وائسرائے کا تحفہ: گولڈن ٹیمپل کی 122 سال پرانی گھڑی دوبارہ چل پڑی

BBC
،تصویر کا کیپشنیہ گھڑی کئی دہائیوں سے 10:08 پر رکی ہوئی تھی
    • مصنف, ہرمدیپ سنگھ اور روندر سنگھ روبن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

انڈیا کی ریاست پنجاب کے اہم شہر امرتسر میں واقع سکھ مذہب کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل میں نصب تقریباً سو سال پرانی تاریخی گھڑی، جسے ’کرزن کلاک‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، طویل عرصے تک خاموش رہنے کے بعد اب ایک بار پھر درست وقت بتانے لگی ہے۔ یہ گھڑی کئی دہائیوں سے 10:08 پر رکی ہوئی تھی۔

اب اس تاریخی گھڑی کی مرمت کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے دوبارہ دربار صاحب میں آویزاں کر دیا گیا ہے۔ گھڑی کی مرمت انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں کی گئی ہے، یہ وہی شہر ہے جہاں اسے اصل میں تیار کیا گیا تھا۔ مرمتی کام میں تقریباً دو سال کا عرصہ لگا ہے۔

یہ گھڑی برطانوی دور میں ہندوستان کے وائسرائے لارڈ کرزن کی طرف سے سکھوں کے مقدس ترین مذہبی مقام دربار صاحب کو دیا گیا ایک تحفہ تھا۔

گھڑی دربار صاحب کب اور کیسے پہنچی؟

BBC
،تصویر کا کیپشنگھڑی کو دوبارہ دربار صاحب میں آویزاں کر دیا گیا ہے

گولڈن ٹیمپل کی دیواروں پر موجود نقش و نگار اور سونے کی تختیوں کی حفاظت اور بحالی کا کام برطانیہ کے شہر برمنگھم میں قائم ادارے ’گرو نانک نشکام سیوک جتھا‘ کے سپرد ہے۔

اسی ادارے کی نگرانی اور قیادت میں تاریخی کرزن کلاک کی مرمت کا عمل مکمل کیا گیا۔

ادارے کے نمائندے اندرجیت سنگھ کے مطابق دستیاب تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی وائسرائے لارڈ کرزن اپنی اہلیہ کے ہمراہ 9 اپریل 1900 کو دربار صاحب تشریف لائے تھے۔

اس موقع پر انھوں نے دربار صاحب میں نصب ایک سادہ سی گھڑی دیکھی جس کے بعد انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ اس سادہ گھڑی کی جگہ ایسی گھڑی نصب کی جائے جو دربار صاحب کے تقدس اور حسنِ تعمیر سے ہم آہنگ ہو۔

اندرجیت سنگھ کے مطابق لارڈ کرزن کی ہدایات پر برمنگھم کی معروف کمپنی ایلکنگٹن اینڈ کمپنی لمیٹڈ کو یہ خصوصی گھڑی تیار کرنے اور انڈیا بھیجنے میں دو برس سے زائد کا وقت لگا۔

ماہرین کے مطابق یہ گھڑی نہ صرف وقت کی علامت ہے بلکہ برصغیر کی تاریخ، فنِ تعمیر اور مذہبی ورثے سے جڑی ایک اہم یادگار بھی تصور کی جاتی ہے۔ جس کی بحالی تاریخی ورثے کے تحفظ کی ایک نمایاں مثال ہے۔

یہ چمکدار پیتل کی گھڑی اس وقت کے لاہور کے کمشنر کی جانب سے 31 اکتوبر 1902 کو دیوالی اور بندی چھور دیوس کے موقع پر دربار صاحب کو پیش کی گئی تھی۔

مرمت کا کام کیسے شروع ہوا؟

BBC
،تصویر کا کیپشنگھڑی پر درج تحریر سے معلوم ہوا کہ یہ گھڑی 120 برس سے زائد عرصے سے یہاں موجود ہے

