انڈیا اور چین کے درمیان تنازعے کی تین اہم وجوہات

نریندر مودی اور شی جنگ پن

،تصویر کا ذریعہAFP Contributor

،تصویر کا کیپشنانڈیا اور چین کے درمیان فی الحال کشیدگی جاری ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نئی بات نہیں
    • مصنف, نتن شریواستو
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

انڈیا کی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کی شب چینی فوج کے ساتھ وادی گلوان میں ہونے والی سرحدی جھڑپ میں شدید زخمی ہونے والے فوجیوں میں سے 17 ہلاک ہوگئے ہیں جس سے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی کل تعداد 20 ہوگئی ہے۔

انڈین فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ جھڑپ پیر کی شب متنازع وادی گلوان کے علاقے میں ہوئی جہاں فریقین کی افواج کی پسپائی کا عمل جاری تھا۔

فوجی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس جھڑپ میں چینی فوج کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم چینی حکام کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں سے سرحد سے متعلق کشیدگی جاری ہے۔

چین کے مشہور فوجی جنرل سُن زُو نے 'دی آرٹ آف وار' نامی کتاب میں لکھا تھا ’جنگ کا سب سے بہترین ہنر ہے کہ بغیر لڑے ہوئے ہی دشمن کے حوصلے پست کر دو‘۔

یہ بھی پڑھیے

سینکڑوں برس بعد بھی چین میں آج بھی یہ کتاب بے حد اہمیت کی حامل ہے۔

انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی کو سمجھنے کے لیے شاید 'جنگ کے اس بہترین ہنر' کو دھیان میں رکھنے کی ضرورت ہے۔

موجودہ حالات یہ ہیں کہ 1999 میں پاکستان کے ساتھ کارگل جنگ کے بعد پہلی بار انڈیا کی جانب سے کسی سرحد پر اتنے بڑے پیمانے پر فوج تعینات کی گئی ہے۔

آئیے جانتے ہیں کہ انڈیا اور چین کے درمیان موجودہ کشیدگی کی تین اہم وجوہات کیا ہیں؟

سٹریٹیجک وجہ

انڈیا اور چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتقریبا سبھی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ چین کے سرحدی علاقوں میں تعمیر اور بنیادی ڈھانچہ ہمیشہ بہتر رہا ہے

2017 میں ڈوکلام کے علاقے میں انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان مکے بازی، ہاتھا پائی اور ایک دوسرے سے سامان چھیننے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی اور کئی دنوں بعد حالات معمول پر آئے تھے۔

انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات کی تاريخ ویسے تو دہائیوں پرانی ہے لیکن حالیہ کشیدگی کی تین وجوہات سمجھ آتی ہیں۔

پہلی وجہ سٹریٹجک ہے۔ یہ دو ایسے پڑوسی ہیں جن کی فوجوں کی تعداد دنیا میں پہلے اور دوسرے نمبر پر بتائی جاتی ہے اور جن کے درمیان اختلاف اور تنازعات کا ایک لمبی تاریخ ہے۔

اس بار بھی وہی علاقہ تنازعے کا مرکز ہے جہاں 1962 میں دونوں کے درمیان جنگ بھی ہوچکی ہے اور چین کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ میں اس نے بازی ماری تھی۔

گذشتہ چند برسوں میں بھارت کی جانب سے سرحدی علاقوں میں تیزی سے کیے جانے والے تعمیراتی کام کو بھی تنازعے کی بڑی وجہ بتایا جاتا ہے۔

لداخ میں انڈین فوج

،تصویر کا ذریعہYawar Nazir

،تصویر کا کیپشنتنازعے کی بڑی وجہ گزشتہ چند سالوں نے بھارت کے سرحدی علاقوں میں تیزی سے ہوتا تعمیراتی کام بھی ہوسکتا ہے۔

دفاعی امور کے ماہر اجے شکلا کہتے ہیں سڑکوں کی تعمیر ایک بڑی وجہ ہے۔ عام طور پر جس وادی میں امن و امان رہتا ہے آج وہی گلوان وادی ہاٹ سپاٹ بن چکی ہے کیونکہ یہاں پر ایل اے سی ہے جس کے پاس انڈیا نے شیوک ندی سے دولت بیگ اولڈی ( ڈی بی او) تک ایک سڑک تعمیر کرلی ہے۔ پورے لداخ کے ایل اے سی کے علاقے میں یہ سب سے مشکل علاقہ ہے‘۔

