ترکی میں انسانی حقوق پر یورپی یونین کی تنقید

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف مجرمانہ مقدمات کی وجہ سے میڈیا کی آزادی ختم ہو گئی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف مجرمانہ مقدمات کی وجہ سے میڈیا کی آزادی ختم ہو گئی ہے

یورپی کمیشن نے ترکی سے انسانی حقوق اور جمہوریت میں بڑی ناکامیوں کے مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترکی کے یورپی یونین میں شامل ہونے کے امکان پر دیر سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو سالوں میں وہاں اظہار رائے کی آزادی پر شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ترکی کے عدالتی نظام کی آزادی کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ نئے قوانین یورپی یونین کے معیار کے مخالف ہیں۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکی میں پارلیمانی انتخابات میں صدر رجب طیب اردوغان نے دوبارہ اکثریت حاصل کی ہے اور یورپی یونین کو تارکین وطن کے تنازعے سے نمٹنے کے لیے بھی ترکی کی مدد کی ضرورت ہے۔

اس رپورٹ کو کئی ہفتوں تک روکا گیا تھا کیونکہ تارکین وطن کے تنازعے پر ترکی کے حکام، جن میں صدر بھی شامل ہیں، کے ساتھ مذاکرات جاری تھے۔

برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس کا کہنا ہے کہ کمیشن کی اس رپورٹ کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکی میں پارلیمانی انتخابات میں صدر رجب طیب اردوغان نے دوبارہ اکثریت حاصل کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکی میں پارلیمانی انتخابات میں صدر رجب طیب اردوغان نے دوبارہ اکثریت حاصل کی ہے

کئی سالوں میں اظہار رائے کی آزادی میں بہتری آنے کے بعد اس رپورٹ میں گذشتہ دو سالوں میں ’سنجیدگی سے تنزلی‘ پر تنبیہ کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’صحافیوں، مصنفوں اور سوشل میڈیا صارفین کے خلاف پہلے سے جاری اور نئے مقدمات، صحافیوں اور میڈیا دفاتر میں خوف کے ساتھ ساتھ حکام کی جانب سے میڈیا کی آزادی کو کم کرنا واضح طور پر تشویش ناک ہے۔‘

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ترکی میں انٹرنیٹ کے قوانین میں تبدیلی کی وجہ سے حکام کو عدالت کے حکم کے بغیر ویب سائٹس بلاک کرنے کی آزادی حاصل ہے، جو یورپی یونین کے معیار کے خلاف ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق ترکی کی سکیورٹی صورت حال پر بھی شدید زوال دیکھا گیا ہے اور یہ کہ کردستان ورکرز پارٹی یعنی پی کے کے، جسے ترک حکومت اور یورپی یونین شدت پسند گروپ قرار دے چکی ہیں، کے ساتھ امن مذاکرات انتہائی ضروری ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی نے یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے سنہ 1987 میں درخواست کی تھی جس مذاکرات سنہ 2005 میں شروع ہوئے تھے۔ تاہم اب تک ہونے والے 33 ’مذاکرات کے دور‘ میں سے ایک ہی مکمل ہو سکا ہے۔