لداخ کی گلوان وادی میں چین انڈیا جھڑپ: ’گلوان وادی میں سرحد پر تازہ صورتحال مستحکم اور قابو میں ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ گلوان وادی میں سرحد پر تازہ صورتحال مستحکم اور قابو میں ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں ملک جلد سے جلد حالات کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔
لداخ کی گلوان وادی میں انڈین اور چینی فوج کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپ میں کم سے کم 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے ہی سرحد پر حالات کشیدہ ہیں۔
اس جھڑپ کے بعد انڈیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ چین اور انڈیا کے وزرائے خارجہ کی فون پر بات ہوئی ہے جس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ وادی گلوان میں ہونے والی جھڑپ کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک چھ جون کو فوجی سطح پر ہونے والے سمجھوتے کے تحت آگے بڑھیں گے۔
اس سے پہلے بدھ کو انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ انڈین فوجیوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔
جمعرات کو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہُوا چونینگ نے کہا کہ چین اب مزید جھڑپیں نہیں چاہتا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی اور فوجی سطحوں پر مذاکرات جاری ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’انڈیا کے فوجیوں نے اتفاق رائے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایل اے سی کو پار کیا اور جان بوجھ کر چین کے فوجیوں اور حکام پر حملہ کیا جس سے پرتشدد جھڑپ شروع ہوئی اور ہلاکتیں ہوئیں۔‘
انھوں نے مزید کہا ’انڈیا کو اس صورت حال سے غلط مطلب نہیں نکالنا چاہیے اور نہ ہی اسے علاقائی خودمختاری کی حفاظت کے چینی عزم سے متعلق غلط فہمی ہونی چاہیے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کیا چینی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں؟
انڈین میڈیا میں منگل سے ہی اس طرح کے دعوے گردش کر رہے تھے کہ چین کے فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ کچھ نے تو غیر تصدیق شدہ اعدادوشمار بھی جاری کر دیے۔ لیکن اس بارے میں اب تک کوئی بھی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
بدھ کو جب انڈیا کے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے یہی سوال چینی وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں پوچھا تو چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاو لیجییان نے کہا ’دونوں ممالک کے فوجی گراونڈ پر خاص مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں جنھیں میں یہان جاری کر سکوں۔ میرا خیال ہے کہ جب سے یہ واقع پیش آیا ہے تب سے دونوں طرف سے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ سرحد پر امن بحال ہو سکے۔‘
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ’دنیا کے دو بڑے ترقی پزیر اور ابھرتے بازاروں والے ملک انڈیا اور چین کے درمیان اختلافات سے زیادہ فائدے مشترک ہیں۔ دونوں ملکوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ اپنے اپنے شہریوں کے مفادات اور امیدوں کے مطابق تعلقات کو صحیح راستے پر آگے بڑھائیں اور کوئی ایسا حل نکالیں جس پر دونوں متفق ہوں اور پھر اس پر عمل کریں۔ ہمیں امید ہے کہ انڈیا چین کے ساتھ کام کرے گا اور دونوں ساتھ میں آگے بڑھیں گے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا اب یہ امید کی جا سکتی ہے کہ سرحد پر دوبارہ ایسی پرتشدد جھڑپ نہیں ہوگی، چاو لیجییان نے کہا ’ظاہر ہے کہ ہم اب اور تصادم نہیں چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’انڈیا اور چین فوجی اور سیاسی سطح پر بات کر رہے ہیں۔ مطلب بالکل سیدھا ہے۔ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ ایل اے سی پر چین کی طرف ہوا ہے۔ اس میں چین کو کچھ بھی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
چین کی طرف سے جاری ہونے والے ایک اور بیان میں وزیر خارجہ وانگ یی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’چین ایک بار پھر انڈیا سے شدید احتجاج کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ انڈیا اس واقع کی مکمل تحقیقات کرے اور اشتعال انگیز حرکتوں سے اجتناب کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔‘

،تصویر کا ذریعہNICOLAS ASFOURI
انڈیا کا ردعمل
ادھر انڈیا نے چین کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ متنازع گلوان وادی پر دراصل چین کا حق ہے۔
انڈیا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین کا یہ دعویٰ ’مبالغہ آرائی پر مبنی اور غلط ہے۔‘
بدھ کو بیجنگ نے ایک فوجی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ چین کو ’گلوان وادی کے خطے پر خود مختاری حاصل ہے‘۔
انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے فون پر بات کی ہے اور ’وہ اس بات پر متفق ہیں کہ مجموعی صورت حال کو ذمہ دارانہ طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔‘
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ترجمان شریواستو نے کہا کہ ’مبالغوں پر مبنی اس طرح کے دعوے اس اتفاق رائے کی نفی ہے۔‘
'فوجی سطح پر ہونے والے سمجھوتے کے تحت آگے بڑھیں گے'
بدھ کو انڈین وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک اس بات کے لیے تیار ہیں کہ فوجی سطح پر چھ جون کو ہونے والے سمجھوتے کے مطابق ہی اب مستقبل میں قدم اٹھائیں گے۔
انڈیا کی وزارت خارجہ نے اس بیان میں بتایا کہ '6 جون کو دونوں ممالک کے سینیئر ملٹری اہلکاروں کے درمیان ایل اے سی پر حالات بہتر کرنے اور فوجیوں کے پیچھے ہٹنے کے بارے میں سمجھوتہ ہوا تھا۔'
انڈین حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا نے پیر کی رات ہونے والے تشدد کے واقعے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'یہ واقعہ چین کے اشتعال دلانے اور پہلے سے سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت پیش آیا۔ جس کی وجہ سے تشدد ہوا اور انڈین فوجی ہلاک ہوئے'۔
انڈیا کی وزارت خارجہ نے اس بیان میں بتایا کہ '6 جون کو دونوں ممالک کے سینیئر ملٹری اہلکاروں کے درمیان ایل اے سی پر حالات بہتر کرنے اور فوجیوں کے پیچھے ہٹنے کے بارے میں سمجھوتہ ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتے گراونڈ کمانڈرز لگاتار ایک دوسرے سے مل رہے تھے تاکہ طے شدہ نکات کے مطابق حالات بہتر کیے جا سکیں۔ اسی درمیان چین کی جانب سے ایل اے سی پر انڈیا کے علاقے میں تعمیرات کی کوشش کی گئی۔ یہ تنازع کی وجہ بن گئی۔ چین کی جانب سے سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیے جانے والے اقدامات کی وجہ سے تشدد اور ہلاکتیں ہوئیں۔'
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کو اپنے اقدامات کی ذمہ داری لیتے ہوئے غلطیوں کو درست کرنے کے اقدامات کرنے چاہییں۔ 'دونوں ممالک کو چاہیے کہ چھ جون کو ہونے والے سمجھوتے میں طے شدہ نکات کے مکمل ذمہ داری کے ساتھ پابند رہیں'۔










