’سرحد پر قائم کیمپوں میں نئے شامی پناہ گزینوں کے لیے جگہ نہیں‘

شام میں جاری پانچ سالہ خانہ جنگی کے نتیجے میں ترکی میں پہلے سے ہی 25 لاکھ پناہ گزین موجود ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنشام میں جاری پانچ سالہ خانہ جنگی کے نتیجے میں ترکی میں پہلے سے ہی 25 لاکھ پناہ گزین موجود ہیں

شام کے شمالی علاقوں میں کام کرنے والے امدادی کارکنوں نے کہا ہے کہ وہاں قائم پناہ گزینوں کے کیمپوں میں اب مزید افراد کو بسانے کی جگہ باقی نہیں رہی ہے۔

امدادی ادارے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈز ( ایم ایس ایف) کے ایک ترجمان احمد المحمد کے مطابق ترکی اور شام کی سرحد پر واقع قصبے ازاز میں پناہ گزین خاندان سڑکوں پر سونے پر مجبور ہیں جبکہ کیمپ میں ایک خیمے میں 20 افراد رہ رہے ہیں۔

شام کی حکومتی افواج کی جانب سے ملک کے شمالی شہر حلب پر حملوں کے بعد وہاں سے ہزاروں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

ترک حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہاں سے نقل مکانی کر کے ترکی کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں لاکھوں میں ہو سکتی ہے۔

ایم ایس ایف کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کیمپوں میں لوگوں کے سونے کے لیے جگہ دستیاب نہیں۔ آمد کے پہلے دن ان میں سے اکثر سڑکوں اور کھلے مقام پر سو رہے ہیں جہاں انھیں کمبل اور کوئی اوٹ بھی میسر نہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیمپوں میں بھی جس خیمے میں عموماً سات افراد رہتے ہیں وہاں 20 افراد رہ رہے ہیں جبکہ سرحدی قصبوں میں مکانات میں بھی پناہ گزینوں کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔

احمد المحمد کے مطابق ’زیادہ تر خاندانوں کے پاس تن پر موجود کپڑوں کے علاوہ کچھ موجود نہیں اور سرد موسم اور خراب حالات کی وجہ سے بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ افراد اپنا سب کچھ چھوڑ کر آ گئے ہیں اور اب وہ ترکی میں بھی داخل نہیں ہو سکتے۔‘

یورپی یونین ترکی کو فنڈ فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ پناہ گزینوں کی حفاظت اور ان کی میزبانی کو یقینی بنائے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیورپی یونین ترکی کو فنڈ فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ پناہ گزینوں کی حفاظت اور ان کی میزبانی کو یقینی بنائے

اس سے قبل ترک نائب وزیرِ اعظم نعمان کرتلمس کا کہنا ہے کہ اس وقت ترکی اور شام کی سرحد کے ساتھ قائم کیے گئے نئے کیمپوں میں 77 ہزار افراد پناہ گزین ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ حالات بدتر ہوئے تو یہ تعداد چھ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک ان پناہ گزینوں کی شامی سرحد کے اندر ہی امداد کرتا رہے گا۔

ترکی کے امدادی کارکنوں نے شامی علاقے میں ان ہزاروں نئے پناہ گزینوں کے لیے کیمپ قائم کر دیے ہیں جنھیں ترک حکومت نے سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

نعمان کرتلمس کا کہنا تھا کہ ’ہماری ترجیح پہلے سے موجود پناہ گزینوں اور نئے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں ممکنہ آمد، دونوں سے نمٹنا ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد ہے کہ انھیں ترک سرزمین سے باہر رکھا جائے اور سرحد پار علاقے میں سہولیات دی جائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’غیر سرکاری تنظیموں نے اس سلسلے میں بہت ساتھ دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنی خدمات فراہم کرتے رہیں جب کہ ہم ان پناہ گزینوں کی مہمان داری شامی سرحد کے اندر ہی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

ترک ہلالِ احمر کے نائب صدر کریم کینیک نے کہا ہے کہ شامی علاقے میں پناہ گزینوں کے لیے جو کیمپ قائم کیے گئے ہیں وہ کسی بھی لحاظ سے ترک علاقے میں قائم کیمپوں سے کم نہیں۔

خیال رہے کہ شام میں جاری پانچ سالہ خانہ جنگی کے نتیجے میں ترکی میں پہلے سے ہی 25 لاکھ پناہ گزین موجود ہیں۔

بہت سے شامی باشندے پناہ کی تلاش میں سمندر کے راستے ترکی سے یورپی ممالک بھی گئے ہیں اور وہ ان دس لاکھ تارکین وطن اور پناہ گزینوں کا بڑا حصہ ہیں جو گذشتہ سال غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔

.