گرو نانک نشکام سیوک جتھا کے نمائندے اندرجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ سنہ 2023 کے آخر میں ادارہ سری ہرمندر صاحب امرتسر کے اندرونی حصے کی مرمت اور خوبصورتی میں اضافے کے کام میں مصروف تھا۔ اسی دوران چار داخلی دروازوں میں سے ایک کے اوپر نصب ایک گھڑی سامنے آئی، جو طویل عرصے سے نظروں سے اوجھل تھی اور ایک وقت سے آگے نہیں بڑھی تھی۔

اندرجیت سنگھ کے مطابق مشاورت کے بعد متعلقہ حکام نے ادارے کو اس تاریخی گھڑی کی مرمت کی اجازت دے دی۔ گھڑی پر درج تحریر سے معلوم ہوا کہ یہ گھڑی 120 برس سے زائد عرصے سے یہاں موجود ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گھڑی پر درج عبارت کے مطابق ’یہ گھڑی امرتسر کے گولڈن ٹیمپل کو وائسرائے اور گورنر جنرل آف انڈیا لارڈ کرزن کی جانب سے اپریل سنہ 1900 میں ان کے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر پیش کی گئی تھی۔‘

اندرجیت سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ ’حکام نے گھڑی کو مرمت کے لیے برطانیہ بھیجنے کی منظوری دے دی، کیونکہ یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ گھڑی ممکنہ طور پر انگلینڈ میں تیار کی گئی تھی۔‘

برطانیہ میں گرو نانک نشکام سیوک جتھا کا مرکزی دفتر ہینڈزورتھ (برمنگھم) میں واقع ہے جہاں سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر زیورات کی تیاری، ڈیزائن اور دستکاری کا عالمی شہرت یافتہ مرکز موجود ہے۔ اس علاقے کو گھڑی سازی کے حوالے سے تاریخی اہمیت حاصل ہے اور اس بات کے آثار سترھویں صدی تک ملتے ہیں۔

بعد ازاں یہ بھی انکشاف ہوا کہ برمنگھم کا یہی چھوٹا سا علاقہ نہ صرف اس گھڑی کی ممکنہ جائے پیدائش تھا بلکہ مرمتی ٹیم کے ایک اہم رکن کا گھر بھی اسی علاقے میں واقع تھا۔

گھڑی کس حالت میں تھی؟

گرو نانک نشکام سیوک جتھا کے نمائندے اندر جیت سنگھ کے مطابق گھڑی کی اصل مکینیکل مشینری، سوئیاں اور ڈائل کئی دہائیاں قبل تبدیل کر دیے گئے تھے۔

اندر جیت سنگھ نے بتایا کہ ’گھڑی نہایت خستہ حالت میں تھی۔ اس کا ڈھانچہ بری طرح متاثر ہو چکا تھا کُچھ جگہوں پر سے تو اس میں کریک پڑ چُکے تھے، کہیں کہیں سے اس کے بعض حصے ٹوٹ چُکے تھے۔ گھڑی کی یہ حالت غالباً اس کے دیوار سے گر جانے کی وجہ سے ہوئی تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’گھڑی کے ڈھانچے کی مختلف اوقات میں مرمت عام طور پر دستیاب اوزاروں اور طریقوں سے کی گئی، جس کے نتیجے میں بعض مواقع پر گھڑی کو مزید نقصان بھی پہنچا۔

ان کے مطابق گھڑی کے کئی آرائشی حصے غائب تھے۔ اس کے علاوہ گھڑی کا اصل مکینزم، سوئیاں اور ڈائل بھی موجود نہیں تھے۔ ان کی جگہ 1980 کی دہائی کے بعد دستیاب جدید کوارٹز مکینزم، ایلومینیم شیٹ کا ڈائل اور گرمکھی اعداد استعمال کیے گئے تھے۔

گھڑی کی مرمت کس نے کی؟

BBC
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس تاریخی گھڑی کی مرمت کا کام گھڑی سازی (ہورولوجی) کے ماہرین الیسٹیئر چینڈلر اور کیم لاولا نے انجام دیا۔ الیسٹیئر چینڈلر معروف ادارے دی کلاک کلینک کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ کیم لاولا دی جینیئس آف دی لیمپ اور کانکورس پلیٹنگ کمپنی کے بانی ہیں۔

