پاکستان نے ٹی 20 ورلڈ کپ یا انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کیا تو آئی سی سی کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟

محسن نقوی اور وزیراعظم شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہX/MOHSIN NAQVI

    • مصنف, اسد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم سری لنکا بھجوانے سے متعلق حتمی فیصلہ جمعے یا پیر تک ملتوی کر دیا ہے۔ بی بی سی سپورٹس کے نامہ نگار ٹموتھی ابراہام کے مطابق پاکستانی حکام ٹورنامنٹ کے مکمل بائیکاٹ سمیت صرف انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سوموار کے دن چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے وزیرِ اعظم پاکستان سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ’وزیرِ اعظم نے تمام آپشنز کو مدِ نظر رکھ کر معاملہ سلجھانے کی ہدایت دی۔‘

واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انڈیا میں کھیلنے سے انکار پر بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا تھا۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی کے فیصلے کو ’نا انصافی‘ قرار دیتے ہوئے اسے دہرا معیار قرار دیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش پر بھی وہی اُصول لاگو ہونا چاہیے، جو کسی اور پر ہوتا ہے۔ اگر ایک ملک سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی ملک میں کھِیلنے سے انکار کرتا ہے تو پھر بنگلہ دیش کو بھی یہ حق ہونا چاہیے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال میں ورلڈ کپ کے لیے ٹیم سری لنکا بھیجنے کا فیصلہ اب حکومت کرے گی اور اگر بنگلہ دیش کے ساتھ انصاف نہ ہوا تو پھر آئی سی سی چاہے تو 22 ویں ٹیم شامل کر لے۔‘

جب محسن نقوی سے پوچھا گیا کہ ’اگر پاکستان بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہیں کھیلتا ہے تو ’پلان بی‘ کیا ہے، تو اُنھوں نے جواب دیا کہ ’پہلے فیصلہ آنے دیں، ہمارے پاس پلان اے، بی، سی اور ڈی ہیں۔‘

پیر کو پاکستان کا مقامی میڈیا ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹ کر رہا تھا کہ پاکستان، کولمبو میں 15 فروری کو شیڈول انڈیا کے ساتھ میچ کے بائیکاٹ یا میچ کے دوران سیاہ پٹیاں باندھ کر کھیلنے پر غور کر رہا ہے۔

لیکن جب اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان عامیر میر سے رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ محسن نقوی کی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے پر ہی اکتفا کیا جائے۔

پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کرنے یا نہ کرنے کے کیا مضمرات ہوں گے؟ بائیکاٹ کی صورت میں پاکستان اور آئی سی سی کو کتنا نقصان ہو گا؟ اس حوالے سے بی بی سی نے پی سی بی کے سابق حکام سے بات کی ہے۔

تاہم اس سے قبل جانتے ہیں کہ بی سی سی آئی یعنی انڈین کرکٹ بورڈ نے اس معاملے پر کیا کہا ہے۔

محسن نقوی

،تصویر کا ذریعہX/MOHSIN NAQVI

،تصویر کا کیپشنبی بی سی سپورٹس کے نامہ نگار ٹموتھی ابراہام کے مطابق پاکستانی حکام ٹورنامنٹ کے مکمل بائیکاٹ سمیت صرف انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں

’بنگلہ دیش کو اکسانے میں پاکستان کا بہت بڑا کردار ہے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے نائب صدر راجیو شکلا کا کہنا ہے کہ رواں سال انڈیا کی میزبانی میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیش کو سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تاہم پاکستان نے اس معاملے میں ’بے وجہ مداخلت‘ کی۔

انڈین نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے ایک انٹرویو میں راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ ’ہم تو چاہتے تھے کہ بنگلہ دیش کھیلے۔ ہم نے انھیں سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن انھوں نے ٹیم نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ہماری سرکار کہہ رہی ہے کہ ہم ٹیم نہیں بھیج سکتے، ہم کولمبو میں ہی کھیلیں گے۔‘

