شام میں کارروائیاں شدت پسند گروہوں کے خلاف ہیں: روس

،تصویر کا ذریعہReuters
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لووروف نے روس کی جانب سے شام میں فضائی کارروائیوں کے بارے میں کہا ہے کہ ہدف وہی گروہ ہیں جن کو امریکی اتحاد نشانہ بنا رہا تھا۔
انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ روس شام کے صدر بشار الاسد کی پوزیشن کو مستحکم بنانا چاہتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ روس فری سیریئن آرمی کو شدت پسند گروہ نہیں سمجھتا۔
کریملن نے کہا ہے کہ روس شامی حکومت کی درخواست پر خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو روس نے شام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر تازہ فضائی حملے کیے۔
لبنان کے المائدین ٹی وی کے مطابق ان حملوں میں روسی طیاروں نے شام کے شمال مغرب میں باغی تنظیموں کے اتحادی جیش الفتح کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
جمعرات کو ہونے والے ان فضائی حملوں میں اطلاعات کے مطابق سٹریٹجک قصبے جِسر الشغور کے قریبی علاقوں سمیت ادلیب صوبے اور حما صوبے کو نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل بدھ کو روس کا کہنا تھا کہ اس کے طیاروں نے خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم کے خلاف تقریباً 20 حملے کیے تھے۔
روس کے مطابق اس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تنظیم دولت اسلامیہ کے 12 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور کمانڈ سینٹر سمیت دو اسلحہ کے ڈپو کو تباہ کیا ہے۔
جیش الفتح کے اتحادیوں نے حال ہی میں شمال مغربی علاقوں میں پیش قدمی کے دوران حکومت کی حامی فورسز سے ادلیب پر قبضہ حاصل کیا تھا۔
ان اتحادیوں میں النصرہ فرنٹ، القاعدہ سے وابستہ اور سخت گیر اسلامی شدت پسند تنظیم احرار الشام کے ساتھ ساتھ کئی دوسری شدت پسند تنظیمیں شامل ہیں۔
یہ تمام دولت اسلامیہ کے مخالف ہیں اور اس کے ساتھ کئی خونریز جنگیں لڑ چکی ہیں۔
امریکہ نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حملوں کا ہدف روس کے اتحادی شامی صدر کے وہ مخالف ہیں جن کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے نہیں۔
امریکہ جو شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے، کا کہنا ہےکہ روس نے بدھ حملہ کرنے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل امریکہ کو اس کے متعلق آگاہ کیا تھا۔