گھڑی کے اندرونی مکینزم، سوئیوں کی حرکت، سوئیوں اور ڈائل کے ڈیزائن کی مرمت کی ذمہ داری الیسٹیئر چینڈلر کے سپرد تھی جبکہ گھڑی کے دیگر حصوں جن میں اس کا ڈھانچہ، بیرونی رنگت، پچھلا اور اگلے حصے کا کام شامل تھا جو کیم لاولا نے سرانجام دیا۔

الیسٹیئر چینڈلر کا کہنا ہے کہ ’جنوری سنہ 2024 میں مجھ سے اس منصوبے سے وابستہ افراد نے رابطہ کیا۔ انھوں نے مجھے انڈیا کے شہر امرتسر میں واقع سری ہرمندر صاحب (گولڈن ٹیمپل) میں موجود ایک گھڑی کی حیران کن داستان سنائی جو لارڈ کرزن کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔‘

اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’اس کہانی اور گھڑی سے جڑی شاندار تاریخی وراثت نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ تاہم جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ گھڑی بری طرح متاثر ہو چکی ہے اور اس مرحلے پر مکمل بحالی کے لیے میں اکیلا موزوں نہیں چنانچہ میں نے اپنے قریبی دوست کیم لاولا کا نام تجویز کیا۔ وہ معروف ریسٹوریشن ادارہ ’دی جینیئس آف دی لیمپ‘ چلاتے ہیں اور نفیس دھاتی اشیاء کی مرمت میں مہارت رکھتے ہیں۔‘

کیم لاولا کا کہنا ہے کہ ’منصوبے سے وابستہ افراد نے مجھ سے امرتسر کے سری ہرمندر صاحب (گولڈن ٹیمپل) کی ایک تاریخی گھڑی کی بحالی کے لیے رابطہ کیا۔ یہ گھڑی اپنے وقت کے وائسرائے لارڈ کرزن کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ میرے دوست اور ہورولوجی کے ماہر الیسٹیئر چینڈلر نے مجھے اس کام کے بارے میں بتایا جو بعد ازاں گھڑی کی مرمت میں میری معاونت کرنے والے تھے۔ مجھے اس کام سے ایک عجیب سے اپنائیت محسوس ہوئی اور میں اسی جذبے کے ساتھ اس کام کو آگے بڑھانے پر آمادہ ہو کیا۔‘

BBC
،تصویر کا کیپشناس تاریخی گھڑی کی مرمت کا کام گھڑی سازی (ہورولوجی) کے ماہرین الیسٹیئر چینڈلر اور کیم لاولا نے انجام دیا

ڈائل کی مرمت کیسے کی گئی؟

گھڑی کے ڈائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہر گھڑی ساز الیسٹیئر چینڈلر نے بتایا کہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ ڈائل کا انداز اسی دور کی انگریزی گھڑیوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ تاہم گولڈن ٹیمپل کے شاندار اور روحانی ماحول کو مدِنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن میں مزید آرائشی جھلک شامل کرنا ضروری تھا۔

الیسٹیئر چینڈلر کے مطابق ’گھنٹوں کی تحقیق کے بعد مجھے ایک ایسا ڈائل ڈیزائن ملا جو اس تاریخی گھڑی کے لیے بالکل موزوں تھا۔ کیم لاولا اور میں نے مل کر ڈائل پلیٹ اور فٹنگز تیار کیں۔ اس طرح ڈائل کے اصل ڈیزائن کو دوبارہ تخلیق کیا گیا اور اس میں کمپنی ایلکنگٹن اینڈ کمپنی کے دستخط بھی شامل کیے گئے۔‘

