لائیو, ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے فضائی، زمینی یا بحری حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: متحدہ عرب امارات

پیر کو متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ان کا ملک اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے لیے ملک کی فضائی، زمینی اور حدود کا استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی بھی قسم کی لوجسٹیکل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔‘

خلاصہ

  • انڈیا کے 77ویں یوم جہموریت کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ چین اور انڈیا ’اچھے پڑوسی، دوست اور شراکت دار ہیں‘
  • ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خطے میں امریکہ کی بڑھتی فوجی موجودگی کے ردِعمل میں کہا کہ ’ایران کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔ ایران کسی بھی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دے گا‘
  • پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شاپنگ سینٹر گُل پلازہ میں آتشزدگی کے تقریباً نو روز بعد ریسکیو کا عمل بند کر دیا گیا ہے
  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے حکام کے مطابق 27 جنوری تک مری، گلیات اور گرد و نواح میں شدید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے

لائیو کوریج

  1. ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے فضائی، زمینی یا بحری حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ وہ اپنی فضائی، زمینی اور بحری حدود کو ایران پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

    پیر کو متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ان کا ملک اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے لیے ملک کی فضائی، زمینی اور حدود کا استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی بھی قسم کی لوجسٹیکل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات بات چیت، کشیدگی میں کمی، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور خودمختاری کے تحفظ کا حامی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا کا کہنا ہے کہ وہ تمام مسائل کو سفارتی طریقے سے حل ہوتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔

    واضح رہے متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں تہران کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ بھی متعدد مرتبہ دے چکے ہیں۔

  2. ایمان مزاری کو سنائی گئی سزا کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    کراچی میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جانب سے سماجی کارکن و وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو پیکا ایکٹ کے تحت سنائی گئی سزا کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مظاہرے میں ایچ آر سی پی کے چیئرمین اسد اقبال بٹ، عظمیٰ نورانی، پروفیسر توصیف احمد، قاضی خضر، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی اور دیگر کارکنان نے شرکت کی۔

    ایچ آر سی پی کی کارکن عظمیٰ نورانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن شروع دن سے پیکا ایکٹ کے خلاف آواز اٹھاتا رہا ہے کیونکہ ان کے مطابق یہ قانون عوام کی آواز دبانے کی کھلی کوشش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جو زیادتیاں ہو رہی ہیں وہ بدستور جاری ہیں، مگر سزا ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو سچ بولتے ہیں اور عوام کی اصل آواز بنتے ہیں۔‘

    کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے پیکا کے تحت سنائی گئی سزا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ٹویٹ یا اختلافی بیان پر 17 سال کی سزا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ وہ بھی ایک انسان دوست ایکٹوسٹ اور وکیل کو، یہ ناقابلِ قبول ہے۔‘

    انھوں نے پریس کلب کے باہر پولیس کی بھاری نفری اور علاقے کی ناکہ بندی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہاں مظاہرین سے زیادہ پولیس موجود ہے۔ پریس کلب کو چاروں طرف سے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے، لوگوں کو جمع ہونے نہیں دیا جا رہا۔ ملک کو آخر کس سمت لے جایا جا رہا ہے؟ بظاہر یہاں پارلیمان اور جمہوریت موجود ہے مگر سب کچھ ربڑ سٹیمپ بنا دیا گیا ہے۔‘

    پروفیسر اصغر دشتی نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے ذریعے ہر اُس آواز کو خاموش کیا جا رہا ہے جو اختلاف رکھتی ہے۔ ان کے مطابق ’حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اظہارِ رائے عوام کا بنیادی حق ہے، جس کی ضمانت آئین پاکستان فراہم کرتا ہے۔‘

    احتجاج سے قبل کراچی پریس کلب آنے والی تمام سڑکوں کو پولیس نے رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا تھا۔ ماحولیاتی کارکن ذوالفقار جونیئر کو بھی پریس کلب پہنچنے سے روک دیا گیا۔

