انڈیا چین سرحدی تنازع: ایشیا کی دو بڑی طاقتوں کے باہمی اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ علاقائی تنازعات کیا ہیں؟

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا اور چین خطے کے دو طاقتور ترین ملک ہیں اور ان کے آپس میں تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے
    • مصنف, ثقلین امام
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس

براعظم ایشیا کے دو بڑے ہمسائے اور دنیا میں آبادی کے لحاظ سے دو سب سے بڑی جوہری طاقتیں، چین اور انڈیا ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے ساتھ سینگ پھنسائے بیٹھی ہیں۔ دونوں طاقتوں کے نہ صرف آپس میں تنازعات کی ایک تاریخ ہے جن میں کبھی کبھار سلگتی آگ میں چنگاریاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور شعلے بھی بھڑک اُٹھتے ہیں، بلکہ دونوں کے اپنے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تنازعات کی الگ الگ تاریخ بھی ہے۔

اس وقت چین اور انڈیا کے درمیان شدید کشیدگی کا ماحول ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً ساڑھے تین ہزار کلو میٹر کی سرحد میں کئی مقامات متنازع ہیں۔

ان تنازعات کے سبب ان دونوں ملکوں کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجی دستے کی چھ دہائیوں سے اکثر مُڈھ بھیڑ ہوتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 1962 میں ان دونوں کے درمیان ایک ماہ طویل جنگ بھی ہوئی تھی جس میں انڈیا کو ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔ چین نے انڈیا کے کئی ہزار مربع کلو میٹر علاقے پر قبضہ کر لیا تھا، ایک ہزار فوجی ہلاک کیے تھے جبکہ تین ہزار جنگی قیدی بنائے تھے۔

چین کے بھی 800 فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔ امریکی تجزیہ کار بروس راییڈل کے مطابق چین کے ساتھ انڈیا کی جنگ میں امریکہ بھی فعال ہو گیا تھا۔

بہرحال بعد میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کی گئیں لیکن اب بھی متنازع سرحد، دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی اور پہاڑی علاقے کی وجہ سے تنازعے کی فضا برقرار رہتی ہے۔

اسی وجہ سے وہ سرحدی علاقے جو چین سے ملتے ہیں اسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کہا جاتا ہے۔ اور اس جگہ کئی علاقے دونوں ملکوں کے درمیان متنازع ہیں۔

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے

حالیہ کشیدگی

حال ہی میں ہونے والے فوجی تصادم تین مقامات پر ہوئے ہیں جن میں ایک ’وادی گلوان‘ ہے، دوسرا ’ہاٹ سپرنگ‘ نامی خطہ ہے اور تیسرا علاقہ ’پینگونگ‘ نامی جھیل کے جنوب میں ہے۔

یہ تینوں علاقے لداخ میں ہیں۔ موجودہ کشیدگی صرف لداخ کے علاقوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ریاست سِکّم کے شمال مشرقی علاقے ناتھولا میں بھی فوجی حالتِ جنگ میں آمنے سامنے کھڑے ہیں۔

حالیہ تصادم کی ایک بنیادی وجہ بتاتے ہوئے انڈیا کے دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا نے بی بی سی کے امبراسن اتھی راجن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ماضی میں عموماً پر امن رہنے والا دریائے گلوان کا علاقہ اب جنگ کا خطہ بن گیا ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جو لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے سب سے قریب ہے اور جہاں انڈیا نے دریائے شیوک سے لے کر دولت بیگ اولڈی تک ایک نئی سڑک بنائی ہے جو کہ لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا سب سے زیادہ حساس علاقہ ہے۔‘

لداخ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا اور چین کے درمیان سنہ 1962 میں جنگ ہوچکی ہے اور تاحال کئی سرحدی تنازعات حل طلب ہیں

اس خطے میں انڈیا کی جانب سے انفراسٹرکچر نے چین کو مشتعل کیا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا ’گلوبل ٹائمز‘ نے غیر مبہم انداز میں کہا ہے کہ وادی گلوان چین کی سرزمین ہے اور اس خطے کی سرحد پر یہ بالکل واضح ہے کہ وہاں کس کا کنٹرول ہے۔

