’میرے دشمن، میرے بھائی، میرے ہمسائے:‘ بالی وڈ میں انڈیا پاکستان جنگ پر مبنی ’بارڈر ٹو‘ جیسی فلموں کی ریلیز پر بحث

social media

،تصویر کا ذریعہsocial media

    • مصنف, وندنا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

بالی وڈ میں جنگ اور جاسوسی پر مبنی فلمیں کوئی نئی بات نہیں لیکن حالیہ مہینوں میں اس صنف کی فلموں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 1971 کی انڈیا-پاکستان جنگ پر مبنی فلم ’اکیس‘ جو اداکار دھرمیندر کی آخری فلم بھی ہے، حال ہی میں ریلیز ہوئی ہے۔

اسی جنگ پر مبنی ایک اور فلم ’بارڈر ٹو‘ جنوری میں ریلیز ہو رہی ہے۔ اس سے قبل جاسوسی پر مبنی فلم ’دھورندھر‘ نے انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کی عکاسی پر تعریف کے ساتھ ساتھ کچھ بے چینی بھی پیدا کی تھی۔

’بارڈر ٹو‘ سنہ 1997 میں ریلیز ہونے والی مشہور فلم ’بارڈر‘ کے 29 برس بعد آ رہی ہے۔ پہلی فلم میں اکشے کھنہ نے انڈین فوجی افسر دھرمویر سنگھ کا کردار ادا کیا تھا۔

یہی اکشے کھنہ آج کل فلم ’دھورندھر‘ میں رحمان ڈکیت کے کردار کے باعث توجہ کا مرکز ہیں۔

India

،تصویر کا ذریعہJio Studio

،تصویر کا کیپشناکیس

رازی کا پیغام: قوم سب سے پہلے ہے۔۔ خود سے بھی پہلے

جنگی فلموں میں میدانِ جنگ کی بہادری کو اجاگر کرنا ایک اہم عنصر ہے جو شائقین کو سنیما گھروں تک کھینچ لاتا ہے۔ سینیئر فلم صحافی پنکج شکلا کے مطابق اچھی فلم وہ ہے جو منفرد کہانی بُنے اور انسانیت کی بات بھی کرے۔ ’رازی‘ اور ’اکیس‘ جیسی فلمیں حب الوطنی کو جذباتی گہرائی اور جنگ کی انسانی قیمت کے ساتھ جوڑتی ہیں۔

’اکیس‘ ایک 21 سالہ انڈین فوجی افسر ارون کھیترپال کی اصل کہانی بیان کرتی ہے، جنھیں 1971 کی جنگ کے بعد انڈیا کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ’پرم ویر چکر‘ بعد از مرگ دیا گیا۔

فلم میں ارون کھیترپال کے 81 سالہ والد کی کہانی بھی شامل ہے، جو برسوں بعد پاکستان کے دورے پر ریٹائرڈ بریگیڈیئر خواجہ محمد ناصر سے ملتے ہیں۔ اس ملاقات میں ناصر نے بتایا کہ ارون کھیترپال کو ان کے ٹینک کے گولے نے ہلاک کیا تھا۔ یہ منظر فلم میں ایک جذباتی تصادم کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

Indina films

،تصویر کا ذریعہJio Studio

انڈیا اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر جنگی فلموں کے حوالے سے مختلف نقطۂ نظر سامنے آئے ہیں۔ کرنل انوراگ اوستھی (ریٹائرڈ) نے ایکس پر لکھا کہ ’اکیس‘ میں غیر ضروری ’امن پسند احتیاط‘ کو ارون کھیترپال کی بہادری اور ورثے پر فوقیت دی گئی ہے۔

دوسری جانب سینیئر صحافی اجے برہمتماج کا کہنا ہے کہ ’اکیس جیسی جنگی فلم صرف ارون کھیترپال کی قربانی کی کہانی نہیں، بلکہ یہ انسانیت، جنگ کے خوفناک مناظر کے بیچ معافی اور بالآخر ایک اینٹی وار فلم ہے۔‘

پاکستانی نژاد صارف صائم علی نے انسٹاگرام پر فلم ’اکیس‘ کے بارے میں اپنا ردعمل شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’تم ملکوں کے لیبل ہٹا دو ۔۔ ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ غلط کرنا بس غلط ہے۔ میں بالی وڈ کا بڑا مداح ہوں۔ مجھے یہ فلم واقعی پسند آئی۔‘

’جنگی فلم دراصل ایک جنگ مخالف فلم ہوتی ہے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