’آخری لمحے پر پورے شیڈول کو تبدیل کرنا بہت مشکل کام ہے اس لیے آئی سی سی کو سکاٹ لینڈ کو لانا پڑا۔ بنگلہ دیش کو سوچنا چاہیے تھا، کھیلنا چاہیے تھا۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ وہ کھیلے۔‘

انھوں نے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اس میں بے وجہ پڑا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کو اکسانے میں پاکستان کا بہت بڑا کردار ہے۔‘

’پاکستان کو یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان نے بنگلہ دیشیوں کے ساتھ کیا زیادتی کی، دنیا جانتی ہے اور بنگلہ دیشی بھی جانتے ہیں۔ تب وہ ملک الگ ہوا تھا۔‘

بی سی سی آئی کے نائب صدر نے مزید کہا کہ پاکستان اب بنگلہ دیش کا ’ہمدرد بن کر انھیں غلط راستے پر لے جانے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ غلط ہے۔‘

پاکستان کرکٹ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کرکٹ ٹیم نے شیڈول کے مطابق اپنا پہلا میچ سات فروری کو نیدرلینڈز کے خلاف کھیلنا ہے

پاکستان کو ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنے سے کیا نقصان ہو گا؟

انڈین اخبار انڈین ایکسپریس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اگر پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہ کھیلا تو آئی سی سی اس کے خلاف ایکشن لے سکتا ہے۔

بی سی سی آئی کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’ہندوستان ٹائمز‘ کو بتایا کہ ’اگر پاکستان کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو پی سی بی کو آئی سی سی کی جانب ملنے والے سالانہ فنڈز روکے جا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2023 میں ریونیو کی تقسیم کے فیصلے کے وقت انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی کل آمدنی 60 کروڑ ڈالر تھی۔

ڈربن میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سنہ 2024 سے 2027 تک اس آمدنی کا 38٫5 فیصد انڈین کرکٹ بورڈ کو دیا جائے گا۔

انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو ریونیو کا سات فیصد جبکہ آسٹریلیا کو چھ فیصد ملے گا۔

پاکستان، چوتھے نمبر پر ہے، جسے اس عرصے کے دوران آئی سی سی کی جانب سے سالانہ تین کروڑ 45 لاکھ ڈالرز ملیں گے۔

سینئر سپورٹس تجزیہ کار نیرو بھاٹیہ کہتی ہیں کہ ’اگر پاکستان آج بائیکاٹ کرتا ہے تو وہ مستقبل کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ اور ٹیسٹ چیمپئن شپ سے بھی باہر ہو سکتا ہے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے نہ کھیلنے سے آئی سی سی کو کتنا نقصان ہو گا؟

اگر پاکستان ورلڈ کپ نہیں کھیلتا تو اس کا براہ راست اثر آئی سی سی کی آمدنی پر پڑے گا۔

پاکستان کے سابق کرکٹر باسط علی نے اپنے یوٹیوب چینل پر کہا کہ ’اگر پاکستان ورلڈ کپ نہیں کھیلتا تو براڈ کاسٹر بہت مشکل میں پڑ جائے گا۔ اگر پاکستان آؤٹ ہوتا ہے تو کیا انڈیا جس ٹیم کے ساتھ میچ کھیلا گا، کیا وہ بھی اتنے ہی لوگ دیکھیں گے۔‘

فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس ایںڈ انڈسٹری کے مطابق گذشتہ 20 برسوں کے دوران انڈیا اور پاکستان کے مابین میچز سے ایک ارب ڈالرز سے زیادہ کی آمدنی ہوئی۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نیرو بھاٹیہ کے بقول بھی پاکستان کے نہ کھیلنے سے آئی سی سی کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ ان کے مطابق ’انڈیا اور پاکستان کے میچ کے ٹکٹ فوری طور پر فروخت ہو جاتے ہیں۔ ٹی وی پر ملنے والے مہنگے اشتہارات اور سپانسر شپ کی مد میں بھی پیسہ کمایا جاتا ہے۔‘

