انڈیا کے یوم جمہوریہ پر فضاؤں میں اُڑتے رفال اور کرنل صوفیہ کے لیے میڈل کی منظوری زیرِ بحث

،تصویر کا ذریعہGetty Images/PIB
انڈین حکومت نے ’آپریشن سندور‘ کی تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھنے والی مسلمان افسر کرنل صوفیہ قریشی کو فوجی اعزاز ’وششٹ سیوا‘ میڈل سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ ایوارڈ ’اعلٰی خدمات کے اعتراف‘ میں انڈین فوج کے افسران اور سپاہیوں کو دیا جاتا ہے۔
انڈیا کی صدر دروپدی مرمو نے 77 ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر مسلح افواج کے 70 اہلکاروں کو بہادری کے اعزازت دینے کی منظوری دی، جن میں سے چھ فوجیوں کو بعداز مرگ یہ ایوارڈ دیے جا رہے ہیں۔
یہ وہی کرنل صوفیہ قریشی ہیں، جو سات مئی کو انڈیا کی جانب سے پاکستان میں کیے گئے 'آپریشن سندور' کی ابتدائی تفصیلات بتانے کے لیے کی گئی پریس کانفرنس کا حصہ تھیں۔ اس اہم پریس کانفرنس میں آپریشن کی تفصیلات بتانے کے لیے دیگر حکام بھی موجود تھے تاہم ان میں سے صرف کرنل صوفیہ قریشی ہی مسلمان افسر تھیں۔
کرنل صوفیہ قریشی نے ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ اور خارجہ سکریٹری وکرم مصری کے ساتھ ملٹری آپریشنز کے بارے میں معلومات میڈیا کو فراہم کی تھیں۔
بھارتی وزارت دفاع نے بھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اس بارے میں معلومات دی تھیں اور صوفیہ قریشی کی تصویر جاری کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فوجی طاقت کا مظاہرہ
انڈیا میں یوم جمہوریہ سنہ 1950 سے منایا جا رہا ہے۔ یہ اس دن کی یاد میں منایا جاتا ہے، جب انڈیا نے نو آبادیاتی دور سے الگ ہو کر خود مختار جمہوری ریاست کے طور اپنا تشخص اُجاگر کیا تھا۔
اس روز ہزاروں فوجی تالیوں کی گونج میں دہلی کے راج پتھ اور انڈیا گیٹ کے سامنے مارچ کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یومِ جمہوریہ کی تقریب کے دوران انڈیا کی جانب سے اس کی فوجی طاقت کا بھی بھرپور مظاہر کیا گیا۔
انڈین فضائیہ کے رفال طیاروں نے فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا جبکہ سوریا ستری ملٹی راکٹ لانچر سسٹم، براہموس سپر سونک کروز میزائل، ڈرون سسٹم شکتی بان، درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے آکاش میزائل کی بھی نمائش کی گئی۔
انڈین فوج کے زیر استعمال بشما ٹی-90 ٹینکوں کی بھی نمائش کی گئی جبکہ ایس-400 میزائل سسٹم، سخوئی جنگی طیارے اور مگ 29 طیاروں نے بھی فلائی پاسٹ کیا۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس ڈی کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ وان در لیین یوم جمہوریہ کی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔
وزیر اعظم مودی نےاس موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یوم جمہوریہ کی تقریب میں یورپی رہنماؤں کی میزبانی اُن کے لیے ایک اعزاز ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’انڈیا اور یورپی یونین کی بڑھتی ہوئی شراکت داری، ہماری طاقت اور مشترکہ اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔‘
کچھ اطلاعات کے مطابق یورپی یونین اور انڈیا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کا اعلان 27 جنوری کو ہو سکتا ہے، جب یورپی اور انڈین رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوگی۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ اور انڈیا کے وزیرِ تجارت پیوش گویل دونوں ہی اس معاہدے کو 'مدر آف آل ڈیلز' قرار دے چکے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً دو دہائیوں سے جاری مذاکرات پر فریقین اب زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور یہ حتمی شکل اختیار کرنے کے قریب ہیں۔
’وششٹ سیوا‘ میڈل
’وششٹ سیوا‘ میڈل انڈین فوج میں دیا جانے والا بڑا فوجی اعزاز ہے، جو مسلح افواج کے تمام رینک کے اعلٰی افسران کو ’ممتاز خدمات‘ کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔
یہ میڈل سنہ 1980 میں متعارف کروایا گیا تھا، ابتدا میں آپریشنل سرگرمیوں میں شامل افسران کو دیا جاتا تھا، تاہم بعد میں اسے نان آپریشنل سروس تک محدود کر دیا گیا تھا۔
اتوار کو صدر دروپدی مرمو کی منظوری کے بعد انڈین وزارت دفاع نے انڈین سکیورٹی فورسز افسران کی فہرست جاری کی تھی۔ وزارت دفاع کے مطابق مجموعی طور پر 133 افسران کو اس میڈل سے نوازا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوفیہ قریشی کو میڈل دینے پر تنقید اور رفال طیاروں کا تذکرہ
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس فہرست میں کرنل صوفیہ قریشی کا نام بھی موجود تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی طرف سے تبصرے بھی دیکھنے میں آئے۔
