’ترک ٹماٹر ہمارے خلاف میزائل کا حصہ‘

،تصویر کا ذریعہEPA
شامی سرحد کے قریب فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ترکی کی جانب سے روسی طیارہ مار گرانے کے بعد روس نے ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
روس کے وزیراعظم دمیتری میدوید نے کہا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کا مسودہ آئندہ چند دونوں میں مکمل ہو گا اور اس سے دونوں ملکوں کے دمیان مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبے متاثر ہوں گے۔
دوسری جانب ترکی نے روس کی معافی کے مطالبے کو مسترد کیا ہے۔
ماسکو میں کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ ’حکومت نے اس اشتعال انگیز اقدام کا اقتصادی اور انسانیت کے لحاظ سے جوابی ردعمل تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس جوابی ردعمل میں زیادہ تر توجہ ترکی کے روس میں اقتصادی مفاد پر ’پابندیاں عائد‘ کرنے پر ہو گی اور خوراک سمیت دیگر اشیا کی فراہمی پر بھی پابندیاں لگائی‘ جائیں گی۔
انھوں نے کہا کہ انسانیت کے لحاظ سے عائد پابندیوں سے سیاحت، ٹرانسپورٹ، تجارت کے شعبے متاثر ہوں گے۔
روس ، جرمنی کے بعد ترکی کا سب سے اہم غیر ملکی تجارتی شراکت دار ہے جبکہ روسی سیاحوں کے لیے ترکی اہم غیر ملکی سیاحتی مرکز ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا اثر انقرہ پر بہت ہو گا لیکن کریملن بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔
بی بی سی کی روسی سروس نے روس اور ترکی کے درمیان ان اہم تجارتی روابط کا جائزہ لیا ہے جن پر تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے سب سے زیادہ اثر پڑے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیاحت:
ترکی ، روس کے سیاحوں کے لیے چھٹیاں گزارنے کا سب سے بڑا سیاحتی مقام ہے۔ روس کی وفاقی سیاحتی ایجنسی کے مطابق گذشتہ برس تقریباً 32 لاکھ کے قریب روسی سیاحوں نے ترکی کا سفر کیا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں 25 لاکھ لوگ سیاحت کے لیے مصر گئے۔
گذشتہ سال تک ترکی میں سب سے زیادہ آنے والے سیاح رُوسی تھے۔ لیکن روسی کرنسی روبل کے گرنے کی وجہ سے روسی سیاحت کو فرق پڑا اور زیادہ تر جرمن سیاح ترکی گئے۔
31 اکتوبر کو صحرائے سینا میں ہوائی جہاز کے حادثے کے بعد جب سے روس نے مصر جانے والی پروازوں پر پابندی عائد کی تو ترکی جانے والے سیاحوں کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا۔ لیکن ترکی کی طرف سے روسی جنگی جہاز کے گرائے جانے کے بعد ایسا نہیں لگتا کہ یہ رجحان جاری رہے۔
قدرتی گیس:
ترکی سنہ 2013 سے اپنی گیس کا 57 فی صد روس سے حاصل کرتا ہے۔

گذشتہ سال یہ جرمنی کے بعد روس کا سب سے بڑا صارف بن کر سامنے آیا ہے۔ جرمنی نے 36 ارب کیوبک میٹر گیس درآمد کی جب کہ ترکی نے 27.3 ارب کیوبک میٹر گیس روس سے درآمد کی۔
ترکی روس سے اپنی گیس دو راستوں کے ذریعے حاصل کرتا ہے ایک راستہ بحیرہ اسود میں بلیو سٹریم پائپ لائن جبکہ دوسرا راستہ رومانیہ، یوکرین اور مالدووا سے ہو کر آتا ہے۔
63 ارب کیوبک میٹر روسی گیس کے ترکی کے راستے یورپ منتقلی کا منصوبہ بھی التوا کا شکار ہے۔ اس منصوبے کا اعلان دسمبر سنہ 2014 میں روسی اور ترک صدور نے کیا تھا۔
ایٹمی توانائی:
ترکی کو اپنے استعمال کے لیے تقریباً تمام توانائی درآمد کرنا پڑتی ہے۔
سنہ 2012 میں انقرہ اور ماسکو کے مابین ترکی کے پہلے جوہری توانائی کے پلانٹ، ایکی یو، کی تعمیر کے حوالے سے اتفاق ہوا تھا۔
یہ منصوبہ اس طرح تشکیل کیا گیا تھا کہ ترکی کو اس سے ہر سال توانائی کی درآمد کی مد میں 14 ارب ڈالر کی بچت ہو۔
جوہری توانائی کا یہ پلانٹ بحیرہ روم کے ساحل پر میرسن صوبے میں زیرِ تعمیر ہے۔ روس اس پر پہلے ہی تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔
اکتوبر میں ترک حکام نے کہا تھا کہ شام میں روسی فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے اس منصوبے میں اس کی مستقبل کی شمولیت کے حوالےسے سوالیہ نشان پڑ گیا ہے۔
صدر رجب طیب اردگان نے اکتوبر میں کہا تھا ’اگر روسی ایکی یو منصوبے کو تعمیر نہیں کرتے تو کوئی اور ہمارے ساتھ مل جائے گا اور اسے تعمیر کرے گا۔‘
تعمیرات اور کپڑے:
اس وقت روس میں تقریباً 100 کے قریب ترک تعمیریاتی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔
روسی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1980 کے اختتام سے لے کر اب تک ترک کمپنیوں نے روس میں 800 سے زیادہ تعمیراتی منصوبوں پر کام کیا ہے۔
روسی مارکیٹ میں فروخت ہونے والے کئی بڑے برانڈز میں ترک سرمایہ کاروں کا بھی حصہ ہے۔ مثال کے طور پر ٹیوولینا شوز اور کپڑوں کا مشہور برانڈ گلوریا جینز اور اس کے علاوہ خوراک اور کیمیکل کی کئی صنعتیں۔
بدھ کو روسی سرکاری خبری ایجنسی آر آئی اے نووستی نے وزیراعظم کے ایک نائب جینادی اونیشچنکو کے حوالے سے لکھا کہ جو لوگ ترکی کا سامان خریدتے ہیں وہ دراصل مالی طور پر ترک فوجیوں کی مدد کر رہے ہیں۔
ان سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہر کسی کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی طرف سے خریدا گیا ایک بھی ترک ٹماٹر ہر اس میزائل کو بنانے میں ان کا حصہ ہے جو وہ (ترکی) ہمارے لوگوں کے خلاف استعمال کریں گے۔‘







