روسی طیاروں کا ترک حدود میں داخلہ ’غلطی نہیں ہو سکتی‘
نیٹو کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا نہیں لگ رہا کہ شام میں حملے کرنے والے روسی جنگی طیاروں نے غلطی سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔
تنظیم کے سیکریٹری جنرل ہینس سٹولٹنبرگ کا کہنا ہے کہ روس نے ان حرکات کی کوئی ’حقیقی توجیح‘ پیش نہیں کی ہے۔
روس شام میں صدر بشار الاسد کے مخالفین پر فضائی حملے کر رہا ہے اور روسی طیاروں کی ترک فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کے واقعات سنیچر اور اتوار کو پیش آئے تھے۔
<link type="page"><caption> شام میں اپنی فضائی کارروائیاں تیز کریں گے: روس</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151003_russia_syria_intensify_sq.shtml" platform="highweb"/></link>
روس نے پہلے واقعے کو خراب موسم کی وجہ سے نیویگیشن کی غلطی قرار دیا ہے جبکہ اس کا کہنا ہے کہ وہ دوسرے واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
ترک فوج نے کہا ہے کہ اتوار کے بعد پیر کو بھی ایک نامعلوم جنگی طیارے کا ریڈار آٹھ ترک طیاروں پر مرکوز رہا ہے جبکہ شامی حدود میں موجود میزائل نظام نے بھی پیر کو چار منٹ تک ترک طیاروں پر اپنا نشانہ سادھے رکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
اتوار کو ایک مگ 29 جنگی طیارے نے ترکی اور شام کی سرحد پر پانچ منٹ تک اپنا ریڈار ترک جنگی طیاروں پر ’فکس‘ رکھا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وہ طیارہ ممکنہ طور پر شامی فضائیہ کا تھا۔
ترکی اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دو مرتبہ روسی سفیر کو طلب کر چکا ہے اور اب روس کے نائب وزیرِ دفاع اناطولی انتونوو نے کہا ہے کہ وہ ترک حکام کو اس بحران پر بات چیت کے لیے ماسکو آنے کی دعوت دینے پر تیار ہیں۔
ادھر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ ترکی پر حملہ نیٹو پر حملے کے مترادف ہے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل ہینس سٹولٹنبرگ نے روسی طیاروں کے ترک حدود میں داخلے کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا اور کہا نیٹو اس معاملے کو بہت اہمیت دے رہی ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ’ایسے واقعات اور حادثات خطرناک حالات کو جنم دے سکتے ہیں۔‘
روسی فضائیہ نے شام میں اہداف پر بمباری کا آغاز گذشتہ بدھ کو کیا تھا اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ منگل کو 20 مرتبہ جنگی جہاز شام میں کارروائی کے لیے گئے اور انھوں نے دولتِ اسلامیہ کے 12 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جن میں کمانڈ سنٹر اور تربیتی کیمپ بھی شامل تھے۔







