کالی مرچ: ہزاروں سال قدیم مسالہ ہماری صحت کے لیے کتنا مفید ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جیسمین فاکس سکیلی
- عہدہ, بی بی سی
اپنے کھانے میں کالی مرچ یا ڈریسنگ (تیل سرکہ وغیرہ) شامل کرنے سے آپ کو زیادہ وٹامنز اور معدنیات جذب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس سے خوراک کی غذائیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ ہزاروں سالوں سے ایک قیمتی مسالہ رہا ہے کیونکہ یہ کھانوں کو منفرد ذائقہ بخشتا ہے۔
کالی مرچ کا پودا اصل میں انڈیا سے آیا تھا، جہاں اسے 3500 سال سے زیادہ وقت سے کاشت کیا جا رہا ہے ۔ یہ قدیم دنیا کی سب سے قیمتی اشیاء میں سے ایک بن گئی ہے۔
آج ہم میں سے اکثر لوگ اس کے بارے میں سوچے بغیر ذائقے کے لیے اسے اپنے کھانے پر چھڑکتے ہیں۔
تاہم کالی مرچ کو اپنے کھانے میں شامل کرنا ذائقہ شامل کرنے کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کر سکتا ہے۔ یہ آپ کے کھانے سے حاصل ہونے والے غذائی اجزاء کی مقدار کو بڑھا سکتا ہے۔
کالی مرچ میں ایک ایسا کیمیکل ہوتا ہے جو وٹامنز اور دیگر غذائی اجزاء کو خون میں آسانی سے جذب ہونے میں مدد کرتا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ دودھ اور زیتون کے تیل میں پائے جانے والے چکنائی کے چھوٹے چھوٹے قطرے بھی جسم میں غذائی اجزاء کی دستیابی کو بہتر بناتے ہیں۔
سائنس دان اب ان اثرات کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ نئی قسم کے فورٹیفائیڈ فوڈز تیار کریں اور ان لوگوں کی مدد کریں جنھیں صحت مند رہنے کے لیے ضروری غذائی اجزاء کو جذب کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
انتہائی غذائیت سے بھرپور غذاؤں کی موجودگی کے باوجود بھی ہمیں ایک مسئلہ درپیش آتا ہے کہ ہمارا جسم وٹامنز اور معدنیات کو اس وقت ضائع کر سکتا ہے جب وہ ہمارے نظام انہضام سے گزرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مثال کے طور پر سویٹ کارن (سکویڈ کارن) لیں۔ مکئی کے دانے بلاشبہ خوبیوں سے بھرے ہوتے ہیں – وہ فائبر، پروٹین، وٹامنز اور پوٹاشیم جیسے مائیکرو نیوٹرینٹس سے بھرے ہوتے ہیں۔
اس کے دانوں کی بیرونی تہہ کا ہمارے جسم میں جا کر ٹوٹنا ذرا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر اگر ہم اسے اچھی طرح چبا کر نہ کھائیں تو۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف میساچوسٹس میں فوڈ سائنسز کے پروفیسر ڈیوڈ جولین میک کلیمینٹس کا کہنا ہے کہ ’جب آپ مکئی کھاتے ہیں تو یہ اکثر بغیر ہضم ہو کر آپ کے فضلے میں جاتا ہے، جس کے اندر تمام غذائی اجزا اسی میں پھنسے رہ جاتے ہیں۔‘
تاہم مکئی کو اچھی طرح چبانے سے ہم اس کے اندر سے غذائیت سے بھرپور گودا خارج کر سکتے ہیں تاکہ اسے ہضم کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کھانے کی ساخت
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ مثال کھانے کے بارے میں ایک سادہ سچائی کو واضح کرتی ہے۔ غذائی اجزاء کو ہضم کرنے اور جسم کے استعمال کرنے کے لیے انھیں سب سے پہلے پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، چکنائی اور دیگر اجزاء کے پیچیدہ ’سٹرکچر‘ سے آزاد ہونا چاہیے جو خوراک کو اس کی ساخت اور شکل دیتے ہیں۔
