انڈیا میں سو سال پرانی درگاہ پر توڑ پھوڑ کا مقدمہ: ’ہم نے بلھے شاہ کو پاکستان واپس بھجوا دیا‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنیہ واقعہ انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ میں دہرادون کے مقام پر گزشتہ رات پیش آیا

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازعات کتنے ہی کشیدہ کیوں نہ ہوں، بابا بلھے شاہ کا نام اور کلام ہمیشہ سے ہی دونوں ممالک میں مقبول رہا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں بلھے شاہ کے نام سے منسوب ایک درگاہ پر توڑ پھوڑ کے بعد اس واقعے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔

یہ واقعہ انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ میں دہرادون کے مقام پر گزشتہ رات پیش آیا جس کے بعد خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کے مطابق مقامی حکام نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ بابا بلّھے شاہ کا مزار پاکستان میں صوبہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے نواحی شہر قصور میں واقع ہے جہاں ہر برس ان کا عرس بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے تاہم مختلف مقامات پر ان کے نام سے منسوب درگاہیں موجود ہیں۔

یہ درگاہ ایسا ہی ایک مقام ہے جس کے بارے میں انڈیا کے اخبار ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ دہرادون کے پہاڑی شہر کے علاقے بالاحصار میں واقع ونبرگ ایلن نامی نجی سکول کی اراضی پر قائم ہے اور سو سال پرانی ہے۔

مسوری تھانے کے سب انسپکٹر ستندر بھٹی نے اخبار کو بتایا کہ ’ملزمان کا تعلق ایک ہندوتوا گروہ سے ہے۔‘ ہندو رکھشا دل کے مقامی سربراہ للت شرما نے ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس واقعے میں ان کی تنظیم ملوث تھی جبکہ اسی تنظیم کے سربراہ پنکی چوہدری نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کی ٹیم نے ’بلھے شاہ کو پاکستان واپس بھجوا دیا ہے۔‘

بی بی سی نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق اس درگاہ کے خلاف ہندو انتہا پسندوں نے کچھ وقت قبل الٹی میٹم بھی جاری کیا تھا اور اسے گرانے کی دھمکی دی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حالیہ برسوں میں انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بی بی سی پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں مقیم تنظیم ’سینٹر فار دی سٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ‘ کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلگام حملے کے بعد پورے انڈیا میں دائیں بازو کے ہندو گروپس کی طرف سے نفرت انگیز تقاریر میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں بلھے شاہ کے نام سے منسوب ایک درگاہ پر توڑ پھوڑ کے بعد اس واقعے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے

’اب کس کی باری ہے؟ وارث شاہ کی؟‘

تاہم بلھے شاہ درگاہ کے واقعے پر انڈیا میں سوشل میڈیا پر کافی تنقید بھی ہو رہی ہے۔ ہندوستان ٹائمز کے مدیر چیتن چوہان نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’یہ درگاہ ایک نجی پراپرٹی پر واقع ہے جہاں مسیحی مشنری سکول چلایا جاتا ہے اور مزار بلھے شاہ کے نام پر ہے جنھوں نے اتحاد کی بات کی، مذہبی رواداری کی بات کی۔‘

صبا نقوی نے لکھا کہ ’بلھے شاہ ایک صوفی ہیں جن کی مسلمان، سکھ اور ہندو سب ہی عزت کرتے ہیں۔‘

محمد زبیر نے سوشل میڈیا پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک پرانی پوسٹ کا حوالہ بھی دیا جس میں انھوں نے بلھے شاہ کے کلام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’بلھے شاہ کی اقدار آج کے زمانے کی ضرورت ہیں۔‘

بلھے شاہ

،تصویر کا ذریعہX/@anwesh_satpathy

انویش ستپتھی نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا یہ مذاق ہے؟ اب اس کے بعد کس کی باری ہے؟ وارث شاہ کی؟ بابا فرید کی؟ ایسا نہیں کہ یہ صوفی بزرگ ہیں بلکہ یہ خطے کی علامت ہیں۔‘

بلھے شاہ کون تھے؟

سنہ 2004 میں بی بی سی اردو پر شائع ہونے والی منظور اعجاز کی ایک رپورٹ، جس کا عنوان تھا ’بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں‘، کے مطابق بلھے شاہ سخی درویش کے ہاں پیدا ہوئے اور ان کا نام عبداللہ رکھا گیا۔

اس رپورٹ کے مطابق ان کے والد اچ شریف چھوڑ کر کے کچھ عرصے ملک وال ضلع ساہیوال میں رہے جہاں بلھے شاہ کا جنم ہوا۔ لیکن چند مہینوں میں ہی پنڈپانڈ و ضلع لاہور (قصور کاہنہ روڈ پر واقع) چلے گئے جہاں انھوں نے ایک مسجد کی امامت کر لی اور بچوں کو پڑھانے لگے۔

بلھے شاہ کا بچپن اسی گاؤں میں مویشی چراتے گزرا۔ گاؤں میں امام مسجد کی حیثیت دوسرے دستکاروں کی طرح ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ بلھے شاہ نے زندگی کو بچپن ہی سے پسے ہوئے عوام کی نظروں سے دیکھنا شروع کیا۔ یہیں ان کے ساتھ وابستہ پہلی کرامت کا ذکر آتا ہے۔

بلھے شاہ

،تصویر کا ذریعہAPP

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان پر جب الزام لگا کہ انہوں نے اپنے مویشیوں کی نگرانی نہ کی اور گاؤں کے زمین دار جیون خان کی فصل اجاڑی تو بلھے شاہ نے فصل کو پھر ہری کر دیا۔ یہ واقعہ تھا یا عوام کی بلھے شاہ سے محبت میں بنائی گئی داستان لیکن ایک حقیقت ہے کہ بلھے شاہ نے پنجابی میں فکروفن کی اجڑی ہوئی فصل کو پھر سے لہلہا دیا۔

بلھے شاہ کی غیر معمولی ذہانت ہی ہوگی کہ گاؤں کے امام مسجد والد کی مجبوریوں کے باوجود وہ قصور کے مشہور زمانہ معلم حافظ غلام مرتضے کے مدرسے میں پہنچ گئے جہاں انھوں نے قرآن، حدیث، فقہ اور منطق کا گہرا مطالعہ کیا۔ ان کی ان علوم پر دسترس کا ثبوت ہے کہ انہیں اپنے استاد کے مدرسے میں پڑھانے کی دعوت دی گئی۔

لیکن علم کی کتابی دنیا نے ان کی بے چین فکر کو ٹکنے نہ دیا اور وہ مجذوبانہ حالات میں جابجا گرداں رہے۔ انہوں نے بر ملا کہا کہ ’علموں بس کریں اویار۔ اکو الف تیرے درکار۔‘

ان کے مرشد شاہ عنائیت آرائیں ذات کے تھے جو کمتر سمجھی جاتی تھی۔ بلھے شاہ کو جب اس پر طعنے دیے گئے تو انھوں نے کہا کہ ’جے کوئی سید آکھے دوزخ ملن سزائیں۔۔۔ جے کوئی سانوں کہے ارائیں بہشتیں پائیں۔‘ اگر شاہ عنائت کبھی کسی بات پر خفا ہوئے تو بلھے شاہ نے اپنی شاعری کے الفاظ میں رقص کناں ہو کر (تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا) یا حقیقی طور پر رقص کرتے ہوئے انہیں منایا۔

بلھے شاہ نے شہر بدری کے احکام سنے، دوسروں کے ڈیروں پر زندگی کے مشکل دن بھی کاٹے، لاہور اور قصور کو بار بار تباہ ہوتے دیکھا، پھر بندہ بہادر کے بیٹے کو اسی کی گود میں بٹھا کر اس کے ہاتھوں سے بوٹی بوٹی کروانے کی دردناک داستان سنی، اپنے زمانے کے ہر بادشاہ کے ہاتھوں سگے بھائیوں اور بھتیجوں کے قتل ہونے کا بار بار دہرایا جانے والا ڈرامہ دیکھا، بیٹے کو باپ اور بیٹی کو ماں کے خلاف سازشوں میں ملوث پایا اور زمانے کے اسی الٹ پلٹ ہوتے شب و روز میں زندگی کا راز پایا۔

ان کی جسمانی موت پر ملاؤں نے ان کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر کے ان کے امر ہونے پر مہر تصدیق کر دی۔ بلھے شاہ نے تو خود کہا تھا ’بلھے شاہ اسیں مرنا نا ہیں گور پیا کوئی ہور‘ (بلھے شاہ ہم مرنے والے نہیں، قبر میں کوئی اور پڑا ہے)۔