چین کے ایک تحقیقی ادارے چینگڈُو انسٹی ٹیوٹ آف گلوبل افیئرز کے سربراہ نے اسی موضوع پر کہا ہے کہ ’چین کی فوج کے خیال میں انڈیا نے وادی گلوان میں جارحیت کی ہے۔ اس لیے انڈیا وہاں صورتِ حال (سٹیٹس کو) کو بدل رہا ہے، اور اس بات نے چین کو اشتعال دلایا ہے۔‘

اس خطے میں کشیدگی کی حالت گذشتہ برس سے بڑھ رہی ہے جبکہ اگست میں انڈیا نے ایک متنازع اقدام کے ذریعے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو یکطرفہ اقدام کے ذریعے تبدیل کردیا تھا۔ اس کے بعد انڈیا نے اس خطے میں اپنی جانب سے اپنی سرحدوں کا ایک نیا نقشہ بھی جاری کیا جس میں اس وقت چین کے کنٹرول میں اکسائی چِن کو انڈین وفاق کے زیرِ انتظام لداخ میں شامل کر دیا گیا۔

لداخ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلداخ کے سرحدی علاقوں میں چین اور انڈیا کے درمیان متنازع سرحد کشیدگی کا باعث بنتی ہے

چین اور انڈیا کے درمیان تنازعے کی تاریخ

سنہ 1962 کی جنگ کے بعد بھی انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تصادم ہوئے ہیں۔ سنہ 1967 میں سِکم کے علاقے میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دو واقعات ہوئے۔ پہلا ناتھولا کا واقعہ کہلاتا ہے جبکہ دوسرا چھولا کا واقعہ جس میں چینی فوج کو سِکّم سے پسپا ہونا پڑا تھا۔

اس کے بعد کافی عرصے تک اس مقام پر کشیدگی جاری رہی اور بالآخر سنہ 1975 میں انڈیا نے خود مختار ریاست سکم کا انڈیا سے الحاق کر لیا۔

سنہ 1987 میں چین اور انڈیا کے درمیان فوجی جھڑپ کے دوران دونوں جانب سے صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا گیا اس طرح اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تاہم حالیہ تصادم سے پہلے سنہ 2017 میں اُس وقت کئی فوجی زخمی ہوئے تھے جب دونوں ملکوں کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہو گئی تھیں۔

انڈیا بھوٹان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے اپنے ہمسائیوں سے تعلقات

چین

انڈیا اور چین کے سرحدی تنازعات کی تاریخ انڈیا کی آزادی سے بھی پرانی ہے، اور جمہوریہ انڈیا بننے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک ماہ کی ایک طویل جنگ بھی ہو چکی ہے، دونوں کے درمیان ان علاقائی تنازعات کو طے کرنے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

ان سرحدی تنازعات کو طے کرنے کے لیے 21ویں صدی میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان 22 مرتبہ مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن معاملہ اب مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔

کوہ ہمالیہ کے سلسلے کے پار انڈیا کے شمال مشرقی حصے کی جانب لداخ کے شمال مشرق میں ایک خطے کا نام اکسائی چِن ہے۔ اس کا رقبہ 35 ہزار مربع کلو میٹر ہے۔

یہ خطہ اس وقت چین کے زیرِ انتظام ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ یہ خطہ چین کے خود مختار صوبے سنکیانگ کا حصہ ہے۔ جب کہ انڈیا اسے اپنے زیرِ انتظام لداخ کی یونین ٹیریٹوری کا حصہ قرار دیتا ہے۔

چینی فوج

،تصویر کا ذریعہReuters

لداخ اور اکسائی چین کے ساتھ ہی ایک اور متنازع خطہ ہے جس کا نام دسپانگ میدان ہے اور اس پر چین نے سنہ 1962 کی جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔ اس میدان کے بقیہ حصہ پر انڈیا کا کنٹرول ہے۔ اسی طرح لداخ میں ’دمچوک‘، اور ’چومار‘ بھی متنازع علاقے ہیں جن پر دونوں ملکوں کا دعویٰ ہے۔