کچھ اور رکاوٹیں بھی ہیں جو وٹامنز کو ہضم ہونے سے روک سکتی ہیں۔ کھانے کی ساخت سے آزاد ہونے کے بعد وٹامنز کو ہضم کر کے جوس میں حل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر انہیں چھوٹی آنت تک پہنچنا چاہیے، جہاں ’انٹروسائٹس‘ نامی خصوصی خلیے انھیں خون کے دھارے میں لے جاتے ہیں۔
تاہم بہت سے وٹامنز – بشمول اے، ڈی، ای اور وہ جنھیں چربی میں حل پذیر وٹامنز کے طور پر درجہ بند کیا جاتا ہے، انھیں خون میں گھلنے میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
پروفیسر ڈیوڈ جولین میک کلیمینٹس کہتے ہیں کہ ’چربی میں موجود وٹامنز پانی میں تحلیل نہیں ہوتے ہیں، لہذا اگر آپ انھیں کھاتے ہیں اور آپ کے کھانے میں کوئی چربی نہیں ہے تو وہ تحلیل نہیں ہوں گے اور وہ صرف آپ کے ہاضمے سے گزریں گے اور آپ کے پاخانے میں جائیں گے۔‘
کھانے کی ساخت بھی یہاں مدد کر سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میک کلیمینٹس کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ کچھ چکنائی کے ساتھ وٹامنز کھاتے ہیں تو چربی ٹوٹ جاتی ہے اور آپ کے ہاضمے کے اندر ’مائیکلز‘ نامی چھوٹے نینو سائز کے ذرات بن جاتی ہے۔‘
’وہ وٹامنز کو اپنے اندر پھنسا لیتے ہیں۔ پھر وہ انھیں پانی والے ہاضمے کے رس کے ذریعے ’اپیٹیلیئل‘ خلیوں میں لے جاتے ہیں جہاں وہ جذب ہو سکتے ہیں۔‘
تاہم کچھ لوگ ایسے ہیں جنھیں اپنے کھانے سے وٹامنز جذب کرنے میں اضافی دشواری ہوتی ہے۔
سادہ الفاظ میں ’میل ابسورپشن سنڈروم‘ جس کا مطلب ہے کہ آپ خواہ کتنی ہی اچھی غذا کھائیں، آپ کا جسم اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ غذائی اجزاء پاخانے کے ذریعے خارج ہوتے ہیں۔
یہ متعدد مختلف وجوہات کی بناء پر ہو سکتا ہے، بشمول سوزش والی آنتوں کی بیماری (IBD)، سیلیک بیماری، ریڈیو تھراپی اور کیمو تھراپی۔ دائمی لبلبے کی سوزش ایک طویل مدتی بیماری ہوتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ سوزش لبلبے کو مستقل نقصان پہنچاتی ہے جس کی وجہ سے یہ ٹھیک سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
جگر کی بیماری چھوٹی آنت میں پت کے بہاؤ کو بھی روک سکتی ہے۔ پت چربی کو ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے اور غذائی چربی کے بغیر، جسم چربی میں گھلنشیل وٹامنز کو جذب نہیں کر سکتا۔
ایسے معاملات میں وٹامن سپلیمنٹس لینے کی اکثر سفارش کی جاتی ہے۔
سپلیمنٹس کا مسئلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہارورڈ میڈیکل سکول میں میڈیسن کی پروفیسر جوآن مینسن نے وٹامنز اور سپلیمنٹس کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا ہے وہ کہتی ہیں کہ ’وٹامن اور معدنی سپلیمنٹس ہر کسی کے لیے نہیں ہوتے اور زیادہ تر لوگوں کو ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘
اس کے بجائے وہ کہتے ہیں کہ ایک صحت مند اور متوازن غذا کافی ہونی چاہیے۔
’تاہم کروہن کی بیماری، السرٹیو کولائٹس اور سیلیک بیماری جس میں گلوٹین سے الرجی ہو جاتی ہے اس میں لوگ اکثر چکنائی کو صحیح طریقے سے جذب نہیں کر پاتے۔ یہ چربی میں حل پذیر وٹامنز جیسے وٹامن ای ، ڈی اے اور کے میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے ملٹی وٹامن لینا ایسے معاملات میں بہت مناسب ہو سکتا ہے۔‘