انڈین فوج کے سابق سربراہ جنرل وی پی ملک کا خیال ہے کہ ’چین کی بے چینی کی ایک اور وجہ ہے۔ چینی فوج کا ایک طریقہ ہے وہ رینگتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ دھیرے دھیرے اپنی کارروائیوں کے ذریعے متنازعہ علاقوں کو اپنے زیر کنٹرول علاقے میں شامل کر لیتے ہیں۔ لیکن اب اس کے پاس اس کے متبادل کم ہوتے جارہے ہیں کیونکہ انڈین سرحدوں پر ترقی ہورہی ہے اور انڈیا کی گرفت مضبوط ہو رہی ہے‘۔

اخبار ہندوستان ٹائمز کے دفاعی امور کے نامہ نگار راہل سنگھ بھی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’گزشتہ پانچ برسوں میں انڈین سرحدوں کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے‘۔

ان کا کہنا ہے ’ماضی میں دونوں کے فوجیوں کے درمیان چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پہلے بھی 2013 اور 2014 میں ڈوکلام کے علاقے چومار میں ایسے واقعات پیش آئے ہیں لیکن اس بار کارروائی کا دائرہ وسیع ہوا ہے‘۔

سابق میجر جنرل اشوک مہتا کا کہنا ہے ایل اے سی پر چین کی تیز ہوتی ہوئی کارروائیوں کی بڑی وجہ ’پل اور ہوائی پٹیوں کی تعمیر ہے جس کی وجہ سے انڈیا کے گشت میں اضافہ ہوا ہے‘۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ معمول کی بات نہیں ہے۔ حالانکہ انڈیا کی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ اس طرح کی کاروائیاں ہوتی رہتی ہیں اور شمال مشرقی ریاست سکم کے واقعے کا تعلق گلوان وادی میں ہونے والے واقعے سے نہیں ہے۔ لیکن میرے حساب سے یہ سارے واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب انڈیا نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا تو چین اسے بات سے بالکل خوش نہیں تھا‘۔

اقتصادی وجہ؟

مودی، پیوتن اور شی جن پنگ

،تصویر کا ذریعہMikhail Svetlov

،تصویر کا کیپشنگزشتہ پانچ برسوں میں انڈیا کی سرحدوں کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے''

دنیا کی ساری معشیتیں گزشتہ پانچ ماہ سے کورونا وائرس کے باعث متاثر ہوئی ہیں۔

چین، امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ سمیت انڈیا اور جنوبی اشیا کے ممالک کی ترقی کی شرح میں گراوٹ درج ہوئی بلکہ بے روزگاری اور بند ہوتے کاروباروں کو زندہ رکھنے کے لیے حکومتوں کو لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔

بیشتر لوگ اس کا موازنہ 1930 کے ’دا گریٹ ڈپریشن‘ سے بھی کر رہے ہیں۔ اس سب کے درمیان 17 اپریل کو انڈین حکومت نے ایک چونکا دینے والا فیصلہ کیا۔

حکومت نے ان پڑوسی ممالک کے لیے ایف ڈی آئی یعنی بیرونی سرمایہ کاری کے قوانین میں تبدیلی کر دی جن کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔

نئے قوانین کے تحت کسی بھی انڈین کمپنی کے ساتھ اشتراک سے پہلے اب حکومت سے اجازت لینا لازمی ہوگیا ہے۔ چونکہ چین انڈیا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرتا ہے تو اس نئے قانون سے چین ہی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

اس فیصلے کی اہم وجوہات میں سے ایک وجہ یہ تھی کہ چین کے مرکزی بینک ’پیپلز بینک آف چائنا‘ نے انڈیا کے سب بڑے نجی بینک 'ایچ ڈی ایف سی' کے 75۔1 کروڑ شئیرز کو خریدا۔ اس سے قبل چین انڈین کمپنیوں میں زبردست سرمایہ کاری کررہا تھا۔

عالمی معیشت کے امور کے ماہر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق پروفیسر ایم ایم خان کا خیال ہے کہ ’فوج اور معیشت وہ دو شعبے ہیں جن میں چین اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے اپنی خارجہ پالیسی میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کرتا رہا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کورونا کے بعد دنیا کے حصص بازاروں میں ہل چل مچی ہوئی ہے اور چین بڑے ممالک کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔ آپ جنوبی ایشیا کو ہی دیکھ لیجیے، سری لنکا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بنیادی ڈھانچے اور ٹینکالوجی کی بڑی کمپنیوں پر چین کا قرض یا اس کی سرمایہ کاری مل ہی جائے گی‘۔