فلم کے ہدایت کار سری رام راگھوان نے صحافی برادواج رنگن سے گفتگو میں کہا کہ ’کوئی بھی اچھی جنگی فلم دراصل ایک اینٹی وار فلم ہوتی ہے۔ ایسی فلم جو جنگ کے مناظر سے متاثر کرتی ہے لیکن ساتھ ہی دل کو چھوتی ہے اور سوال اٹھاتی ہے۔‘

سنہ 1997 میں ریلیز ہونے والی فلم ’بارڈر‘ کے ہدایت کار جے پی دتہ نے بھی انڈیا-پاکستان جنگ کی شدت اور وسعت دکھائی تھی، لیکن ساتھ ہی سوالات بھی اٹھائے تھے۔

فلم کے ایک منظر میں اداکار سنیل شیٹی پوچھتے ہیں ’تم نے فوج میں شمولیت کیوں اختیار کی؟‘

جس پر اکشے کھنہ جواب دیتے ہیں کہ ’میرے والد نے محبت کا واسطہ دے کر مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں فوج میں شامل ہوں گا۔ انھوں نے میرے ہاتھ میں بندوق تھمائی اور کہا کہ سامنے والے فوجی کو گولی مار دو۔‘

’وہ فوجی جو میری طرح کسی ماں کا بچہ ہے، جسے میں نے کبھی نہیں دیکھا، جس نے میرا کچھ نہیں بگاڑا، جس کا نام تک مجھے معلوم نہیں۔ آخر کیوں، کس لیے؟‘

اس پر سنیل شیٹی کا جواب ہوتا ہے ’کیونکہ اگر تم اسے نہیں مارو گے تو وہ تمھیں مار دے گا۔‘

اکشے کھنہ کا کردار اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالات سے آگے بڑھ کر جنگ میں بہادری سے لڑتا دکھایا گیا ہے۔

India

،تصویر کا ذریعہT Series JP Films

’جب دونوں ملکوں کی گلیوں میں بھوکے بچے روتے ہیں۔۔۔‘

فلم ’بارڈر‘ میں انڈین اور پاکستانی افواج کے درمیان طویل جنگی مناظر شامل تھے۔ سنہ 1997 میں جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو سینما گھروں میں کئی مکالموں پر زبردست تالیاں بجیں۔

مثال کے طور پر جب سنی دیول کا کردار میجر کلدیپ جنگ پر جانے یا اپنے بچے کے پاس رہنے کے درمیان انتخاب کرتا ہے تو وہ اپنی بیوی کی مخالفت کے باوجود اعلان کرتا ہے کہ ’تمھارا کلدیپ قوم کے لیے کسی بھی وقت اپنے بچے کی قربانی دے سکتا ہے۔‘

یا جب دھرم ویر سنگھ (اکشے کھنہ) میدانِ جنگ میں قربان ہوتا ہے اور اپنی نابینا ماں کو سہرا بُنتے ہوئے دیکھتا ہے، تو ناظرین کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

فلم ’بارڈر‘ کے بالکل آخر میں جب گانا ’میرے دشمن میرے بھائی میرے ہمسائے‘ بجایا گیا تو سینما ہال میں کئی آنکھیں نم ہو گئیں۔

اس کے بول سوال اٹھاتے ہیں کہ ’ہم اپنی کھیتوں میں گندم یا چاول کے بجائے بندوقیں کیوں بوتے ہیں، جب دونوں ملکوں کی گلیوں میں بھوکے بچے روتے ہیں؟ آؤ قسم کھائیں کہ اب جنگ نہیں ہو گی۔‘

دلجیت دوسانجھ بطور نرمل جیت سنگھ

اسی پس منظر میں جلد ریلیز ہونے والی فلم ’بارڈر ٹو‘ بھی سنہ 1971 کی انڈیا-پاکستان جنگ پر مبنی ہے۔ اس میں انڈین فضائیہ کے افسر نرمل جیت سنگھ سیکھوں کی کہانی دکھائی گئی ہے، جنھیں انڈیا کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ’پرم ویر چکر‘ دیا گیا تھا۔ یہ کردار گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ ادا کر رہے ہیں۔

پہلی فلم ’بارڈر‘ میں اکشے کھنہ اور سنیل شیٹی کے کردار جنگ میں جان قربان کر دینے والوں کے دکھائے گئے تھے۔ جنگی حقیقتوں اور فلمی آزادیوں کے امتزاج نے اس فلم کو زبردست باکس آفس کامیابی دلائی۔ تاہم حقیقت میں دھرم ویر سنگھ، جسے اکشے کھنہ نے ادا کیا تھا، زندہ رہے اور کرنل کے عہدے تک پہنچے۔

