کرکٹ، ڈپلومیسی اور فوج

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
فروری 1987!
انڈیا اور پاکستان پھر نبرد آزما تھے۔ فضا میں کشیدگی اور جنگ کا ذکر تھا۔ اس کے باوجود پاکستانی ٹیم انڈیا میں پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیل رہی تھی، اور اس ٹیم کی کپتانی عمران خان کر رہے تھے۔
پاکستان میں جنرل ضیاالحق کی حکمرانی تھی اور وہ اس کشیدہ ماحول میں اچانک دلی پہنچ گئے ’کیونکہ وہ کرکٹ کا ایک اچھا میچ دیکھنا چاہتے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
جنرل ضیا نے جے پور میں انڈیا اور پاکستان کا میچ دیکھا، یہاں قیام کے دوران اپنی "کرکٹ ڈپلومیسی" کا جادو بکھیرا اور جب وہ پاکستان لوٹے تو جنگ کا ذکر ختم ہو چکا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت امریکی اخبار ایل اے ٹائمز کی سرخی تھی: ’پہلی ہی پچ پر جنگ کا ذکر ختم، انڈیا میں ضیا کی کرکٹ ڈپلومیسی کامیاب‘۔
راجیو گاندھی اور جنرل ضیا کے درمیان ’پبلک ریلیشنز‘ کا یہ میچ پاکستان کے حق میں گیا تھا لیکن جے پور کا ٹیسٹ ڈرا رہا۔
مین آف دی سیریز کا انعام کپتان عمران خان نے جیتا۔ اب وہ پھر پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد انڈین اخبارات میں اور ٹی وی چینلوں پر چھائے ہوئے ہیں۔
کچھ جنرل ضیا کے غیر معمولی دورے کی طرح، یہاں ایک کنفیوژن ہے: ان کا وزیراعظم بننا انڈیا کے لیے اچھی خبر ہے یا بری؟ وہ انڈیا کے ساتھ دوستی کی کوشش کریں گے یا اپنے اس موقف پر قائم رہیں گے جو انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اختیار کیا تھا اور اور اگر یہ الزام درست ہے کہ ان کی کامیابی میں فوج کا بھی بڑا ہاتھ ہے تو اس کے کیا مضمرات ہوں گے؟
آخری سوال سے شروع کرتے ہیں۔ انڈیا میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان کی کشمیر اور انڈیا پالیسی پوری طرح پاکستان کی فوج ہی کنٹرول کرتی ہے۔ اس لیے کچھ تجزیہ کاروں کا یہ خیال ہے کہ اگر فوج اور منتخب حکومت ’ایک ہی پیج‘ پر ہوں، یعنی ان کے موقف میں یکسانیت ہو تو مذاکرات کرنا آسان ہوسکتا ہے۔
انڈیا کی سینئر صحافی برکھا دت نے مجھے بتایا کہ ’ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر کوئی بڑا فیصلہ ہوگا تو وہ فوج ہی کرے گی۔۔۔۔لیکن عمران خان نے انڈیا میں کافی وقت گزارا ہے، ان کے یہاں بہت سے لوگوں سے تعلقات ہیں، وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی مل چکے ہیں۔۔۔اور اس کا فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔‘
عمران خان نے خود اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بہت محتاط زبان کا استعمال کیا، انھوں نے کہا کہ اگر انڈیا ایک قدم آگے بڑھائے گا تو وہ دو قدم چلنے کے لیے تیار ہیں، اور آج انڈیا میں کئی اخبارات نے اسی خبر کو اپنی سرخی بنایا ہے۔
خارجی امور کی تجزیہ کار سہاسنی حیدر کا خیال کہ انتخابی مہم کے دوران بہت سی ایسی باتیں کہی جاتی ہیں جن کا اقتدار میں آنے کے بعد ذکر نہیں کیا جاتا۔ اور برکھا دت کے مطابق عمران خان کی پریس کانفرنس سے یہ لگا کہ انھوں نے ایسا کرنا شروع کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHindustan Times
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنی انتخابی مہم میں پاکستان کے خلاف کافی سخت زبان استعمال کی تھی لیکن الیکشن جیتتے ہی انہوں نے نواز شریف کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو بھی کیا اور اس کے بعد کچھ اسی ہوش ربا انداز میں لاہور پہنچ گئے جیسے جنرل ضیا دلی آئے تھے۔
سہاسنی حیدر کا یہ بھی خیال ہے کہ دونوں کے انداز سیاست میں کافی یکسانیت ہے، انہوں نے موجودہ سیاسی اسٹیبلشمنٹ اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور وہ خطرے مول لینے اور دو ٹوک الفاظ میں بات کرنے سے نہیں جھجھکتے۔ اس لیے ہوسکتا ہے کہ دونوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا آسان ہو۔
جہاں تک سوال ہے کہ ان کے الیکشن میں فوج کا کوئی کردار تھا کہ نہیں، انڈیا نے ماضی میں جنرل ضیا سے بھی مذاکرات کیے ہیں اور جنرل مشرف سے بھی، اور پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنی کتاب میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ملک کشمیر پر ایک فارمولے کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے تھے لیکن پھر پاکستان میں حالات بدلے اور بات بیچ میں ہی رہ گئی۔
تجزیہ کار سشانت سرین کا خیال ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے سے باہمی رشتوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، اور ’بات براہ راست فوج سے ہی کی جانی چاہیے۔‘
لیکن سہاسنی حیدر کا کہنا کہ انڈیا میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے جس کے تحت کسی دوسرے ملک کی فوج سے براہ راست بات چیت کی جا سکے۔ ’یہ بات کون کرے گا؟‘
حکومت کی جانب سے ابھی کوئی باضابطہ رد عمل نہیں آیا ہے لیکن بی جے پی کے ایک ترجمان نے حکومت کا یہ موقف ضرور دہرایا کہ انڈیا بھی مذاکرات کے حق میں ہے، لیکن دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے اور یہ کہ بات چیت صرف دو طرفہ ہی ہوسکتی ہے اس میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
عمران خان انڈیا اور پاکستان کے رشتوں کی خطرناک پچ پر کس طرح کھیلتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن وہ ریورس سوئنگ کے بانیوں میں سے ہیں، اس لیے آئندہ چند دنوں میں اگر کچھ ایسا ہو جس کی آپنے توقع نہ کی ہو، تو زیادہ حیران نہ ہوئیے گا۔
کرکٹ ڈپلومیسی میں ایسا ہی ہوتا ہے۔