عموماً سیاچین گلیشیئر کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک متنازعہ خطہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس خطے کے کچھ حصے کا دعویدار چین بھی بنتا ہے۔ انڈیا کی ریاست ہماچل پردیش میں چین کی سرحد پر دو اور متنازع علاقے ہیں جن میں سے ایک کا نام کورِک شپکی ہے جبکہ دوسرے کا نام کِنُّور ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین ریاست اُتراکھنڈ کے ضلع نیلانگ، پلما سمدا، سنگ، جاڈھنگ، لپتھال اور برھوتی بھی چین اور انڈیا کے درمیان متنازع علاقے ہیں۔

اروناچل پردیش انڈیا کی ایک نئی ریاست ہے جسے سنہ 1972 میں تشکیل دیا گیا تھا، یہ انڈیا کے شمال مشرق میں واقع ہے۔

اس ریاست کے زیادہ تر علاقے پر چین کا دعویٰ ہے کہ یہ تبت کے جنوبی علاقے کا حصہ ہے۔ یہ علاقہ اس وقت انڈیا کے کنٹرول میں ہے۔

جنوبی ایشیا میں انڈیا کی زمین پر تنازعات

صرف چین ہی نہیں، بلکہ انڈیا کے اپنے دیگر ہسائیوں کے ساتھ بھی علاقائی تنازعات ہیں۔ بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ تو انڈیا ایک طویل سفارتی اور مذاکراتی عمل کے بعد ان تنازعات کو طے کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن باقی ممالک کے ساتھ، خاص کر میانمانر، بھوٹان، پاکستان اور نیپال کے درمیان زمینی یا آبی خطے پر تنازعات کشیدگی پیدا کرنے کا سبب بنتےرہتے ہیں۔

سلامتی کونسل میں انڈیا کی رکنیت

،تصویر کا ذریعہAFP Contributor

پاکستان

انڈیا اور پاکستان کے درمیان سب سے بڑا تنازع جموں و کشمیر کے الحاق کا ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ اس تنازعے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا ہے، لیکن انڈیا کے مطابق اب اس کا حل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے روایتی علاقوں یعنی گلگت اور بلتستان کے علاقوں سمیت انڈیا کے زیرِ انتظام لانے کی صورت میں ہو گا۔

گذشتہ برس اگست تک انڈیا کا سرکاری مؤقف تھا کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کو دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے لیکن پچھلے برس اگست میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت بدل دینے کے اقدام کے بعد اب اس پر دو طرفہ بات چیت کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ چین اور پاکستان دونوں ہی نے انڈیا کے اس یکطرفہ موقف کو مسترد کردیا ہے۔

پاکستان کے ساتھ انڈیا کے علاقائی تنازعات پر دعووں اور جوابی دعوؤں کے تصفیے کی فی الحال کوئی امید نظر نہیں آتی ہے۔ حل تو دور کی بات ہے پاکستان اور انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کا تبادلہ ایک معمول بن چکا ہے۔

دونوں کے درمیان تین بڑی جنگیں بھی ہو چکی ہیں اس کے علاوہ تین محدود سطح کی جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ اس تنازعے کی وجہ سے نہ صرف ان دونوں کی اقتصادی ترقی متاثر ہوئی ہے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے ممالک بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

کشمیر

،تصویر کا ذریعہAFP

70 مربع کلو میٹر سیاچن کا خطہ بھی تنازع کا سبب بن چکا ہے۔

سیاچن انڈیا کے شمال مغربی علاقے میں پاکستان کے زیرِ انتظام شمالی گلگت بلتستان ایجنسی کے مشرق میں ایک گلیشئیر کا نام ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ یہ خطہ پاکستان کے زیراتظام تھا لیکن انڈیا نے اس پر قبضہ کر لیا۔

سیاچن گلیشیئر کے شمال میں ’سلتورو رِج‘ ہے جس پر انڈیا کا مؤقف ہے کہ یہ اس کے زیرِ انتظام کشمیر کا حصہ ہے اور اس وقت پاکستان کے کنٹرول میں ہے جبکہ پاکستان کا اس رِج کے بارے میں موقف ہے کہ یہ خطہ گلگت بلتستان کا حصہ ہے۔

ٹرانس قراقرم ٹریکٹ نامی یہ 5800 مربع کلو میٹر کا علاقہ اب چین کے زیرِ انتظام ہے۔ پاکستان اس خطے پر اپنے دعوے سے سنہ 1963 میں دستبردار ہو گیا تھا، تاہم اس ٹریکٹ کو انڈیا اپنے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کا حصہ قرار دے کر اس کا دعویدار ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازعات صرف شمالی علاقے ہی میں نہیں ہیں بلکہ جنوب میں رن آف کچھ کے خطے میں سرکریک کا تنازع بھی حل طلب ہے۔

96 مربع کلو میٹر سرکریک انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک آبی خطہ ہے۔ پاکستان اس کے مشرقی کنارے کی حد تک اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے جب کہ انڈیا اس پانی کو وسط میں تقسیم کرنے کا خواہاں ہے۔

کے پی اولی اور نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننیپال کے وزیر اعظم کے پی اولی اور انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی

نیپال

انڈیا اور نیپال کے درمیان 400 مربع کلو میٹر ’کالا پانی‘ کا ایک خطہ ہے جو اس وقت انڈیا کے زیرانتظام ہے، لیکن نیپال اس خطے پر دعویٰ کرتا ہے۔

گذشتہ ماہ مئی میں انڈین وزارتِ دفاع نے کوہ ہمالیہ میں درّہِ ’لپولیکھ‘ سے گزرتی ہوئی 80 کلو میٹر لمبی ایک سڑک کا انٹرنیٹ پر افتتاح کیا تھا۔

نیپالی حکومت نے اس افتتاح پر احتجاج کرتے ہوئے انڈین سفیر کو طلب کیا اور انھیں بتایا کہ یہ سڑک اُس خطے سے گزرتی ہے جس پر نیپال کا دعویٰ ہے۔ نیپال نے انڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ صورتِ حال کو بغیر سفارتی مشاورت کے بدل رہا ہے۔

اس تنازعے پر کشیدگی اور بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ نیپال نے اب اس خطے میں اپنی پولیس تعینات کردی ہے اور اس نے کالا پانی کو اپنی ریاست کی زمین قرار دینے کے لیے ضروری آئینی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

دوسری جانب انڈیا نے نیپال کو پیغام دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے لیکن ان کا آغاز کووڈ 19 کے بحران کے بعد ہو سکے گا۔

اسی طرح 140 مربع کلو میٹر کا ایک اور خطہ جو ’سوستا‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے وہ نیپال کے زیر انتطام ہے لیکن انڈیا اس رقبے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

سری لنکا

سنہ 1974 میں انڈیا نے بحرِ ہند کے ایک حصے میں آبی گزرگاہ کے حقوق کے تنازعے کو طے کرنے کے لیے سری لنکا سے غیر آباد 235 ایکڑ رقبے پر پھیلے ایک جزیرے کا تنازع اپنے دعوے سے دستبرداری کے اعلان کے ساتھ ختم کیا تھا۔ اس جزیرے کا نام 'کٹ چاتھیوُو' ہے۔

میانمار

میانمار کا علاقہ سگینگ کے گاؤں تامو کا ایک خطہ ہے جس کا نام 'نمفالانگ' اور دوسری جانب انڈیا کی ریاست منی پور کے علاقے موڑ کے درمیان ایک 'وادی کبو' ہے۔ اس وادی پر دونوں ملکوں کا دعویٰ ہے اور تاحال اس تنازعہ کا تصفیہ ہونا باقی ہے۔