وہ مئی 2022 میں فوت ہوئے ہیں۔ ایک پرانی گفتگو میں انھوں نے یاد کیا کہ سنہ 1997 میں فلم ریلیز سے پہلے سنسر بورڈ نے ان کے کردار کو مر جانے والے فوجی کے طور پر دکھانے پر اعتراض کیا تھا۔ ہدایت کار جے پی دتہ نے انھیں کہا کہ وہ ایک نوٹ بھیجیں کہ انھیں کوئی اعتراض نہیں۔

دھرم ویر سنگھ نے بتایا کہ ’مجھے تو پتا بھی نہیں تھا فیکس کیا ہوتا ہے۔ میری بیوی نے کہا ہمیں بھیج دینا چاہیے، یہ ملک کا معاملہ ہے۔ بہت سے لوگوں نے مشورہ دیا کہ قانونی کارروائی کریں، لیکن میں نے کہا یہ شرافت کے خلاف ہوگا۔‘

Raazi

،تصویر کا ذریعہDharma Productions

’سب سے پہلے اپنا ملک، خود سے بھی پہلے‘

جنگ اور جاسوسی پر مبنی فلموں کی بات ہو تو ’رازی‘ بھی اس کی ایک اہم مثال ہے۔

اس میں عالیہ بھٹ نے سہمت کا کردار ادا کیا جو پاکستان میں خفیہ انڈین ایجنٹ کے طور پر رہتی ہیں، ایک پاکستانی فوجی سے شادی کرتی ہیں اور انڈیا کے لیے جاسوسی کرتی ہیں۔

سہمت کہتی ہیں کہ ’قوم سب سے پہلے ہے۔۔۔ خود سے بھی پہلے۔‘ یہ فلم ناول ’کالنگ سہمت‘ پر مبنی ہے جو ایک حقیقی انڈین خاتون جاسوس کی کہانی بیان کرت ہے۔

فلم کے ایک منظر میں سہمت اس دنیا پر سوال اٹھاتی ہے جہاں نہ رشتوں کی قدر ہے نہ زندگی کی۔۔ سہمت خواہش کرتی ہے کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر اپنے گھر واپس جا سکے۔

Dhurunder

،تصویر کا ذریعہJio Studio

،تصویر کا کیپشندھورندھر

’بارڈر اور فوجیوں کی زندگی‘

’بارڈر‘ میں بھی فوجیوں کی زندگیوں کو جگہ دی گئی تھی۔ ان کے خواب، بیرکوں میں دوستی اور ادھوری خواہشات کو دکھایا گیا۔ جب صحرائی علاقوں میں تعینات فوجیوں کو طویل انتظار کے بعد خطوط ملتے ہیں تو نو منٹ کا مشہور گانا ’سندیسے آتے ہیں‘ ہر فوجی کی کہانی کو ایک ساتھ جوڑ دیتا ہے۔

ادھر سوشل میڈیا پر جنگی فلموں پر بحث جاری ہے۔

بالی وڈ کی کئی شخصیات جیسے اکشے کمار، وویک اگنی ہوتری اور کرن جوہر نے فلم ’دھورندھر‘ کی بھرپور تعریف کی ہے۔ اکشے کمار نے ایکس پر لکھا کہ ’میں حیران رہ گیا ہوں۔۔۔ ہمیں اپنی کہانیاں سخت انداز میں سنانی چاہیں۔‘

لیکن پاکستانی مصنف اور صحافی محمد حنیف نے فلم میں دکھائے گئے کچھ مناظر پر سوال اٹھایا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’پاکستان میں لوگوں نے فلم دیکھنے کے طریقے نکال لیے ہیں۔ میں نے اپنی نصف زندگی کراچی میں گزاری ہے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ سب کو جانتا ہوں، لیکن میں نے کبھی نہیں سنا کہ کراچی میں لوگ ممبئی حملوں پر جشن مناتے تھے جیسا کہ فلم ’دھورندھر‘ میں دکھایا گیا ہے۔‘

سینیئر صحافی پنکج شکلا نے ان مباحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ’دھورندھر‘ جیو سٹوڈیوز نے بنائی تھی اور ’اکیس‘ بھی جیو سٹوڈیوز نے ہی انڈیا میں تقسیم کی۔ چونکہ دونوں فلموں کا نفع نقصان آخرکار اسی کمپنی کو جاتا ہے، اس لیے سوشل میڈیا پر لوگوں کا آپس میں لڑنا بے معنی ہے۔‘