انڈیا پاکستان جھگڑا اور فنکاروں کے بیانات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
پہلے سلمان خان اور پھر رنبیر کپور کے ساتھ مبینہ نزدیکیوں اور پھر مبینہ بریک اپ کے بعد سے قطرینہ کیف مسلسل خبروں میں ہیں۔ میڈیا اور کیمرے ہمیشہ ان کے تعاقب میں رہتے ہیں۔
لیکن نہ جانے کیوں انھوں نے اپنے ڈرائیور پر الزام لگایا ہے کہ وہ میڈیا سے پیسے کے عوض ان کی ذاتی زندگی سے متعلق خبریں لیک کر رہا ہے۔
حال ہی میں ایسی خبریں آئی تھیں کہ اداکار آدتیہ رائے کپور نے پارکنگ لاٹ کے جھگڑے میں قطرینہ کا ساتھ دیا تھا اور ان کی مدد کی تھی۔ اس کے بعد سے قطرینہ کو اپنے ڈرائیور پر شک ہے کیونکہ اس جھگڑے کے وقت وہی ڈرائیور ان کے ساتھ تھا۔
اب قطرینہ نے اپنے عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ میڈیا کے ساتھ کوئی بات نہیں کریں گے۔ ویسے آج کل قطرینہ کیف اور ’فلم فطور‘ میں ان کے کو سٹار آدتیہ رائے کپور کی دوستی کے خاصے چرچے ہیں اور حال ہی میں دونوں کی ڈنر ڈیٹ کی تصاویر میڈیا میں چھائی ہوئی تھیں۔
ڈرائیور پر شبہ الگ بات ہے لیکن تصویریں تو جھوٹ نہیں بولتیں!
ہرفن مولا سلمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جہاں تک سلمان خان کا تعلق ہے تو وہ بھی ہر فن مولا بنتے جا رہے ہیں۔ اداکار تو وہ ہیں ہی ساتھ ہی پروڈیوسر اور ٹی وی ہوسٹ بھی ہیں۔
ٹی وی کے حوالے سے سلمان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ عام لوگو ں کے ساتھ جڑ چکے ہیں۔
سلمان جلدی ہی مشہور ریئلٹی شو 'بگ باس' کے دسویں سیزن کے ہوسٹ بن کر آئیں گے۔ سلمان کا کہنا ہے کہ وہ کسی کو جج نہیں کر سکتے اسی لیے کسی ریئلٹی شو میں جج بن کر نہیں آنا چاہتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لگتا ہے کہ اصل زندگی میں ججز کے سامنے پیش ہونے کے بعد سلمان کسی جج کی کرسی پر بیٹھنے کی ہمت نہیں کر پاتے ہیں۔ اب چاہے وہ کسی ریئلٹی شو کے جج کی کرسی ہی کیوں نہ ہو۔
پاکستانی اداکاروں کے بیان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے بعد بالی ووڈ میں پاکستانی فنکاروں کے کام کرنے کے خلاف اور حق میں بہت سے دلائل اور بیانا ت دیے گئے اور پاکستانی اداکاروں کی جانب سے اوڑی حملے کے بارے میں خاموشی پر بھی سوال اٹھائے گئے کہ جب یہ لوگ پیرس حملوں کی مذمت کر سکتے ہیں تو اوڑی حملے کی کیوں نہیں۔
بحر حال اب ان فنکاروں نے اس بارے میں اپنی رائے ظاہر کرنی شروع کر دی ہے۔ فواد خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں امن کا پیغام دیتے ہوئے معذرت ظاہر کی کہ چونکہ وہ اپنی اہلیہ کی دیکھ بھال میں مصروف تھے اس لیے اس بارے میں کوئی بیان نہ دے سکے۔
فواد خان کے یہاں حال ہی میں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے۔ ادھر پاکستانی سنگر شفقت امانت علی نے اس حملے کی سختی سے مذمت کی جن کا کنسرٹ بنگلور میں ہونے والا تھا لیکن فی الحال اسے منسوخ کر دیا گیا ہے۔
بحرحال ان میں سب سے دلچسپ بیان اداکارہ ماورہ حسین کا ہے ماورہ کا کہنا ہے کہ وہ ہر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتی ہیں۔ موقعے سے فائدے اٹھاتے ہوئے ماورہ نے رنبیر کپور کی اس ٹویٹ کے جواب میں سے رنبیر سے ایک 'ہگ' بھی مانگ لیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کو ایک دوسرے کو گلے لگانا چاہیے۔ کیا بات ہے ماورہ پاک بھارت دوستی بڑھانے کا یہ طریقہ کافی اچھا ہے!
دیش بھکتی کا پوسٹر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
موجودہ حالات میں بالی ووڈ کی تین بڑی فلموں کا مستقبل غیر یقینی نظر آ رہا ہے جن میں کرن جوہر کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘، شاہ رخ کی رئیس اور علی ظفر کی 'ڈئیر زندگی' شامل ہیں ان تینوں فلموں میں پاکستانی فنکار ہیں اور مہاراشٹر نو نرمان سینا اپنے فیصلے پر اٹل ہے کہ یہ فلمیں اسی وقت ریلیز کی جا سکتی ہیں جب ان میں سے پاکستانی فنکاروں کا مناظر نکال دیے جائیں۔
انڈین موشن پکچر پروڈیوسر ایسو سی ایشن کی درخواست کے باوجود بھی تنظیم اپنا فیصلہ بدلنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ فن اور سیاست کے اس اکھاڑے میں کون کس کو مات دیتا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ انڈیا پاکستان کے اس جھگڑے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے سیاسی نمبر بڑھانے کی بھر پور کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان میں ایک اکشے کمار ہیں۔ اوڑی حملے کے تقریباً تین ہفتے بعد اداکار اکشے کمار نیند سے جگ اٹھے ہیں اور اچانک ان کی دیش بھکتی بھی۔ کل ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے بھارتی فوجیوں کی حوصلہ افزائی کی۔
اکشے کمار جو اس دور میں دیش بھکتی کا چلتا پھرتا پوسٹر کہلائے جانے لگے ہیں حکومت کی تعریف کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ لگتا ہے کھلاڑی کمار ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست کے کھلاڑی بننا چاہتے ہیں۔









