گولڈن ٹیمپل میں کُلّی کرنے پر گرفتاری: ’میں نے وضو کیا اور غلطی سے منھ سے نکلا پانی تالاب میں جا گرا‘

،تصویر کا ذریعہSocial Media Grab
انڈیا کے شہر امرتسر میں سکھوں کے روحانی مقام ہرمندر صاحب کی بے حرمتی کرنے کے الزام پر ایک شخص کو اترپردیش کے شہر غازی آباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔
سری ہرمندر صاحب امرتسر میں سکھوں کا اعلیٰ ترین روحانی مقام ہے۔ اسے گولڈن ٹیمپل اور دربار صاحب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
غازی آباد کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس گیان پرکاش نے بی بی سی کے نامہ نگار روندر سنگھ روبن کو تصدیق کی کہ پولیس نے کیس کا چالان عدالت میں جمع کروا دیا ہے، جس کے بعد ملزم کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔
اس معاملے پر مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار نے امرتسر کے پولیس کمشنر گرپیت سنگھ بھلر سے بھی بات کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ غازی آباد میں متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں اور ملزم کو امرتسر لانے کے لیے پولیس کی ٹیم بھجوا دی گئی ہے۔
اس معاملے کی ایف آئی آر امرتسر میں بھی درج کر لی گئی ہے۔
یہ تمام معاملہ ہے کیا؟

،تصویر کا ذریعہSocial Media
یہ معاملہ ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سامنے آیا۔ ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ ایک شخص گولڈن ٹیمپل کے پانی کے تالاب میں پاؤں ڈالے بیٹھا ہے اور پھر وہ اسی تالاب سے پانی لے کر کُلی کرتا ہے اور پانی واپس تالاب میں تُھوک دیتا ہے۔
یہ واقعہ 13 جنوری کو پیش آیا اور اس کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سکھ برادری میں اشتعال پھیل گیا تھا۔
سنیچر کے روز غازی آباد میں نہنگ سکھوں نے اس شخص پر تشدد بھی کیا تھا۔ اس شخص کی شناخت سبحان رنگریز کے طور پر کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملزم نے دو بار ویڈیو بیانات جاری کر کے اپنے عمل کی معافی بھی مانگی ہے۔
ایف آئی آر میں کیا الزام لگائے گئے ہیں؟
امرتسر پولیس کے پاس درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 13 جنوری کی صبح 11 بج کر 20 منٹ کے قریب پیش آیا اور اس کی شکایت 24 جنوری کو درج کروائی گئی۔
ہرمندر صاحب کے مینیجر راجوندر سنگھ کی جانب سے درج کروائی گئی اس شکایت پر پولیس نے انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 298 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAmritsar Police
ایف آئی آر کے مطابق: ’شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) کے شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے علم میں آیا کہ سبحان رنگریز نام کے ایک آدمی نے گولڈن ٹیمپل کے تالاب میں کُلی کر کے اس کی ویڈیو بنا کر اور پھر اسے وائرل کر کے بے ادبی کی ہے جو نا قابل برداشت ہے۔‘
ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ ’ہرمندر صاحب میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں دکھائی دیتا ہے کہ وہ شخص درشن کیے بغیر ہی احاطے سے باہر چلا گیا۔ اس کا مطلب ہے وہ آیا ہی بے ادبی کی نیت سے تھا۔‘
ایف آئی آر کے مطابق ایس جی پی سی کے علم میں یہ معاملہ 16 جنوری کو آیا۔
ملزم کا اپنے دفاع میں کیا کہنا ہے؟

،تصویر کا ذریعہSocial Media
سبحان رنگریز نے دو الگ الگ ویڈیوز جاری کر کے اپنے عمل کی معافی مانگی تھی۔ ویڈیو میں اُن کا کہنا ہے کہ جو کچھ انھوں نے کیا وہ غیر ارادی تھا۔
ویڈیو میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’میں گولڈن ٹیمپل گیا، جہاں جانے کی مجھے بچپن سے خواہش تھی۔ مجھے وہاں کے آداب کا علم نہ تھا۔ میں نے تالاب کے پانی سے وضو کیا اور غلطی سے میرے مںھ سے نکلا پانی تالاب میں جا گرا۔ میں اس پر اپنے سکھ بھائیوں سے معافی مانگتا ہوں اور وہاں آ کر بھی معذرت کروں گا۔ میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں۔‘
اس کے بعد ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سبحان رنگریز ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں۔
شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے پہلے کیا کہا تھا؟

،تصویر کا ذریعہRavinder Singh Robin/BBC
گذشتہ ہفتے میڈیا سے بات کرتے ہوئے شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سیکریٹری کلونت سنگھ منن نے کہا تھا: ’یہ بات سیوا داروں کے علم میں نہیں آئی ہو گی کیوں کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو یہاں کے ادب آداب کا علم نہیں ہوتا۔‘
فوٹیج کی مزید جانچ پڑتال کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یقینی بنایا ہے کہ سکیورٹی سخت کی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسی غلطی نہ کرے۔‘