جتن نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’کرنل صوفیہ کو صرف ایک پریس کانفرنس پر وششٹ سیوا میڈل مل رہا ہے۔ یہ کیسا مذاق ہے؟ کیا فوج خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر یہ سب کر رہی ہے؟ لیکن کیا فوج یہ بھول گئی کہ وششٹ سیوا میڈل کس مقصد کے لیے دیا جاتا ہے۔‘
پریہار نامی صارف بھی کرنل صوفیہ کو میڈل سے نوازے جانے پر تنقید کر رہے ہیں۔ اپنی ایکس پوسٹ میں اُنھوں نے لکھا کہ ’اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر معلومات پڑھنے پر وششٹ سیوا میڈل دیا جا رہا ہے۔ یہ مودی حکومت کا پی آر سٹنٹ ہے۔‘
وکاس کمار نامی صارف کہتے ہیں کہ یہ اچھی بات ہے کہ اُنھیں میڈل دیا جا رہا ہے، لیکن ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے زیادہ بہتر انداز اور اعتماد کے ساتھ میڈیا کو بریفنگ دی تھی۔ وہ بھی اس میڈل کی حقدار ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ دونوں کا کام ایک جیسا تھا پھر ایک کو کیوں دیا گیا اور دوسرے کو کیوں نہیں؟
ڈاکٹر پوجا نامی صارف بھی یہ سوال اُٹھا رہی ہیں کہ کس دلیل کی بنیاد پر ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ کو یہ میڈل نہیں دیا گیا۔
کچھ صارفین کرنل صوفیہ کو یہ ایوارڈ ملنے پر خوشی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔
دینواش کمار نامی صارف لکھتے ہیں کہ کرنل صوفیہ آپریشن سندور کا چہرہ تھیں۔ اُنھیں یوم جمہوریہ پر اُن کی شاندار خدمات پر وششٹ سیوا میڈل سے نوازا جائے گا۔
رفال طیارے پر بحث
دوسری جانب کچھ صارفین یوم جمہوریہ پر فلائی پاسٹ میں حصہ لینے رفال طیاروں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان نے سات مئی کو اس طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
جے نامی صارف نے ایک رفال طیارے کی تصویر شیئر کی جس پر BS-022 درج ہے۔ اُنھوں دعویٰ کیا کہ ’پی اے ایف کا اس طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ سراسر افسانہ ہے۔ ایک بار پھر دشمن کا پروپیگنڈہ بے نقاب ہو گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہX/@Griezmenace
آمناز نامی صارف نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’انڈیا نے صرف ہزیمت سے بچنے کے لیے نمبر تبدیل کر دیا۔ یہ حقائق چھپانے کی کوشش کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ایک جھوٹ، چھپانے کے لیے سو بولنے والی بات ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ جب طیارہ بنانے والی کمپنی یہ مان چکی ہے کہ اس لڑائی کے دوران رفال تباہ ہوئے تو پھر پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔
اگرچہ پاکستانی فضائیہ نے رفال طیارے گرانے کے اپنے دعوے میں ان کے سیریئل نمبرز نہیں بتائے تھے تاہم ’کی ایرو‘ نامی جریدے نے پی اے ایف کے ایک اہلکار کے حوالے سے لکھا تھا کہ ان کے سیریئل نمبر بی ایس 001، بی ایس 021، بی ایس 022 اور بی ایس 027 تھے۔
یاد رہے کہ انڈین ایئر چیف نے پاکستانی دعوے کی تردید کی تھی اور مئی کی لڑائی کے دوران چھ پاکستانی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
کرنل صوفیہ قریشی کون ہیں؟
انڈین ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والی کرنل صوفیہ قریشی انڈین بری فوج کی افسر ہیں اور وہ پہلی مرتبہ خبروں میں سنہ 2016 میں اس وقت آئی تھیں جب انڈیا کے شہر پونے میں کثیر القومی فیلڈ ٹریننگ مشقوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔
'فورس 18' کے نام سے ہوئی ان مشقوں میں آسیان پلس ممالک شامل تھے اور انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ انڈیا میں اب تک کی سب سے بڑی زمینی افواج کی مشقیں تھیں۔
ان مشقوں میں شامل 40 فوجیوں پر مشتمل انڈین فوجی دستے کی قیادت سگنل کور کی خاتون افسر لیفٹیننٹ کرنل صوفیہ قریشی نے کی تھی۔ اُس وقت انھیں کثیر القومی مشقوں میں انڈین فوج کی تربیتی ٹیم کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون افسر بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔
اُس وقت انڈیا کی وزارت دفاع نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اُن کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی تصاویر بھی شیئر کی تھیں۔
صوفیہ قریشی کا تعلق ریاست گجرات کی ایک فوجی فیملی سے ہے اور اُن کے دادا بھی انڈین فوج میں افسر تھے۔ انھوں نے بائیو کیمسٹری میں پوسٹ گریجویشن کر رکھی ہے۔
وہ چھ سال تک اقوام متحدہ کی امن فوج میں بھی کام کر چکی ہیں اور اسی ذمہ داری کے تحت انھوں نے سنہ 2006 میں کانگو میں بھی وقت گزارا تھا۔ اُس وقت ان کا بنیادی کردار امن آپریشنز میں تربیت سے متعلق تعاون فراہم کرنا تھا۔