لیکن سپلیمنٹس کے طور پر وٹامنز آسانی سے جذب نہیں ہوتے۔ لہٰذا اس پر قابو پانے کے لیے سائنس دان وٹامن کے جذب کو بڑھانے کے لیے نئے طریقے تیار کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کلید ’نینو پارٹیکلز‘ ہیں جو خود وٹامنز کے گرد بنتے ہیں۔
میک کلیمینٹس کا کہنا ہے کہ ’وہ (سائنسدان) اس کی نقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جسم پہلے سے کیا کر رہا ہے، لیکن دوسری قسم کے مالیکیولز کا استعمال کر رہے ہیں جو عام طور پر کھانے میں نہیں پائے جاتے۔‘
نینو پارٹیکلز انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں جن کا سائز ایک سے 100 نینو میٹر (nm) تک ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ایک انسانی بال تقریباً 80،000 سے 100،000 نینو میٹر موٹے ہیں۔
کینیڈا میں البرٹا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے پتا لگایا کہ مٹر کے پروٹین سے بنے نینو پارٹیکلز کے اندر وٹامن ڈی کو لپیٹنے سے بھی وٹامن کے جذب میں اضافہ ہوتا ہے۔
دریں اثنا میک کلیمنٹس کی اپنی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بیٹا کیروٹینوئڈ جو وٹامن اے کی گولیوں کا پیش رو ہے اسے ’لیپوسومز‘ کہلانے والے نینو سائز کے چربی کے قطروں کے ساتھ لینا سپلیمنٹ کی ’حیاتیاتی دستیابی‘ یعنی خون میں جذب ہونے والے وٹامن کی مقدار کو 20 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔
کیروٹینوئڈز شوخ رنگ کے پھل اور سبزیاں جیسے گاجر، بروکلی، سبز پتوں والی سبزیوں اور ٹماٹر سے حاصل ہو سکتا ہے۔
ایک مطالعے کے دوران میکلیمنٹس نے لوگوں کو بتایا کہ وہ نینو پارٹیکلز کے ساتھ یا بغیر سلاد کھائیں۔
سلاد میں 50 گرام چھوٹی پالک، 50 گرام رومین سلاد پتہ، 70 گرام کدوکش گاجر اور 90 گرام چیری ٹماٹر شامل تھے۔
میک کلیمنٹس کہتے ہیں کہ ’اگر آپ انھیں صرف سلاد دیں تو بہت کم کیروٹینائیڈز خون میں ہیں جاتے کیونکہ بغیر چربی کے وٹامنز آپ کے ہاضمے کے رس میں حل نہیں ہوتے۔‘
’لیکن اگر ہم انھیں سلاد کی ڈریسنگ دیں جس میں بہت چھوٹے چربی کے قطرے ہوں تو خون میں کیروٹینائیڈز جذب ہونے کی مقدار بہت بڑھ جاتی ہے۔‘
کالی مرچ کی طاقت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہاں کالی مرچ کا کردار آتا ہے۔
جب میک کلیمنٹس اور ان کی ٹیم نے سلاد اور ڈریسنگ میں کالی مرچ شامل کی تو اس نے غذائی اجزا کو جذب کرنے کی صلاحیت کو اور بھی بڑھا دیا۔
آنتوں کی پرت میں موجود خلیات میں اکثر ’ٹرانسپورٹرز‘ ہوتے ہیں جو جذب شدہ غذائی اجزا لے سکتے ہیں اور انھیں ہاضمے کی نالی میں واپس بھیج سکتے ہیں۔
تاہم کالی مرچ میں موجود کیمیکل ان ٹرانسپورٹرز کو روکتا ہے، جس سے آپ کے خون میں مزید وٹامنز یا کیروٹینائڈز جذب ہو جاتے ہیں۔
تب میک کلیمنٹس کو ایک احساس ہوا کہ یہ طریقہ ہزاروں سالوں پہلے ہی موجود تھا۔
وہ کہتے ہیں، ’ہم نے کرکومین (ہلدی میں پایا جانے والا ایک مرکب) کی حیاتیاتی دستیابی کو بہتر بنانے کی کوشش میں برسوں تک کام کیا۔‘