سپورٹس تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز نے سوشل میڈیا پر ایک شو کے دوران کہا کہ ’پاکستان کے شرکت نہ کرنے سے پورا ورلڈ کپ ہل جائے گا۔‘

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین میچ کے دوران انڈیا میں اشتہارات کا ایئر ٹائم 4800 امریکی ڈالرز تک فروخت ہوتا ہے۔ ’اس کے علاوہ آئی سی سی نے کئی طرح کے کانٹریکٹس کر رکھے ہیں، جن میں گراونڈز برینڈنگ ہے، ٹائٹل سپانسر شپ ہے۔‘

بائیکاٹ کی صورت میں پاکستان ٹیم پر ممکنہ پابندی کے سوال پر ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستان کرکٹ بورڈ اپنی ٹیم ورلڈ کپ کے لیے نہ بھیجنے کا فیصلہ کرے تو پھر یہ پابندی لگ سکتی ہے۔ لیکن اگر پاکستان کی حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے تو پھر آئی سی سی کے لیے پابندی لگانا اتنا آسان نہیں ہو گا۔‘

’پاکستان کو ورلڈ کپ کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے‘

پاکستان کے ممکنہ فیصلے کے حوالے سے کرکٹ بورڈ کے سابق حکام بھی مختلف آرا رکھتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا کی رائے ہے کہ ’پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش سے متعلق آئی سی سی کے فیصلے میں کسی اور بورڈ نے اعتراض نہیں کیا، آئی سی سی نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا ہے۔ لہذا پاکستان کو اب اس معاملے کو طول دینے کے بجائے اس پر اب اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے اُصولی بات کی ہے، لیکن پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کا ایک اہم رُکن ہے، انڈیا اور پاکستان کے میچ کے نشریاتی حقوق کا بھی معاملہ ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے لیے اس میچ کا بائیکاٹ کرنا بھی اتنا آسان نہیں ہو گا۔‘

لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا کہتے ہیں کہ ’اب کرکٹ بورڈ نے یہ فیصلہ حکومت پر چھوڑ دیا ہے اور اب دیکھنا ہو گا کہ حکومت انڈیا کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں کیا فیصلہ لیتی ہے۔‘

سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود، جنرل توقیر ضیا سے اتفاق نہیں کرتے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے اُصولی موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو ایک بار پھر آئی سی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔‘

خالد محمود کے بقول ’پاکستان کو چاہیے کہ وہ آئی سی سی کے دیگر ارکان کو یہ باور کرائے کے انڈیا ہر مرتبہ کھیل میں سیاست لے کر آتا ہے اور یہ سلسلہ رُکنا چاہیے۔‘

پاکستان کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سابق چیئرمین پی سی بی کے مطابق ’کبھی انڈیا کے کرکٹر ہاتھ نہیں ملاتے، کبھی ٹرافی وصول کرنے سے انکار کرتے ہیں، تو کبھی کسی دوسرے ملک میں جا کر کھیلنے سے انکار کرتے ہیں۔‘

اُن کے بقول ’آئی سی سی کے دیگر رُکن ممالک کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ آخر انڈیا کے ساتھ ہی ہر ملک کا تنازع کیوں ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ماضی میں کئی ٹیمیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان آنے سے انکار کرتی رہی ہیں، آئی سی سی نے کسی ٹیم کو پاکستان جا کر کھیلنے پر مجبور نہیں کیا تو اب بنگلہ دیش کو کیوں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ انڈیا جا کر کھیلے؟‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر اُصولوں کی بنیاد پر کروڑوں ڈالر بھی قربان کرنے پڑیں تو اس سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، کیونکہ دُنیا پیسہ نہیں اُصول دیکھتی ہے۔‘