الیسٹیئر چینڈلر نے کہا ’اسی وجہ سے میں نے وکٹورین دور کی گھڑیوں میں عام طور پر استعمال ہونے والے چاندی کے ڈائل کی بجائے سنہری ڈائل کا انتخاب کیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ گھڑی کی سوئیوں کے ڈیزائن کے لیے بھی خاص وقت صرف کیا گیا تاکہ وہ نہ صرف اس دور کے انداز سے مطابقت رکھیں بلکہ ڈائل کی آرائش سے بھی ہم آہنگ ہوں۔ روایتی گھڑی سازی کی تکنیکوں کے ذریعے سوئیاں تیار کی گئیں اور انھیں ڈائل کے ساتھ جوڑا گیا۔

بعد ازاں ڈائل کو گھڑی کے دھانچے سے جوڑ دیا گیا اور ایک ایک کر کے تمام پُرزے جوڑے گئے۔

ماہرین کے مطابق اس محنت اور لگن نے اس تاریخی گھڑی کو ایک نئی زندگی دی۔

مزید کس چیز کی مرمت کی گئی؟

BBC
،تصویر کا کیپشنماہر گھڑی ساز الیسٹیئر چینڈلر نے بتایا کہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ ڈائل کا انداز اسی دور کی انگریزی گھڑیوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے

کیم لاولا کے مطابق اس تاریخی گھڑی کی مرمت کا عمل نہایت پیچیدہ اور صبر آزما تھا کیونکہ گھڑی انتہائی خستہ حالت میں ملی تھی۔

کیم لاولا نے بتایا کہ ’گھڑی پر گہرے ڈینٹ تھے، یہ مختلف مقامات سے کریک تھی اور اس کے کئی حصے غائب تھے۔ پورے ڈھانچے کو کھول کر انتہائی باریک بینی کے ساتھ ازسرِنو تیار کرنا پڑا، جبکہ جو حصے وقت کے ساتھ ضائع ہو چکے تھے انھیں دوبارہ بنایا گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’امرتسر کے سری ہرمندر صاحب کی اس گھڑی کو دوبارہ چلنے کے قابل بنانا میرے لیے ایک اعزاز اور فخر کی بات ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے مجھے ہماری مشترکہ تاریخی وراثت کے ایک اہم حصے کو محفوظ کرنے اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے برقرار رکھنے میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔‘

ماہرین کے مطابق تاریخی گھڑی کی مرمت کا یہ عمل نہ صرف فنی مہارت بلکہ تاریخی شعور اور روحانی وابستگی کی بھی ایک شاندار مثال ہے، جس کے نتیجے میں یہ قیمتی ورثہ ایک بار پھر اپنی اصل شان کے ساتھ زندہ ہو گیا ہے۔

شرومن کمیٹی کا بیان

BBC
،تصویر کا کیپشنگھڑی کی ایک تصویر

دربار صاحب کے مینجر بھگوت سنگھ نے بی بی سی کے صحافی ارشدیپ کور سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ایس جی پی سی نے سنہ 2023 میں ایک صدی پرانی گھڑی کی مرمت کے لیے اسے برطانیہ میں واقع گرو نانک نشکام سیوک جتھا کے حوالے کیا تھا۔

بھگوت سنگھ نے مزید بتایا کہ ’یہ گھڑی سنہ 1900 میں لارڈ کرزن کی جانب سے دربار صاحب کو پیش کی گئی تھی مگر پچھلے چند سالوں سے یہ کام نہیں کر رہی تھی۔ ایس جی پی سی نے سنہ 2023 میں اس گھڑی کو برطانیہ میں قائم ادارے کے حوالے کیا، جس نے اس کی مرمت کروائی۔ اس کی مرمت میں دو سال سے زیادہ کا وقت لگا اور حال ہی میں یہ دوبارہ دربار صاحب میں نصب کی گئی ہے۔ تمام اخراجات گرو نانک نشکام سیوک جتھا نے خود برداشت کیے جو تقریباً 90 لاکھ روپے بنتے ہیں۔‘

ماہرین اور انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام نہ صرف تاریخی وراثت کے تحفظ کی مثال ہے بلکہ دربار صاحب کے ثقافتی اور روحانی ماحول کو بھی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