’ہم نے پروٹین یا چکنائی یا کاربوہائیڈریٹس سے بنے ان تمام مختلف ترسیلی نظاموں کا موازنہ کیا اور پتا چلا کہ سب سے بہتر یہ چھوٹی چربی کی بوندیں تھیں جو بالکل دودھ کی طرح نظر آتی ہیں جس میں آپ کرکومین ڈالتے ہیں۔‘
’میں اپنے شہر میں گھوم رہا تھا اور وہاں اس ’سنہری دودھ‘ کی تشہیر کی گئی۔ یہ ایک بہت ہی روایتی، قدیم ہندوستانی مشروب تھا۔ اور یہ دراصل وہی فارمولا ہے جو ہم نے بنایا تھا لیکن انھوں نے اسے 1000 سال پہلے بنایا تھا۔‘
قدیم ہندوستانی مشروبات میں ہلدی کو دودھ کی مصنوعات کے ساتھ ملایا جاتا تھا، جس میں کالی مرچ شامل کی جاتی تھی۔
میک کلیمنٹس اور ان کے ساتھیوں نے دکھایا ہے کہ گائے کے دودھ میں کرکیومن کی زیادہ مقدار شامل کی جا سکتی ہے اور اگر فریج میں رکھا جائے تو یہ کم از کم دو ہفتوں تک مستحکم رہ سکتا ہے۔ حال ہی میں وہ پودوں پر مبنی دودھ میں اجزاء شامل کرنے کے ساتھ بھی تجربہ کر رہے ہیں۔
سلاد کی اہمیت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وٹامن جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں؟
میک کلیمنٹس کے مطابق اگر آپ وٹامن سپلیمنٹس لینے جا رہے ہیں تو انھیں ایسے کھانے کے ساتھ لینا اچھا خیال ہو سکتا ہے جس میں چکنائی ہو۔
’مثال کے طور پر آپ ایسی چیز چاہتے ہیں جس میں چربی کے چھوٹے ذرات ہوں جیسے دودھ یا دہی۔‘
یہ نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ جب پودے صحت مند وٹامنز سے بھرے ہوتے ہیں تو ان میں اکثر ’اینٹی نیوٹرینٹ‘ بھی ہوتے ہیں یہ ایسے مالیکیول ہیں جو جسم کی بعض غذائی اجزاء کو جذب کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر بروکولی اور برسلز سپراؤٹ میں ’گلوکوزینولیٹس‘ ہوتے ہیں، جو آیوڈین کے جذب میں مداخلت کر سکتے ہیں۔ اسی طرح پتوں والی ہری سبزیاں ’آکسیلیٹس‘ نامی مادوں سے بھرپور ہوتی ہیں جو کیلشیم سے منسلک ہوتی ہیں اور اسے جذب ہونے سے روکتی ہیں۔
آخر میں اگر آپ اس رسیلے سلاد سے لطف اندوز ہونے جا رہے ہیں تو سلاد کے لیے ڈریسنگ یا تیل کا آپ کا انتخاب بڑا اہم کر سکتا ہے۔
میسوری یونیورسٹی میں میک کلیمنٹس اور ان کے ساتھی کی گئی ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کیروٹینائڈز، وٹامن سی اور ای سے بھرپور ایک انتہائی غذائیت سے بھرپور سبزی زیتون کے تیل کی ڈریسنگ کے ساتھ کھانے سے آپ کے جسم کو اس کے غذائی اجزا کو زیادہ جذب کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔
یہ دریافت ان وجوہات میں سے ایک ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے تازہ پھلوں اور سبزیوں کے ساتھ زیتون کے تیل کی زیادہ مقدار کو اکثر صحت مند سمجھا جاتا ہے۔
میک کلیمینٹس کا کہنا ہے کہ ’ہم نے پایا کہ زیتون کے تیل سے بنے نینو پارٹیکلز نے دراصل کیروٹینائڈز کی حیاتیاتی دستیابی میں اضافہ کیا، جبکہ ناریل کے تیل سے بنائے گئے ذرات نے ایسا بالکل نہیں کیا۔‘
’اس کی وجہ یہ ہے کہ ناریل کا تیل بہت چھوٹے ’مائیکلز‘ بناتا ہے اور کیروٹین ان کے اندر فٹ ہونے کے لیے بہت بڑا ہوتا ہے۔ یہ ایک ہاتھی کو مِنی کوپر کار میں فٹ کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ کبھی کبھی آپ کو بڑی گاڑی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘













