انڈیا چین سرحدی کشیدگی پر تجزیے: ’انڈیا کو اس تاثر کو زائل کرنا ہے کہ وہ چین مخالف دھڑے کا حصہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا اور چین کی سرحد پر گذشتہ روز 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک کے اخبارات نے انڈین قیادت کو مشورے دیے ہیں۔
چین کی کیمونسٹ پارٹی کا ترجمان سمجھے جانے والے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے انڈین قیادت سے چین کے حوالے سے اپنی دو غلط فہیمیاں دور کرنے کا کہا ہے۔
ادھر انڈیا کے قومی سلامتی کے سابق مشیر اور تجربہ کار سفارت کار ایم کے نارایئنن نے بھی انڈین قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ اسے چین اور امریکہ کے مابین معاملات میں ہر وقت امریکہ کے ساتھ کھڑا ہوا نظر نہیں آنا چاہیے۔
گلوبل ٹائمز نے 17 جون کے اپنے اداریے میں لکھا کہ سرحد پر مسلسل کشیدگی کی وجہ انڈیا کا 'تکبر' اور 'لاپرواہی' ہے۔
اخبار نے لکھا کہ انڈیا نے دو غلط فہمیوں کی وجہ سے سرحدی معاملات پر سخت موقف اپنا لیا ہے۔
پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ امریکہ کے تزویراتی دباؤ کی وجہ سے چین انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہے گا اور چین انڈین اشتعال انگیزی پر جواب دینے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اخبار نے لکھا کہ دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ کچھ انڈین لوگوں کے خیال میں انڈیا کی فوجی طاقت چین سے زیادہ ہے۔
گلوبل ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا کہ یہ دو غلط فہمیاں انڈین سوچ اور چین کے بارے اس کی پالیسی کو متاثر کر رہی ہیں۔
’امریکہ نے اپنی ’انڈو پیسیفک‘ حکمت عملی کی وجہ سے انڈیا کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے جس کی وجہ سے انڈین اشرافیہ کے کچھ حلقوں میں غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں۔‘
اخبار نے لکھا کہ جب 2017 میں انڈین فوجیوں نے ڈوکلام کے علاقے میں چین کے اندر گھس کر چین کی خود مختاری کو پامال کرنا شروع کیا تو انڈیا میں اس کو پذیرائی ملی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’اس کا مطلب یہ ہوا کہ انڈین اشرافیہ کی چین کے حوالے سے ذہنیت خطرناک ہے۔‘
اخبار نے لکھا کہ چین انڈیا کے ساتھ جھگڑا نہیں چاہتا اور اسے امید ہے کہ وہ سرحدی تنازعوں کو دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کر سکتا ہے لیکن یہ چین کی نیک نیتی ہے، کمزوری نہیں۔
اخبار نے لکھا: ’چین کیسے امن کے لیے اپنی خود مختاری کو قربان کر سکتا ہے اور نئی دہلی کے دھمکیوں کے آگے کیسے جھک سکتا ہے۔‘
اخبار نے مزید لکھا کہ چین اور بھارت دو بڑے ملک ہیں اور دونوں ملکوں کی سرحد پر امن نہ صرف دونوں ملکوں کے لیے بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔
'نئی دہلی کو واضح ہونا چاہیے کہ انڈیا اور چین کے معاملے میں امریکہ ایک حد تک ہی اپنے وسائل خرچ کر سکتا ہے۔
’امریکہ انڈیا کو صرف ایک معاونت فراہم کرے گا پھر اسی معاونت کو استعمال کرتے ہوئے انڈیا اور چین کے تعلقات کو خراب کرے گا اور انڈیا کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا رہے گا۔‘
اخبار نے لکھا کہ چین اور انڈیا کی طاقت میں فرق انتہائی واضح ہے۔ چین سرحدی معاملات کو کشیدگی میں نہیں بدلنا چاہتا لیکن سرحد کی صورتحال پر چین پراعتماد ہے۔
’چین تنازعے نہیں چاہتا لیکن وہ تنازعوں سے خوفزدہ بھی نہیں ہے‘
اخبار نے لکھا کہ وادی گلوان میں ہونے والی جھڑپوں میں دونوں اطراف کو جانی نقصان ہوا لیکن چین نے اپنی جانی نقصان کی معلومات اس لیے افشا نہیں کی ہیں کیونکہ وہ دونوں ملکوں کے مابین فضا کو خراب نہیں کرنا چاہتا۔
’چین نہیں چاہتا کہ انسانی جانوں کے ضیاع کے موازنے شروع ہو جائیں۔‘
اخبار نے لکھا کہ چین وادی گلوان میں کشیدگی کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اسے امید ہے کہ انڈیا اس سے اتفاق رائے کی پاسداری کرے گا جو دونوں ملکوں کی فوجی قیادت کی بات چیت میں طے پایا تھا۔ یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
انڈیا کے قومی سلامتی کے سابق مشیر ایم کے ناریئنن جنھوں نے ایک لمبے عرصے تک سرحدی معاملات پر دونوں ملکوں کی بات چیت میں انڈیا کی نمائندگی کی ہے، اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ انڈیا اور چین کے سرحدی معاہدے ’غیر جانبداری‘ کے گرد گھومتے ہیں۔
انھوں نے لکھا کہ انڈیا اور چین کے فوجی حکام کی حالیہ میٹنگ کے دوران بھی چین نے ڈھکے چھپے انداز میں انڈیا کی توجہ غیر جانبداری کی طرف دلائی ہے۔
ایم کے ناریئنن نے 16 جون کو انڈین اخبار ہندو میں چھپنے والے مضمون میں لکھا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ انڈیا اور چین کے مابین سرحدی کشیدگی کی وجہ انڈیا کی وہ سڑکیں ہیں جو وہ اپنے سرحدی علاقوں میں بنا رہا ہے، تو یہ ان کی سادہ لوحی ہے۔
انھوں نے لکھا کہ کہنے کو تو بھارت اب بھی غیر وابسطہ ہونے کی پالیسی پر گامزن ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انڈیا کا جھکاؤ امریکہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ چین کے معاملے میں انڈیا کا امریکہ کی طرف جھکاؤ بہت واضح ہے اور انڈیا چین اور امریکہ کے کسی بھی تنازعے میں امریکہ کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔
'انڈیا اب اس چین مخالف 'کواڈ' کا بھی حصہ ہے جس میں امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ یہ اس کواڈ کے سارے خدوخال مخالف اتحاد کے ہے۔'
انھوں نے لکھا کہ براعظم ایشیا میں انڈیا شاید واحد ملک ہے جو چینی بیلٹ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی ) کا حصہ نہیں ہے اور وہ پاکستان چین اکنامک کاریڈور کی مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
اسی طرح انڈیا نے حال ہی میں ملک میں چینی سرمایہ کاری کو روکنے کے حوالے سے کچھ اقدامات کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہANI
انھوں نے لکھا کہ یہ سارے اقدامات بھارت کی چین کی مخالفت کی غمازی کرتے ہیں۔
انھوں نے لکھا کہ چین کی رویے میں تبدیلی کو سمجھنے کے لیے انڈیا کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔
ایم کے ناریئنن نے لکھا کہ چین کے موجودہ صدر شی جن پنگ سابق چینی حکمران ڈینگ ژیاؤ پنگ کے اس نظریے کو پسند نہیں کرتے کہ 'سر نیچا کر کے وقت حاصل کرتے رہو' لیکن شی جن پنگ بھی 'غیر ذمہ دار' نہیں ہیں۔
ایم کے ناریئنن نے لکھا کہ ایسے وقت جب کوئی طاقت چین پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، تو چین کے پڑوسی ممالک خصوصاً انڈیا کے لیے یہ مشکل وقت ہے۔
انھوں نے انڈین قیادت کو مشورہ دیا کہ اسے اس تاثر کو زائل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ چین مخالف دھڑے کا حصہ بن چکا ہے۔











