انڈیا پاکستان کے نوجوان قلمی دوستوں کی کہانی

خطوط

،تصویر کا ذریعہROUTES 2 ROOTS

خطے میں امن کے قیام کی پیش قدمی کے طور پر پاکستان اور انڈیا کے ہزاروں طلبہ نے ایک دوسرے کو خطوط لکھے جو بعد میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نذر ہو گئے۔

بی بی سی مراٹھی کی پراجکتا دھولپ نے انڈیا اور پاکستان کے ایسے ہی دو دستوں کی کہانی بیان کی ہے جنھوں نے خطوط کے ذریعے ایک دوسرے کو اپنی تہذیب و ثقافت سے واقف کرایا۔

انڈیا کے معروف شہر ممبئی کے 14 سالہ رشیکیش دوبے کہتے ہیں کہ ان کا سب سے بڑا خزانہ وہ چار خطوط ہیں جو انھیں لاہور سے ان کے پاکستان کے قلمی دوست سمیع اللہ نے اپنے ہاتھوں سے لکھ کر بھیجے ہیں۔

ہندوستان کی غیر سرکاری تنظیم 'روٹس 2 روٹس' کے ذریعے یہ سلسلہ سنہ 2010 میں شروع کیا گیا تھا جو سنہ 2017 میں رونما ہونے والے ایک واقعے کے بعد بند کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

رشیکیش ممبئی کے انویوگ سکول میں پڑھتے ہیں۔ ایک سال پہلے ان کی اپنے دوست سمیع اللہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ سمیع اللہ لاہور گرامر سکول میں زیر تعلیم ہیں۔

دونوں دوست بن گئے اور انھوں نے دوستی زندہ رکھنے کے لیے قلم کا سہارا لیا جو کسی سرحد کا پابند نہیں تھا۔

ان خطوط کے ذریعے انھیں ایک دوسرے کے ملک کو نئے سرے سے جاننے اور سمجھنے میں مدد ملی۔

کیا پاکستان میں وڑا پاؤ ملتا ہے؟

خط

،تصویر کا ذریعہROUTES 2 ROOTS

رشیکش نے خط میں اپنے بارے میں بتایا۔ سمیع اللہ نے اس کا جواب دیا۔ دونوں نے اپنے اہل خانہ، اپنی پسندو ناپسند، کھیل کود، کھانے پینے کے بارے میں لکھا۔ اس طرح دونوں کی دوستی بڑھتی چلی گئی۔

دونوں نے اپنے ارد گرد کے مقامات پر بات کی اور تصاویر شیئر کیں۔ رشیکش نے گیٹ وے آف انڈیا، مندروں اور ممبئی کے بارے میں بتایا اور تصاویر بھیجیں۔

اس کے بعد، سمیع اللہ نے لاہور کے قلعے اور بادشاہی مسجد کے بارے میں بتایا اور فیض احمد فیض کا بھی ذکر کیا۔

ان دونوں نے ایک دوسرے سے سوالات بھی کیے۔ جیسے کیا پاکستان میں وڑا پاؤ (ممبی کا مقبول ترین کھانا) ملتا ہے، کیا ہاکی تمہارے یہاں بھی قومی کھیل ہے وغیرہ۔

جب ملاقات کا وقت آیا

لاہور

،تصویر کا ذریعہROUTES 2 ROOTS

سمیع اللہ اور رشیکیش کے درمیان خطوط کا سلسلہ سنہ 2016 میں شروع ہوا تھا پھر سنہ 2017 میں انھوں نے ملنے کا فیصلہ کیا۔ رشیکیش اس کے لیے لاہور جانے والے تھے۔

رشیکیش اپنے دوست سے ملنے کے بہت خواہاں تھے۔ وہ اپنے دوست کے شہر لاہور کو دیکھنا اور وہاں کی ثقافت اور تاریخ جاننا چاہتے تھے۔

اپنے چوتھے خط میں سمیع اللہ نے پوچھا: 'تم ممبئی سے میرے لیے کیا لاؤگے؟'

رشیکیش نے اپنے والد سے صلاح کی تو انھوں نے کپڑے لینے کا مشورہ دیا اور دونوں دوستوں کے لیے ایک ہی طرح کے پٹھانی سوٹ سلوائے گئے۔

پاسپورٹ تیار ہو گیا، ویزے کا مرحلہ بھی پورا ہوا اور پھر ضابطے کی تمام کارروائیوں کے بعد ٹکٹ بھی بک کر لی گئی۔ اب دونوں کو ایک دوسرے سے ملنے کا اشتیاق تھا۔

لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ساری تیاریاں بیکار گئیں اور کئی چیزیں منسوخ کرنی پڑیں اور ان کا ملنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔

انڈیا پاکستان قومی پرچم

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

رشیکیش ہی کی طرح سرحد پار 212 سکولوں کے بچوں نے اپنے دوستوں کو خط لکھے۔ اس طرح ایک سال کے دوران سرحد کے آر پار ایک ہزار سے زیادہ خطوط لکھے گئے۔

ان کے ذریعے انھیں جو معلومات حاصل ہوئی وہ ان کی درسی کتابوں کی تاریخ سے مختلف تھیں۔

انویوگ سکول کی استانی منیشا گاوڑے نے امن کی اس پیش قدمی کے بارے میں مزید بتایا: 'خطوط کے لیے ہم نے انگریزی زبان کا انتخاب کیا۔دونوں ملکوں کے درمیان ہندوستانی بولی اور سمجھی جاتی ہے لیکن انھیں دو مختلف رسم خط میں لکھا جاتا ہے۔ ان بچوں کے لیے اپنے آپ خط لکھنا آسان نہیں تھا لہذا اساتذہ نے ان کی مدد کی۔ بچے خط لکھنے اور سوالات پوچھنے کے لیے بہت بے قرار رہتے اور پھر ان کے جواب کا بے صبری سے انتظار کرتے۔'

50 ہزار بچے دوست بنے

پڑوسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خطوط کے ذریعہ ایک دوسرے کو جاننے کے بعد اگلا مرحلہ ان کی ملاقات کا تھا۔ بہت سے ایسے بچے تھے جو لاہور جانا چاہتے تھے لیکن ان کے والدین نے انھیں اجازت نہیں دی۔

انویوگ سکول کے ٹرسٹی ستیش چندرکر بتاتے ہیں: 'ہمیں اپنی ہندو مسلم فرقہ وارانہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ جن بچوں کے ذہن میں منفی خیالات نشو نما پا رہے ہیں ہمیں ان کی سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہم نے بچوں کے والدین سے بات کی اور ان میں سے دو اپنے بچوں کو لاہور کو بھیجنے کے لیے تیار ہو گئے۔'

ستیش چندرکر نے کہا؛ 'ہم نے تمام تیاریاں کر لی تھیں، ہمارے پاس ٹکٹ بھی تھے، لیکن پھر انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر کشیدگی کے بعد سفر کو منسوخ کردیا گیا۔'

لیکن انھیں اب بھی یہ امید ہے کہ وہ ایک دن ان بچوں کو پاکستان لے کر جائيں گے۔

'روٹس 2 روٹس' ادارے کے بانی راکیش گپتا نے کہا: '2010 میں اس کی پہل ہوئي جس میں انڈیا اور پاکستان کے طلبہ کو ایک دوسرے کو جاننے کا موقع دیا گیا۔ اس طرح، گذشتہ سات سالوں میں ممبئی، دہلی، دہرادون، لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں 50 ہزار سے زائد بچے ایک دوسرے کے دوست بنے۔'

لیکن اس 'اکسچینج فار چینج پروگرام' کے معطل ہو جانے پن انھیں تکلیف ہے۔

اب بھی امید زندہ ہے

انویوگ سکول

،تصویر کا ذریعہANUYOG VIDYALAY

گذشتہ سال پاکستان سے 60 بچے انڈیا آئے۔ دہلی میں اپنے اساتذہ کے ساتھ دو دن رہنے کے بعد وہ تاج محل دیکھنے آگرہ گئے۔

راکیش گپتا نے کہا: گذشتہ سات سالوں سے ہم انڈیا اور پاکستان میں بچوں سے بات کر رہے ہیں۔ ہر بار دونوں ممالک کی حکومتوں اور انتظامیہ نے بہت مدد کی ہے۔ تاہم گذشتہ سال وزارت داخلہ نے پاکستان کے بچوں کو جلد واپس بھیجنے کا حکم دیا لہذا ان کا سفر ادھورا رہ گیا۔

اور اسی لیے لاہور سے آنے والے بچے اپنے انڈین دوستوں سے نہیں مل سکے۔

تاج محل

فی الحال رشیکیش دسویں جماعت میں زیر تعلیم ہیں۔ وہ اپنے دوست سے پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ سمیع اللہ کا انڈیا کے بارے میں کیا تصور ہے۔

رشیکیش اب بھی پرامید ہیں کہ وہ ایک دن پاکستان جائیں گے۔ انھوں نے کہا: 'میں نہیں جانتا کہ سمیع اللہ مجھے پہچانے گا یا نہیں۔ اب ہم بات چیت نہیں کرتے۔ لیکن میں اب بھی اس سے ملنا چاہتا ہوں۔ میرے لیے وہ میرا دوست ہے۔'