پوتن جہاز گرائے جانے پر آگ سے نہ کھیلیں: اردوغان
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے روس کے صدر ولادمیر پوتن کو خبردار کیا ہے کہ جہاز کے گرائے جانے کے واقعے پر آگ سے نہ کھیلیں۔‘
ترکی کے صدر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر پیرس میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں روس کے صدر سے بالمشافہ ملاقات کرنا چاہیں گے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
صدر پوتن ترکی کی فضائیہ کی طرف سے روسی جنگ طیارے کو مار گرانے پر ترکی سے معاف مانگنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ترک صدر نے اس مطالبے کو رد کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترکی کا کہنا ہے روسی طیارے کی طرف سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر یہ انتہائی اقدام اٹھایا گیا تھا جبکہ روس کا اصرار ہے کہ اس کے طیاروں شام کی فضائی حدود میں پرواز کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
’لاپتہ روسی پائلٹ کو شامی فوج نے بچا لیا تھا‘قبل ازیں ترک وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی جانب سے روسی طیارہ گرائے جانے کا واقعہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے جنگ کے مشترکہ مقصد سے عالمی برادری کی توجہ ہٹنے کی وجہ نہیں بننا چاہیے۔
جمعے کو برطانوی اخبار ٹائمز میں اپنے مضمون میں انھوں نے کہا ہے کہ ترکی کشیدگی کم کرنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ منگل کو پیش آنے والا واقعہ کسی خاص ملک کے خلاف کی گئی کارروائی نہیں تھی بلکہ ترکی کی جانب سے اپنی سرزمین کے تحفظ کا مظاہرہ تھا۔
ترکی کے ایف 16 طیاروں نے منگل کو شام اور ترکی کی سرحد کے قریب ایک روسی سخوئی 24 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا تھا اور اس کا ملبہ شام کے سرحدی صوبے لاذقیہ کی حدود میں گرا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
احمد داود اوغلو نے لکھا ہے کہ روسی طیارہ گرائے جانے کے بعد ضروری بات چیت کا عمل جاری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’جہاں ترکی کی سرزمین کے تحفظ کے اقدامات کیے جاتے رہیں گے وہیں ترکی روس اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کشیدگی کے خاتمے کے لیے کام کرے گا۔‘
اس سے قبل روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ترکی کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ جس طیارے کو نشانہ بنا رہا ہے وہ ایک روسی جنگی جہاز ہے۔
روسی صدر کا یہ بیان ترک صدر کی جانب سے روسی طیارہ گرائے جانے پر معافی مانگنے سے انکار اور اس موقف کے بعد سامنے آیا ہے کہ ترک حکام نہیں جانتے تھے کہ وہ کس ملک کے طیارے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
طیارے کی تباہی کے واقعے کے بعد سے ترکی اور روس کے باہمی تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے اور روس نے ترکی کو بھاری اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
روس کے وزیراعظم دمیتری میدویدو نے جمعرات کو ماسکو میں کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ اقتصادی پابندیوں کا مسودہ آئندہ چند دونوں میں مکمل ہو گا اور اس سے دونوں ملکوں کے دمیان مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبے متاثر ہوں گے۔