مودی، بھوٹانی راجہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا اور بھوٹان کے درمیان کافی گہرے تعلقات ہیں

بھوٹان

بھوٹان اور انڈیا کے درمیان سنہ ستر اور سنہ اسی کی دہائی میں کئی علاقوں میں سخت محنت طلب مذاکرات کے بعد کافی سارے تنازعات طے کر لیے گئے تھے۔

تاہم اب بھی دونوں کے درمیان 'سربھنگ' نامی اور ’گائیلگ پھُگ‘ نامی خطوں پر علاقائی تنازع برقرار ہے۔

بنگلہ دیش

اس کے بعد انڈیا نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی سمندری حدود میں جہاز رانی کے لیے آبی گزرگاہ کے حقوق کے ایک تنازعے کو طے کرنے کے لیے بنگلہ دیش سے خلیج بنگال میں ایک جزیرے 'بانگا بندھو' کے تنازعے کے حل کے لیے معاہدہ کیا۔

یہ جزیرہ بھی غیر آباد ہے۔ یہ جزیرہ خلیج بنگال میں گنگا برہم پترا کے سمندر میں گرنے کے ڈیلٹا والے مقام پر واقع ہے۔

کئی دہائیوں کے جھگڑے اور پھر سخت محنت طلب مذاکرات کے سلسلوں کے بعد پانچ برس قبل ان دونوں ممالک نے سینکڑوں محصور علاقوں کا تبادلہ کیا۔

یہ وہ علاقے ہیں جو دونوں کی سرحدوں پر مخالف ملک کے خطے میں تین اطراف سے محصور تھے (یعنی محصورہ یا دروں خِطّہ یعنی کسی ملک کا ایسا خِطّہ جو دوسرے ملک کے علاقے سے گھرا ہوا ہو)۔

بنگلہ دیش کی سرزمین کے اندر انڈیا کے 111 محصورے تھے جبکہ بنگلہ دیش کے 51 محصورے انڈیا کی سرزمین میں گھرے ہوئے تھے۔

اس طرح انڈیا نے تقریباً 17 ہزار مربع ایکڑ زمین بنگلہ دیش کو دے کر بنگلہ دیش سے سات ہزار مربع ایکڑ زمین لینے کا معاہدہ کیا۔

چینی فوج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ چین کی فوج نے تبت میں انڈین سرحد کے قریب فوجی مشقیں کی ہیں جس میں اصلی گولہ بارود استعمال کیا گیا ہے

عوامی جمہوریہ چین کے علاقائی تنازعات

چین کے بھی اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ علاقائی تنازعات رہے ہیں تاہم سوائے چند ایک کے باقی تنازعات کو اس نے حل کرنے کے لیے مصالحت سے کام لیتے ہوئے سمجھوتے کیے ہیں۔

چین نے اپنے 23 تنازعات میں سے 17 کو نقصان کے عوض حل کیے ہیں جب کہ چھ تنازعات پر رتّی بھر بھی نرمی نہیں دکھائی ہے اور ان میں تاخیری حکمت عملی اختیار کی ہے۔

سنہ 1949 سے لے کر اب تک ان 17 علاقائی تنازعات کو طے کرتے وقت چین نے بعض معاملات میں بہت بنیادی نوعیت کی مصالحت کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔

کئی ایک تنازعات میں تو چین متنازع خطے میں نصف سے زیادہ زمین اپنے مد مقابل کو دینے کے لیے بھی تیار ہوا ہے۔

ان میں 15 تنازعات ایسے ہیں جن میں چین کی مصالحت کرنے کی رضا مندی نے ان تنازعات کے دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے مستقل بنیادوں پر طے کرنے کے رستے کھول دیے۔

امریکہ کی معروف یونیورسٹی میساچیوسٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے پولیٹکل سائنس کے پروفیسر ایم ٹیلر فریول نے اپنے ایک تحقیقی مقالے ’ریجیم اِنسیکیورٹی اینڈ انٹرنیشنل کوآپریشن‘ میں چین کے اپنے ہمسائیوں کے ساتھ تنازعات کے تصفیوں کی ایک فہرست جمع کی ہے۔

ان کا اصل مقصد ان نظریات پر بحث کرنا تھا کہ آمریتیں یا جمہوریتیں اپنے اندرونی مسائل کے لیے بیرونی خطرات کا کس طرح استعمال کرتی یا نہیں کرتی ہیں۔

برما

چین نے برما کے ساتھ سنہ 1956-1957 کے دوران مذاکرات کے ذریعے ایک متنازع خطے کا حل نکال لیا۔

یہ مذاکرات برما اور چین کی فوجوں کے درمیان تصادم کے بعد شروع ہوئے تھے۔ تصفیے کے معاہدے کے نتیجے میں چین کو متنازع علاقے کا 18 فیصد (1909 مربع کلو میٹر) حصہ ملا جبکہ برما کو اہم نوعیت کی شاہراہ ملی، ایک نمک کی کان ملی اور ملک کے شمال میں اپنی مرضی کی سرحد کی نشاندہی کا حق ملا۔

نیپال

نیپال کے ساتھ سنہ 1960 میں اپنا علاقائی تنازع طے کرتے وقت چین نے متنازع زمین میں سے صرف چھ فیصد حصے اور ماؤنٹ ایویرسٹ کے نصف حصے پر اکتفا کیا۔

اس متنازع خطے کی زیادہ تر سرسبز زمین نیپال کو ملی تھی۔ چین کو کُل ملا کر 2476 مربع کلو میٹر رقبہ ملا تھا، اس میں ماؤنٹ ایوریسٹ کا علاقہ شامل نہیں تھا۔

سکم

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty

،تصویر کا کیپشنانڈین وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے کہا کہ دونوں ممالک موجودہ کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کر رہے ہیں

انڈیا

انڈیا کے ساتھ بھی جن دنوں چین کی بہت دوستی تھی، چین نے سنہ 1960 میں علاقائی تنازع طے کیا تھا جس کے مطابق چین کے حق میں انڈیا متنازع خطے کے سوا لاکھ مربع کلو میٹر علاقے سے دستبرادر ہوا تھا۔

چین کو ملنے والی یہ زمین متنازع کا 26 فیصد حصہ بنتا ہے۔ تاہم یہ تنازع مکمل طور پر ابھی تک حل نہیں ہوا ہے۔

البتہ دونوں کے درمیان اعتماد سازی اور سرحدوں پر امن قائم رکھنے کے مختلف ادوار میں معاہدے ہوئے۔ (چین کے انڈیا کے ساتھ کئی ایک علاقائی تنازعے ہیں جو حل طلب ہیں۔)

شمالی کوریا

سنہ 1962 میں شمالی کوریا کے ساتھ علاقائی تنازع طے کرنے کے لیے چین نے ایک معاہدہ کیا اور پھر اس کے بعد سنہ 1964 میں ایک دو طرفہ پروٹوکول پر دستخط کیے۔

ان کے نتیجے میں چین کو ایک متنازع جھیل میں سے 40 فیصد حصہ ملا جو 1165 مربع کلو میٹر بنتا ہے۔ جھیل کا باقی حصہ شمالی کوریا کو ملا۔

منگولیا

چین کے شمال میں اس کا ہمسایہ ملک منگولیا کے درمیان علاقائی تنازع طے کرنے کے لیے سنہ 1962 میں ایک معاہدہ ہوا اس کے بعد سنہ 1964 میں ایک پروٹوکول پر دستخط ہوئے جس کی بدولت چین کو متنازع علاقے کا نو فیصد حصہ ملا جو کہ 16808 مربع کلو میٹر بنتا ہے۔

پاکستان

چین اور پاکستان نے سنہ 1963 کے معاہدے سنہ 1964 کے ایک سرحدی پروٹوکول کے ذریعے سیاچن کے شمال میں ایک خطے کا تنازع طے کیا۔

