے کے ایسے کسی بھی فیصلے پر سخت عوامی ردعمل آ سکتا ہے، اور چین پر سفارتی دباؤ ڈالنے کے انڈیا کے عزم پر سوالات بھی اٹھیں گے۔
’مثلاً ایک ٹویٹر اکاؤنٹ ’اِنسائیٹفل جیوپالیٹکس‘ جس کے دس ہزار فالوؤرز ہیں، نے 11 جنوری کو یہ سوال کیا کہ حکومت کی جانب سے ’یہ بے تابی کیوں؟ فی الحال، چین جیسی دشمن ریاست سے سرمایہ کاری کے لیے حکومت کی منظوری درکار ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بنیادی رکن تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی ایک ذیلی تنظیم نے بھی انڈین کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ چینی سرمایہ کاری سے گریز کریں۔ نیوز 18 ویب سائیٹ نے چار جنوری کو اس خبر کا حوالہ دیتے ہوئے چینی سرکایہ کاری کو ملک کے لیے ’نقصان دہ‘ قرار دیا۔
سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم)، جو مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کے استعمال کو فروغ دیتا ہے، نے انڈین مالیاتی کمپنی ’پے ٹِم‘ (Paytm) کی مثال پیش کی، جس میں چین میں قائم ایک کمپنی ’اینٹ فائنانشل‘ کا حصہ 23 فیصد ہے۔
ایس جے ایم کے ترجمان نے کہا کہ ’اگر پےٹِم کو انشورنس سیکٹر میں قدم رکھنے کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا گیا ہے تو چینی سرمایہ کاری والی کمپنیوں کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس وقت چین اور انڈیا کی سرحد پر جاری کشیدگی کے باوجود دوطرفہ تجارت متاثر نہیں ہوئی ہے۔
چین کے سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ نے کہا ہے کہ دسمبر کے آخر میں چینی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ نومبر تک انڈیا کے ساتھ تجارت ریکارڈ 100 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
اسی اخبار نے کہا کہ ’انڈیا اور چین کے درمیان مینوفیکچرنگ میں تعاون کی بڑی صلاحیت ہے اور یہ تعاون مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان زیادہ متوازن تجارت کی بنیاد بھی بنائے گا۔ اس لیے انڈیا کو چینی سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے کچھ نامناسب طریقوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔‘
چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن
دسمبر میں انڈیا نے چینی سمارٹ فون برانڈز جیسے ’اوپو‘ (Oppo)، ’ژاؤمی‘ (Xiaomi) اور ’ون پلس‘ (One Plus)، جن کے دفاتر انڈیا میں ہیں، کے ذریعے مبینہ ٹیکس چوری کی تحقیقات شروع کیں تھی۔
گذشتہ برس 22 دسمبر کو معروف روزنامے ’ٹائمز آف انڈیا‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’اُن پر ایک طویل عرصے سے نظر رکھی جا رہی تھی اور جب محکمہ انکم ٹیکس کو ٹیکس چوری کی ٹھوس انٹیلیجنس ملی تو ان کمپنیوں پر چھاپے مارے گئے۔‘
اور جنوری سنہ 2022 میں، انڈیا کی اعلیٰ کرکٹ گورننگ باڈی، بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے چینی موبائل فون کمپنی ’وائیوو‘ (Vivo) کو کرکٹ کے مشہور ٹورنامنٹ، انڈین پریمیئر لیگ کے آفیشل سپانسر کے طور پر ہٹا دیا ہے۔
بی سی سی آئی نے چینی کمپنی کے بجائے معروف انڈین صنعتی گروپ ٹاٹا کو سنہ 2022 سے آئی پی ایل کا لیڈ سپانسر بنانے کی منظوری دی ہے۔
وادی گلوان میں سرحدی جھڑپوں کے بعد سے انڈین میڈیا اور سیاست دانوں نے ’وائیوو‘ کے آئی پی ایل کے مرکزی سپانسر ہونے پر اعتراض کیا تھا اور بی سی سی آئی سے نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔
چینی موبائل کمپنیاں تقریباً ایک دہائی سے انڈین مارکیٹ پر چھائی رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارکیٹ ریسرچ کمپنی ’کاؤنٹرپوائنٹ‘ کی طرف سے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق ’ژیاؤمی‘ فروخت کے لحاظ سے انڈیا میں سب سے بڑا موبائل برانڈ ہے، جس کا مارکیٹ میں حصہ 23 فیصد بنتا ہے۔ اس کے بعد جنوبی کوریا کا ’سام سنگ‘ اور ’وائیوو‘، ’ریئل می‘ اور ’اوپو‘ جیسے دیگر چینی برانڈز ہیں۔
موبائل کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے علاوہ انڈین حکام نے غیر بینکنگ مالیاتی اداروں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جنھوں نے ’پےٹم‘ اور ایک اور فنٹیک پلیٹ فارم ’ریزرپے‘ (Razorpay) کے ادائیگی کے گیٹ ویز کا استعمال کرتے ہوئے فوری قرضوں پر کارروائی کی۔
انڈین حکام کا کہنا ہے کہ ان مالیاتی اداروں کے چین سے روابط ہیں۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، ایک وفاقی حکومت کی ایجنسی، جو معاشی جرائم سے لڑنے کے لیے ذمہ دار ہے، کے حوالے سے پی ٹی آئی نیوز نے 12 جنوری کو کہا کہ ’فنٹیک کمپنیوں‘ کی موبائل ایپس نے سات سے 14 دن تک کی مدت کے لیے ’غیر محفوظ‘ فوری مائیکرو پرسنل لون دیے۔‘
تو انڈیا کی پالیسی کیا ہو سکتی ہے؟
حکمران بی جے پی اور اس کے نظریاتی ساتھی گروہ چینی اشیا اور خدمات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے قوم پرستی کے جذبات کو فروغ دیتے ہیں، لیکن اپنے پڑوسی کے ساتھ تجارت کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
سنہ 2020 میں گلوان سرحدی جھڑپوں سے پہلے بھی نریندر مودی کی قیادت والی حکومت چین کے ساتھ انڈیا کے تجارتی خسارے کو کم کرنے پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کر رہی تھی۔
انڈیا کے وزیر تجارت پیوش گوئل نے جنوری 2022 میں کہا ہے کہ تجارتی خسارہ 2014-2015 اور 2021 کے درمیان آٹھ فیصد کم ہوا۔
تجارتی خسارہ انڈیا سے برآمد ہونے والے سامان کے مقابلے میں چین سے زیادہ درآمدات کا نتیجہ ہے۔
گوئل نے یہ تبصرہ اپوزیشن کانگریس پارٹی کے ایک ترجمان کے تبصرے کے جواب میں کیا جس نے کہا تھا کہ حکومت چین کے ساتھ ہر سال 100 ارب ڈالر کا کاروبار کر رہی ہے اور کمیونسٹ ملک کی جانب سے اروناچل پردیش کے متنازع علاقے میں گاؤں کا نام تبدیل کرنے پر ’خاموش‘ ہے۔
مزید پڑھیے
تجارت کی اعلیٰ قدر کو دیکھتے ہوئے سخت پابندیاں کورونا وائرس وبائی مرض سے پہلے سے متاثر سپلائی چین کو مزید متاثر کر سکتی ہیں۔
حکومت گھٹنے ٹیکنے والے ردعمل سے بچنے کے لیے کوشاں رہے گی اور یہ پیغام بھیجتی رہے گی کہ وہ تمام چینی کاروباروں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
انڈیا کے ایک روزنامے ’دی ہندو‘ کے ایک اداریے میں 29 دسمبر کو کہا گیا کہ ’دنیا بھر میں کاروباری ادارے اب کوویڈ 19 وبائی امراض کے تناظر میں چین پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خطرے سے اپنے کاروبار کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے ان اداروں کے لیے ایسے ممالک کی تلاش کا امکان بڑھ جاتا ہے جن میں پیداواری صلاحیت کے زیادہ سرپلس ہونے اور بیرون ملک برآمدات کرنے کی گنجائش ہے۔ انڈین پالیسی سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تجارت کے دفاع کو تقویت دینے کے لیے اپنا کام بر وقت پورا کریں۔‘