    اس سے ایک روز قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پریس کانفرنس کے موقع پر بھی پریس کلب کا گھیراؤ کیا گیا تھا۔

  3. کراچی کے گُل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد تحقیقاتی ٹیم تشکیل، متاثرہ دکانداروں کے لیے امداد کا اعلان, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    کراچی کے گُل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد تحقیقاتی ٹیم تشکیل، متاثرہ دکانداروں کے لیے امداد کا اعلان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سندھ کے دارالحکومت کراچی میں گُل پلازہ میں آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے پولیس نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ ٹیم شفاف تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔

    گُل پلازہ میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آئے تقریباً نو روز بعد ریسکیو آپریشن مکمل ہوا، جس دوران حکام کے مطابق عمارت سے 73 لاشیں برآمد کی گئیں۔

    حادثے کے بعد نبی بخش تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف غفلت اور لاپرواہی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    سرکاری حکم نامے کے مطابق تحقیقاتی ٹیم میں ایس ڈی پی او گارڈن سب ڈویژن، ڈی ایس پی انویسٹی گیشن کھارادر، ایس ایچ او نبی بخش تھانہ اور انچارج سی آئی سی گارڈن شامل ہیں۔

    اس تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کے لیے فوری اور سنجیدہ کوششیں کرے۔ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ساؤتھ زون کراچی کے کسی بھی افسر یا اہلکار کی خدمات معاونت کے طور پر لی جا سکتی ہیں۔

    ڈی آئی جی پولیس نے تحقیقاتی ٹیم کو یہ بھی پابند کیا ہے کہ کیس کی روزانہ پیش رفت رپورٹ ان کے دفتر میں جمع کرائی جائے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملے کی اعلیٰ سطح پر براہِ راست نگرانی کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت پہلے مرحلے میں متاثرہ دکانداروں کو فی کس 5 لاکھ روپے فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنے گھریلو اخراجات چلا سکیں اور فوری سہارا حاصل کر سکیں۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ دکانداروں کو پہنچنے والے بڑے مالی نقصان کے ازالے کے لیے حکومت سندھ کراچی چیمبر آف کامرس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ متاثرہ کاروباروں کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

  4. آئی سی سی کے معاملے پر تمام آپشنز میز پر ہیں، حتمی فیصلہ جمعے یا پیر کو لیا جائے گا: محسن نقوی

    محسن نقوی

    ،تصویر کا ذریعہX

    وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شمولیت کے حوالے سے ’تمام آپشنز میز پر ہیں‘ اور اس بارے میں حتمی فیصلہ جمعے یا اگلے پیر کو لیا جائے گا۔

    ایکس پر پیغام میں محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’میری وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف سے تعمیری ملاقات ہوئی۔ میں نے انھیں آئی سی سی کے معاملے پر بریف کیا اور انھوں نے ہدایت دی کہ ہم تمام آپشنز کو میز پر رکھ کر اسے حل کریں۔ ہم نے اتفاق کیا کہ حتمی فیصلہ جمعے یا اگلے پیر کو کیا جائے گا۔‘

    خیال رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے جس میں شیڈول کے مطابق پاکستان اپنے تمام میچز کولمبو میں کھیلے گا۔

  5. ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے معاملے پر پاکستان نے بنگلہ دیش کو اُکسایا: انڈین بورڈ کے نائب صدر

    پاکستان، انڈیا، کرکٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنستمبر میں ایشیا کپ کے میچز کے دوران انڈین اور پاکستانی کپتانوں نے ہاتھ نہیں ملائے تھے

    انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے نائب صدر راجیو شکلا کا کہنا ہے کہ رواں سال انڈیا کی میزبانی میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیش کو سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تاہم پاکستان نے اس معاملے میں ’بے وجہ مداخلت‘ کی۔

    انڈین نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے ایک انٹرویو میں راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ ’ہم تو چاہتے تھے کہ بنگلہ دیش کھیلے۔ ہم نے انھیں سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن انھوں نے ٹیم نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ہماری سرکاری کہہ رہی ہے کہ ہم ٹیم نہیں بھیج سکتے، ہم کولمبو میں ہی کھیلیں گے۔

    ’آخری لمحے پر پورے شیڈول کو تبدیل کرنا بہت مشکل کام ہے اس لیے آئی سی سی کو سکاٹ لینڈ کو لانا پڑا۔ بنگلہ دیش کو سوچنا چاہیے تھا، کھیلنا چاہیے تھا۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ وہ کھیلے۔‘

    انھوں نے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اس میں بے وجہ پڑا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کو پودینے کے جھاڑ پر چڑہا دینا اور انھیں اکسانے میں پاکستان کا بہت بڑا کردار ہے۔

    ’پاکستان کو یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان نے بنگلہ دیشیوں کے ساتھ کیا زیادتی کی ہے، دنیا جانتی ہے اور بنگلہ دیشی بھی جانتے ہیں۔ تب وہ ملک الگ ہوا تھا۔‘

    بی سی سی آئی کے نائب صدر نے مزید کہا کہ پاکستان اب بنگلہ دیش کا ’ہمدرد بن کر انھیں غلط راستے پر لے جانے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ غلط ہے۔‘

    محسن نقوی

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    دوسری طرف پاکستان کے وزیر داخلہ اور کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ پی ایم آفس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق محسن نقوی نے ’ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مابین حالیہ صورتحال پر وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی ہے۔‘

    خیال رہے کہ اب تک شیڈول کے مطابق پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کے میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔

  6. ایرانی وزارت خارجہ کا بیان: ’کسی بھی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دیں گے‘

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہFatemeh Bahrami/Anadolu via Getty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خطے میں امریکہ کی بڑھتی فوجی موجودگی کے ردِعمل میں کہا کہ ’ایران کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔ ایران کسی بھی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دے گا۔‘

    اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو ’نئے خطرے‘ کا سامنا ہے اور ’خطے کے ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ علاقے میں کسی بھی قسم کی بدامنی کا ہدف صرف ایران نہیں ہوتا۔۔۔ خطے کے ممالک میں ایک مشترکہ تشویش پائی جاتی ہے۔‘

    ان کے مطابق خطے میں ’جنگی بحری جہاز بھیجنے سے ایران کے اپنے ملک کے دفاع کے حوالے سے عزم یا سنجیدگی میں رتی بھر بھی خلل نہیں آئے گا۔‘

    اپنی پریس کانفرنس جاری رکھتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا کے اس دعوے کی تردید کی کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے درمیان کوئی پیغام رسانی ہوئی ہے۔

    انھوں نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے خلاف قرارداد کی منظوری پر بھی ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد ’ایران میں پیش آنے والے واقعات کی الٹ تعبیر‘ ہے اور اُن کے بقول ’اس قرارداد نے خود عالمی برادری میں تقسیم پیدا کر دی ہے۔‘

    یورپی پارلیمان کی طرف سے پاسدارانِ انقلاب کو ’دہشت گرد قرار دینے‘ کی درخواست پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اقدام قابلِ مذمت ہے اور یورپی ممالک کو چاہیے کہ ایسے اقدامات کے جال میں نہ پھنسیں۔‘

    دوسری طرف ایران کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ چھ روز کے دوران قریب تین ہزار زخمی مظاہرین کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔

  7. چینی صدر کا انڈیا کے یوم جہموریت پر پیغام: ’ہم اچھے پڑوسی، دوست اور شراکت دار ہیں‘

    چینی صدر کا انڈیا کے یوم جہموریت پر پیغام: ’ہم اچھے پڑوسی، دوست اور شراکت دار ہیں‘

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا کے 77ویں یوم جہموریت کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ چین اور انڈیا ’اچھے پڑوسی، دوست اور شراکت دار ہیں۔‘

    چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کے مطابق صدر شی نے انڈین ہم منصب دروپدی مرمو کو انڈیا کے یوم جہموریت کی مبارکباد پیش کی ہے۔

    صدر شی کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک برس کے دوران انڈیا اور چین کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور یہ رشتہ ’عالمی امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ چین کا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ چین اور انڈیا کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ ’اچھے پڑوسی، دوست اور شراکت دار‘ بن کر رہیں۔

    انھوں نے چین اور انڈیا کو ’ایک ساتھ رقص کرتے ڈریگن اور ہاتھی‘ سے تشبیہ دی۔

    چینی صدر نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک تعاون کو وسعت دیں گے اور ایک دوسرے کے تحفظات کو دور کریں گے تاکہ تعلقات کو مستحکم بنایا جا سکے۔

    جوہری ہتھیاروں سے لیس ان ایشیائی ملکوں کے درمیان 3,800 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو 1950 کی دہائی سے متنازع ہے۔

    سنہ 2020 میں ایک جھڑپ کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوئے۔ اس جھڑپ میں انڈیا کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سرحد پر سکیورٹی کو مزید سخت کیا گیا۔

    گذشتہ سال دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی دو طرفہ دوروں کے سلسلے کے بعد تعلقات کو بہتر بنانا شروع کیا۔اسی سال براہِ راست پروازیں بحال ہوئیں کیونکہ دونوں ملکوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ خارجہ پالیسی کے تناظر میں تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھایا تھا۔

  8. بلوچستان میں سرکاری ملازمین کا ڈسپیریٹی ریڈکشن الائونس کے حصول کے لیے احتجاج، سرکاری دفاتر کا نظام متاثر

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گرینڈ الائنس کی کال پر ڈسپیریٹی ریڈکشن الائونس (ڈی آر اے) کے حصول کے لیے سرکاری ملازمین کا احتجاج اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    پیر کے روز بھی کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کے لیے ملازمین اور ان کی حمایت کے لیے جمع ہونے والے سیاسی رہنماؤں میں سے متعدد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عالم خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف بلوچستان کے جنرل سیکریٹری جہانگیر خان رند کو پولیس نے پریس کلب کے باہر سے نہ صرف گرفتار کیا بلکہ ان پر مبینہ طور پر تشدد بھی کیا۔

    دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر نہ صرف پولیس سرکاری ملازمین کو گرفتار کررہی ہے بلکہ ملازمین بھی اپنے مطالبات منوانے کے لیے بلوچستان بھر میں رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دینے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔

    گرینڈ الائنس کے مطابق اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں چار سو سے زائد ملازمین گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

    سرکاری ملازمین کی جانب سے ڈی آر اے کے حصول کے لیے ایک مرتبہ پھر احتجاج کا سلسلہ شروع ہونے سے بلوچستان بھر میں سرکاری دفاتر کا نظام بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔

    گرینڈ الائنس میں شامل سرکاری اساتذہ نے سمر زون کے اضلاع کے مڈل سٹینڈرڈ کے امتحانات کے بائیکاٹ بھی اعلان کیا تھا۔ سمر زون میں مڈل سٹینڈرڈ کے امتحانات آج سے شروع ہونے تھے۔

    اگرچہ محکمہ تعلیم نے مڈل سٹینڈرڈ کے امتحانات کو ملتوی کرنے کا نوٹیفیکیشن تو جاری کیا گیا ہے تاہم اس میں امتحانات ملتوی کیے جانے کی وجہ موسم کی خرابی بتائی گئی ہے۔

    محکمہ تعلیم کے مطابق سمر زون میں مڈل سٹینڈرڈ کے امتحانات اب چھ فروری سے ہوں گے۔

    آل پارٹیز کے فیصلے کے مطابق آج بلوچستان بھر میں سیاسی جماعتوں نے بھی سرکاری ملازمین کی حمایت میں مظاہرے کیے۔

  9. گل پلازا میں ریسکیو کا عمل مکمل، کل 73 لاشیں نکالی گئیں: ڈپٹی کمشنر ساؤتھ

    گل پلازہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شاپنگ سینٹر گُل پلازہ میں آتشزدگی کے تقریباً نو روز بعد ریسکیو کا عمل بند کر دیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے بی بی سی کو بتایا کہ گل پلازا میں جاری ریسکیو آپریشن ختم کردیا گیا ہے جس کے بعد عمارت سندھ بلڈنگ کنٹرول اٹھارتی کے حوالے کر دی گئی ہے اور مزید کارروائی وہ کریں گے۔

    جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ آخری وقت تک عمارت سے 73 لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

    یاد رہے کہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کہہ چکے ہیں کہ اس عمارت کو مسمار کرکے جتنی دکانیں موجود تھیں اتنی ہی تعمیر کی جائیں گی اور اس عمل کی نگرانی حکومت سندھ خود کرے گی۔

    اس کے علاوہ انھوں نے ہر دکاندار کو پانچ پانچ لاکھ روپے امداد اور ایک کروڑ روپے تک بلا سود قرضہ فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

  10. پی ڈی ایم اے کی 27 جنوری تک مری، گلیات اور گردونواح میں شدید بارش اور برفباری کی پیشگوئی

    مری

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 27 جنوری تک مری، گلیات اور گردونواح کے علاقوں میں برفباری کے امکانات ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ دو روز کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کی بھی پیشگوئی ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے سیاحوں کو مشورہ دیا ہے سفر سے پہلے موسم کی صورتحال کا جائزہ لیں۔

    دوسری جانب ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ناگہانی آفت سے بچنے کے لیے انتظامیہ 24 گھنٹے الرٹ رہے۔

    ریلیف کمشنر کا کہنا ہے کہ بارش اور برفباری کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ ٹریفک کی روانی بحال رکھنے کے متعلقہ حکام کو پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شہری کسی بھی ہنگامی حالت کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

  11. بلوچستان میں دو روز کے وقفے کے بعد بارش اور برفباری کا سلسلہ شروع، اہم شاہراہوں سے برف ہٹانے کا کام جاری

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہNHA

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت وسطی اور شمالی بلوچستان میں دو روز کے وقفے کے بعد ایک مرتبہ پھر بارش اور برفباری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    کوئٹہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں ہلکی بارش اور برفباری کا سلسلہ گذشتہ شب شروع ہوا۔

    صوبائی دارالحکومت کے ساتھ ساتھ قلات، مستونگ، خانوزئی، کان مہترزئی، مسلم باغ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی ہلکی بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔

    دوسری جانب نیشنل ہائی ویز اتھارٹی اور پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ حکام کوئٹہ چمن شاہراہ، لکپاس کے علاقے میں کوئٹہ کراچی شاہراہ، کوئٹہ ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ سے برف ہٹانے اور ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ این ایچ اے کے مطابق، ان شاہراہوں پر ٹریفک رواں دواں ہے۔

    اس کے علاوہ افغانستان سے متصل توبہ اچکزئی میں اغبرگ دوبندی سمیت بعض علاقوں سے شاہراہوں کی بندش کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تاہم قلعہ عبداللہ اور چمن انتظامیہ کا کہنا ہے شاہراہوں کو کھولنے کے لیے اقدامات جاری ہیں ۔

    گذشتہ روز زیارت اور کچھی کی انتظامیہ نے شدید سردی اور موسمی حالات کے باعث تفریحی مقامات پر جانے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز دفعہ 144 کے تحت یہ پابندیاں نافذ کی ہیں۔

  12. آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت کے حوالے سے فیصلہ آج متوقع

    پاکستان کرکٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے آئندہ ماہ انڈیا اور سری لنکا میں شیڈول ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے 15 رُکنی سکواڈ کا اعلان تو گذشتہ روز کر دیا گیا تھا لیکن پاکستان کی ایونٹ میں شرکت کے حوالے سے حتمی فیصلہ اب تک نہیں کیا گیا ہے۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق، وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی آج وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا امکان ہے۔

    وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ لیا جائے گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی سی بی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے پر وزیراعظم کو تمام تر صورت حال سے آگاہ کریں گے اور اپنی سفارشات سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کریں گے۔

    وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اروار کی شب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی پاکستانی کھلاڑیوں سے ملاقات ہوئی تھی۔

    یاد رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے سے انکار کے بعد سنیچر کے روز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    آئی سی سی کے اعلان سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا تھا کہ پاکستان اس معاملے میں بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہے اور پاکستان ٹیم آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے انڈیا بھیجنے کا فیصلہ حکومت کرے گی۔

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں بنگلہ دیش کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ ’میں نے آئی سی سی کی بورڈ کی میٹنگ میں بھی یہی کہا تھا کہ آپ دہرا معیار نہیں اپنا سکتے کہ ایک ملک کے لیے کہیں کہ جب مرضی فیصلہ کر لے اور دوسرے ملک کے لیے بالکل الگ فیصلہ کریں۔‘

  13. امریکہ میں طوفانی سردی کے باعث کم از کم تین افراد ہلاک، نو لاکھ گھروں کو بجلی کی فراہمی معطل

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGett

    موسم سرما کے ایک خطرناک طوفان نے پورے امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس سے کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ لاکھوں گھروں کو بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔

    امریکہ کی نیشنل ویدر سروس کے مطابق، ٹیکساس سے نیو انگلینڈ تک پھیلے ’جان لیوا‘ حالات کے باعث ملک بھر میں سکول اور سڑکیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    لوزیانا میں کم از کم دو افراد ہائپوتھرمیا کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق ان کی موت طوفان کے باعث ہوئی ہے جبکہ ٹیکساس سے بھی ایک ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔

    اس کے علاوہ نیو یارک شہر کے میئر زہران ممدانی نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ سنیچر کے روز شہر میں کم از کم پانچ افراد کی موت ہوئی ہے تاہم ابھی ان کی موت کی وجہ کا تعین ہونا باقی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ ہر سال نیو یارک میں سردی کے باعث لوگوں کی اموات ہوتی ہیں۔

    امریکہ میں بجلی کے بریک ڈاؤن پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ پاور آؤٹیج کے مطابق، تقریباً نو لاکھ گھروں کو بجلی کی فراہمی منقطع ہے۔ اس دوران، 10,000 سے زیادہ پروازیں بھی منسوخ ہو چکی ہیں۔

  14. شیخ حسینہ کو انڈیا میں تقریر کی اجازت دینے پر بنگلہ دیش کی تشویش: ’اس سے دونوں ملکوں کے مستقبل کے تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں‘

    شیخ حسینہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران بنگلہ دیش کی معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی تقریر نشر کیے جانے پر بنگلہ دیش نے مایوسی اورحیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی اشتعال انگیر تقاریر بنگلہ دیش کی جمہوریت اور سلامتی کے لیے خظرہ بن سکتی ہیں۔

    بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے بیانات سے انڈیا اور بنگلہ دیش کے مستقبل کے تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

    سنیچر کے روز نئی دہلی میں 'بنگلہ دیش میں جمہوریت بچاؤ' کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب میں بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم کی ایک ریکارڈ شدہ آڈیو تقریر چلائی گئی تھی۔

    خیال رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ 2024 میں اپنی حکومت گرائے جانے کے بعد سے انڈیا میں مقیم ہے اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نئی دہلی سے متعدد مرتبہ ان کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی ہے۔

  15. وفاقی حکومت کا تیراہ سے لوگوں کی رضاکارانہ نقل مکانی کا بیانیہ گمراہ کن ہے: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا

    سہیل آفریدی

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے اتوار کے روز تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کے متعلق بیان پر خیبر پختونخوا حکومت کا سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے اور خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ نے اسے سراسر غلط اور گمراہ کن بیانیہ قرار دیا ہے۔

    اتوار کے روز وفاقی وزارتِ اطلاعات کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومت یا فوج کی جانب سے خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔

    وزارتِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔

    وزارتِ اطلاعات نے ان دعوؤں کو ’بے بنیاد‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان خبروں کا ’مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔‘

    وفاقی حکومت کی جانب سے تیراہ متاثرین کے متعلق جاری نوٹیفکیشن پر شدید ردِ عمل دیتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا یہ دعویٰ کہ تیراہ متاثرین اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں، سراسر غلط اور گمراہ کن بیانیہ ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق، مینگورہ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت سے نوٹیفکیشن واپس لینے اور اس پر معافی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ جرگہ بلائیں گے۔ ’اگر بات غلط ثابت ہوئی تو نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو خود تیراہ واپس لے کر جاؤں گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ کہ وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کا مقصد صوبائی حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم پیدا کرنا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ آج کے بعد وفاق کے ساتھ جو بھی بات ہو گی وہ تحریری اور ثبوت کے ساتھ ہو گی۔

    تیراہ

    ،تصویر کا ذریعہKhalil Khan

    دریں اثنا جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں بات کرتے ہوئے، وزیرِ اعلیٰ کے مشیر شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ 24 رکنی جرگہ، جس نے آپریشن سے قبل تیراہ سے نقل مکانی پر اتفاق کیا تھا، اسے دستخط کرنے پر ’مجبور‘ کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ رواں ماہ کی آٹھ تاریخ کو سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی تھی کہ تیراہ کے 24 رکنی جرگے سے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے بعد فوجی آپریشن کے پیشِ نظر 10 جنوری سے تیراہ سے مقامی آبادی کا انخلا شروع ہو گا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔

    وفاقی حکومت کے اس دعوے پر کہ حکومت یا فوج نے تیراہ سے انخلا کا کوئی کوئی حکم جاری نہیں کیا شفیع جان کا کہنا تھا کہ تیراہ میں معمول کی انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے بجائے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن ’مسلط‘ کیا جا رہا ہے۔

    وزارتِ اطلاعات کی جانب سے خیبر کے ڈپٹی کمشنر کے دستخطوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ڈی سی نے صرف لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے، کیونکہ حکومت ’جانتی تھی کہ لوگوں کو نکالا جائے گا‘۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے تیراہ کے لوگوں کے لیے چار ارب روپے کی منظوری اس لیے دی ’کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ وہ بے گھر ہونے والے ہیں‘۔

    وفاقی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے اتوار کے روز جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت اطلاعات کے مطابق چار ارب روپے جاری کیے گئے۔

    وزارتِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ رقم تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضا کارانہ طور پر آبادی کی نقل و حرکت کے پیش نظر جاری کی گئی تاکہ پیشگی تیاری اور امدادی اقدامات کیے جا سکیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ’ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق یہ مجوزہ رضا کارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئی۔‘

  16. بلوچستان کے ضلع پنجگور میں ایک کارروائی میں تین شدت پسند ہلاک: پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں کیے گئے ایک آپریشن کے دوران اس کے اہلکاروں نے تین شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

    اتوار کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ یہ کارروائی علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد کی گئی تھی۔

    پاکستانی فوج کے مطابق فائرنگ کے شدید تبادلے میں شدت پسند کمانڈر فاروق عرف سورو، عدیل اور وسیم نامی مسلح افراد ہلاک ہوئے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

  17. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کی وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت یا فوج کی جانب سے خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
    • انڈیا کی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی پریڈ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ ہائپر سونک میزائل کی نمائش کا اعلان کیا ہے۔
    • قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے صوبہ خیبر پختونخوا میں 25 سے 27 جنوری کے دوران مزید بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کی پیشگوئی کے پیشِ نظر مقامی انتظامیہ سے تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنائے کی ہدایت کی ہے اور سیاحوں کو اس دوران بالائی علاقوں کا رخ نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
    • پاکستان کی وزارتِ نجکاری کا کہنا ہے کہ ملک کے تین بڑے ہوائی اڈوں کے آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ کے لیے عام بولی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
    • چین کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے اعلیٰ ترین جنرل کے خلاف ’ڈسپلن اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کے معاملے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
  18. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