’امریکہ اور ترکی شام کے مسئلے کے فوجی حل کے لیے تیار‘

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر شام کے مسئلے کا سیاسی حل نہ نکلا تو امریکہ اور ترکی فوجی مداخلت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
شام کے بحران کے سیاسی حل سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بارے میں نہ تو پرامید ہیں نہ ہی ناامید بلکہ ہم پرعزم ہیں۔‘
<link type="page"><caption> شام: دولتِ اسلامیہ کے حملوں میں درجنوں ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160116_syria_is_attacks_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> عراق کی جانب سے ترکی کے خلاف اقوامِ متحدہ جانے کی دھمکی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151206_un_iraq_turkey_hk.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> کسی کو ترکی پر’بہتان تراشی‘ کا حق نہیں: صدر اردوغان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151202_russia_accuses_erdogan_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
امریکی نائب صدر نے یہ بیان استنبول میں ترکی کے وزیرِ اعظم سے ہونے والی بات چیت کے بعد دیا ہے۔
جو بائیڈن کے مطابق’ سیاسی حل بہتر ہوگا لیکن اگر وہ ممکن نہ ہوسکا تو امریکہ متبادل ذرائع استعمال کرے گا۔ جس میں دولت اسلامیہ نامی شدت پسند تنظیم کے خلاف فوجی کارروائی بھی شامل ہو گی۔‘
امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے اور ترکی کے وزیرِاعظم احمد داؤد اوغلو سے شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی مدد میں اضافے کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جوبائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت اس بات کو سمجھتی ہے کہ انقرہ کو جتنا خطرہ دولتِ اسلامیہ سے ہے، اُسے کردوں کی جماعت ’پی کے کے‘ سے بھی اتنا ہی خطرہ ہے۔
’ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پی کے کے ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔‘
خیال رہے کہ سنہ 1984 میں پی کے کے کی جانب سے کردوں کے لیے الگ ملک کے قیام کے لیے مسلح مہم کے آغاز ہونے سے اب تک تقریباً 40 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور پی کے کے کو ترکی کے علاوہ امریکہ اور یورپی یونین نے ایک دہشت گرد جماعت قرار دیا ہوا ہے۔
جوبائیڈن نے ترک حکومت کی جانب سے اظہارِ رائے پر پابندی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔







