نوجوت سنگھ سدھو کا جنرل باجوہ سے بغل گیر ہونا متنازع رخ کیوں اختیار کر گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے نومنتخب وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں انڈیا سے سابق کھلاڑی نوجوت سنگھ سدھو کی شرکت پر جہاں پاکستان میں خوشی کا اظہار کیا گیا وہیں انڈیا میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سدھو کے جنرل باجوہ سے بغل گیر ہونے پر تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے۔
2014 میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف دہلی گئے تھے اور اس پر پاکستان کے کئی حلقوں میں اعتراضات سامنے آئے تھے اور اب 2018 میں انڈیا سے کسی سیاسی شخصیت کو مدعو نہیں کیا گیا لیکن کرکٹر سے ملک کے وزیراعظم منتخب ہونے پر عمران خان نے پرانی دوستی کی بنیاد پر نوجوت سنگھ سدھو سمیت دیگر کرکٹرز کو مدعو کیا تھا۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
نوجوت سنگھ سدھو کی پاکستان کی آمد کو مقامی ذرائع ابلاغ پر کافی کوریج دی گئی اور اس کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ کئی برسوں سے سرد مہری کا شکار تعلقات میں بہتری کی باتیں اور تبصرے بھی شروع ہو گئے جس میں عمران خان کی وکٹری سپیچ کا تذکرہ بھی ہوا جس میں انھوں نے انڈیا سے کہا کہ اگر وہ ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو۔۔۔۔
سوشل میڈیا پر ہنگامہ کب شروع ہوا؟

،تصویر کا ذریعہTwitter
جمعے کو نوجوت سنگھ سدھو لاہور کی واہگہ سرحد پر واقع کراسنگ پوائنٹ سے پاکستان پہنچے اور سنیچر کو اسلام آباد کے ایوان صدر میں منقعد تقریب حلف برداری میں شرکت کی اور یہاں سے تنازع شروع ہوا۔
جس میں پہلے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تقریب میں شامل پاکستان کے زیرا انتظام کشمیر کے صدر مسعود خان کے ساتھ بیٹھنے پر تنقید شروع ہوئی اور پھر سدھو کے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ سے بغل گیر ہونے اور مسکراہٹوں کے ساتھ جملوں کے تبادلہ خیال نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے ساتھ ہی مختلف ٹریندز شروع ہو گئے اور اس کے مقابلے میں پاکستان میں #sidhu کا ٹریند گردش کرنے لگا جس میں صارفین سدھو کی پاکستان کی آمد کو خیرمقدم کر رہے ہیں اور انڈین صارفین کی جانب سے تنقدی حملوں کا جواب دے رہے ہیں۔
#ShameOfIndia پر پراکش شیو واستو نے سدھو کے بارے میں لکھا کہ ’وہ بلے باز کے طور پر انڈین قوم کے فخر تھے۔۔۔ اب یہ الٹا ہو گیا ہے۔‘
اسی ٹرینڈ پر سمت تیاگی نامی صارف نے سابق انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی آخری رسومات کے حوالے سے لکھا کہ جب ہر ایک شخص اٹل بہاری جی کی آخری رسومات پر سوگ وار تھا تو اسی دن سدھو نے پاکستانی وزیراعظم کی تقریب حلف برداری میں جانے کو ترجیح دی۔
#Navjot ہیش ٹیگ پر ایک صارف برج موہن بھاما تو نوجوت سنگھ سدھو سے زیادہ ہی نالاں دکھائی دیے اور انھوں نے لکھا کہ ’نوجوت سنگھ سدھو کو کانگریس پارٹی سے نکال دینا چاہیے۔ وہ انڈین فوجیوں کے قاتل سے بغل گیر ہوئے ۔۔۔۔ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کو تسلیم کیا جس اس کے صدر کے ساتھ بیٹھ کر لطف اندوز ہوئے۔۔۔۔ یہ کس قسم کا کرکٹر ہے۔۔۔؟ انڈیا سچ جاننا چاہتا ہے۔‘
ترن شکلا نے اسی ٹریند پر جنرل باجوہ اور سدھ کے بغل گیر ہونے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ساتھ لکھا کہ ’اگر ویڈیو کو دیکھیں اور اس ساتھ میں باڈی لینگوئج کو دیکھیں تو کسی کمنٹ کی ضرورت نہیں ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ان ٹرینڈز پر ایسی تصاویر بھی شیئر کی جا رہی ہیں جس میں انڈیا کے زیر انتظام کمشیر میں مارے جانے والے انڈین فوجیوں کی میتوں اور ان کے اہلخانہ کو سوگوار ہیں تو دوسرے جانب سدھو جنرل باجوہ سے بغل گیر ہو رہے ہیں۔
تاہم ایسے صارفین بھی تھے جنھوں نے سدھو کا کسی حد تک دفاع کیا جن میں ونود کمار نے لکھا کہ ’سدھو صاحب وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں تیسری اہم شخصیت تھے۔ صرف دو دنوں میں پاکستان کے لوگوں نے انڈیا کے بارے میں اپنا رویہ بدل لیا۔۔۔۔۔اس شروعات کو چلنے دیا جائے۔‘
دوسری جانب #sidhu ٹرینڈ پر جہاں انڈین کی جانب سے سدھو کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے تو وہیں پاکستانی صارفین اس تنقید کی مذمت کرتے ہوئے سدھو کے پاکستان آنے کے فیصلے کی پذیرائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
کول نامی ایک صارف نے تحریر کیا کہ ’کیوں آپ لوگ ہر وقت بہت منفی سوچتے ہیں؟ یہ ہمارے آرمی چیف کا ہمارے مہمان کے لیے اچھا تاثر تھا۔۔۔ سدھو پا جی ایک اچھے انسان ہیں اور میں ان کے پاکستان کے دورے کی قدر کرتا ہوں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
حسن جمال نے لکھا کہ ’آرمی چیف نجوت سدھو سے بغل گیر ہوئے اور وہ ’آزاد کشمیر‘ کے صدر کے ساتھ بیٹھے۔۔ خدا۔۔۔ اسے واپس اپنے گھر میں غدار کہلائے جانے سے بچا۔۔۔ اور مسئلہ شروع ہو گیا ہے۔۔۔ سرحد پار چھوٹے دماغوں سے آپ اس کے علاوہ کیا توقع کر سکتے ہیں۔‘
’بن مانگے موتی ملتے ہیں ۔۔۔‘
سوشل میڈیا پر جاری لفظی جنگ کے دوران نوجوت سنگھ سدھو نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں دونوں ممالک کے اچھے تعلقات کے بارے میں بات کی اور اس کے ساتھ امن کی بات کی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
انھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں جہاں سرحد کی دونوں جانب کے پنجاب کی بات کی تو وہیں آرمی چیف جنرل باجوہ سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں انتہائی پرجوش لہجے میں بتایا ’بن مانگے موتی ملتے ہیں اور مانگنے سے بھیک بھی نہیں ملتی۔ اور جو بن مانگے موتی ملتے ہیں اس کی مثال آپ کو بتاتا ہوں کہ ۔۔۔ جنرل باجوہ میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ بابا گورو نانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات منائیں گے تو ہم کرتاپور کراسنگ کو کھولنے کا سوچ رہے ہیں ۔۔۔ وہ صرف ایک لائن میں مجھے اتنا کچھ دے گئے کہ۔۔۔‘
انھوں نے کہا کہ پھر جنرل صاحب نے کہا کہ ’ہم امن چاہتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں انڈین سرحد سے متصل علاقے کرتار پور میں سکھ مذہب کے بانی اور روحانی پیشوا بابا گرو نانک کی قبر اور سمادھی ہے اور یہ انڈین سرحد کے بالکل قریب ہی واقع ہے۔
نجوت سدھو کی پریس کانفرنس اور ان کے دورہ پاکستان سے جڑی امیدیں پوری ہوتی ہیں کہ نہیں اس کے بارے میں آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے کیونکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات ’پل میں تولہ اور پل میں ماشا‘ کے مترادف ہیں۔
سنیچر کو تحریک انصاف کی حکومت نے شاہ محمود قریشی کو وزیر خارجہ نامزد کیا ہے اور پیپلز پارٹی کے دور میں جب وہ اسی منصب پر تھے تو انھوں نے 2010 میں اسلام آباد میں اپنے انڈین ہم منصب ایس ایم کرشنا سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انڈیا پاکستان مذاکرات کا یہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی بات چیت میں پیش رفت ہوتی ہے، تو آخری لمحات میں رکاوٹیں پیدا ہوجاتی ہیں۔‘











