برطانیہ میں 25 سالہ یونیورسٹی طالبعلم پر شہزاد اکبر اور عادل راجہ کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام

،تصویر کا ذریعہX/YouTube
لندن کی ایک عدالت میں دو پاکستانی شہریوں عادل راجہ اور مرزا شہزاد اکبر کے برطانیہ میں گھروں پر پرتشدد حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں ایک مبینہ ’ہٹ مین‘ پیش ہوئے ہیں۔
برمنگھم سے تعلق رکھنے والے لوئس ریگن پر الزام ہے کہ انھوں نے گزشتہ سال کرسمس کی شام مرزا شہزاد اکبر اور عادل راجہ کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔
یاد رہے کہ عادل راجہ پاکستان کی فوج میں میجر رینک کے افسر تھے اور پاکستانی فوج نے نومبر 2023 میں اُن کا کورٹ مارشل کرتے ہوئے انھیں 14 سال قید با مشقت اور عہدہ ضبط کرنے کی سزا سنائی تھی۔
دوسری جانب مرزا شہزاد اکبر سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں مشیر برائے احتساب اور امور داخلہ تھے اور اُن کے خلاف متعدد مقدمات پاکستانی عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ پاکستان نے حال ہی میں برطانیہ سے باضابطہ طور پر دونوں کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں اس معاملے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ 25 سالہ ریگن دونوں افراد کے گھر ان پر حملے کی منصوبہ بندی کے سربراہ تھے۔
عدالت میں بتایا گیا کہ مبینہ طور پر ریگن نے ایک مزودر کا یونیفارم پہنا اور ماسک اوڑھ کر کیمبرج شائر میں شہزاد اکبر کے گھر پر حملہ کرنے کی تیاری کی جبکہ ایک اور گروہ اسی وقت عادل راجہ کے گھر پہنچا لیکن وہ موجود نہیں تھے۔
یاد رہے کہ شہزاد اکبر سابق وزیر اعظم عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران مشیر برائے احتساب اور امورِ داخلہ رہ چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’متعدد بار پیٹا گیا‘
مقدمہ کے پراسیکیوٹر ویرن سٹینر نے عدالت کو بتایا کہ ایک گروپ آٹھ بجے عادل راجہ کے گھر پہنچا لیکن وہ موجود نہیں تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت کو بتایا گیا کہ ’شہزاد اکبر کے گھر کے باہر پہنچنے کے بعد ریگن نے مبینہ طور پر خود دروازہ کھٹکھٹایا۔‘
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’ریگن ہی وہ حملہ آور تھے جنھوں نے خود کو ایک یونیفارم، جیکٹ، ہیلمٹ اور ماسک سمیت دستانے پہن کر چھپا رکھا تھا۔‘
’انھوں نے دروازہ کھٹکھٹایا اور جب شہزاد اکبر نے اپنی شناخت کی تصدیق کی تو ان پر حملہ کیا گیا، ان کے چہرے پر گھونسے مارے گئے جس کی وجہ سے ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور انھیں زخم آئے۔‘
پراسیکیوٹر کے مطابق بکنگھم شائر میں چیشم کےعلاقے میں عادل راجہ کے مکان کی واقعے سے قبل معلومات حاصل کی گئی تھیں اور اسی طرح شہشاد اکبر کے گھر کی بھی جاسوسی کی گئی۔
ملزم ریگن کنٹربری یونیورسٹی میں سپورٹس اور ایکسرسائز کے شعبے میں طالب علم ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ دونوں حملوں کی سازش میں بنیادی طور پر وہی مرکزی کردار تھے۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اس طرز کے پرتشدد حملوں کے لیے ’پیسوں کے عوض کام کرتے ہیں۔‘
ڈپٹی چیف مجسٹریٹ ٹان اکرم نے لندن کی بیلی عدالت میں 13 فروری کو اس معاملے پر سماعت سے قبل ریگن کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ جج نے ریگن کے خلاف مقدمے کو ’تشدد کے لیے پیسوں کے عوض کام کرنے والا ہٹ مین‘ قرار دیا۔
اولڈ بیلی عدالت میں ریگن کے ساتھ 40 سالہ کرل بلیک برڈ، 39 سالہ کلارک مکالے اور 21 سالہ ڈونیٹو برامر بھی بطور شریک ملزمان پیش ہوں گے۔
بلیک برڈ پر بھی دونوں حملوں میں شمولیت کا الزام ہے جبکہ کلارک مکالے پر عادل راجہ پر حملے کی سازش میں شریک ہونے کا الزام ہے۔

،تصویر کا ذریعہInterior Ministry
21 سالہ ڈونیٹو برامر پر الزام ہے کہ وہ ایک دوسرے واقعے میں ملوث تھے جب شہزاد اکبر کے گھر کے باہر آگ لگائی گئی۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ریگن کے خلاف دوسرے واقعے سے جڑا کوئی الزام عائد نہیں ہے۔
ڈونیٹو برامر پر ممنوعہ اسلحہ رکھنے کا الزام بھی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے حوالگی کی درخواست سامنے آنے کے بعد مرزا شہزاد نے برطانوی حکومت اور ہائی کمشنر سے درخواست کی تھی کہ ان کے خلاف ’بدترین کارروائیاں کی گئی ہیں اور پاکستان میں میرے کچھ اہلخانہ کو بھی اغوا‘ کیا گیا۔
ایکس پر انھوں نے لکھا تھا کہ ’مجھے اعتماد ہے کہ برطانوی حکام قانون اور اس کی عملداری اور انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کو یقینی بنائیں گے اور ایک ایسی حکومت کے بارے میں تحفظات پر غور کریں گے جس کو برطانوی اخبار دا گارڈیئن نے ’آمرانہ‘ اور پاکستان کے آئینی نظام کو نقصان دینے والا قرار دیا اور ایک ایسی حکومت جس کے 44 اراکین پر پابندیوں کی سفارش امریکی کانگریس نے کی۔‘
خیال رہے پاکستانی حکومت ماضی میں ایسے متعدد الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔













