ترکی فضائیہ نے شامی سرحد کے قریب ’ڈرون‘ مار گرایا

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنڈرون طیاروں کا جنگی استعمال بڑھتا جا رہا ہے (فائل فوٹو)

ترکی کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے شام کی سرحد کے قریب ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ایک ’نامعلوم طیارے‘ کو مار گرایا ہے۔

ذرائع ابلاغ نے حکومتی اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ طیارہ بغیر پائلٹ کا ڈرون تھا تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ترک حکومت کے ایک اعلی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ ڈرون طیارہ کس ملک کا تھا۔

خیال رہے کہ شامی حکومتی افواج کے علاوہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف سرگرم اتحاد اور روس تینوں ہی ڈرون استعمال کر رہے ہیں۔

اس سے قبل ترک فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کے جنگی طیاروں نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک غیرملکی طیارے کو تباہ کر دیا ہے۔

نیٹو نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر روس کو خبردار کیا تھا

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti

،تصویر کا کیپشننیٹو نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر روس کو خبردار کیا تھا

فوج کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ تباہ کیا گیا طیارہ کس ملک کا تھا۔

فوج کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ طیارہ جمعے کو ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔

بیان کے مطابق ترک طیاروں نے اسے تین مرتبہ تنبیہ کی جس کے بعد بدستور ترک علاقے میں موجود رہنے پر اس طیارے کو مار گرایا گیا۔

ترک فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کارروائی نیٹو کے جنگی قوانین کے دائر کار میں رہتے ہوئے کی ہے۔

ان قواعد کے مطابق فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی طیارے کو پہلے تین مرتبہ خبردار کیا جاتا ہے۔ تین مرتبہ خبردار کرنے کے باوجود اگر خلاف ورزی کرنے والا طیارہ اپنا راستہ نہیں بدلتا تو پھر اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ترک حکام اس سے قبل روس کے جنگی طیاروں کی طرف سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کے بارے میں شکایت کر چکے ہیں۔