اس کے مطابق چین کو متنازع علاقے کا 60 فیصد حصہ ملا۔ تاہم چین نے متنازع علاقے کے علاوہ پاکستان کو 1942 مربع کلومیٹر زمین کا انتقال بھی کیا۔

افغانستان

چین اور افغانستان کے درمیان واخان کی پٹی کے ذریعے ایک رابطہ بنتا ہے جو کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان موجود ہے۔

سنہ 1963 میں افغانستان کے ساتھ سرحدی معاہدے کے ذریعے چین 7381 مربع کلو میٹر رقبے سے دستبردار ہوا تھا۔ یہ معاہدہ مکمل طور پر افغانستان کے حق میں تھا، چین کو متنازع خطے میں سے کچھ بھی نہیں ملا تھا۔

روس

چین کے روس کے ساتھ کئی جگہوں پر سرحدی تنازعات تھے۔ چین کی مشرقی سرحد پر تنازعے کو طے کرنے کے لیے چین اور روس نے سنہ 1964 میں اتفاق رائے سے معاہدہ کیا تھا۔

ایک متنازع جزیرے کو انھوں نے ’تھلواگ اصول‘ کے تحت برابر برابر تقسیم کر لیا تھا۔ اس کے بعد سنہ 1969-1978 اور 1987-1991 کے دوران مذاکرات کے سلسلوں کے نتیجے میں چین کو متنازع دریائی جزیروں کا 52 فیصد حصہ ملا جبکہ باقی متنازع خطے کو برابر تقسیم کیا گیا تھا۔ اس طرح چین کو 1000 مربع کلو میٹر رقبہ ملا تھا۔

چین کی روس سے لگنے والی مغربی سرحد پر تنازع سنہ 1994 کے ایک معاہدے کے ذریعے طے پایا تھا۔ اس معاہدے کی وجہ سے چین اور روس نے اس وقت کی لائن آف ایکچؤل کنٹرول کو مستقل سرحد کے طور پر تسلیم کیا تھا۔

چین کے شمالی مشرق میں روس اور چین کے درمیان فوجی نوعیت کے ایک اہم جزیرے پر تنازع تھا۔ اس تنازعے کو طے کرنے کے لیے سنہ 1964 سے لے کر سنہ 2004 تک مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

اس معاہدے سے چین کو 408 کلو میٹر رقبہ ملا۔ متنازع جزیرے ’اباگیتو‘ اور ’ہیکسیازی‘ کو دونوں ملکوں نے برابر تقسیم کیا۔ ان میں وہ تنازعہ بھی شامل تھا جو سوویٹ یونین کے زمانے سے چلا آرہا تھا۔

بھوٹان

چین نے ایک دو طرفہ معاہدے کے ذریعے بھوٹان کے ایک سرحدی علاقے کے تنازعے کا تصفیہ اس طرح کرنے کی کوشش کی کہ جس کے نتیجے میں متنازع زمین کا 24 فیصد حصہ چین ملے گا جو کہ 1128 مربع کلو میٹر بنتا ہے۔

تاہم یہ تنازعہ ابھی تک حل طلب ہے۔

لاؤس

چین کی سرحد لاؤس سے بھی ملتی ہے لیکن ان کے درمیان ایک معمولی سے تنازع تھا جسے ایک مثبت ماحول میں طے کرلیا گیا۔

سنہ 1990-1991 کے دوران مذاکرات کے ایک سلسلے کے بعد دونوں نے ایک سرحدی معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں چین کو 18 کلو میٹر کا رقبہ ملا جو کہ متنازع زمین کا نصف بنتا ہے۔

ویت نام

چین اور ویت نام کے درمیان علاقائی تنازعے کے تصفیے کے لیے دونوں ملکوں نے سنہ 1977 میں مذاکرات کے سلسلے کا ایک آغاز کیا تھا لیکن سنہ 1982-1989 کے طویل اور صبر آزما مذاکرات کے بعد چین کو متنازع زمین کا پچاس فیصد ملا جو کہ 227 مربع کلو میٹر بنتا ہے۔