اب اگر انڈیا نے اپنی ایف ڈی آئی سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کی ہے تو اس بات کے کافی امکان ہیں کہ چین اس سے تھوڑا پریشان تو ہوا ہوگا اور اس کی خارجہ پالیسی بھی متاثر ہوگی۔

کورونا وائرس اور چین بیک فٹ پر؟

نریندر مودی اور شی جنگ پن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حال ہی میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں جس کا انعقاد عالمی ادارہ صحت کرتا ہے، ایک تجویز پیش کی گئی کہ اس معاملے کی تفتیش ہونی چاہیے کہ دنیا بھر کو نقصان پہنچانے والے کورونا وائرس کی شروعات کہاں سے ہوئی۔ دوسرے ممالک کے علاوہ انڈیا نے بھی اس تجویز کی حمایت کی۔ اس ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں 194 ممالک نے شرکت کی تھی۔

چین کا دفاع کرتے ہوئے اس اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین نے اس پورے معاملے میں ذمہ داری اور شفافیت سے کام لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے عالمی ادارہ صحت کو صحیح وقت پر وائرس سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ وائرس پر قابو پانے کے بعد چین کسی بھی قم کی تحقیقات کی حمایت کرتا ہے‘۔

چین اس وقت کورونا وائرس کے نقطہ آغاز اور ابتدا میں اپنی جانب سے مبینہ طور پر غلط قدم اٹھائے جانے کی وجہ سے تنقید کا سامنا کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود چین نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

چین پر سب سے زیادہ تنقید امریکہ کی جانب سے ہوئی ہے جہاں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ’وہ چین کو کووڈ 19 پر خاموش رہنے کی وجہ سے سزا دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے‘۔

واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار ونیت کھرے کا کہنا ہے کہ اب امریکی میڈیا میں انڈیا اور چین کے درمیان ایل اے سی پر تنازعہ سے متعلق خبروں کو ایک نئے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔

نریندر مودی اور شی جنگ پن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا اور چین کے درمیان ماضی میں جنگ ہوچکی ہے

مثال کے طور پر سی این این کی ویب سائٹ پر چین کے بارے میں شائع کیے جانے والے ایک آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ ’یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بیجنگ نے ساؤتھ چائنا سی میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے یا پھر بھارت کے ساتھ سرحد پر کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور نئی دلی کے سیاسی لیڈر کا کورونا وائرس کی وجہ سے اندرونی معاملات میں دھیان بٹا ہوا ہے، چین کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ کیسے ان علاقوں میں فائدہ اٹھائے کہ جسے کورونا وائرس کی وبا ختم ہونے کے بعد بدلا نہ جاسکے‘۔

ونیت کھرے بتاتے ہیں کہ اس کے علاوہ چند دنوں پہلے جنوبی ایشیاء کے لیے امریکہ کی خصوصی سفیر ایلیس ویلز نے ایک پروگرام میں کہا ’اگر کسی کو چین کے جارحانہ رویہ پر شک ہے تو اسے بھارت سے بات کرنی چاہیے جہاں انڈیا کو ہر ہفتے، ہر مہینے مسلسل چین کی فوج کی جانب سے پریشان کیا جاتا ہے‘۔

انڈیا اور چین کی سرحد پر جاری کشیدگی کی وجہ ان تین وجوہات کے علاوہ بھی ہوسکتی ہیں اور اس پر بحث جاری رہے گی۔

فی الحال چین کے وزارت خارجہ اور سفارت خانے دونوں نے اپنے رویے میں نرمی کا اظہار کیا ہے۔ انڈیا میں چینی سفیر سن ونڈونگ نے کہا ہے کہ ’انڈیا اور چین ایک دوسرے کے لیے ایک موقع ہیں، خطرہ نہیں‘۔

انڈیا کی فوج کے سابق سربراہ جنرل وی پی ملک کا خیال ہے کہ ’اس طرح کے تنازعات کا حل سفارتی اور سیاسی سطح پر ہی ہوسکتا ہے‘۔

لیکن انھوں نے صاف الفاظ میں یہ بھی کہا کہ ’حالیہ تنازعہ میں فوجی حل فیل ہوچکا ہے اور جہاں جہاں آپسی تکرار جاری ہے وہاں بات بڑھ جاتی ہے‘۔