ویت نام کے ساتھ چند متنازع جزیروں پر تاحال تصفیہ نہیں ہوا ہے۔

قزاقستان

چین کا وسطی ایشیا میں سب سے بڑا ہمسائیہ قزاقستان ہے ان دونوں ملکوں کے درمیان علاقائی تنازع کو سنہ 1982 سے لے کر سنہ 1998 کے درمیان مذاکرات کے ذریعے اس طرح طے کیا کہ چین کو متنازع رقبے کا 22 فیصد حصہ ملا جو کہ 2024 مربع کلو میٹر بنتا ہے۔

کرغستان

سنہ 1992 سے لے کر سنہ 2002 کے درمیان طویل مذاکرات کے ذریعے چین نے 3656 مربع کلو میٹر زمین حاصل کی جو کہ متنازع رقبے کا 32 فیصد حصہ بنتی ہے۔

اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید پروٹوکولز پر بھی دستخط ہوئے تھے۔

تاجکستان

تاجکستان کے ساتھ طے ہونے والا معاہدہ تقریباً یکطرفہ تھا۔ اس تنازعے پر مذاکرات کا سلسلہ سوویت یونین کے زمانے میں سنہ 1964 سے شروع ہوا تھا جو بعد میں پھر سے 1990-2004 تک جاری رہے۔

اس معاہدے کے مطابق تنازعے کے حل کے بعد چین کو 28430 مربع کلو میٹر رقبہ ملا جو کہ متنازع رقبے کا چار فیصد بنتا ہے۔

جن تنازعات پر چین نے سمجھوتا نہیں کیا

چین نے ’مکاؤ‘ اور ہانگ کانگ کے بارے میں جو معاہدے پہلے ہو چکے تھے ان پر نہ پرتگال سے اور نہ ہی برطانیہ سے کوئی معاہدہ کیا۔

ابتدا میں برطانیہ کی کوشش تھی کہ ہانگ کانگ کے برطانیہ کی تحویل میں توسیع کا ایک معاہدہ ہو جائے لیکن چین نے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا۔ بالآخر برطانیہ کو پرتگال کی طرح ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنا پڑا تھا۔

چین ایک زمانے میں اپنے سرحدی اور علاقائی تنازعات طے کرنے کے لیے انڈیا کے ساتھ بھی نیپال اور بھوٹان جیسے مصالحت پسند سمجھوتے کرنے کے لیے تیار تھا جس میں انڈیا کی خواہش کے مطابق میک موہن لائن کو بھی وہ تسلیم کرنے کے لیے تیار تھا لیکن وہ اکسائی چِن پر اپنی حاکمیت چاہتا تھا۔

ایم آئی ٹی کے ریسرچر ایم ٹیلر فریول کے مطابق اس معاہدے کے ہوم ورک کے ساتھ سنہ 1960 میں چینی وزیر اعظم چو این لائی انڈین وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو سے دہلی میں مذاکرات کے چھ دور بھی ہوئے لیکن وہ ناکام رہے۔

چو این لائی ’ہولیانگ ہورین‘ (کچھ دو اور کچھ لو) کے اصول پر انڈیا کے ساتھ سرحدی تنازعات طے کرنے کی تجاویز لے کر آئے تھے۔

ڈاکٹر رام چندر گوہا اپنے تحقیقی مقالے ’جواہر لعل نہرو اینڈ چائنا: اے سٹڈی اِن فیلیور‘ میں کہتے ہیں کہ شاید نہرو چینی رہنما کی تجاویز قبول کر لیتے لیکن تبت میں بغاوت کے آغاز اور دہلی میں پارلیمان میں چینی پیش کش کے خلاف بیانات سے نہرو نے اپنی خیر و عافیت اسی میں بہتر سمجھی کہ کوئی معاہدہ نہ کیا جائے۔

تاہم چینیوں نے انڈیا کے اس رویے کو چین کے خلاف ایک سازش سمجھا اور اس طرح انڈیا اور چین کے درمیان کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر ہونے والے معاہدے کی وہیں موت ہو گئی۔